سرینگر
: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے عصمت دری کے ایک مقدمے میں ملوث 59 سالہ ملزم کی ضمانت درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ فردِ جرم عائد ہونے کے بعد فریقین کے درمیان ہونے والا سمجھوتہ تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 376 کے تحت عائد الزامات کی سنگینی کو کم نہیں کر سکتا۔ جسٹس ایم اے چودھری نے ایک اہم فیصلے میں ضلع کپوارہ کے سوگام گاؤں کے رہائشی فاروق احمد ڈار کی ضمانت درخواست اور اس سے متعلق فوجداری نظرثانی کی دونوں عرضیوں کو خارج کر دیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو بھی برقرار رکھا جس میں مقدمے کے آخری مرحلے میں مزید دفاعی گواہوں کو طلب کرنے کی درخواست مسترد کی گئی تھی. 11 صفحات پر مشتمل فیصلے میں ان الزامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جن کے مطابق ملزم نے ایک طویل عرصے تک خاتون کو بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے دھمکیاں دیں۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق سال 2022 میں ویمن پولیس اسٹیشن کپوارہ میں ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 376 اور 506 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
ضمانت مسترد کرتے ہوئے جسٹس چودھری نے کہا کہ عدالت اس طے شدہ قانونی اصول سے بخوبی واقف ہے کہ دفعہ 376 کے تحت جرم صرف متاثرہ خاتون کے خلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے کے خلاف تصور کیا جاتا ہے، اس لیے اسے ایسا نجی تنازع نہیں سمجھا جا سکتا جو فریقین کے درمیان سمجھوتے سے حل ہو جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں بشمول شمبھو بنام ریاست ہریانہ اور ریاست مدھیہ پردیش بنام مدن لال شامل کا حوالہ دیا۔ ان فیصلوں میں قرار دیا گیا ہے کہ عصمت دری ناقابلِ مصالحت جرم ہے اور سمجھوتہ کسی بھی قسم کی نرمی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے فردِ جرم عائد ہونے کے بعد ہونے والے مبینہ سمجھوتے پر بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاملے میں، جہاں دفعہ 376 کے تحت سنگین الزامات عائد ہیں، ایسے سمجھوتے کو اتنی اہمیت نہیں دی جا سکتی کہ الزامات کی نوعیت اور سنگینی کم ہو جائے۔
عدالت نے مزید کہا کہ زیر بحث جرم محض کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ اس کے سماجی اثرات بھی نہایت سنجیدہ ہیں، اس لیے بعد میں ہونے والا کوئی بھی سمجھوتہ بذات خود ضمانت دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے خاتون کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے دھمکیاں بھی دیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایڈیشنل سیشنز جج (فاسٹ ٹریک کورٹ) کپوارہ کے سامنے چالان پیش کیا گیا، جہاں ملزم کے خلاف دفعات 376 اور 506 کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔دفاع کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے اور یہ معاملہ خاتون کی والدہ سے ملزم کی شادی کے باعث پیدا ہونے والے دیرینہ خاندانی تنازعات کا نتیجہ ہے۔ دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ متاثرہ خاتون نے ملزم کے بیٹے نوید ڈار سے رابطہ کر کے ایف آئی آر منسوخ کرانے کے لیے ایک عرضی دائر کی تھی، جس سے استغاثہ کے مقدمے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
دفاع کا مزید کہنا تھا کہ دوران سماعت خاتون کے بیانات میں تضادات سامنے آئے ہیں جبکہ طبی شواہد بھی زبردستی جنسی زیادتی کے الزامات کی تائید نہیں کرتے۔ دفاع نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ملزم 13 جون 2022 سے جیل میں ہے، اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور وہ سرکاری ملازم ہے۔
ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے استغاثہ نے موقف اختیار کیا کہ الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور متاثرہ خاتون نے اپنی ایف آئی آر اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ بیان میں مسلسل انہی الزامات کی تائید کی ہے۔ استغاثہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ رہائی کی صورت میں ملزم گواہوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ضمانت درخواست پر غور کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ متاثرہ خاتون نے ایف آئی آر اور مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں استغاثہ کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ بیانات میں مبینہ تضادات یا بعد میں کی گئی تبدیلیوں کی شہادت اور ان کی قانونی اہمیت کا فیصلہ ٹرائل کے دوران کیا جائے گا، ضمانت کے مرحلے پر ان امور کا حتمی جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔جسٹس چودھری نے استغاثہ کے اس خدشے کو بھی درست قرار دیا کہ فریقین کے باہمی تعلقات کے باعث رہائی کی صورت میں گواہوں پر اثرانداز ہونے کا امکان موجود ہے۔ عدالت نے کہا کہ ملزم کے خلاف عائد جرم کی سنگینی اور نوعیت ضمانت دینے کے خلاف مضبوط عوامل ہیں۔
عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ملزم کے خلاف بادی النظر میں مقدمہ بنتا ہے، لہٰذا ضمانت درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ اسی معاملے سے متعلق فوجداری نظرثانی عرضی میں ملزم نے 17 دسمبر 2024 کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے ذریعے فاسٹ ٹریک کورٹ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 233(3) کے تحت مزید دفاعی گواہوں کو طلب کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ملزم کا مؤقف تھا کہ مجوزہ گواہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ضروری ہیں کہ متاثرہ خاتون نے ایف آئی آر منسوخ کرانے کی درخواست دائر کی تھی اور بعد میں اسے واپس لے لیا تھا۔ تاہم ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی نہیں ہے۔
جسٹس چودھری نے کہا کہ اگرچہ دفعہ 233(3) ملزم کو اپنے دفاع میں گواہوں کو طلب کرنے اور دستاویزات پیش کرنے کا ایک اہم حق فراہم کرتی ہے، لیکن یہ حق مطلق یا لامحدود نہیں ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ ملزم پہلے ہی اپنے دفاع میں تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرا چکا ہے اور ایف آئی آر منسوخی کی عرضی سے متعلق دستاویزات بھی مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگرچہ ہر ملزم کو اپنے دفاع کا منصفانہ موقع دیا جانا چاہیے، لیکن عدالت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اضافی شواہد کے نام پر فوجداری کارروائی کو غیر ضروری طور پر طول نہ دیا جائے۔
ٹرائل کورٹ کے حکم میں کسی قانونی بے ضابطگی، اختیارات کے غلط استعمال یا انصاف کی ناکامی کا کوئی پہلو نہ پاتے ہوئے ہائی کورٹ نے نظرثانی عرضی بھی خارج کر دی اور ٹرائل کورٹ کو مقدمے کی جلد سماعت مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ چنانچہ عدالت نے ضمانت درخواست اور فوجداری نظرثانی کی دونوں عرضیوں کو مسترد کر دیا۔


