کشمیری مراثی میں فارسی زبان و ادب کا جمالیاتی اثر

 

از قلم : مجتبیٰ شجاعی

کشمیر کی سرزمین صدیوں سے ایران کی تہذیبی، دینی اور ادبی روشنیوں سے منور رہی ہے۔ یہ تعلق محض جغرافیائی قربت یا سیاسی روابط کا نتیجہ نہیں بلکہ دو عظیم تہذیبوں، دو روحانی روایتوں اور دو ادبی جہانوں کے درمیان ایسا گہرا رشتہ ہے جس نے کشمیر کی فکری، سماجی اور ادبی ساخت کو ہمیشہ کے لئے متاثر کیا۔ جب ایران سے سادات، علما، صوفیا، شعرا اور اہلِ قلم کشمیر وارد ہوئے تو وہ اپنے ساتھ صرف ایک زبان نہیں لائے، بلکہ ایک مکمل تہذیب، ایک جمالیاتی شعور، ایک عرفانی فکر اور ایک ادبی روایت بھی لے کر آئے۔ یہی وہ اثرات تھے جنہوں نے کشمیر کو ’’ایرانِ صغیر‘‘ جیسی دلکش شناخت عطا کی۔
فارسی زبان کئی صدیوں تک کشمیر میں علم، ادب، عدالت، تصوف اور مذہبی افکار کی زبان رہی۔ مدارس، خانقاہیں، علمی مراکز، شعری نشستیں اور مذہبی مجالس فارسی کے نور سے روشن تھیں۔ دیوانِ حافظ، مثنویِ مولانا، گلستان و بوستانِ سعدی اور شاہنامۂ فردوسی صرف ادبی کتابیں نہ تھیں بلکہ کشمیری سماج کے تہذیبی شعور کا حصہ بن چکی تھیں۔ فارسی نے کشمیری معاشرے کو محض الفاظ نہیں دیے بلکہ اظہار کا ایک نیا آہنگ، احساس کی ایک نئی لطافت اور تخیل کی ایک نئی دنیا عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری زبان و ادب میں فارسی اس طرح جذب ہو گئی کہ دونوں تہذیبوں کے درمیان ایک فطری ہم آہنگی پیدا ہو گئی۔
کشمیری شاعری خصوصاً مرثیہ نگاری میں فارسی ادب کے جمالیاتی اثرات نہایت واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ مرثیہ کشمیر میں صرف ایک شعری صنف نہیں بلکہ عشقِ اہلِ بیتؑ، غمِ عاشورا اور اجتماعی حافظے کی ایک زندہ روایت ہے۔ محرم کی شبوں میں جب ذاکر و نوحہ خواںمرثیہ اور سوز و سلام پڑھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیوں پرانی فارسی تہذیب کشمیری لہجے میں دوبارہ سانس لے رہی ہو۔
مراثیِ کشمیری فارسی الفاظ، تراکیب، استعاروں اور تلمیحات سے اس قدر مزین ہیں کہ دونوں زبانوں کے درمیان حدِ فاصل مٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ گل و بلبل، شمع و پروانہ، اشک و فغان، خونِ جگر، دشتِ غم، خار و گل، شبستان، عارف و عرفان، غنچۂ دل، نسیمِ صبا، مشامِ جان، داغِ سیاہ، آتشِ شوق، طائرِ قدس، پیچ و تاب جیسی فارسی تراکیب کشمیری مرثیے کو صرف شعری حسن نہیں عطا کرتیں بلکہ اس میں ایک روحانی کیفیت اور عرفانی سوز بھی پیدا کرتی ہیں۔ یہ تعبیرات محض الفاظ نہیں بلکہ ایک مکمل جمالیاتی اور فکری دنیا کی نمائندہ ہیں۔
مرزا ابوالقاسم جیسے عظیم مرثیہ نگاروں کے کلام میں فارسی ادب کی جھلک پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتی ہے۔ ان کے مراثی میں فارسی الفاظ اور ترکیبات اس انداز سے استعمال ہوئے ہیں کہ شعر کی پوری فضا ایرانی جمالیات سے معمور دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر مرثیہ ’’انشاء‘‘ میں وہ کہتے ہیں:
ژہ تراوزنہ سُوی از در یُس آ سہ در دست
نوشتۂ واگذاردیوتمت میانی وزیری
اس شعر میں ’’از‘‘، ’’در‘‘، ’’در دست‘‘، ’’نوشتۂ‘‘، ’’واگذار‘‘ اور ’’وزیری‘‘ جیسے الفاظ نہ صرف فارسی زبان کے اثر کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ پورے شعر کو ایرانی ادبی روایت کے قریب لے جاتے ہیں۔
اسی طرح مرثیہ ’’نوروزی‘‘ میںمرثیہ نگار فارسی الفاظ کو ایک خاص شعری لطافت کے ساتھ استعمال کرتا ہے:
پرتھ کانسہ خلعت نوبہارا وول قدڑژ پنجنے
کرتھ گل گویا نو گُل تہ ویوگ لنجنے
ولی تھہ یم گلبدن خار و کُلاہ پوش تاجدارو ہوہو
ان اشعار میں خلعت، نوبہار، گل، گویا، نوگل، گلبدن، خار، کلاہ پوش جیسے الفاظ صرف زبان کی زینت نہیں بلکہ فارسی جمالیات کے آئینہ دار ہیں۔ یہاں مرثیہ صرف ماتم نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل شعری اور جمالیاتی تجربہ بن جاتا ہے۔
مرثیہ ’’سوداگری‘‘ میں شاعر کہتا ہے:
نافعا کرتم متاعِ معرفت ارزانی
اس ایک مصرعے میں فارسی تصوف، عرفان اور کلاسیکی شاعری کی پوری روح سمٹ آئی ہے۔ متاع، معرفت، ارزانی جیسے الفاظ ایک روحانی اور فکری جہان کی نمائندگی کرتے ہیں۔
کشمیری مراثی کے عناوین بھی فارسی تہذیب و ادب کے گہرے اثرات کا واضح ثبوت ہیں۔ نوروزی، آیینہ، خوش‌نوا، طفلی، آبِ رحمت، کوہ، حکمت، شمع، چراغ، آہنگری، عمامہ، آتش، عروسی، مزاج، عرش، انگشتری، نقاشی، جمشید، بہشت، گنجِ عرفان، مخزن الاسرار، کاروان سرا، سود و زیاں، دِلِ مجنون، خوش خط، شب و روز، قفس، بہار، عشق، خیمہ، زانو، ریسمان، گوش، زبان، مرغ، لباس، طاووس، شست وشو اور اسی نوع کے بے شمار عنوانات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ فارسی ادب کشمیری مرثیہ نگاری کی روح میںپیوستہ ہے۔ یہ عنوانات مرثیے کے آغاز سے پہلے ہی سامع و قاری کے ذہن میں ایک مخصوص روحانی اور عاطفی فضا قائم کر دیتے ہیں۔
کشمیری مرثیہ نگاری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے فارسی روایت کی صرف تقلید نہیں کی بلکہ اسے کشمیری ثقافت، مقامی احساسات اور اپنے مخصوص سماجی پس منظر کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کیا کہ ایک منفرد اور مستقل ادبی روایت وجود میں آ گئی۔ یہاں فارسی کی لطافت اور کشمیری جذبات کی سادگی ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتی ہیں کہ شعر ایک نئی تاثیر اختیار کر لیتا ہے۔
کشمیری مرثیہ نگاروں نے فارسی ادب کے استعاروں اور عاشورائی جذبات کو اپنی مقامی فضا کے ساتھ اس انداز سے ملایا کہ ایک نئی جمالیاتی دنیا وجود میں آ گئی۔کشمیر کے ممتاز فارسی نگارملا محسن فانی کشمیری، غنی کشمیری،ملا طغرا اور ملا ساطح جیسے فارسی گو شعرا نے کشمیر کے حسنِ فطرت کو فارسی شاعری کی لطافت کے ساتھ اس طرح پیش کیا کہ ان کا کلام فارسی ادب کے وسیع افق پر بھی ممتاز دکھائی دیتا ہے۔ ان کے اشعار میں روحانی فضا فارسی تخیل کے ساتھ مل کر ایک نئی شعری کائنات تخلیق کرتے ہیں۔ اسی طرح کا اثر کشمیری مرثیہ نگاری میں بھی شدت کے ساتھ دکھائی دے رہی ہے۔
مرثیۂ کشمیری کی ایک اہم خصوصیت اس کی موسیقیت ہے۔ فارسی ادب کے زیرِ اثر کشمیری مراثی میں داخلی آہنگ، صوتی حسن اور نغمگی اس قدر بڑھ گئی کہ یہ مراثی صرف پڑھے نہیں جاتے بلکہ محسوس کیے جاتے ہیں۔ ذاکر کی آواز، مصرعے کا اتار چڑھاؤ، فارسی تراکیب کی شیرینی اور عاشورائی غم کی شدت مل کر ایسی فضا قائم کرتے ہیں جہاں سامع خود کو کربلا کے المیے کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔
اگرچہ جدید دور میں فارسی زبان سے دوری بڑھتی جا رہی ہے اور نئی نسل کے لئے بہت سی کلاسیکی تراکیب و استعارات اجنبی بنتے جا رہے ہیں، مگر اس کے باوجود مرثیۂ کشمیری اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔ آج بھی محرم کی راتوں میں جب نوحہ و مرثیہ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فارسی تہذیب کی صدیوں پرانی روح اس وادی کی فضا میں گردش کر رہی ہو۔ ذاکرین، علما، محققین اور اہلِ ادب اس عظیم ورثے کی حفاظت اور منتقلی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ فرہنگِ مراثی کشمیری جیسی علمی کاوشیں اور مراثی کی تشریحات نئی نسل کے لئے اس عظیم ادبی خزانے کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مرثیۂ کشمیری عشق، عقیدت، تاریخ، تہذیب اور ادب کا ایسا حسین امتزاج ہے جس میں فارسی زبان کی شیرینی، عاشورا کا سوز، عرفان کی گہرائی اور کشمیری روح کی لطافت ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ اس ادب میں شعر آنسو بن جاتا ہے، لفظ ماتم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور زبان عقیدت کی آواز میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری مرثیہ آج بھی محض ماضی کی ایک یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور تابناک روایت ہے۔
جب کشمیر کی مجالس میں ذاکر اشک و فغان، خونِ جگر، دشتِ غم،طائرِ قدس اور عارف و عرفان جیسے فارسی استعاروں کے ساتھ اہلِ بیتؑ کے فضائل و مصائب بیان کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ صدیوں پرانی فارسی تہذیب اور کشمیری دل کی دھڑکنیں ایک ہی آواز میں سمٹ آئی ہیں۔ یہی مرثیۂ کشمیری کی اصل عظمت ہے؛ ایک ایسی عظمت جس میں ایران کی ادبی روح، کشمیر کی فطرت اور عشقِ حسینؑ کا ابدی پیغام ایک دوسرے میں مدغم ہو کر لازوال بن گئے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

کشمیری مراثی میں فارسی زبان و ادب کا جمالیاتی اثر

 

از قلم : مجتبیٰ شجاعی

کشمیر کی سرزمین صدیوں سے ایران کی تہذیبی، دینی اور ادبی روشنیوں سے منور رہی ہے۔ یہ تعلق محض جغرافیائی قربت یا سیاسی روابط کا نتیجہ نہیں بلکہ دو عظیم تہذیبوں، دو روحانی روایتوں اور دو ادبی جہانوں کے درمیان ایسا گہرا رشتہ ہے جس نے کشمیر کی فکری، سماجی اور ادبی ساخت کو ہمیشہ کے لئے متاثر کیا۔ جب ایران سے سادات، علما، صوفیا، شعرا اور اہلِ قلم کشمیر وارد ہوئے تو وہ اپنے ساتھ صرف ایک زبان نہیں لائے، بلکہ ایک مکمل تہذیب، ایک جمالیاتی شعور، ایک عرفانی فکر اور ایک ادبی روایت بھی لے کر آئے۔ یہی وہ اثرات تھے جنہوں نے کشمیر کو ’’ایرانِ صغیر‘‘ جیسی دلکش شناخت عطا کی۔
فارسی زبان کئی صدیوں تک کشمیر میں علم، ادب، عدالت، تصوف اور مذہبی افکار کی زبان رہی۔ مدارس، خانقاہیں، علمی مراکز، شعری نشستیں اور مذہبی مجالس فارسی کے نور سے روشن تھیں۔ دیوانِ حافظ، مثنویِ مولانا، گلستان و بوستانِ سعدی اور شاہنامۂ فردوسی صرف ادبی کتابیں نہ تھیں بلکہ کشمیری سماج کے تہذیبی شعور کا حصہ بن چکی تھیں۔ فارسی نے کشمیری معاشرے کو محض الفاظ نہیں دیے بلکہ اظہار کا ایک نیا آہنگ، احساس کی ایک نئی لطافت اور تخیل کی ایک نئی دنیا عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری زبان و ادب میں فارسی اس طرح جذب ہو گئی کہ دونوں تہذیبوں کے درمیان ایک فطری ہم آہنگی پیدا ہو گئی۔
کشمیری شاعری خصوصاً مرثیہ نگاری میں فارسی ادب کے جمالیاتی اثرات نہایت واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ مرثیہ کشمیر میں صرف ایک شعری صنف نہیں بلکہ عشقِ اہلِ بیتؑ، غمِ عاشورا اور اجتماعی حافظے کی ایک زندہ روایت ہے۔ محرم کی شبوں میں جب ذاکر و نوحہ خواںمرثیہ اور سوز و سلام پڑھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیوں پرانی فارسی تہذیب کشمیری لہجے میں دوبارہ سانس لے رہی ہو۔
مراثیِ کشمیری فارسی الفاظ، تراکیب، استعاروں اور تلمیحات سے اس قدر مزین ہیں کہ دونوں زبانوں کے درمیان حدِ فاصل مٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ گل و بلبل، شمع و پروانہ، اشک و فغان، خونِ جگر، دشتِ غم، خار و گل، شبستان، عارف و عرفان، غنچۂ دل، نسیمِ صبا، مشامِ جان، داغِ سیاہ، آتشِ شوق، طائرِ قدس، پیچ و تاب جیسی فارسی تراکیب کشمیری مرثیے کو صرف شعری حسن نہیں عطا کرتیں بلکہ اس میں ایک روحانی کیفیت اور عرفانی سوز بھی پیدا کرتی ہیں۔ یہ تعبیرات محض الفاظ نہیں بلکہ ایک مکمل جمالیاتی اور فکری دنیا کی نمائندہ ہیں۔
مرزا ابوالقاسم جیسے عظیم مرثیہ نگاروں کے کلام میں فارسی ادب کی جھلک پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتی ہے۔ ان کے مراثی میں فارسی الفاظ اور ترکیبات اس انداز سے استعمال ہوئے ہیں کہ شعر کی پوری فضا ایرانی جمالیات سے معمور دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر مرثیہ ’’انشاء‘‘ میں وہ کہتے ہیں:
ژہ تراوزنہ سُوی از در یُس آ سہ در دست
نوشتۂ واگذاردیوتمت میانی وزیری
اس شعر میں ’’از‘‘، ’’در‘‘، ’’در دست‘‘، ’’نوشتۂ‘‘، ’’واگذار‘‘ اور ’’وزیری‘‘ جیسے الفاظ نہ صرف فارسی زبان کے اثر کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ پورے شعر کو ایرانی ادبی روایت کے قریب لے جاتے ہیں۔
اسی طرح مرثیہ ’’نوروزی‘‘ میںمرثیہ نگار فارسی الفاظ کو ایک خاص شعری لطافت کے ساتھ استعمال کرتا ہے:
پرتھ کانسہ خلعت نوبہارا وول قدڑژ پنجنے
کرتھ گل گویا نو گُل تہ ویوگ لنجنے
ولی تھہ یم گلبدن خار و کُلاہ پوش تاجدارو ہوہو
ان اشعار میں خلعت، نوبہار، گل، گویا، نوگل، گلبدن، خار، کلاہ پوش جیسے الفاظ صرف زبان کی زینت نہیں بلکہ فارسی جمالیات کے آئینہ دار ہیں۔ یہاں مرثیہ صرف ماتم نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل شعری اور جمالیاتی تجربہ بن جاتا ہے۔
مرثیہ ’’سوداگری‘‘ میں شاعر کہتا ہے:
نافعا کرتم متاعِ معرفت ارزانی
اس ایک مصرعے میں فارسی تصوف، عرفان اور کلاسیکی شاعری کی پوری روح سمٹ آئی ہے۔ متاع، معرفت، ارزانی جیسے الفاظ ایک روحانی اور فکری جہان کی نمائندگی کرتے ہیں۔
کشمیری مراثی کے عناوین بھی فارسی تہذیب و ادب کے گہرے اثرات کا واضح ثبوت ہیں۔ نوروزی، آیینہ، خوش‌نوا، طفلی، آبِ رحمت، کوہ، حکمت، شمع، چراغ، آہنگری، عمامہ، آتش، عروسی، مزاج، عرش، انگشتری، نقاشی، جمشید، بہشت، گنجِ عرفان، مخزن الاسرار، کاروان سرا، سود و زیاں، دِلِ مجنون، خوش خط، شب و روز، قفس، بہار، عشق، خیمہ، زانو، ریسمان، گوش، زبان، مرغ، لباس، طاووس، شست وشو اور اسی نوع کے بے شمار عنوانات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ فارسی ادب کشمیری مرثیہ نگاری کی روح میںپیوستہ ہے۔ یہ عنوانات مرثیے کے آغاز سے پہلے ہی سامع و قاری کے ذہن میں ایک مخصوص روحانی اور عاطفی فضا قائم کر دیتے ہیں۔
کشمیری مرثیہ نگاری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے فارسی روایت کی صرف تقلید نہیں کی بلکہ اسے کشمیری ثقافت، مقامی احساسات اور اپنے مخصوص سماجی پس منظر کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کیا کہ ایک منفرد اور مستقل ادبی روایت وجود میں آ گئی۔ یہاں فارسی کی لطافت اور کشمیری جذبات کی سادگی ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتی ہیں کہ شعر ایک نئی تاثیر اختیار کر لیتا ہے۔
کشمیری مرثیہ نگاروں نے فارسی ادب کے استعاروں اور عاشورائی جذبات کو اپنی مقامی فضا کے ساتھ اس انداز سے ملایا کہ ایک نئی جمالیاتی دنیا وجود میں آ گئی۔کشمیر کے ممتاز فارسی نگارملا محسن فانی کشمیری، غنی کشمیری،ملا طغرا اور ملا ساطح جیسے فارسی گو شعرا نے کشمیر کے حسنِ فطرت کو فارسی شاعری کی لطافت کے ساتھ اس طرح پیش کیا کہ ان کا کلام فارسی ادب کے وسیع افق پر بھی ممتاز دکھائی دیتا ہے۔ ان کے اشعار میں روحانی فضا فارسی تخیل کے ساتھ مل کر ایک نئی شعری کائنات تخلیق کرتے ہیں۔ اسی طرح کا اثر کشمیری مرثیہ نگاری میں بھی شدت کے ساتھ دکھائی دے رہی ہے۔
مرثیۂ کشمیری کی ایک اہم خصوصیت اس کی موسیقیت ہے۔ فارسی ادب کے زیرِ اثر کشمیری مراثی میں داخلی آہنگ، صوتی حسن اور نغمگی اس قدر بڑھ گئی کہ یہ مراثی صرف پڑھے نہیں جاتے بلکہ محسوس کیے جاتے ہیں۔ ذاکر کی آواز، مصرعے کا اتار چڑھاؤ، فارسی تراکیب کی شیرینی اور عاشورائی غم کی شدت مل کر ایسی فضا قائم کرتے ہیں جہاں سامع خود کو کربلا کے المیے کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔
اگرچہ جدید دور میں فارسی زبان سے دوری بڑھتی جا رہی ہے اور نئی نسل کے لئے بہت سی کلاسیکی تراکیب و استعارات اجنبی بنتے جا رہے ہیں، مگر اس کے باوجود مرثیۂ کشمیری اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔ آج بھی محرم کی راتوں میں جب نوحہ و مرثیہ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فارسی تہذیب کی صدیوں پرانی روح اس وادی کی فضا میں گردش کر رہی ہو۔ ذاکرین، علما، محققین اور اہلِ ادب اس عظیم ورثے کی حفاظت اور منتقلی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ فرہنگِ مراثی کشمیری جیسی علمی کاوشیں اور مراثی کی تشریحات نئی نسل کے لئے اس عظیم ادبی خزانے کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مرثیۂ کشمیری عشق، عقیدت، تاریخ، تہذیب اور ادب کا ایسا حسین امتزاج ہے جس میں فارسی زبان کی شیرینی، عاشورا کا سوز، عرفان کی گہرائی اور کشمیری روح کی لطافت ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ اس ادب میں شعر آنسو بن جاتا ہے، لفظ ماتم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور زبان عقیدت کی آواز میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری مرثیہ آج بھی محض ماضی کی ایک یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور تابناک روایت ہے۔
جب کشمیر کی مجالس میں ذاکر اشک و فغان، خونِ جگر، دشتِ غم،طائرِ قدس اور عارف و عرفان جیسے فارسی استعاروں کے ساتھ اہلِ بیتؑ کے فضائل و مصائب بیان کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ صدیوں پرانی فارسی تہذیب اور کشمیری دل کی دھڑکنیں ایک ہی آواز میں سمٹ آئی ہیں۔ یہی مرثیۂ کشمیری کی اصل عظمت ہے؛ ایک ایسی عظمت جس میں ایران کی ادبی روح، کشمیر کی فطرت اور عشقِ حسینؑ کا ابدی پیغام ایک دوسرے میں مدغم ہو کر لازوال بن گئے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں