
محمد عمر بٹ
ملورہ سرینگر
عقل انسانی انگشتہ بدندان رہ جاتی ہے جب انسانی تاریخ کے انسانیت سوز لرزہ خیز حادثوں اور دردناک سانحات کویاد کرتے ہیں جن سانحات کا اثر ہمارے قلب و ذہن پر قدرتی و فطری طور ہونا لازمی امر ہے
انسانی خصلتوں سے عاری چند افراد کی شیطانی خواہش کبھی کھبار ان کو انسانیت کے قتل پر امادہ کردیتی ہیں یہ دیکھے بغیر کہ ان حرکتوں سے عوام کو کس قدر ناقابل تلافی نقصان سے دو چار ہونا پڑ سکھاتا ہے
بہرحال اج برسی جموں و کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما و سیاسی قائد کی ہے
میرواعظ کشمیر مولانا محمد فاروق کی ولادت سرینگر کی تاریخی میرواعظ منزل میں 21 دسمبر 1944 کو ہوئی آپ نے اسلامیہ اورینٹل کالج سے امتیازی نمبرات سے مستند ڈگری حاصل کی اور لوگوں کے زبردست اصرار پر محاذ 18 سال کی عمر میں جلیل القدر و المرتب منصب ” میرواعظ کشمیر ” کے منصب پر فائز کیا گیا
آپ نازک مرحلے میں مرکزی جامع مسجد سرینگر کے منبر و محراب پر فائز ہوئی جب جامع مسجد کا منبر برسوں سے خاموش تھا آپ کے منصبی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ہی لوگوں میں مسرت کی لہر دوڈ گئی
درحقیقت آپ کی زندگی متعدد پہلو پر مشتمل ہے آپ کی شخصیت ہمہ جہت پہلو پر مشتمل ہے میرواعظ فاروق ایک وسیع النظر عالم دین مفکر مبلغ دانشور مقرر شعلہ بیان خطیب اور سیاسی قائد ثابت ہوئی جن کی خدمات فی الحقیقت جموں و کشمیر کی تاریخ کا اہم ترین باب ہے
آپ کی زندگی کا اصل مقصد آپنے اکابرین کی طرح اشاعت دین و حفاظت اسلام تھا۔
آپ مستند و معتبر میرواعظ خاندان کے چشم و چراگاہ تھے جس کو نہ صرف کشمیری مسلمان بلکہ سینکڑوں غیر مسلم حضرات بھی عقیدت و احترام کی نگاہیوں سے دیکھتے ہیں۔
درحقیقت آپ کی وسیع النظری و سیاسی بصیرت نمایاں ہوتی ہے
جب درگاہ حضرتبل سے موئے مقدس انحضرت ص کی گمشدگی سے بازیابی تک اس وقت پا مردی اور ہمت سے عوام کی ترجمانی کے فرائض انجام دیںکہ وہ آپ کے قائد ہونے کی دلیل کے لئے کافی ثبوت ہے۔اور ایسے ہی متعدد واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی ہمہ جہت پہلو پر مشتمل ہے۔
آپ نے ڈبل فاروق ا کارڈ کے تحت سیاسی مخالف نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ اتحاد کیا اور شیر بکرا جیسے ناسور کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا حالانکہ جب نیشنل کانفرنس نے آپنی حقیر مفادات کے خاطر اتحاد کو پارہ پارہ کیا آپ نےاس اتحاد سے علیحدگی اختیار کی مگر اتحاد کا درس عملی دیا اور اس ناسور کو جڑ سے ختم کیا
آپ متعدد اسلامی کتابوں کے مصنف ہے جن کو اللہ نے شرف بخشا ہے جو مسجد نبی ص کے لائبریری میں موجود ہے
آپ نے مختلف موقعوں مرحلوںپر متعدد اسلامی ممالک کا دورہ کرکے داعی اسلام کے طور پر تبلیغ دین کی خدمات انجام دے اور لاکھوں لوگوں تک دین کا پیغام پہنچایا۔
آپ کو قرآن و حدیث فقہ و فلسفہ میں کافی دسترس اور مہارت حاصل تھی اسلئے آپ کا واعظ و تبلیغ سننے کے لئے اہل وادی کے لوگ دینی جوش و جزبہ اور شوق و زوق سے جامع مسجد سرینگر تشریف لاتے تھے آپ نے دعوت دین اشاعت دین اسلامی علوم کے فروغ کے لئے تقریباً 4 دہائوں پر مشتمل خدمات انجام دیں
آپ نے پوری زندگی اسلام کے افاقی پیغام اور انسانیت کے پیام کی تشہیر و تبلیغ دین میں صرف کردی آپ مرکزی جامع مسجد سرینگر کے انجمن اوقات کے بانی و سربراہ بھی تھے آپ کی تبلیغ پر اثر و پرکشش ہونے کے ساتھ ساتھروحانی سرپرستی سے جموں و کشمیر کی عوام کو نوازتی تھی۔
آپ بین اقوامی سطح کے عالم دین قائد مبلغ محیرالعقوال سیاسی قائد کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مصنف بھی تھے آپکی تصنیف میں ایک ایسا اسلوب اور علمی زخیرہ موجود ہے جو انسان کو فکری ذہنی عقیدی طور رہنمائی کرتا ہے آپ اخوت مساوات انسانیت انصاف شرافت کے زبردست مبلغ اور علمبردار تھے آپ امن و امان ہمدردی خلق اللہ کے پر جوش داعی تھے وہیں جموں و کشمیر میں اتحاد بیناالمسلمین اور مختلف فرقوں طبقوں کے مابین باہمی اتحاد و اتفاق کو ہمیشہ ضروری قرار دیتے تھے۔
فی الحقیقت آپ کو جہاں بھی آزمائش اور امتحان کی گھڑی سے دوچار ہونا پڑا آپ کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی 21 مئی 1990 کا المناک دن ثابت ہوا جب انسان نما وحشیوں نے آپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے خاطر آپ کو عوام کی ترجمانی کے پاداش میں آپ کو شہید کیا۔
ژ ژ ژ


