دسترخوان کی غیبت


پیر اقبال رشید

کرالہ پورہ کپواڑہ
(قلمکار محکمۂ تعلیم میں بحیثیتِ استاد خدمات انجام دے رہا ہے اور ساتھ ہی ایک متحرک سماجی کارکن کے طور پر بھی معاشرے کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔)

انسانی معاشرے کی خوبصورتی محبت، احترام اور حسنِ اخلاق سے قائم رہتی ہے۔ جب یہی معاشرہ زبان کی تلخی، برائی اور غیبت جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو جائے تو رشتوں کی مٹھاس آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ انہی اخلاقی برائیوں میں ایک عام مگر نہایت خطرناک برائی “دسترخوان کی غیبت” بھی ہے۔ یہ وہ غیبت ہے جو کھانے کی مجلسوں، دعوتوں، شادیوں یا ہمارے گھروں میں روزمرہ کے دسترخوان پر بیٹھ کر کی جاتی ہے۔ بظاہر لوگ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں مگر حقیقت میں کسی کی عزت، کردار اور وقار کو نوچ رہے ہوتے ہیں۔
اسلام نے غیبت کو سختی سے منع کیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟”
یہ مثال اس گناہ کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں غیبت ایک معمول بنتی جا رہی ہے، خاص طور پر کھانے کی محفلوں میں۔ جیسے ہی لوگ دسترخوان پر جمع ہوتے ہیں، گفتگو کا رخ کسی نہ کسی فرد کی برائی، کمزوری یا ذاتی زندگی کی طرف مڑ جاتا ہے۔ کوئی کسی کے لباس پر تبصرہ کرتا ہے، کوئی کسی کی غربت کا مذاق اڑاتا ہے، تو کوئی کسی کی ناکامیوں کو بیان کر کے لطف اندوز ہوتا ہے۔
دسترخوان دراصل شکر اور محبت کی جگہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں رزق کی برکت پر اللہ کا شکر ادا کیا جانا چاہیے، جہاں خاندان اور دوستوں کے درمیان محبت بڑھنی چاہیے۔ مگر جب اسی جگہ غیبت ہونے لگے تو نہ صرف محفل کی روح ختم ہو جاتی ہے بلکہ رزق کی برکت بھی اٹھ جاتی ہے۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ لیکن افسوس کہ اکثر لوگ اپنی زبان کے ذریعے دوسروں کے دل زخمی کرتے رہتے ہیں۔
غیبت کی ایک خطرناک بات یہ بھی ہے کہ اس میں صرف بولنے والا ہی نہیں بلکہ سننے والا بھی شریک ہوتا ہے۔ اگر مجلس میں موجود لوگ خاموش رہیں، ہنسیں یا دلچسپی سے سنیں تو وہ بھی اس گناہ میں برابر کے شریک سمجھے جاتے ہیں۔ اس لئے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اگر کسی محفل میں غیبت شروع ہو جائے تو نرمی سے موضوع بدل دے، اچھی بات کرے یا وہاں سے اٹھ جائے۔
آج سوشل میڈیا اور جدید ماحول نے اس برائی کو مزید عام کر دیا ہے۔ لوگ محفلوں میں بیٹھ کر دوسروں کی نجی زندگیوں کو موضوعِ گفتگو بناتے ہیں اور اسے تفریح سمجھتے ہیں، حالانکہ یہی عمل کئی دلوں کو توڑ دیتا ہے۔ کتنے ہی رشتے صرف زبان کی بے احتیاطی کی وجہ سے ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک مہذب اور بااخلاق انسان وہی ہے جو دوسروں کی عزت کا خیال رکھے، خاص طور پر اس وقت جب وہ کسی مجلس یا دسترخوان میں موجود ہو۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے دسترخوان کو غیبت، حسد اور نفرت سے پاک رکھیں۔ وہاں محبت، دعا، شکر اور اچھے الفاظ کا ماحول پیدا کریں۔ کیونکہ رزق صرف پیٹ بھرنے کے لئے نہیں بلکہ روح کی پاکیزگی کے لئے بھی ہوتا ہے۔
دسترخوان پر صرف کھانا نہ بانٹیں، بلکہ محبت، ادب اور اچھے اخلاق بھی بانٹیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

دسترخوان کی غیبت


پیر اقبال رشید

کرالہ پورہ کپواڑہ
(قلمکار محکمۂ تعلیم میں بحیثیتِ استاد خدمات انجام دے رہا ہے اور ساتھ ہی ایک متحرک سماجی کارکن کے طور پر بھی معاشرے کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔)

انسانی معاشرے کی خوبصورتی محبت، احترام اور حسنِ اخلاق سے قائم رہتی ہے۔ جب یہی معاشرہ زبان کی تلخی، برائی اور غیبت جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو جائے تو رشتوں کی مٹھاس آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ انہی اخلاقی برائیوں میں ایک عام مگر نہایت خطرناک برائی “دسترخوان کی غیبت” بھی ہے۔ یہ وہ غیبت ہے جو کھانے کی مجلسوں، دعوتوں، شادیوں یا ہمارے گھروں میں روزمرہ کے دسترخوان پر بیٹھ کر کی جاتی ہے۔ بظاہر لوگ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں مگر حقیقت میں کسی کی عزت، کردار اور وقار کو نوچ رہے ہوتے ہیں۔
اسلام نے غیبت کو سختی سے منع کیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟”
یہ مثال اس گناہ کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں غیبت ایک معمول بنتی جا رہی ہے، خاص طور پر کھانے کی محفلوں میں۔ جیسے ہی لوگ دسترخوان پر جمع ہوتے ہیں، گفتگو کا رخ کسی نہ کسی فرد کی برائی، کمزوری یا ذاتی زندگی کی طرف مڑ جاتا ہے۔ کوئی کسی کے لباس پر تبصرہ کرتا ہے، کوئی کسی کی غربت کا مذاق اڑاتا ہے، تو کوئی کسی کی ناکامیوں کو بیان کر کے لطف اندوز ہوتا ہے۔
دسترخوان دراصل شکر اور محبت کی جگہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں رزق کی برکت پر اللہ کا شکر ادا کیا جانا چاہیے، جہاں خاندان اور دوستوں کے درمیان محبت بڑھنی چاہیے۔ مگر جب اسی جگہ غیبت ہونے لگے تو نہ صرف محفل کی روح ختم ہو جاتی ہے بلکہ رزق کی برکت بھی اٹھ جاتی ہے۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ لیکن افسوس کہ اکثر لوگ اپنی زبان کے ذریعے دوسروں کے دل زخمی کرتے رہتے ہیں۔
غیبت کی ایک خطرناک بات یہ بھی ہے کہ اس میں صرف بولنے والا ہی نہیں بلکہ سننے والا بھی شریک ہوتا ہے۔ اگر مجلس میں موجود لوگ خاموش رہیں، ہنسیں یا دلچسپی سے سنیں تو وہ بھی اس گناہ میں برابر کے شریک سمجھے جاتے ہیں۔ اس لئے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اگر کسی محفل میں غیبت شروع ہو جائے تو نرمی سے موضوع بدل دے، اچھی بات کرے یا وہاں سے اٹھ جائے۔
آج سوشل میڈیا اور جدید ماحول نے اس برائی کو مزید عام کر دیا ہے۔ لوگ محفلوں میں بیٹھ کر دوسروں کی نجی زندگیوں کو موضوعِ گفتگو بناتے ہیں اور اسے تفریح سمجھتے ہیں، حالانکہ یہی عمل کئی دلوں کو توڑ دیتا ہے۔ کتنے ہی رشتے صرف زبان کی بے احتیاطی کی وجہ سے ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک مہذب اور بااخلاق انسان وہی ہے جو دوسروں کی عزت کا خیال رکھے، خاص طور پر اس وقت جب وہ کسی مجلس یا دسترخوان میں موجود ہو۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے دسترخوان کو غیبت، حسد اور نفرت سے پاک رکھیں۔ وہاں محبت، دعا، شکر اور اچھے الفاظ کا ماحول پیدا کریں۔ کیونکہ رزق صرف پیٹ بھرنے کے لئے نہیں بلکہ روح کی پاکیزگی کے لئے بھی ہوتا ہے۔
دسترخوان پر صرف کھانا نہ بانٹیں، بلکہ محبت، ادب اور اچھے اخلاق بھی بانٹیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں