سرحدوں سے پرے بیانیے: نکسل نظریے کو سہارا دینے والا عالمی نظام

 

ڈاکٹر کانچن لکشمن

بھارت کی جانب سے 31 مارچ 2026 تک “نکسل مکت بھارت” کے ہدف کے حصول کا اعلان داخلی سلامتی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کی باز آبادکاری اور منظم سیکورٹی کارروائیوں نے نکسل تحریک کی عملی طاقت کو بڑی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ تاہم زمینی سطح پر اس تحریک کے کمزور ہونے کے باوجود ایک متوازی نظریاتی نظام عالمی سطح پر اس کے بیانیے کو زندہ رکھنے اور دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ نیا چیلنج اب جنگلات یا دور دراز علاقوں تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی مباحث، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، کارکن تنظیموں اور علمی حلقوں میں منتقل ہو چکا ہے۔ یورپ، شمالی امریکہ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں موجود بعض تنظیمیں، اشاعتی ادارے اور نظریاتی پلیٹ فارمز مسلسل بھارت کو ایک جابرانہ ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں، خاص طور پر قبائلی برادریوں، مزدور طبقے اور پسماندہ طبقات کے تناظر میں۔ یہ بیانیہ دراصل ماؤ نواز نظریے کے اس تصور سے جڑا ہوا ہے جس کے تحت ریاستی نظام کو استحصالی قرار دے کر مسلح جدوجہد کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کئی عالمی پلیٹ فارمز کھل کر ماؤ نواز نظریات کی حمایت اور تشہیر کرتے ہیں۔ آسٹریلیا کا “ریڈ اسپارک” اور امریکہ کا “بینڈ تھاٹ” جیسے پلیٹ فارمز سی پی آئی (ماؤسٹ) سے ہم آہنگ مواد شائع کرتے ہیں، جن میں “عوامی جنگ” کے نظریات کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح “انٹرنیشنل کمیٹی ٹو سپورٹ دی پیپلز وار اِن انڈیا” جیسی تنظیمیں بھارتی سیکورٹی کارروائیوں کو “نسل کشی” قرار دے کر مسلح تحریک کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ “ڈیم وولکے ڈینن” اور “دی ریڈ ہیرالڈ” جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھارتی داخلی سیکورٹی اقدامات کو سامراج مخالف بیانیے کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔
یہ نظریاتی سرگرمیاں صرف سیاسی پلیٹ فارمز تک محدود نہیں بلکہ مزدور اور کسان تنظیموں کے ذریعے بھی آگے بڑھائی جاتی ہیں۔ مزدور حقوق، زرعی مسائل اور سماجی انصاف کے موضوعات کو بعض اوقات اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ بھارت کے خلاف ایک یکطرفہ اور منفی تاثر قائم ہو۔ یوں حقیقی سماجی مسائل کو نظریاتی مقاصد کے ساتھ جوڑ کر ریاستی اداروں کی ساکھ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
علمی اور فکری حلقے بھی اس بیانیاتی جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بعض محققین اور تبصرہ نگار بھیمہ کوریگاؤں جیسے معاملات کو بنیاد بنا کر بھارت میں منظم جبر کے الزامات کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہیں۔ اگرچہ تنقید اور اختلاف جمہوری معاشروں کا حصہ ہیں، مگر مخصوص واقعات کی یکطرفہ تشریح اور عالمی سطح پر ان کی تشہیر شدت پسند بیانیوں کو تقویت دے سکتی ہے۔
اس عالمی نظریاتی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت بھارتی سیکورٹی آپریشنز، خصوصاً “آپریشن کاگر” کی مخالفت ہے۔ برطانیہ، آسٹریا، فلپائن اور دیگر ممالک میں سرگرم طلبہ اور کارکن گروہوں نے ان کارروائیوں کے خلاف مہمات چلائی ہیں۔ یہ صرف رائے زنی نہیں بلکہ بھارت کے داخلی سیکورٹی معاملات کو عالمی سیاسی مسئلہ بنانے کی منظم کوشش ہے۔
فرانس، جرمنی، ترکی، نیپال، برطانیہ اور امریکہ تک پھیلے یہ بیانیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماؤ نواز نظریات اور سامراج مخالف سیاست کے گرد ایک بین الاقوامی ہم آہنگی موجود ہے۔ بعض سیاسی تنظیمیں بھارت کے داخلی تنازعات کو عالمی طبقاتی جدوجہد اور علاقائی بالادستی کے تناظر میں پیش کرتی ہیں تاکہ ماؤ نواز نظریات کو عالمی سطح پر نئی اہمیت دی جا سکے۔
اس پورے نظام کا بنیادی مقصد واضح دکھائی دیتا ہے۔ چونکہ بھارت میں نکسل تحریک کی عملی طاقت کمزور پڑ چکی ہے، اس لئے بیرونی دنیا میں اس کی نظریاتی حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کو “کارپوریٹ استحصال” اور سیکورٹی کارروائیوں کو “ریاستی تشدد” قرار دے کر ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں جو دوبارہ انتہا پسندی کو جنم دے سکتے ہیں۔
اسی لئے بھارت کا ردعمل صرف سیکورٹی کارروائیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ غلط معلومات کا مؤثر جواب، ترقیاتی کامیابیوں کی شفاف پیشکش اور عالمی مباحث میں فعال شرکت وقت کی ضرورت ہے۔ آج کی جنگ صرف بندوقوں کی نہیں بلکہ معلومات، بیانیوں اور نظریات کی جنگ بھی ہے۔
بھارت میں ماؤ نواز تشدد کا کم ہونا یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اب یہ جدوجہد جنگلات سے نکل کر عالمی فورمز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اطلاعاتی جنگ کے میدان میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تبدیلی کو سمجھنا اور اس کا مؤثر جواب دینا ضروری ہے تاکہ “نکسل مکت بھارت” کی کامیابیاں مستقل اور ناقابل واپسی بن سکیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

سرحدوں سے پرے بیانیے: نکسل نظریے کو سہارا دینے والا عالمی نظام

 

ڈاکٹر کانچن لکشمن

بھارت کی جانب سے 31 مارچ 2026 تک “نکسل مکت بھارت” کے ہدف کے حصول کا اعلان داخلی سلامتی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کی باز آبادکاری اور منظم سیکورٹی کارروائیوں نے نکسل تحریک کی عملی طاقت کو بڑی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ تاہم زمینی سطح پر اس تحریک کے کمزور ہونے کے باوجود ایک متوازی نظریاتی نظام عالمی سطح پر اس کے بیانیے کو زندہ رکھنے اور دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ نیا چیلنج اب جنگلات یا دور دراز علاقوں تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی مباحث، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، کارکن تنظیموں اور علمی حلقوں میں منتقل ہو چکا ہے۔ یورپ، شمالی امریکہ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں موجود بعض تنظیمیں، اشاعتی ادارے اور نظریاتی پلیٹ فارمز مسلسل بھارت کو ایک جابرانہ ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں، خاص طور پر قبائلی برادریوں، مزدور طبقے اور پسماندہ طبقات کے تناظر میں۔ یہ بیانیہ دراصل ماؤ نواز نظریے کے اس تصور سے جڑا ہوا ہے جس کے تحت ریاستی نظام کو استحصالی قرار دے کر مسلح جدوجہد کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کئی عالمی پلیٹ فارمز کھل کر ماؤ نواز نظریات کی حمایت اور تشہیر کرتے ہیں۔ آسٹریلیا کا “ریڈ اسپارک” اور امریکہ کا “بینڈ تھاٹ” جیسے پلیٹ فارمز سی پی آئی (ماؤسٹ) سے ہم آہنگ مواد شائع کرتے ہیں، جن میں “عوامی جنگ” کے نظریات کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح “انٹرنیشنل کمیٹی ٹو سپورٹ دی پیپلز وار اِن انڈیا” جیسی تنظیمیں بھارتی سیکورٹی کارروائیوں کو “نسل کشی” قرار دے کر مسلح تحریک کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ “ڈیم وولکے ڈینن” اور “دی ریڈ ہیرالڈ” جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھارتی داخلی سیکورٹی اقدامات کو سامراج مخالف بیانیے کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔
یہ نظریاتی سرگرمیاں صرف سیاسی پلیٹ فارمز تک محدود نہیں بلکہ مزدور اور کسان تنظیموں کے ذریعے بھی آگے بڑھائی جاتی ہیں۔ مزدور حقوق، زرعی مسائل اور سماجی انصاف کے موضوعات کو بعض اوقات اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ بھارت کے خلاف ایک یکطرفہ اور منفی تاثر قائم ہو۔ یوں حقیقی سماجی مسائل کو نظریاتی مقاصد کے ساتھ جوڑ کر ریاستی اداروں کی ساکھ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
علمی اور فکری حلقے بھی اس بیانیاتی جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بعض محققین اور تبصرہ نگار بھیمہ کوریگاؤں جیسے معاملات کو بنیاد بنا کر بھارت میں منظم جبر کے الزامات کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہیں۔ اگرچہ تنقید اور اختلاف جمہوری معاشروں کا حصہ ہیں، مگر مخصوص واقعات کی یکطرفہ تشریح اور عالمی سطح پر ان کی تشہیر شدت پسند بیانیوں کو تقویت دے سکتی ہے۔
اس عالمی نظریاتی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت بھارتی سیکورٹی آپریشنز، خصوصاً “آپریشن کاگر” کی مخالفت ہے۔ برطانیہ، آسٹریا، فلپائن اور دیگر ممالک میں سرگرم طلبہ اور کارکن گروہوں نے ان کارروائیوں کے خلاف مہمات چلائی ہیں۔ یہ صرف رائے زنی نہیں بلکہ بھارت کے داخلی سیکورٹی معاملات کو عالمی سیاسی مسئلہ بنانے کی منظم کوشش ہے۔
فرانس، جرمنی، ترکی، نیپال، برطانیہ اور امریکہ تک پھیلے یہ بیانیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماؤ نواز نظریات اور سامراج مخالف سیاست کے گرد ایک بین الاقوامی ہم آہنگی موجود ہے۔ بعض سیاسی تنظیمیں بھارت کے داخلی تنازعات کو عالمی طبقاتی جدوجہد اور علاقائی بالادستی کے تناظر میں پیش کرتی ہیں تاکہ ماؤ نواز نظریات کو عالمی سطح پر نئی اہمیت دی جا سکے۔
اس پورے نظام کا بنیادی مقصد واضح دکھائی دیتا ہے۔ چونکہ بھارت میں نکسل تحریک کی عملی طاقت کمزور پڑ چکی ہے، اس لئے بیرونی دنیا میں اس کی نظریاتی حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کو “کارپوریٹ استحصال” اور سیکورٹی کارروائیوں کو “ریاستی تشدد” قرار دے کر ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں جو دوبارہ انتہا پسندی کو جنم دے سکتے ہیں۔
اسی لئے بھارت کا ردعمل صرف سیکورٹی کارروائیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ غلط معلومات کا مؤثر جواب، ترقیاتی کامیابیوں کی شفاف پیشکش اور عالمی مباحث میں فعال شرکت وقت کی ضرورت ہے۔ آج کی جنگ صرف بندوقوں کی نہیں بلکہ معلومات، بیانیوں اور نظریات کی جنگ بھی ہے۔
بھارت میں ماؤ نواز تشدد کا کم ہونا یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اب یہ جدوجہد جنگلات سے نکل کر عالمی فورمز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اطلاعاتی جنگ کے میدان میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تبدیلی کو سمجھنا اور اس کا مؤثر جواب دینا ضروری ہے تاکہ “نکسل مکت بھارت” کی کامیابیاں مستقل اور ناقابل واپسی بن سکیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں