بلال بشیر بٹ
سرینگر جنگ
منشیات کے خلاف بے مثال عوامی غصے کا اظہار کرتے ہوئے سری نگر کی سڑکیں ہزاروں افراد سے بھر گئیں جب لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں "نشہ مکت ابھیان”(منشیات سے پاک مہم)کے تحت ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی، جس نے شہر کو احتجاجی نعروں اور عزم کی آوازوں سے گونجا دیا۔
دور دراز علاقوں سے بھی لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے، جس سے واضح ہوا کہ جموں و کشمیر میں نوجوانوں کو نشانہ بنانے والے نارکو نیٹ ورکس کے خلاف ایک مضبوط عوامی بیداری اور مزاحمت جنم لے چکی ہے۔
ٹی آر سی فٹبال گراؤنڈ میں مہم کا آغاز کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے ایک پُرجوش خطاب کیا اور بعد ازاں دو کلومیٹر طویل پیدل مارچ کی قیادت کی۔ انہوں نے منشیات کے خلاف مکمل جنگ کا اعلان کرتے ہوئے ہر شہری سے اس جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک عہد نہیں بلکہ ان خاندانوں کی اجتماعی پکار ہے جو نشے کی وجہ سے بکھر چکے ہیں، اور یہ ہمارے نوجوانوں کو بچانے کا ایک پختہ عزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک جموں و کشمیر کو مکمل طور پر منشیات سے پاک نہیں کیا جاتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
نارکو اسمگلروں اور ملک دشمن عناصر کو سخت وارننگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے نیٹ ورکس کو منظم انداز میں ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ محض 21 دنوں میں 481 ایف آئی آر درج کی گئیں، 500 سے زائد منشیات فروشوں کو جیل بھیجا گیا، منشیات سے حاصل شدہ آمدنی سے بنائی گئی املاک کو منہدم کیا گیا اور کروڑوں روپے کی جائیداد ضبط کی گئی۔
انہوں نے منشیات کے کاروبار کو دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ رقم تشدد اور عدم استحکام کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جس کے باعث یہ معاملہ قومی سلامتی کا سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات کوئی فیشن نہیں بلکہ ایسی زنجیر ہے جو آزادی چھین لیتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو کھیل، ہنر اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب ہونے کی تلقین کی۔
سخت زیرو ٹالرنس پالیسی اور عوامی شرکت کے اس غیر معمولی مظاہرے نے واضح پیغام دیا ہے کہ جموں و کشمیر اب منشیات کے خلاف متحد ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔


