پہلگام سانحہ کی پہلی برسی پر ملک بھر میں سوگ اور عزم کا اظہار

رمیض مخدومی
جنگ نیوز ڈیسک

پہلگام دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی کے موقع پر ملک بھر میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اور سوگ کی فضا کے ساتھ عزمِ نو کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے اس حملے میں 26 بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے تھے، جسے ملک کے بدترین دہشت گردانہ واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
بھارتی فوج نے اس موقع پر اپنی کارروائی “آپریشن سندور” کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس تیز رفتار آپریشن میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور سرکاری بیان کے مطابق 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ افواج نے دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ انصاف فراہم کیا جا چکا ہے۔
متاثرہ خاندان آج بھی غم میں ڈوبے ہیں، تاہم ان کے حوصلے بلند ہیں۔ مرحوم سنتوش جگدالے کی اہلیہ پرگتی جگدالے نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے گاؤں میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوج کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
ادھر حملے کی عینی شاہد ایشانیہ دویدی نے اس واقعے کو انتہائی سفاکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انسانیت سوز دہشت گردانہ حملہ تھا، جس کی یاد آج بھی دل دہلا دیتی ہے۔
پہلگام میں قائم یادگار ان 26 جانوں کی قربانی کو زندہ رکھے ہوئے ہے، جبکہ سیاحوں کی محدود مگر مسلسل آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خوف کے باوجود زندگی رواں دواں ہے۔ کشمیر میں سیاحت اور مقامی معیشت کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
اگرچہ سکیورٹی کے سخت انتظامات اور کم سیاحتی سرگرمیاں اب بھی اس سانحے کے اثرات کی عکاسی کرتی ہیں، تاہم پہلگام دوبارہ ایک اہم سیاحتی مرکز کے طور پر اپنی شناخت بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قوم کے لیے اس برسی کا پیغام واضح ہے کہ درد اپنی جگہ قائم ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
ہلگام دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی کے موقع پر جموں و کشمیر کے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے ملحقہ علاقوں میں طلبہ اور مقامی باشندوں نے ریلیاں، مظاہرے اور دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا۔ شرکاء نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور خطے میں پائیدار امن کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق شمالی کشمیر کے کرناہ سب ڈویژن میں دو ہزار سے زائد طلبہ نے مختلف مقامات، جن میں ہاجنار، کَنڈی اور تِتھوال شامل ہیں، میں انسدادِ دہشت گردی مارچ میں حصہ لیا۔ طلبہ نے دہشت گردی کے خلاف نعرے لگائے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے حق میں پیغامات درج تھے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے کہا کہ نوجوان نسل تشدد کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے اور ایک پرامن و ترقی یافتہ مستقبل پر یقین رکھتی ہے۔

عالمی رہنماؤں کی دہشت گردی کی مذمت

پہلگام حملے کی برسی پر دنیا بھر کے ممالک نے بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔
UK، ارجنٹینا، آسٹریلیا اور EU نے اپنے بیانات میں متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ عالمی رہنماؤں نے امن و سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسے حملوں کے خلاف عالمی سطح پر متحد ہو کر کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات کو روکا جا سکے۔
مزید برآں، عالمی برادری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے اور معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنایا جائے، تاکہ بین الاقوامی سطح پر پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

صدر ہند کا بیان 
میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتی ہوں۔ اس بھیانک واقعے میں معصوم جانوں کا ضیاع ہماری اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ نقش رہے گا۔ میں سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ دہشت گردی کے ایسے بزدلانہ اقدامات ہمارے امن اور اتحاد کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ ہم ہر شکل میں اور ہر جگہ دہشت گردی کے خاتمے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔
وزیر اعظم مودی کا بیان 
گزشتہ سال اسی دن پہلگام کے ہولناک دہشت گردانہ حملے میں جان گنوانے والے بے گناہ افراد کو یاد کر رہا ہوں۔ انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ میرے احساسات اس سانحے کے غم میں مبتلا کنبوں کے ساتھ ہیں۔
ایک قوم کی حیثیت سے ہم غم اور عزم میں متحد ہیں۔ بھارت کبھی دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکے گا۔ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

وزیر داخلہ کا بیان  
آج کے دن ہم گزشتہ سال پہلگام کے ہولناک دہشت گردانہ حملے میں کھوئی ہوئی معصوم جانوں کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ اپنے لوگوں کو کھونے کا غم اور درد آج بھی ہر ہندوستانی کے دل میں زندہ ہے۔ دہشت گردی انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہے، جس کے خلاف ہمیں متحد ہو کر لڑنا اور اسے شکست دینا ہوگا۔ بھارت دہشت گردی اور اس کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی پر قائم رہے گا۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا بیان 
میں2025 آج کے دِن پہلگام میں ہوئے خوفناک دہشت گرد انہ حملے میں جاں بحق ہوئے معصوم اَفراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان کی یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ میری ہمدردیاں اور دُعائیں ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔
ہم نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے۔ یہ ہمارا پختہ عہد ہے۔ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ ہم جموں و کشمیر کی سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے عزم اور مضبوط ارادے کا اعادہ کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بیان  
ایک سال گزر جانے کے بعد بھی ہم دہشت گردی اور تشدد کے خلاف متحد ہیں۔ ہم جموں و کشمیر کو دکھ اور معصوم جانوں کے ضیاع سے نجات دلانے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے پابند ہیں کہ ایسا واقعہ دوبارہ کبھی پیش نہ آئے۔ ہم اس بزدلانہ حملے میں ایک سال قبل اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ کرے کہ دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کی روحیں سکون میں رہیں۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

پہلگام سانحہ کی پہلی برسی پر ملک بھر میں سوگ اور عزم کا اظہار

رمیض مخدومی
جنگ نیوز ڈیسک

پہلگام دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی کے موقع پر ملک بھر میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اور سوگ کی فضا کے ساتھ عزمِ نو کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے اس حملے میں 26 بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے تھے، جسے ملک کے بدترین دہشت گردانہ واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
بھارتی فوج نے اس موقع پر اپنی کارروائی “آپریشن سندور” کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس تیز رفتار آپریشن میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور سرکاری بیان کے مطابق 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ افواج نے دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ انصاف فراہم کیا جا چکا ہے۔
متاثرہ خاندان آج بھی غم میں ڈوبے ہیں، تاہم ان کے حوصلے بلند ہیں۔ مرحوم سنتوش جگدالے کی اہلیہ پرگتی جگدالے نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے گاؤں میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوج کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
ادھر حملے کی عینی شاہد ایشانیہ دویدی نے اس واقعے کو انتہائی سفاکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انسانیت سوز دہشت گردانہ حملہ تھا، جس کی یاد آج بھی دل دہلا دیتی ہے۔
پہلگام میں قائم یادگار ان 26 جانوں کی قربانی کو زندہ رکھے ہوئے ہے، جبکہ سیاحوں کی محدود مگر مسلسل آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خوف کے باوجود زندگی رواں دواں ہے۔ کشمیر میں سیاحت اور مقامی معیشت کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
اگرچہ سکیورٹی کے سخت انتظامات اور کم سیاحتی سرگرمیاں اب بھی اس سانحے کے اثرات کی عکاسی کرتی ہیں، تاہم پہلگام دوبارہ ایک اہم سیاحتی مرکز کے طور پر اپنی شناخت بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قوم کے لیے اس برسی کا پیغام واضح ہے کہ درد اپنی جگہ قائم ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
ہلگام دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی کے موقع پر جموں و کشمیر کے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے ملحقہ علاقوں میں طلبہ اور مقامی باشندوں نے ریلیاں، مظاہرے اور دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا۔ شرکاء نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور خطے میں پائیدار امن کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق شمالی کشمیر کے کرناہ سب ڈویژن میں دو ہزار سے زائد طلبہ نے مختلف مقامات، جن میں ہاجنار، کَنڈی اور تِتھوال شامل ہیں، میں انسدادِ دہشت گردی مارچ میں حصہ لیا۔ طلبہ نے دہشت گردی کے خلاف نعرے لگائے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے حق میں پیغامات درج تھے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے کہا کہ نوجوان نسل تشدد کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے اور ایک پرامن و ترقی یافتہ مستقبل پر یقین رکھتی ہے۔

عالمی رہنماؤں کی دہشت گردی کی مذمت

پہلگام حملے کی برسی پر دنیا بھر کے ممالک نے بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔
UK، ارجنٹینا، آسٹریلیا اور EU نے اپنے بیانات میں متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ عالمی رہنماؤں نے امن و سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسے حملوں کے خلاف عالمی سطح پر متحد ہو کر کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات کو روکا جا سکے۔
مزید برآں، عالمی برادری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے اور معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنایا جائے، تاکہ بین الاقوامی سطح پر پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

صدر ہند کا بیان 
میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتی ہوں۔ اس بھیانک واقعے میں معصوم جانوں کا ضیاع ہماری اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ نقش رہے گا۔ میں سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ دہشت گردی کے ایسے بزدلانہ اقدامات ہمارے امن اور اتحاد کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ ہم ہر شکل میں اور ہر جگہ دہشت گردی کے خاتمے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔
وزیر اعظم مودی کا بیان 
گزشتہ سال اسی دن پہلگام کے ہولناک دہشت گردانہ حملے میں جان گنوانے والے بے گناہ افراد کو یاد کر رہا ہوں۔ انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ میرے احساسات اس سانحے کے غم میں مبتلا کنبوں کے ساتھ ہیں۔
ایک قوم کی حیثیت سے ہم غم اور عزم میں متحد ہیں۔ بھارت کبھی دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکے گا۔ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

وزیر داخلہ کا بیان  
آج کے دن ہم گزشتہ سال پہلگام کے ہولناک دہشت گردانہ حملے میں کھوئی ہوئی معصوم جانوں کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ اپنے لوگوں کو کھونے کا غم اور درد آج بھی ہر ہندوستانی کے دل میں زندہ ہے۔ دہشت گردی انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہے، جس کے خلاف ہمیں متحد ہو کر لڑنا اور اسے شکست دینا ہوگا۔ بھارت دہشت گردی اور اس کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی پر قائم رہے گا۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا بیان 
میں2025 آج کے دِن پہلگام میں ہوئے خوفناک دہشت گرد انہ حملے میں جاں بحق ہوئے معصوم اَفراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان کی یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ میری ہمدردیاں اور دُعائیں ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔
ہم نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے۔ یہ ہمارا پختہ عہد ہے۔ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ ہم جموں و کشمیر کی سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے عزم اور مضبوط ارادے کا اعادہ کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بیان  
ایک سال گزر جانے کے بعد بھی ہم دہشت گردی اور تشدد کے خلاف متحد ہیں۔ ہم جموں و کشمیر کو دکھ اور معصوم جانوں کے ضیاع سے نجات دلانے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے پابند ہیں کہ ایسا واقعہ دوبارہ کبھی پیش نہ آئے۔ ہم اس بزدلانہ حملے میں ایک سال قبل اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ کرے کہ دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کی روحیں سکون میں رہیں۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں