شبیر احمد میر
نصیب والوں کے گھر وں میں بزرگ ہوتے ہیں۔ان ہی کی دعائوں اور برکتوں سے گھر میںسو بلائیں ٹلتی ہیںاور زندگی میں آنے والے یہ بزرگ ہستیاں شجر سایہ دار کے مانند ہوتی ہیں۔جو ان کے حلقہ حصار میںآجاتا ہے۔ اسکی زندگی میں دھوپ کے باوجود چھائوں طاری رہتی ہے ۔لیکن ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ ہم اچھے بھلے زہنوں اور جسموں کو بڑھاپے کا لیبل لگا کر فراغت ۔ قید خانے یا اولڈ ایج ہوم میں ڈال کرنا کا رہ بنا دیتے ہیں۔ ایسی ہی مثالوں سے بھرا ہمارا معاشرہ۔ جہاں ہم قدم قدم پہ اپنے ہی گھر میںان بزرگ ہستیوں کو روحانی اذیت دے کر اپنے سے دور کرنے میں ہی بھلائی محسوس کرتے ہیں۔ان کے ساتھ تروش روے سے پیش آنا نتیجہ یہ اپنی جائز خواہشات کے لئے بھی۔ اپنی ہی اولادسے ڈرتے ہیں اور چھپاتے ہیں ۔تجربے کی عمر میں یہ لوگ اتنے پہنچ گئے ہوتے ہیں ۔کہ اپنی اولاد پر ایک نظر ڈالیں اور پورا ایکسرے نکا ل کر ان کے سامنے رکھ دیں ۔کسی قدر جہالت ہے ابھی بھی۔ کوئی بھی بات ان بزرگوں کی زبان سے نکلے تو اولاد کا مزاج بگڑنے اور زبان ان پر برسنے کو تیا ر ہو جاتی ہے۔ ایسی زبان گھر میں ہر وقت آگ لگاتی رہتی ہے۔ کچھ بھی نہیں سوچتے بولتے ہوئے ۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ دوسروں کی باتیں آسانی سے ان کی سمجھ میں آجاتی ہیں ۔پر اپنے گھر کے بزرگ کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ اتنے قریب رہنے کے باوجود ان کی اولاد ان کے معمول کا ۔ان کے وجود کا۔ ان کی سوچوں کا مستقل حصہ ہیں ۔کیوں انہیں یا د نہیں چھوٹے بچے کے گال پر ٹکا آنسو ماں اپنے ہونٹوں کے بوسے سے چوم لیتی ہے بلکہ پی جاتی ہے اور آج بوڑھے گال کا آنسو انگلی کے سرے پر بھی نہیں ٹکتا ۔وہ وہیں جھریوں میں غائب ہو جاتا ہے اور بہت دیر تک اپنا وجود برقرار رکھتا ہے گرم۔ گیلا اور ٹھنڈا ۔
میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود ہلال روزی کھانے والا ۔کیوں مجھے احسان جتایا جارہا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا میری اولاد احسان کا راستہ چھوڑ کر حقوق و فرائض کی راہ کیوں نہیں اپناتے۔ اس کا پورا وجود شدید غصے کی زد میں آکر تنکے کی طرح لرزنے لگا۔اس وقت بے بسی کے شدید احساس نے اس کے حلق میں پھندا اور آنکھوں میںنمی کی چادر تان دی جو اس نے بمشکل بہنے سے روکا ۔عجیب زندگی ہوگئی ہے جو موت سے زیادہ تکلیف دہ ہے ۔وہ روز مرنے کی دعائیں مانگتا ۔پر اسکی زندگی طویل تر ہونے لگتی ۔ وہ کم گو آدمی تھا ۔مگر اسکی نظریں بولتی تھیں ۔کتنا مشکل ہوتا ہے نا۔ اپنی زات عیاں کر کے اپنے زخم ادھیڑ کر کسی کو دکھانا ۔واقعہ جیسا بھی ہو اسے گزرنے والے کو رو کر یا خاموشی سے اس سے گزرنا ہی پڑتا ہے ۔ہم تو ایسے بے زبان جانور کی طرح ہین ۔جو صرف دیکھ سکتا ہے نہ تو اسے بولنے کی اجازت ہے نہ ہی احتجاج کرنے کی ۔کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں ۔جنکے اظہار کے لئے لفظ نہیں بنتے ۔ان کے لئے صرف آنسو ہوتے ہیں ۔ بے تحاشہ شفاف آنسو ۔جیسے کسی تازہ قبر پر سرخ پھولوں کی پتیوں پہ شبنم کے شفاف قطرے ٹھہرے ہوں۔
بعض غم ایسے بھی ہوتے ہیں ۔جو اپنوں سے کہے نہیں جاتے۔ انہیں کہنے کے لئے انسان اکثر اجنبی کی تلاش میںرہتا ے ۔جو اس کا غم دکھ سنے ۔نہ نصیحت کر ئے ۔نہ مشورہ دے ۔بس سن کر ان کا غم ہلکا کر دے۔ اس وقت روتے روتے اس نے اپنے آپ سے سول کیا ۔کیوں میرے جنون خیز محبت کے آگے میرے بیٹے نے پردہ گرا لیا ؟ واقعی بیٹے کی محبت جب بدل جاتی ہے تو بہت دکھ دیتی ہے ۔ میں کوئی پتھر تو نہیں گوشت پوشت کا بنا دل سینے میںرکھتا ہوں۔جو اپنوں کی یاد میںتڑپتا بھی ہے اور جو میرے بیٹے کی زیادتیوں کا احساس کر کے خون کے آنسو روتا بھی ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں ۔جو کچھ انسان کے خون میں ہوتاہے وہ ایک کے بعد دوسری نسل کی طرف چلتا رہتا ہے ۔ اولاد بہت بڑی کمزوری ہوتی ہے ۔جس کے آگے طاقت ور شخص بھی ہار جاتا ہے۔ اللہ میرے بیٹے کو بچائے ۔میںدعا کرتا ہوں ۔میرے بیٹے کو ہر حال میں خوش رکھنا ۔اس وقت اس کی آنکھوں میں بے پناہ محبت کے جذبات کروٹیں لے رہے تھے ۔باوقار۔ باہمت اور مظبوط اعصاب رکھنے والا۔ اسکی سوچوں کی پرواز ہمیشہ ہر وقت ماضی سے سفر کرتی رہتی تھی۔ اس اولڈ ایج ہوم میںاس وقت ماضی کسی عذاب کی صورت اس پر نازل ہو چکا تھا ۔اس کے چہرے پر سنجیدگی اور دکھ کی ملی جلی کیفیت طاری تھی۔ آنکھیں یوں نظر آرہی تھیں جیسے وہ بہت دیر تک روتا رہا ہو اسے اپنی ان ویران آنکھوں سے شکایت تھی ۔اپنے دل کی آرزوں سے شکوہ تھا ۔کیوں ایسی خواہشات اس کے من میں تھی ۔جو کبھی پوری نہیں ہوئی ۔کیوں دیکھا تھا اس نے ایک مکمل گھر کا خواب ۔صرف ایک خوب ہی تو دیکھا تھا۔ اپنے بیٹے اور اس کے بچوں سے محبت کا خواب۔ اتنی قیمت چکا کر بھی وہ خواب محض کانچ کا برتن ثابت ہوا اور جسے بے دردری سے توڑ دیا گیا ۔ اور اب اس خواب کی کرچیوں نے اس کے وجود وروح کو زخمی کردیا ۔اب اسکی نظریں اپنے ہاتھوں کی لیکروں سے الجھ گیئں۔ بے قراری سی ایک ہوک سی اس کے دل کی گہرائی سے بلند ہوئی اور لبوں پر آہ بن کر پھوٹی۔ اس اولڈ ایج ہوم میںان لوگوں میں رہ کر عقل چکرا کر رہ گئی۔ قدم قدم پر ایک نیا واقعہ ۔ایک نیا حادثہ دیکھنے میںآتا ہے۔ سوچتا ہوں اس زندگی کے کتنے رنگ ہیں ۔کتنے چہرے ہیں ۔کیا صیح ہے کیا غلط ۔کسے اچھا کہیں کسے برا ۔ ہر فرد کی ایک نئی کہانی دیکھنے اور سننے کو ملتی ہے۔ یہاںتو ہر کسی کے لئے جدائی ایک روگ بنتی جارہی ہے۔ ہر کسی کی آنکھوں میںآنسو بہہ بہہ کر اب تو جیسے بالکل ہی ختم ہوگئے ہیں۔ سبوں کی آنکھیں ویران ہیں یوں گویا ان آنکھوں میںکبھی کسی خواب کا بسیرا نہیں تھا ۔ ہر کوئی جانتا ہے ہماری زندگی کا سکون کیا ہے۔ مگر ان بوڑھے والدین کو اپنی اولادوں نے اپنے سے جد ا کر کے خود سکون کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ سمجھ میں نہیں آتا انسا ن حقیقت سے اتنا گھبراتا کیوں ہے اور خوشیوں کی طرف دوڑتا ہے ۔حالانکہ حقیقت میں ہی دائمی خوشی کا راز پوشیدہ ہے۔ اپنے والدین کو خاردار کانٹے سمجھنے والے کبھی کسی بپھول کو دیکھا ہے جو تیز اور نوکیلے کانٹوں میںرہ کر بھی کتنی زندہ دلی سے مسکراتا رہتا ہے ۔ لیکن جوں ہیء اسے ان کانٹوں سے جد ا کیا جاتاہے تو کسی کے ہاتھوں کا لمس بھی برداشت نہیں کر پاتا۔ ایک دم مرجھا کے رہ جاتا ہے ۔ اگر انسان دکھوں کو برداشت کرنا سیکھ لے تو وہ اس خوشی کو پالے گا ۔جو کبھی نہ ختم ہونے والی ہے اورہمیشہ پھولوں کی طرح مسکراتا رہے گا ۔اس وقت وہ خود کو پر سکون ظاہر کرنے کی کوشش میںمزید بے چین ہو رہا تھا ۔وہ کھڑکی کے پاس بیٹھا افق کے پار ڈوبتا سورج اس کے سامنے تھا ۔ یہ اسکا من پسند منظر تھا ۔ڈو بتے سورج کی زرد شعاعوں کو پڑھنا ۔زرد آسمان کی زردری کو محسوس کرنا۔ اس کا مشغلہ تھا ۔ اب سورج کب کا مغرب کی گود میں اتر گیا تھا ۔ نا ریخی شام کے سر پر دھیر ے د ھیرے رات کی سیاہ چادر سایہ کرنے لگی تھی۔ وہ بستر پر لیٹا یک ٹک چھت کو گھور رہا تھا۔ کوشش کے باوجود نیند کی دیوی اس سے ہمیشہ خفا رہی تھی ۔آج اس کا سارا بدن کسی پکے ہوئے پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا اور سردرد کی شدت سے پھٹا جارہا تھا ۔ پھر بھی اس کے تصور میںاسکا اپنا بیٹا اور اس کے بچے دکھائی دے رہے تھے۔ اس وقت اسے لگ رہا تھا ۔جیسے زندگی ہولے ہولے اسکے اندر مررہی ہے۔ یہ وہی کمرہ تھا جہاں وہ رہا کرتا تھا۔ اس وقت اسے یہ کمراہ کوئی قربرستان لگ رہا تھا ۔نہ کوئی آہٹ ۔نہ صدا۔ نہ زندگی کے آثار ۔ نہ کوئی پکار اس گہرے سناٹے میںصرف دیوار گیر گھڑیال کی ٹک ٹک زندگی سے تعلق قائم رہنے کا احساس دلانے کو باقی رہ گئی تھی۔ کتنا جان لیوا تھا یہ سناٹا ۔ہر آنے والے کو جانے کا عہد نبھانا پڑتا ہے۔ اس دنیا میں بے شمار لوگ آتے ہیں اور ان کی گمنام زندگی کی تکمیل موت کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ ان دروازوں اور دیواروں کی قدر نہ تھی اسے۔ اس نے انہیںاپنا محافظ کبھی نہیں سمجھا ۔ان میںرہ کر اس کا دم گھٹتا تھا ۔لیکن آج وہ ان دونوںکا سہار لیئے الماری تک چلا آیا ۔
الماری کے پٹ کھول کے لیٹر پیڈ اور قلم ہاتھ میںلئے ان ہی کا سہارا لئے کر اپنی جگہ پر آبیٹھا ۔ بر سوں کی تھکن اور ویرانی بھرے کسی ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح جھول رہا تھا ۔
اطمینان سے بیٹھے اس نے ایک خط بیٹے کے نام لکھنا شروع کیا ۔
میرے جگر کے ٹکڑے ۔میرے بچے ! اللہ تمہیں سلامت اور ہر حال میںخوش رکھے ۔آمین
اللہ کے نزدیک ہر وہ انسان پاکیزہ ہے ۔جس نے اپنی سوچوں کو پاکیزہ رکھا اور اپنے کردار کو مظبوط بنایا اور تم ان دونوں چیزوں پر پورا نہیں اترتے۔ ان دونوں چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے بہت محنت کی ضرورت ہے۔ تم کر سکتے ہو۔ نیت اچھی ہو تو اللہ ہر کام میںبرکت ڈال دیتا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے انسان پر یشانیوں کی گنتی کرنے کا ماہر ہے لیکن نعمتوں کا حساب رکھنا بھول جاتا ہے۔ اس دنیا میں ہر طرح کے انسان ہیں ۔کچھ لوگ وفا اور محبت کو ترستے ہیں اور کچھ لوگ وفا اور محبت ملنے پر بھی اس کی قدر نہیں کرتے اور کچھ لوگ اس قابل نہیں ہوتے کہ انہیں وفا اور محبت دی جائے۔ اپنوں کو ہمیشہ اپنے ہونے کا احساس دلاو ۔ورنہ وقت آپ کے اپنوں کو آپ کے بنا جینا سکھا دے گا ۔ہر انسان کی خوشی کی وجہ بنو۔ خوشی کا حصہ نہیںاو ر ہر انسان کے دکھ کا حصہ بنو ۔دکھ کی وجہ نہیں ۔ ہمیشہ اس انسان کے قریب رہو۔ جو تمہیں خوش رکھے لیکن اس انسان کے اور قریب رہو ۔جو تمہارے بغیر خوش نہ رہ پاے ۔ سنا ہے غیر متوقع خوشی بندے کی جان لیتی ہے ۔ دیکھا ہے بہت زیادہ غم بھی سانسوں کی ڈور کاٹ دیتا ہے۔ مگر بہت زیادہ بے یقینی بھی جان لیوا ہو سکتی ہے۔ نہ پیدا ہونا ہمارے اختیار میں ہوتا ہے اور نہ ہی مرنا ۔مگر زندگی کی خوشیاں حاصل کرنا ہر کسی کا حق ہوتا ہے ۔
میںنے تمہاری ٖغیر موجودی میںتاریک راتیں گن گن کر گزاری ہیں۔مگر مجھے افسوس ہے ۔تم نے ان راتوں کے تاروں کی گنتی کبھی نہیںپو چھی ۔خود بیٹے کا باپ ہونے کایہ مطلب تو نہیں۔کہ دوسروں کی اولاد کو اولا دہی نہ سمجھا جاے ۔میںتم سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا ۔کہ میری جگہ آکر دیکھو ۔ ایساکہنے کی ضرورت تب پیش آتی ۔جب مجھے لگتا کہ تم میرے احساسات کو سمجھ پارہے ہو ۔ اللہ کی رحمت سے اپنے زور بازو پر میںنے تمہیں پالا پوسا پڑھا یا لکھایا۔ پھر تمہارے دل میں مجھ سے الگ رہنے کا سودا کہا ںسے سما گیا ۔ جب تم چھوٹے تھے میری زبان میںزہر نہیں تھا ۔تمہیں بڑا کرنے میںساری مٹھاس ختم ہو گئی ۔حالات نے میری زبان کی مٹھاس کو زہریلا بنا دیا ۔ میںان مردوںمیں سے ایک تھا جو اپنی ازدواجی زندگی میںپہلی ترجیح اپنے مظبوط گھر کو دیتا رہا ۔جس میںبنیادی اعتبار محبت اور عزت یہ قائم تھی ۔ رشتوں کو غیر اہم سمجھ لینے سے یہ غیر اہم نہیں ہو جاتے ۔ان کا تعلق روح کی جڑوں ے جڑا ہوتا ہے۔ ان سے تعلق رکھو یا نہ رکھو ۔انھیں توجہ کا پانی دو نہ دو ۔یہ نہ مر جھاہیں گے اور نہ ہی سوکھتے ہیں۔ میں نے وہ سب کیا۔ جو ایک باپ کرتا ہے۔ بدلے میںمجھے کیا ملا ۔یہ تنہائی۔ ریز ہ ریزہ ہوا بھروسہ ۔کیا یہ قیامت نہیں بیٹا !کہ دنیا ایک دوسرے کے رشتہ داروں سے بھری پڑی ہے ۔مگر رشتے مر گئے ہیں۔کچھ لوگ مسکرائٹیں بکھیر کر بھی یہ احسا س نہیںہونے دیتے ۔کہ اندر سے مر چکے ہیں ۔ مجھ پر اس وقت کتنا بڑا پہاڑ آ گرا جب تم نے مجھے اس اولڈ ایج ہوم میںبیج دیا ۔وہ اعتماد کا ٹوٹا ہوا پہاڑ ۔جس کے ملبے تلے آج تک میری روح سسک رہی ہے۔ میری روح ہر بار سولی پر چڑھ رہی ہے۔ دل کوئی آرے سے چیر رہا ہے ۔
میرے بیٹے !جن سے محبت کی جاتی ہے انہیں نت نئے عذابوںکے حوالے نہیں کیاجاتا ۔انہیں ایسی کڑی آزمائش میں نہیں گزارا جاتا ۔ یہ سب کچھ میںکیسے بھول جائوںجس کا تصور آج بھی مجھے خوف زدہ کر دیتا ہے ۔ تمہیں ایک بار بھی مجھ پر ترس نہیں آیا ۔ تم تو چلے گئے اور میری زندگی بھی یوں ہی گزرتی رہی۔ مگر تم نے میرے سینے پر ایسا پتھر رکھ دیا جو کبھی سرکا ہی نہیں۔مجھے خوف و ڈر ہے کہ آج کسی کی راہ میںتم پتھر رکھو گے تو آنے والا وقت تمہاری راہ میں پہاڑ بن جائے گا ۔وقت اور سمجھ ایک ساتھ خوش قسمت لوگوں کو ملتے ہیں۔ وقت پر اکثر سمجھ نہیں ہوتی اور سمجھ آنے تک وقت نہیں بچتا۔مردہ جسم کو لوگ مٹی میںعزت کے ساتھ دفنا دیتے ہیں مگر زندہ جسم کے اندر پڑی مردہ روح کا بوجھ بھی اسی جسم کو اٹھانا پڑتا ہے ۔یہ بوجھ بھی وہ کسی سے بانٹ نہیںسکتا ۔دکھ تو اس بات کا ہے بیٹا !گر میرا خیال نہیںرکھ سکتے تھے تو کم سے کم میرے ساتھ رہ تو سکتے تھے ۔محبت نہیں کرسکتے تھے ہمدردی تو کرسکتے تھے ۔سہارا نہیں دے سکتے تھے خیال تو رکھ سکتے تھے۔ اتنا تو کر سکتے تھے تم ۔تم نے میرے ساتھ رہنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔ہم دونوںمیں کوئی رشتہ نظر نہیں آتا تھا ۔تم بھی تو باپ تھے ۔کسی بھی رشتے کی اہمیت دل میں اس رشتے کے احساس سے ہوتی ہے ۔خیر ۔ ۔ ۔
مجھے اپنی بہو سے کوئی گلہ شکوہ نہیں۔ کبھی سوچا ہے تم نے۔ کیوں ایک عورت اپنا گھر بنانے اسے بسانے کے لئے اپنی جانسے پیارے رشتوںکو چھوڑ کر ایک اجنبی کے سنگ زندگی گزارنے کا عہد کرتی ہے ۔ ایک عورت اتنی قربانی دیتی ہے تو کیوں اور کس لئے؟ مشرقی عورت کی وفاداری ۔شادی کے بعد اپنے شوہر اور اپنے گھر سے وابستہ ہو جاتی ہے ۔شادی سے پہلے کاکوئی جذبہ اسے یاد نہیں رہتا اور ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ شوہر کی محبت پر مشرقی بیوی اپنی وفانہ لٹا ئے ۔
شادی شدہ بیٹے کی ضد کا یہ مطلب ہوتا ہے ۔کہ ایک معاشرہ اس کی زد میں آجاتاہے۔ جو ساتھ رہ کر نہیں سمجھ سکتا۔ اسے لفظوں سے نہیں سمجھا یا جا سکتا ۔میری ان باتوں کا برا نہیںماننا بیٹے ۔زبان ایک ایسا تالا ہے جو جب تک لگا رہے ؛لگا رہے ۔ مگر جب ایک بار کھل جاے تو برے الفاظ بن بلائے مہمان کی طرح وقت بے وقت بے تکلفی سے چلے آتے ہیں۔ اس وقت چاند کھڑکی سے گزرتے ہوئے اسے مسکرا کر دیکھا۔ اسے طویل اور خوشیوں بھری زندگی کی دعا د ے کر آ گے بڑھ گیا ۔اس نے بھی چاند کو غور سے دیکھا اور الودعا کہا ۔اتنے میں ایک ہچکی آئی اور اس کی روح پرواز کر گئی ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
یہ خط پڑھ کر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے ۔ یہ دونوں انسان کے رتبے سے ایسے گر گے ۔کہ خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں رہے ۔بیٹے کے ہاتھوں سے یہ خط چھوٹ گیا اور سامنے اپنے بیٹے کو سر سے پیر تک غور سے دیکھنے لگا اور دو آنسو اس کی پلکوں کی باڑھ توڑ کر گالوں پر ڈھلک آئے۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے
mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔
زززز


