ایران، امریکی جنگ: پسِ منظر اور پیشِ منظر

 

رشید پروینؔ
سوپور، کشمیر

’’اسرائیل اپنی گہری اور ہمہ وقت لابی کے ذریعے امریکہ کی آزادی، اظہارِ رائے، انسانی آزادی اور تعلیم و تبلیغ جیسے بنیادی عناصر کی بیخ کنی کر چکا ہے۔ اصل امریکی، اسرائیلی لابیوں کے غلام اور ان سے خوف زدہ رہتے ہیں۔‘‘ (پال فنڈلے)
اس کا واضح ثبوت امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ سے ملتا ہے جو پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے بارے میں آپ ہر دن اور ہر لمحے کے حالات سے اسی طرح واقف ہیں جس طرح کسی ہند پاک کرکٹ میچ کی ہر گیند اور ہر چوکے پر نظر رکھتے ہیں، اس لئے اس پر مزید تبصرہ مناسب نہیں۔ تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے ساری دنیا کو متحیر کر دیا ہے، اور جس ایمانی جوش و جذبے سے وہ اتنی بڑی طاغوتی طاقتوں کا تنِ تنہا مقابلہ کر رہا ہے، اسے تاریخ کا ایک بے مثال واقعہ کہا جا سکتا ہے۔ مختصراً یہ کہ یہ قوم بیدار ہے، زندہ ہے، اور اس کی رگوں میں اپنی تاریخ کے مطابق غیرت و حمیت، جوش و جذبہ اور اسلامی طرزِ فکر سے سرشار لہو گردش کر رہا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ غیر متوازن اور نیم پاگل ٹرمپ ایران کو زیر کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ وہ کسی موقع پر ہیروشیما اور ناگاساکی کی طرح ایٹمی حملہ کر دے، یا عرب اور دیگر ممالک کو ایران کے خلاف بھڑکانے کے لئے مسجد اقصیٰ یا خانہ کعبہ پر بھی میزائل داغنے جیسی حماقت کر بیٹھے۔ کیا یہ جنگی حالات ایسی مکاریوں کے لئے موزوں نہیں؟ اور کیا نیتن یاہو اور ٹرمپ جیسے ذہنی مریضوں سے یہ بعید ہے کہ ان تمام ناقابلِ یقین حرکات کا الزام ایران پر ڈال دیا جائے؟
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران نے جس طرح بیداری کے ساتھ اپنی تیاری کی ہے، کیا ایٹمی یا نیوٹرون بم جیسے آخری حملوں کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے یا نہیں؟ قرینِ قیاس یہی ہے کہ یہ پہلو بھی ان کے مدنظر رہا ہوگا، اور غالب گمان یہی ہے کہ وہ اس مرحلے پر بھی دنیا کو اسی طرح حیران کر دیں گے جیسے اس جنگ کے دوران بڑی طاقتوں کو کر رہے ہیں۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ اس وقت امریکی عوام سڑکوں پر ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ یہ جنگ غیر اخلاقی، غیر ذمہ دارانہ اور غیر ضروری ہے۔ امریکہ کے کئی اہم عہدے دار بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ نہ امریکہ کو کوئی خطرہ تھا اور نہ ہی کسی حملے کے امکانات تھے، بلکہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری تھے جو اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہے تھے۔ لیکن اسرائیل نے نہ صرف ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا بلکہ اپنی درندگی سے صدر ٹرمپ کو بلیک میل کر کے اس جنگ میں دھکیل دیا۔ اب بھی اسرائیل چاہتا ہے کہ جنگ جاری رہے تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب ادھورا نہ رہ جائے۔
یہ جنگ محض اسرائیلی خواہش پر اس تصور کے ساتھ شروع کی گئی کہ چند دنوں کی کارروائی سے ایران میں رجیم چینج کر کے من پسند ایجنٹوں کو اقتدار میں لایا جائے، اور یہاں بھی شام، عراق اور دیگر ممالک کی طرح ایک نام نہاد حکومت قائم کی جائے، تاکہ اسرائیل کے لئے راستے ہموار ہوں۔ اس کے بعد پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک کو بھی نشانہ بنایا جا سکے۔ اگرچہ پاکستان کی موجودہ رجیم، دیگر عرب ممالک کی طرح، اسرائیلی عزائم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی، کیونکہ یہ رجیم فارم 47 کے تحت جعل سازی سے وجود میں آئی ہے، اور عمران خان کی قید بھی اسی گیم پلان کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ پوری رجیم اپنی بقا کے لئے امریکی آکسیجن پر منحصر ہے۔
اسرائیل کے لئے امریکہ اور یورپی یونین کی غیر معمولی حمایت کوئی نئی یا ناقابلِ فہم بات نہیں۔ برطانیہ نے اسرائیل کو جنم دیا اور ایک طویل عرصے تک اس کی پرورش کی۔ بعد ازاں جب برطانیہ اپنی عالمی حیثیت کھو بیٹھا تو امریکہ نے اس کی سرپرستی سنبھال لی۔ اس کے بعد سے تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے تمام اخلاقی اور انسانی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر اندھی حمایت کے ذریعے اسرائیلی تشدد کو دوام بخشا، جبکہ یورپی یونین نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
تاہم پہلی بار ایسا نظر آ رہا ہے کہ یورپی یونین مکمل طور پر امریکہ کے ساتھ نہیں کھڑی، اور یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ یہ جنگ ایک ظالم اور غاصب ریاست کے مقاصد کے لئے لڑی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے اردگرد موجود بڑی مسلم طاقتیں جیسے شام، عراق، مصر اور ایران مختلف حالات کا شکار ہیں، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک داخلی کمزوری، عیش پسندی اور اسلامی روح سے دوری کے باعث کمزور ہو چکے ہیں۔ بعض ممالک شتر مرغ کی طرح حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں، جبکہ کچھ قیامت کی نشانیوں کو پورا کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
بہر حال، اسرائیل کی سرپرستی جاری ہے، اور امریکہ اس کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں دجالی قوتیں غالب ہیں، اور جہاں سے بھی حق کی آواز اٹھتی ہے اسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، حتیٰ کہ بنیادی ضروریات اور ادویات کی فراہمی بھی روکی جاتی ہے۔
یہ سب جاننے کے باوجود کہ اسرائیل انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا مرتکب ہے، امریکہ اس کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اس کی وضاحت خود امریکی پالیسی سازوں کے بیانات سے ہوتی ہے۔ یروشلم میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے موقع پر ٹرمپ کے سفیر پادری جان ہیکی نے کہا تھا: ’’میں جھوٹ نہیں بولتا کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کی خارجہ پالیسی اسرائیلی اہداف کو سامنے رکھ کر ترتیب دی جاتی ہے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں کئی تھنک ٹینکس ایسے ہیں جو اقتدارِ اعلیٰ پر اثر انداز ہوتے ہیں، بلکہ یہی ادارے امریکی پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں۔ عام لوگ ان کی اصل حقیقت سے ناواقف ہیں۔ پال فنڈلے کی کتاب They Dare to Speak Out نے ان پردوں کو چاک کیا، جسے بعد میں صہیونی لابیوں نے تیزی سے منظرِ عام سے غائب کرنے کی کوشش کی۔ فنڈلے کے مطابق صہیونی لابی امریکی اداروں میں اپنی بالادستی کو عوام کے سامنے آنے سے روکنے کے لئے سرگرم رہتی ہے۔
اس کتاب میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا کہ امریکہ میں اصل حکمرانی کس کی ہے، اور کیوں تمام پالیسیاں اسرائیلی مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ اس کے مطابق کئی عالمی اداروں اور اہم عہدوں پر صہیونی اثر و رسوخ پایا جاتا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی افسران اس لابی کے خلاف بولنے سے کیوں ہچکچاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کے مطابق امریکی وسائل کا بے دریغ استعمال اسرائیل کے حق میں ہو رہا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب یہی قوتیں امریکہ کو بھی بے مصرف شے کی طرح ترک کر دیں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

ایران، امریکی جنگ: پسِ منظر اور پیشِ منظر

 

رشید پروینؔ
سوپور، کشمیر

’’اسرائیل اپنی گہری اور ہمہ وقت لابی کے ذریعے امریکہ کی آزادی، اظہارِ رائے، انسانی آزادی اور تعلیم و تبلیغ جیسے بنیادی عناصر کی بیخ کنی کر چکا ہے۔ اصل امریکی، اسرائیلی لابیوں کے غلام اور ان سے خوف زدہ رہتے ہیں۔‘‘ (پال فنڈلے)
اس کا واضح ثبوت امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ سے ملتا ہے جو پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے بارے میں آپ ہر دن اور ہر لمحے کے حالات سے اسی طرح واقف ہیں جس طرح کسی ہند پاک کرکٹ میچ کی ہر گیند اور ہر چوکے پر نظر رکھتے ہیں، اس لئے اس پر مزید تبصرہ مناسب نہیں۔ تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے ساری دنیا کو متحیر کر دیا ہے، اور جس ایمانی جوش و جذبے سے وہ اتنی بڑی طاغوتی طاقتوں کا تنِ تنہا مقابلہ کر رہا ہے، اسے تاریخ کا ایک بے مثال واقعہ کہا جا سکتا ہے۔ مختصراً یہ کہ یہ قوم بیدار ہے، زندہ ہے، اور اس کی رگوں میں اپنی تاریخ کے مطابق غیرت و حمیت، جوش و جذبہ اور اسلامی طرزِ فکر سے سرشار لہو گردش کر رہا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ غیر متوازن اور نیم پاگل ٹرمپ ایران کو زیر کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ وہ کسی موقع پر ہیروشیما اور ناگاساکی کی طرح ایٹمی حملہ کر دے، یا عرب اور دیگر ممالک کو ایران کے خلاف بھڑکانے کے لئے مسجد اقصیٰ یا خانہ کعبہ پر بھی میزائل داغنے جیسی حماقت کر بیٹھے۔ کیا یہ جنگی حالات ایسی مکاریوں کے لئے موزوں نہیں؟ اور کیا نیتن یاہو اور ٹرمپ جیسے ذہنی مریضوں سے یہ بعید ہے کہ ان تمام ناقابلِ یقین حرکات کا الزام ایران پر ڈال دیا جائے؟
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران نے جس طرح بیداری کے ساتھ اپنی تیاری کی ہے، کیا ایٹمی یا نیوٹرون بم جیسے آخری حملوں کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے یا نہیں؟ قرینِ قیاس یہی ہے کہ یہ پہلو بھی ان کے مدنظر رہا ہوگا، اور غالب گمان یہی ہے کہ وہ اس مرحلے پر بھی دنیا کو اسی طرح حیران کر دیں گے جیسے اس جنگ کے دوران بڑی طاقتوں کو کر رہے ہیں۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ اس وقت امریکی عوام سڑکوں پر ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ یہ جنگ غیر اخلاقی، غیر ذمہ دارانہ اور غیر ضروری ہے۔ امریکہ کے کئی اہم عہدے دار بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ نہ امریکہ کو کوئی خطرہ تھا اور نہ ہی کسی حملے کے امکانات تھے، بلکہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری تھے جو اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہے تھے۔ لیکن اسرائیل نے نہ صرف ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا بلکہ اپنی درندگی سے صدر ٹرمپ کو بلیک میل کر کے اس جنگ میں دھکیل دیا۔ اب بھی اسرائیل چاہتا ہے کہ جنگ جاری رہے تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب ادھورا نہ رہ جائے۔
یہ جنگ محض اسرائیلی خواہش پر اس تصور کے ساتھ شروع کی گئی کہ چند دنوں کی کارروائی سے ایران میں رجیم چینج کر کے من پسند ایجنٹوں کو اقتدار میں لایا جائے، اور یہاں بھی شام، عراق اور دیگر ممالک کی طرح ایک نام نہاد حکومت قائم کی جائے، تاکہ اسرائیل کے لئے راستے ہموار ہوں۔ اس کے بعد پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک کو بھی نشانہ بنایا جا سکے۔ اگرچہ پاکستان کی موجودہ رجیم، دیگر عرب ممالک کی طرح، اسرائیلی عزائم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی، کیونکہ یہ رجیم فارم 47 کے تحت جعل سازی سے وجود میں آئی ہے، اور عمران خان کی قید بھی اسی گیم پلان کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ پوری رجیم اپنی بقا کے لئے امریکی آکسیجن پر منحصر ہے۔
اسرائیل کے لئے امریکہ اور یورپی یونین کی غیر معمولی حمایت کوئی نئی یا ناقابلِ فہم بات نہیں۔ برطانیہ نے اسرائیل کو جنم دیا اور ایک طویل عرصے تک اس کی پرورش کی۔ بعد ازاں جب برطانیہ اپنی عالمی حیثیت کھو بیٹھا تو امریکہ نے اس کی سرپرستی سنبھال لی۔ اس کے بعد سے تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے تمام اخلاقی اور انسانی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر اندھی حمایت کے ذریعے اسرائیلی تشدد کو دوام بخشا، جبکہ یورپی یونین نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
تاہم پہلی بار ایسا نظر آ رہا ہے کہ یورپی یونین مکمل طور پر امریکہ کے ساتھ نہیں کھڑی، اور یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ یہ جنگ ایک ظالم اور غاصب ریاست کے مقاصد کے لئے لڑی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے اردگرد موجود بڑی مسلم طاقتیں جیسے شام، عراق، مصر اور ایران مختلف حالات کا شکار ہیں، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک داخلی کمزوری، عیش پسندی اور اسلامی روح سے دوری کے باعث کمزور ہو چکے ہیں۔ بعض ممالک شتر مرغ کی طرح حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں، جبکہ کچھ قیامت کی نشانیوں کو پورا کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
بہر حال، اسرائیل کی سرپرستی جاری ہے، اور امریکہ اس کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں دجالی قوتیں غالب ہیں، اور جہاں سے بھی حق کی آواز اٹھتی ہے اسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، حتیٰ کہ بنیادی ضروریات اور ادویات کی فراہمی بھی روکی جاتی ہے۔
یہ سب جاننے کے باوجود کہ اسرائیل انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا مرتکب ہے، امریکہ اس کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اس کی وضاحت خود امریکی پالیسی سازوں کے بیانات سے ہوتی ہے۔ یروشلم میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے موقع پر ٹرمپ کے سفیر پادری جان ہیکی نے کہا تھا: ’’میں جھوٹ نہیں بولتا کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کی خارجہ پالیسی اسرائیلی اہداف کو سامنے رکھ کر ترتیب دی جاتی ہے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں کئی تھنک ٹینکس ایسے ہیں جو اقتدارِ اعلیٰ پر اثر انداز ہوتے ہیں، بلکہ یہی ادارے امریکی پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں۔ عام لوگ ان کی اصل حقیقت سے ناواقف ہیں۔ پال فنڈلے کی کتاب They Dare to Speak Out نے ان پردوں کو چاک کیا، جسے بعد میں صہیونی لابیوں نے تیزی سے منظرِ عام سے غائب کرنے کی کوشش کی۔ فنڈلے کے مطابق صہیونی لابی امریکی اداروں میں اپنی بالادستی کو عوام کے سامنے آنے سے روکنے کے لئے سرگرم رہتی ہے۔
اس کتاب میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا کہ امریکہ میں اصل حکمرانی کس کی ہے، اور کیوں تمام پالیسیاں اسرائیلی مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ اس کے مطابق کئی عالمی اداروں اور اہم عہدوں پر صہیونی اثر و رسوخ پایا جاتا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی افسران اس لابی کے خلاف بولنے سے کیوں ہچکچاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کے مطابق امریکی وسائل کا بے دریغ استعمال اسرائیل کے حق میں ہو رہا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب یہی قوتیں امریکہ کو بھی بے مصرف شے کی طرح ترک کر دیں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں