ماہِ رمضاں ! الوداع
ٙمحمد مصطفےٰ غزالی
جا رہا ہے ماہِ رمضاں ہم سبھی کو چھوڑ کر
سال بھر کے واسطے رخ مومنوں سے موڑ کر
دور رہنا ہے بہت مشکل ترین اِس ماہ سے
لگ رہا ہے رو پڑیں گے اہلِ دیں سر پھوڑ کر
کس قدر سب پر گراں ہے الوداع کہنا تجھے
رو رہے ہیں سارے صائم چادرِ غم اوڑھ کر
نیکیوں کا تخم جو بویا زمینِ قلب میں
بعد تیرے رکھ نہ دیں ہم کشتِ خوباں کوڑ کر
کیا خبر اگلے برس ہم مل سکیں گے یا نہیں
جلد اتنی جا نہ ہم کو چھوڑ کر ، دل توڑ کر
چھوڑ کر تنہا ہمیں ماہِ مقدس تب چلا
چل پڑے جب راہِ حق پر ہم برائی چھوڑ کر
ہے بہت تیری ضرورت نیکیوں کے واسطے
رک ذرا ماہِ مکرم وقت کا رخ موڑ کر
چل پڑا ہے اہلِ ایماں کو یہی دے کر پیام
مومنو ! رہنا نہیں مذہب سے ناتا توڑ کر
صائمو ! غافل نہیں ہونا خدا کے حکم سے
ہر عمل رکھنا نبیؐ کی سنتوں سے جوڑ کر
کیوں نہ آنکھوں سے رواں اشکِ فراقِ صوم ہو
ماہِ رمضاں جا رہا ہے دل ہمارا توڑ کر
ہے غزالی کو بہت امید رب کی ذات سے
اس لئے رکھتا ہے اُس کے در سے رشتہ جوڑ کر
ماہِ رمضاں ! الوداع
ماہِ رمضاں ! الوداع
ماہِ رمضاں ! الوداع
ٙمحمد مصطفےٰ غزالی
جا رہا ہے ماہِ رمضاں ہم سبھی کو چھوڑ کر
سال بھر کے واسطے رخ مومنوں سے موڑ کر
دور رہنا ہے بہت مشکل ترین اِس ماہ سے
لگ رہا ہے رو پڑیں گے اہلِ دیں سر پھوڑ کر
کس قدر سب پر گراں ہے الوداع کہنا تجھے
رو رہے ہیں سارے صائم چادرِ غم اوڑھ کر
نیکیوں کا تخم جو بویا زمینِ قلب میں
بعد تیرے رکھ نہ دیں ہم کشتِ خوباں کوڑ کر
کیا خبر اگلے برس ہم مل سکیں گے یا نہیں
جلد اتنی جا نہ ہم کو چھوڑ کر ، دل توڑ کر
چھوڑ کر تنہا ہمیں ماہِ مقدس تب چلا
چل پڑے جب راہِ حق پر ہم برائی چھوڑ کر
ہے بہت تیری ضرورت نیکیوں کے واسطے
رک ذرا ماہِ مکرم وقت کا رخ موڑ کر
چل پڑا ہے اہلِ ایماں کو یہی دے کر پیام
مومنو ! رہنا نہیں مذہب سے ناتا توڑ کر
صائمو ! غافل نہیں ہونا خدا کے حکم سے
ہر عمل رکھنا نبیؐ کی سنتوں سے جوڑ کر
کیوں نہ آنکھوں سے رواں اشکِ فراقِ صوم ہو
ماہِ رمضاں جا رہا ہے دل ہمارا توڑ کر
ہے غزالی کو بہت امید رب کی ذات سے
اس لئے رکھتا ہے اُس کے در سے رشتہ جوڑ کر


