فتح مکہ: 20 رمضان المبارک پر خصوصی

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

فتح مکہ میں ہم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج دیکھتے ہیں کہ آپ اپنے مخالفین سے ذاتی انتقام نہیں لیتے۔ اکیس سال کی مسلسل مخالفتوں اور مزاحمتوں کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح اور نصرت سے نوازا تو آپ نے انہیں معاف فرما دیا، ان کی آزادی برقرار رکھی اور ان کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کیا۔ اس طرح کی مثال پوری تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی رحیمانہ برتاؤ اختیار فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مقصد غلبہ و اقتدار نہ تھا، بلکہ آپ تو ہادی و مرشد بنا کر بھیجے گئے تھے، جو دلوں اور ذہنوں کو فتح کرنے والے تھے۔ اسی لیے جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو خشوع و خضوع کے ساتھ گردن جھکی ہوئی تھی اور آپ اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔ فخر و غرور کا نام تک نہ تھا۔
اہلِ مکہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاملہ کیا، اس میں ایک زبردست حکمت تھی۔ اللہ کو معلوم تھا کہ عرب ایک دن سارے عالم میں اسلام کا پرچم لہرائیں گے، اس لیے اہلِ مکہ، جو پوری قوم کے رہنما تھے، کو زندہ رکھا گیا تاکہ وہ اسلام میں داخل ہوں اور پھر ہدایت و روشنی کے اس پیغام کو تمام قوموں تک پہنچائیں۔ اس راہ میں وہ اپنی جان و مال قربان کریں، تاکہ قومیں اندھی تقلید سے نکل سکیں اور تاریکیوں سے نکل کر روشنی میں آ سکیں۔
ایک اور اہم پہلو قابلِ غور یہ ہے کہ ناقابلِ تصور قلیل ترین مدت میں اللہ نے اس دعوت کو غلبہ عطا کیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی صداقت کی ایک دلیل ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اللہ کی وہ دعوت ہے جس کی حفاظت اور اس کے ماننے والوں کی مدد و نصرت کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی برحق دعوت کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔ یہ دعوت رحمت اور روشنی کی پیامبر ہے، اور اللہ بھی برحق، رحمان اور رحیم ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ پھر بھلا اللہ کی روشنی کو کون بجھا سکتا ہے؟ وہ کیسے پسند کر سکتا ہے کہ باطل کو حق پر آخری فتح نصیب ہو اور درندگی، حیوانیت اور فساد کو رحمت، اصلاح اور امن و آشتی پر غلبہ حاصل ہو جائے؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کوجنگ احد اور جنگ حنین کی جنگوں میں لاتعداد زخم آئے۔ یہ دعوتِ اسلامی کی راہ میں ایک ناگزیر مرحلہ ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:
ٓ(وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنْصُرُهُ، إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ)
اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ بے شک اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

فتح مکہ: 20 رمضان المبارک پر خصوصی

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

فتح مکہ میں ہم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج دیکھتے ہیں کہ آپ اپنے مخالفین سے ذاتی انتقام نہیں لیتے۔ اکیس سال کی مسلسل مخالفتوں اور مزاحمتوں کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح اور نصرت سے نوازا تو آپ نے انہیں معاف فرما دیا، ان کی آزادی برقرار رکھی اور ان کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کیا۔ اس طرح کی مثال پوری تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی رحیمانہ برتاؤ اختیار فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مقصد غلبہ و اقتدار نہ تھا، بلکہ آپ تو ہادی و مرشد بنا کر بھیجے گئے تھے، جو دلوں اور ذہنوں کو فتح کرنے والے تھے۔ اسی لیے جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو خشوع و خضوع کے ساتھ گردن جھکی ہوئی تھی اور آپ اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔ فخر و غرور کا نام تک نہ تھا۔
اہلِ مکہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاملہ کیا، اس میں ایک زبردست حکمت تھی۔ اللہ کو معلوم تھا کہ عرب ایک دن سارے عالم میں اسلام کا پرچم لہرائیں گے، اس لیے اہلِ مکہ، جو پوری قوم کے رہنما تھے، کو زندہ رکھا گیا تاکہ وہ اسلام میں داخل ہوں اور پھر ہدایت و روشنی کے اس پیغام کو تمام قوموں تک پہنچائیں۔ اس راہ میں وہ اپنی جان و مال قربان کریں، تاکہ قومیں اندھی تقلید سے نکل سکیں اور تاریکیوں سے نکل کر روشنی میں آ سکیں۔
ایک اور اہم پہلو قابلِ غور یہ ہے کہ ناقابلِ تصور قلیل ترین مدت میں اللہ نے اس دعوت کو غلبہ عطا کیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی صداقت کی ایک دلیل ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اللہ کی وہ دعوت ہے جس کی حفاظت اور اس کے ماننے والوں کی مدد و نصرت کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی برحق دعوت کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔ یہ دعوت رحمت اور روشنی کی پیامبر ہے، اور اللہ بھی برحق، رحمان اور رحیم ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ پھر بھلا اللہ کی روشنی کو کون بجھا سکتا ہے؟ وہ کیسے پسند کر سکتا ہے کہ باطل کو حق پر آخری فتح نصیب ہو اور درندگی، حیوانیت اور فساد کو رحمت، اصلاح اور امن و آشتی پر غلبہ حاصل ہو جائے؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کوجنگ احد اور جنگ حنین کی جنگوں میں لاتعداد زخم آئے۔ یہ دعوتِ اسلامی کی راہ میں ایک ناگزیر مرحلہ ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:
ٓ(وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنْصُرُهُ، إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ)
اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ بے شک اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں