ڈیپک کمار
بھارت میں کئی دہائیوں سے جاری کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا -مائو نواز کی مسلح تحریک ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ یہ وہی تحریک ہے جسے کبھی ملک کا سب سے بڑا اندرونی سکیورٹی خطرہ کہا جاتا تھا۔ حال ہی میں تنظیم کے جنرل سیکریٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے سربراہ تھِپّاج تروپتی عرف دیوجی نے تلنگانہ پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ ان کی خود سپردگی کو اس تحریک کے لئے ایک بڑا اور غیر معمولی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دیوجی کے ساتھ مرکزی کمیٹی کے ایک اور سینئر رکن ملا راجی ریڈی عرف سنگرام اور 21 دیگر کارکنوں نے بھی ہتھیار ڈالے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب مرکزی حکومت نے بائیں بازو کی شدت پسندی کے خاتمے کے لئے ایک آخری تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔
دیوجی تنظیم کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اس وقت قیادت سنبھالی جب سابق سربراہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے گئے۔ دیوجی تنظیم کی فوجی حکمتِ عملی، منصوبہ بندی اور گوریلا کارروائیوں کے ذمہ دار تھے۔ ان کے ہتھیار ڈالنے سے تنظیم کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی قیادت کمزور ہو گئی ہے۔
گزشتہ چند مہینوں میں سکیورٹی فورسز نے خاص طور پر سرحدی اور جنگلاتی علاقوں میں منظم کارروائیاں کیں۔ کئی ٹھکانے تباہ کیے گئے اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔ ان مسلسل دباؤ کے باعث تنظیم کے لئے نئے افراد کو شامل کرنا اور پرانے کارکنوں کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
حکومت نے سخت کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بحالی اور سماجی و معاشی سہولیات کی پالیسی بھی اپنائی، جس کے نتیجے میں متعدد کارکن قومی دھارے میں واپس آ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دیوجی کی خود سپردگی مزید افراد کے لئے مثال بن سکتی ہے اور تنظیم کے اندر اختلافات کو بڑھا سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی مسلح تحریک کی طاقت صرف اسلحے میں نہیں بلکہ قیادت، نظریے اور تنظیمی اتحاد میں ہوتی ہے۔ جب اعلیٰ قیادت کمزور پڑ جائے تو نچلی سطح پر بھی بددلی پیدا ہوتی ہے۔ یہی صورتحال اس وقت ماؤ نواز تحریک کو درپیش ہے، جہاں مسلسل نقصانات کے بعد حوصلے پست ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں، اسکولوں اور صحت کی سہولیات کی فراہمی بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر مقامی آبادی کو روزگار اور بہتر زندگی کے مواقع ملیں تو شدت پسند تنظیموں کے لئے حمایت حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف اور معاشی بہتری بھی ضروری ہے۔
تاہم یہ کہنا ابھی جلدی ہوگا کہ تحریک مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ کچھ علاقوں میں اب بھی مسلح گروہ موجود ہیں۔ جب تک غربت، پسماندگی اور دیگر بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاتے، اس قسم کی تحریکوں کے دوبارہ ابھرنے کا امکان باقی رہتا ہے۔
مجموعی طور پر دیوجی کی خود سپردگی ایک اہم پیش رفت ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ مسلسل سکیورٹی دباؤ اور حکومتی حکمتِ عملی نے تحریک کو کمزور کر دیا ہے۔ اب اصل ضرورت متاثرہ علاقوں میں ترقی، تعلیم، روزگار اور انصاف کی فراہمی ہے تاکہ پائیدار امن قائم ہو سکے۔
ززز


