بیوہ: کہانی

شبیر احمد میر

مین دروازے پر پڑے پردے کے پیچھے میں آکرکھڑی ہوئی۔ میرا بھائی۔ بھابی سے مخاطب تھا ۔میری بہن توا یک دم مرجھا کر رہ گئی ہے۔ ننھی سی جان کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ۔ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سوچ رہا ہوں ۔کوئی اچھا سا رشتہ مل جائے۔ تاکہ میں دوبارہ اس کا گھر بسا سکوں ۔بھابی نے بھائی جان کی بات بیچ میںکاٹتے ہوئے اپنے شوہر کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔دوسری بار گھر بسانا مرد اور عورت دونوں کے لیے مشکل ہوتا ہے ۔وہ جو پہلا جیون ساتھی ہوتاہے۔ اچھا ہو یا برا ۔وہ زندگی سے جاتا کبھی نہیں۔ اب تمہاری بہن صرف ایک بیوہ ہے۔ بیوہ۔ اس کے لیے رشتے نہیں رہے ۔ عزت نہیں رہی۔ کوئی خوشی۔ کوئی خواب۔ کوئی امید نہیں رہی ۔بلکہ یوں سمجھو۔ اس کے پاس تو زندگی ہی نہیں رہی ۔ میری مانیے! آپ رشتوں کے چکر میں مت پڑئیے گا ۔جب وقت آئے گا میں خود دیکھ لوں گی۔ فی الحال گھر میںبہت سے کام ہوتے ہیں۔ میں اکیلی کیا کرسکتی ہوں ۔گھر میں کام کرنے کے لیے وہ میرا ہاتھ بٹاتی رہے ۔جس سے اس کا دل بھی بہل جائے گا اور آہستہ آہستہ وہ یہ سب کچھ بھول جائے گی ۔
کتنی سمجھدار ہو تم ۔مجھے اچھا لگتا ہے تمہاری ویلیوز۔ تمہاری سوچ ۔تمہارا بولنا ۔بات کرنا اور خاص کر تمہارا مسکرانا۔ یہ سب مجھے اچھا لگتا ہے ۔بھر وسہ کرو میںمذاق نہیں کررہا۔ یہ سن کر میں کھڑی اپنے آپ کو کوس رہی تھی۔ جسکی وجہ سے میں وہاں کھڑی نہ رہ سکی۔ تھکے تھکے قدموں سے واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ بیڈ پر بیٹھ گئی ایسے جیسے خود کا ہوش نہ ہو۔ آنکھوں کی نمی تھی ۔کہ خشک ہونے میں نہیں آرہی تھی۔ میں محبت کی قیمت ایک نوکرانی کی طرح چکاتی رہی۔ ا وروہ گھر کے کام کرنے کی قیمت وصول کرتے رہے۔ جب انسان خود کو کمزور و بے بس سمجھ لیتا ہے۔ تو دنیا والے اسے مزید بے بس کرنے میں دیر نہیں کرتے ۔میںنے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں خود ناپسندیدہ بن کر کسی اور پر مسلط ہو جائوں ۔ میں ہر لمحہ ایسی بے چین ہو جاتی ۔جیسے تلوے میںکانٹا چبھ جائے تو سارا دن بدن کراہتا رہتا ہے۔ میری بھوک اور نیند دونوں ہی اڑگئی تھی آسمان پر چاند ستارے اپنا سفر طے کرتے رہتے اور میں بیٹھی اپنی محبت کے بچھڑ جانے کا سوگ مناتی رہتی ۔وہ رات بیت گئی ۔پھر جانے ایسی کئی راتیں بیت گیئں۔ میں ہونٹوں پر چپ لیے پھرتی رہی ۔میرا دل اچاٹ ہو گیا تھا۔ ہر شے سے دلچسپی ختم ہو گئی تھی۔ گھر والوں کی محبتوں کو عقیدہ اٹھ گیا تھا۔مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ سب کچھ فضول ہے ۔بے معنی ہے ۔بے مطلب ہے۔ کوئی اپنا نہیں ۔کوئی پر خلوص نہیں۔ کسی کو اسکی پرواہ نہیں۔ کیا فائدہ ایسے لوگوں کے درمیان رہنے کا جن کو میری خوشی و غم کا احساس نہیں۔ دل چاہتا ہے یہاں سے کہیں دور چلی جائوں لوٹ کر واپس کبھی نہ آئو ں۔ میرا ماضی میرے لیے طوفان لے کر آیا اور میرا وجود لڑکھڑا کر ٹوٹ پھوٹ کرگر گیا۔ یہ ٹوٹ پھوٹ میرے اندر کوئی نہیں دیکھ سکتا نہ ہی کسی کو فرصت ہے ۔یہ سب دیکھنے کی۔ بہت دیر میں یوں ہی بیٹھی خلائوں میںگھورتی رہی۔ میں تاروں بھرا آسمان دیکھ رہی تھی ۔ایسا لگا جیسے یہ تارے بھی مجھے دیکھ کر حیرت سے پلکیں جھپک رہے ہوں ۔ہم لڑکیاں بیوگی میں دوسری شادی کرنے والدین اور بھائیوں کے سامنے اظہار کرتے ہوئے ۔جیسے زبان کٹنے لگتی ہے۔ شرم کے مارے ہم کچھ بول نہیں سکتے۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے ۔کیسے انجان بنتے ہیں سب کے سب۔ کیا انہیں ہماری آنکھوں میں کچھ بھی نظر نہیں آتا؟ کیا یہ لوگ ہمارے چہرے سے ہمارے دل کا حال نہیں پڑھ سکتے ۔گھر میں جب بھی کوئی بات شروع کرتا ہے۔ تو میں بڑی حسرت کے ساتھ اسے دیکھتی ہوں۔ دل میں بے ساختہ یہ امید جاگ اٹھتی ہے کہ وہ ابھی ایسا کچھ کہہ دے گا ۔جو میرے تڑپتے دل کو آرام دے گا۔ مگر میںنے خود کو بہت بہلایا ۔تسلیاں دیں ۔ان آنکھوں میں جھانک کر دل کا حال معلوم کرنا چاہا۔ مگر وہاں مجھے ایسا کچھ نہیں ملا ۔جو میرے بے چین دل کو چین وسکون دے سکے۔ یہاں آکر سارے خواب۔ ساری خواہشیں ۔خیالات اور سوچیں سب مٹی کے ڈھیر کی طرح بہہ گئیں۔ میں پنجرے میں قید چڑیا کی مانند بے حد مضطرب اکثر ٹیرس پر ادھر سے ادھر چکر لگاتی رہتی ہوں۔ جب تک پتھروں سے واسطہ نہ پڑے ان کی سختی نوکیلے پن اور وزن کا اندازہ نہیں ہو سکتا ۔ہاتھوں کا تکیہ بناے میںسوچوں میںگم تھی ۔ میرے زہن میںماضی کے گزرے واقعات۔ میرا سسرال کے گھر میں داخل ہونا جیسے دنیا میں آنے کے برابر تھا ۔واقعی لڑکیوںکا مان ہی سسرال کے دم سے قائم ہوتا ہے۔ کتنا عجیب سا رشتہ ہوتا ہے میاں بیوی کا۔ صرف تین لفظ ۔دو انجان لوگوں کی زندگی بھر کے لیے ایک کر دیتے ہیں۔ ایسا مظبوط تعلق بن جاتا ہے۔ کہ سگے خون کے رشتے بھی پرائے بن جاتے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی میں آنے والے وقت کے خوش کن تصور میں کھو کر میری آنکھوں میں ایک ساتھ کئی قندیلیں جل اٹھیں۔ چہرہ جیسے جگمگا اٹھا۔ گالوں پر حیا کے رنگ بکھر گئے ۔شرمیلی دھیمی سی مکان میرے ہونٹوں پر آکر ٹھہر گئی۔ جب میرے شوہر نے میرے کان میں آتے ہی کہا۔
میری زندگی ۔میری جان ۔ میری کائنات۔ میری فریق ۔میرے دکھ درد کی شریک حیات ۔میرے ہر موسم کی ساتھی ۔یعنی میری بیوی ۔یہ تعارف تو بہت کم ہے ۔میرے پاس ذخیرہ الفاظ نہیں جس سے میں اپنی بیوی کا تعارف کرا سکوں ۔میں خوشی سے نہا ل ہوگئی ۔میرے چہرے پر شرم اور خوشی کا ایسا حسین رنگ امڈ آیا ۔کہ مجھے اپنی قسمت پر رشک آنے لگا۔ ایک سکون بھر کیفیت تھی جو میرے چہرے اور وجود سے چھلکنے لگی تھی۔ معلوم نہیںیہ جانے والے لوٹ کر کیوں نہیں آتے ؟ ان کا جسمانی وجود نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے بس انکے لمس کا احسااس باقی رہ جاتا ہے ۔ ہم خوابنگرمیںان سے ملتے ہیں ۔باتیں کرتے ہیں۔ مگر جب حقیقت کی نگری میں لوٹتے ہیں تو وہ ہاھتوںسے جیسے پھسل جاتے ہیں۔
روز رات جب میں اپنے بستر پر لیٹتی تو بس یہی یادیں اور باتیں میرا احاطہ کیے رہتیں۔ آج مجھے شوہر کے نہ ہونے سے روح میں ایک خلاء سا محسوس ہونے لگا اور آج شدت سے مجھے اپنے تنہا ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔ کمرے میںہر چیز موجود تھی ۔مگر ایک شخص کے نہ ہونے سے ہر چیز ادھوری لگ رہی تھی۔ نظریں اسے تلاشتی رہتی ۔دل کا ایک کونا سونا اور ویران لگتا۔ جیسے کچھ کھو گیا ہو۔ واقعی خوشی انسان کو وہ کچھ نہیں سکھاتی جو غم سکھاتا ہے۔ گرم گرم آنسو آنکھوں کے کناروں سے نکل کر میرے بالوں میں جذب ہونے لگے۔
جانے کیسی خطا ہوئی مجھ سے
ساری دنیا خفا ہوئی مجھ سے جس نے بھی دل دکھایا میرا
اس کے حق میں دعا ہوئی مجھ سے
میںیادوں کے دوش پر کسی کٹی پتنگ کی طرح ڈولتی۔ میرے سوکھے ہونٹوں پر مرجھایا ہوا تبسم تڑپ کر رہ جاتا۔ اس گھر کا احساس میرے پائوں کی زنجیر بن گیا ۔میں نے دل کو سمجھایا اب باقی عمر بھی اسی طرح گزارنی ہے۔ ہر طرح کی روحانی اور جسمانی آرزوں آشائوں اور تمنائوں کو دل میں دبا کر ۔آب و گیاہ ایک صحرا کی طرح۔ زبیح ہونا اور ہوتے رہنا ان دنوں میرا مقدر بن گیا تھا ۔کیونکہ کسی کی پریشانی میں کسی کا سکون پوشیدہ ہوتا ہے ۔کہتے ہیں زندگی کا چلنا پانی ٹہر جائے تو وقت ایک بھاری پتھر بن جاتا ہے۔ میری زندگی بھی ٹھہرا پانی تھی۔ بس ۔دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میںتبدیل ہو کر سال گزر تے جارہے تھے۔ یوں ہی بے قصد ۔بے مطلب۔ محبت میرے نصیب میں نہ تھی۔ میری آنکھوں میں نیند کہاں ۔میں ایسے ہی کہہ دیا کرتی ۔کہ میں سونا چاہتی ہوں۔ حقیقت میں ان آنکھوں میں نیند اور بیداری عرصے تک آنکھ مچولی کھیلتی رہی ۔ جب اپنے وجود کو غور سے دیکھا تو میر اغصہ ابلتے پانی کی طرح میری آنکھوں سے ٹپک پڑا ۔ یہ جلتے آنسو آگ کے انگارے تھے ۔بھائی کی محبت کا خمار اتر چکاتھا اور میں خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی جہنم میں کھڑی سوچ رہی تھی ۔کہ اس جہنم کو میں نے خود چنا ہے ۔جس محبت کے بھروسے پر میں آگ کے دریا میں اتری تھی ۔اسی محبت نے بجائے سہارا دے کر پار لگانے کے ۔بیچ منجدھار میںڈولنے اور جھلسنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ جو زندگی اندر مر چکی ہو ۔اسے جھوٹ موٹ جیتے رہنا کتنا دشوار ہوتاہے ۔
میں شب و روز خدمت گزاری میںمنہمک رہتی۔ باقی وقت عبادت میںگزار دیتی۔ کبھی کبھی پلو سے منہ ڈھانپ کر سسک سسک کر رو لیتی۔ ابو جی کے سامنے چہرے پر ہر وقت ایک نرم مسکراہٹ رکھتی ۔انہیں وقت پر کھانا کھلاتیں ۔وقت پر دوا دیتی۔ ضرورت کے وقت پائوں دابتیں ۔ مجھے آج ابو جی کی یاد بہت آنے لگی اور مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ جب میں بیوگی کا داغ لیے بابل کی دہلیز پر آپڑی ۔ابو جی نے بے اختیار مجھے اپنی چھاتی سے لگایا۔ جیسے میں کوئی برف کی اکڑی سل ہو۔ منہ ڈھانپ کر میں اس کے سامنے بیٹھ گئی اور انہوں نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا۔
تم جو سوچ رہی ہو بیٹا۔ اس میںشدتیں اختیار مت کرنا ۔کچھ ضرورتیں زندگی کا حصہ ہوتی ہیں ان سے اجتناب انسان میں کمزوریاں بھر دیتا ہے ۔خواہ وہ روحانی ہوں یا جسمانی ۔کچھ فیصلے صرف دل کے ہوتے ہیں دماغ آمادہ نہیں ہوتا اور کچھ فیصلے صرف دماغ کے۔ جس پر دل احتجاج کرتا رہ جاتا ہے۔ لیکن پائدار فیصلے وہی ہوتے ہیں جن پر دل اور دماغ دونوں متفق ہوں۔ میں نے کچھ دیر کے لیے آنکھیں موند لیں جیسے ہر دکھ پر ہر غم سے بے نیاز ہو جانا چاہتی تھی ۔ ابو جی کی آواز میرے کانوں میں لگا تار گونج رہی تھی۔ جو کہہ رہے تھے ۔ صبر ۔برداشت اور تحمل صرف کتابوں میںپڑھنے کی باتیں نہیں ۔عملی زندگی میں جب ان کا ثبوت دینا پڑتا ہے تو زندگی بہت دشوار لگنے لگتی ہے۔ بہت سی عورتیں آخڑ کار صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتی ہیں۔ وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر زندگی بھر واویلا کرتی رہتی ہیں۔ مگر وقت ان کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل چکا ہوتا ہے ۔مرد کے بغیر عورت بغیر چھت کا کمرہ ہوتی ہے ۔ایک ویرانہ ۔بلکہ ایک کھنڈر ۔رشتے انسان کی طاقت ہوتے ہیں۔ انسان کی مظبوط ترین حقیقت ۔رشتے ڈھال ہوتے ہیں ایسی ڈھال جس کے سہارے انسان بڑے سے بڑے طوفان کا مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ ہوں ۔تو انسان کی حثیت تنکے جیسی ہو جایا کرتی ہے۔ زندگی میں انسان کے پاس کچھ ہو ۔نہ ہو۔ ایک ایسا مظبوط اور خالص رشتہ ضرور ہونا چاہیے جس کے سہارے انسان کڑی دھوپ کا سفر آسانی سے طے کر سکے۔ گزرتے ہوئے لمحوں کو مظبوطی سے مٹھی میںتھام کر دبائے رکھنا اور نئے آنے والے لمحوں کے لیے ہاتھ میں جگہ نہ رکھنا کہاںکی عقلمندی ہے بیٹا۔کچھ چیزیں تقدیر لکھتی ہیںاور کچھ چیزیں انسان کو خود لکھنی پڑتی ہیں یا بنانی پڑتی ہیں۔ پچھلی زندگی کیسے اور کس طرح ختم ہو جاتی ہے کوئی نہیں جانتا ۔ایک دفعہ نئی زندگی میں قدم رکھ دو تو لگتا ہے پرانی زندگی تو کسی اور نے بسر کی تھی۔ ساتھی کے بٖغیر تو بڑھاپا نہیں گزرتا ۔جوانی تو بہت ہی مشکل ہے بیٹا ۔میرے اس بڑھاپے کی عمر میں مجھے ہر وقت ۔ہر لمحہ اٹھتے بیٹھتے ۔سوتے جاگتے ۔تیری ماں یا د آتی رہتی ہے وہ دن میری زندگی کا بہت ہی عظیم دن ہو گا ۔جب وہ مجھے اپنے پاس بلا ئے گی !
میں نے دیکھا ابو جی کی آنکھوں سے آنسو ٹپک ٹپک کر گر پڑے اور اس کے دامن میں جذب ہوتے گیے۔ اللہ اگر مشکل راستے نصیب میںلکھتا ہے تو پہلے اپنے بندوں کو ہمت اور حوصلہ کے ساتھ صبر و برداشت کی محنت سے نوازتا ہے ۔مانا کہ بیوہ عورت کو معاشرہ میں رحم ۔ہمدرد اور تر س مل جاتا ہے ۔لیکن دکھ سکھ کا ساتھی نہ ہو ۔ تو زندگی کے مسائل ہر آن پر یشان رکھتے ہیں ۔منزل تک جانے والے راستے تو ہمیشہ دھند میں گم ہوتے ہیں ۔ انہیں ڈھونڈنا خود ہی پڑتا ہے ۔روشنیاں تلاش کرنی پڑتی ہیں۔ چراغ جلائے جاتے ہیں۔ وہ کبھی خود سے نہیں جلتے۔ میری یہ باتیں تیری سمجھ میں آرہی ہیں۔۔۔ بیٹا ؟
دنیا میں اچھے لوگ مل ہی جاتے ہیں اور یہ بھی بڑی خوش نصیبی ہے۔ زندگی جمود کا نہیں آگے بڑھنے کا نام ہے ۔مرجانے والوں کو یادوں میںزندہ رکھا جاتا ہے۔ یہی زندگی کا اصول ہے۔ ان کے ساتھ قبرستان میں جاکر مرا نہیں جاتا اور نہ ہی جوگ لیا جاتا ہے۔ زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ اپنے ماضی سے نکل کر حال میںجینے اور مستقبل کو دیکھنے کی کوشش کرو۔ خون کا رشتہ بے معنی ہو کررہ جاتے ہیں۔ جب ڈھنگ سے انہیں برتانہ جائے۔ جوان عورت اپنے مر د کے بغیر کہیں بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔ہر انسان کی زندگی مقدس ہوتی ہے ۔چاہیے وہ بیوہ ہو یا شادی شدہ امیر ہو یا غریب ۔اس زمین پر بھیڑئیے کی شکل میں وہ لوگ ہیں جو بیوہ کو شادی کرنے سے روکتے ہیں یا شادی کروانے کے لیے وقت کو طول دیتے ہیں ۔ اللہ کی لعنت ہے ان لوگوں پر اور یہی لوگ اس زمین پر بوجھ ہیں ۔جو کسی دوسرے کی خوشی کو خوش نہیںدیکھ سکتے ۔مجھے ڈر ہے۔ بیٹا کہیں تم سب کے خواب پورے کرتے کرتے خود ایک خواب نہ بن جائو۔ دنیا میں اپنی زندگی کا کوئی خاص مقصد مقرر کرنا اور اس پر عمل پیرا ہونا کامیاب لوگوں کا ہمیشہ پاکیزہ اصول رہا ہے ۔یہ سب کچھ میں تم سے نہیں کہتا۔ اگر مجھ میں اٹھنے بیٹھنے کی ہمت ہوتی۔ میں چل بھی نہیں سکتا ۔ایک زندہ لاش ہوں ۔موت کا انتظار کررہا ہوں ۔مجھے اب۔۔ اپنا جسم خود اپنے آپ پر ایک ناقابل برداشت بوجھ معلوم ہونے لگا ہے ۔
پوری رات ابو جی کے الفاظ میرے زہن کی دیواروں سے ٹکراتے رہے۔ اس گھر میں عزت کا ایک لفظ نہ ملا۔ اچھا ہی ہے اس جہنم میںجینے سے تو بہتر ہے۔ کہ میں مر ہی جائوں۔ رشتے میں محبت نہ ہو تو زندگی نہیں ۔سمجھوتہ بن کر رہ جاتی ہے۔ وہ بڑ بڑاتی ہوئی پالک اور آلو کی ٹوکری اٹھانے لگی اور من ہی من میں شیخ سعدی کا یہ قول دہرانے لگی ۔ میرے اچھے وقت نے دنیا کو بتایا کہ میں کیسی ہوں اور میرے برے وقت نے مجھے بتایا کہ دنیا کیسی ہے ۔
یہ خوبصورت افسانے رسالوں اور جریدوں کی زینت بنتے ہیں۔ ان کا خیال لکھنے والوں کے زہنوں میں غیب سے نہیں اترتا۔ یہ سب اسی دنیا کی تلخ حقیقتیں ہیں۔جو بعد میںافسانہ بن جاتے ہیں۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

بیوہ: کہانی

شبیر احمد میر

مین دروازے پر پڑے پردے کے پیچھے میں آکرکھڑی ہوئی۔ میرا بھائی۔ بھابی سے مخاطب تھا ۔میری بہن توا یک دم مرجھا کر رہ گئی ہے۔ ننھی سی جان کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ۔ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سوچ رہا ہوں ۔کوئی اچھا سا رشتہ مل جائے۔ تاکہ میں دوبارہ اس کا گھر بسا سکوں ۔بھابی نے بھائی جان کی بات بیچ میںکاٹتے ہوئے اپنے شوہر کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔دوسری بار گھر بسانا مرد اور عورت دونوں کے لیے مشکل ہوتا ہے ۔وہ جو پہلا جیون ساتھی ہوتاہے۔ اچھا ہو یا برا ۔وہ زندگی سے جاتا کبھی نہیں۔ اب تمہاری بہن صرف ایک بیوہ ہے۔ بیوہ۔ اس کے لیے رشتے نہیں رہے ۔ عزت نہیں رہی۔ کوئی خوشی۔ کوئی خواب۔ کوئی امید نہیں رہی ۔بلکہ یوں سمجھو۔ اس کے پاس تو زندگی ہی نہیں رہی ۔ میری مانیے! آپ رشتوں کے چکر میں مت پڑئیے گا ۔جب وقت آئے گا میں خود دیکھ لوں گی۔ فی الحال گھر میںبہت سے کام ہوتے ہیں۔ میں اکیلی کیا کرسکتی ہوں ۔گھر میں کام کرنے کے لیے وہ میرا ہاتھ بٹاتی رہے ۔جس سے اس کا دل بھی بہل جائے گا اور آہستہ آہستہ وہ یہ سب کچھ بھول جائے گی ۔
کتنی سمجھدار ہو تم ۔مجھے اچھا لگتا ہے تمہاری ویلیوز۔ تمہاری سوچ ۔تمہارا بولنا ۔بات کرنا اور خاص کر تمہارا مسکرانا۔ یہ سب مجھے اچھا لگتا ہے ۔بھر وسہ کرو میںمذاق نہیں کررہا۔ یہ سن کر میں کھڑی اپنے آپ کو کوس رہی تھی۔ جسکی وجہ سے میں وہاں کھڑی نہ رہ سکی۔ تھکے تھکے قدموں سے واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ بیڈ پر بیٹھ گئی ایسے جیسے خود کا ہوش نہ ہو۔ آنکھوں کی نمی تھی ۔کہ خشک ہونے میں نہیں آرہی تھی۔ میں محبت کی قیمت ایک نوکرانی کی طرح چکاتی رہی۔ ا وروہ گھر کے کام کرنے کی قیمت وصول کرتے رہے۔ جب انسان خود کو کمزور و بے بس سمجھ لیتا ہے۔ تو دنیا والے اسے مزید بے بس کرنے میں دیر نہیں کرتے ۔میںنے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں خود ناپسندیدہ بن کر کسی اور پر مسلط ہو جائوں ۔ میں ہر لمحہ ایسی بے چین ہو جاتی ۔جیسے تلوے میںکانٹا چبھ جائے تو سارا دن بدن کراہتا رہتا ہے۔ میری بھوک اور نیند دونوں ہی اڑگئی تھی آسمان پر چاند ستارے اپنا سفر طے کرتے رہتے اور میں بیٹھی اپنی محبت کے بچھڑ جانے کا سوگ مناتی رہتی ۔وہ رات بیت گئی ۔پھر جانے ایسی کئی راتیں بیت گیئں۔ میں ہونٹوں پر چپ لیے پھرتی رہی ۔میرا دل اچاٹ ہو گیا تھا۔ ہر شے سے دلچسپی ختم ہو گئی تھی۔ گھر والوں کی محبتوں کو عقیدہ اٹھ گیا تھا۔مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ سب کچھ فضول ہے ۔بے معنی ہے ۔بے مطلب ہے۔ کوئی اپنا نہیں ۔کوئی پر خلوص نہیں۔ کسی کو اسکی پرواہ نہیں۔ کیا فائدہ ایسے لوگوں کے درمیان رہنے کا جن کو میری خوشی و غم کا احساس نہیں۔ دل چاہتا ہے یہاں سے کہیں دور چلی جائوں لوٹ کر واپس کبھی نہ آئو ں۔ میرا ماضی میرے لیے طوفان لے کر آیا اور میرا وجود لڑکھڑا کر ٹوٹ پھوٹ کرگر گیا۔ یہ ٹوٹ پھوٹ میرے اندر کوئی نہیں دیکھ سکتا نہ ہی کسی کو فرصت ہے ۔یہ سب دیکھنے کی۔ بہت دیر میں یوں ہی بیٹھی خلائوں میںگھورتی رہی۔ میں تاروں بھرا آسمان دیکھ رہی تھی ۔ایسا لگا جیسے یہ تارے بھی مجھے دیکھ کر حیرت سے پلکیں جھپک رہے ہوں ۔ہم لڑکیاں بیوگی میں دوسری شادی کرنے والدین اور بھائیوں کے سامنے اظہار کرتے ہوئے ۔جیسے زبان کٹنے لگتی ہے۔ شرم کے مارے ہم کچھ بول نہیں سکتے۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے ۔کیسے انجان بنتے ہیں سب کے سب۔ کیا انہیں ہماری آنکھوں میں کچھ بھی نظر نہیں آتا؟ کیا یہ لوگ ہمارے چہرے سے ہمارے دل کا حال نہیں پڑھ سکتے ۔گھر میں جب بھی کوئی بات شروع کرتا ہے۔ تو میں بڑی حسرت کے ساتھ اسے دیکھتی ہوں۔ دل میں بے ساختہ یہ امید جاگ اٹھتی ہے کہ وہ ابھی ایسا کچھ کہہ دے گا ۔جو میرے تڑپتے دل کو آرام دے گا۔ مگر میںنے خود کو بہت بہلایا ۔تسلیاں دیں ۔ان آنکھوں میں جھانک کر دل کا حال معلوم کرنا چاہا۔ مگر وہاں مجھے ایسا کچھ نہیں ملا ۔جو میرے بے چین دل کو چین وسکون دے سکے۔ یہاں آکر سارے خواب۔ ساری خواہشیں ۔خیالات اور سوچیں سب مٹی کے ڈھیر کی طرح بہہ گئیں۔ میں پنجرے میں قید چڑیا کی مانند بے حد مضطرب اکثر ٹیرس پر ادھر سے ادھر چکر لگاتی رہتی ہوں۔ جب تک پتھروں سے واسطہ نہ پڑے ان کی سختی نوکیلے پن اور وزن کا اندازہ نہیں ہو سکتا ۔ہاتھوں کا تکیہ بناے میںسوچوں میںگم تھی ۔ میرے زہن میںماضی کے گزرے واقعات۔ میرا سسرال کے گھر میں داخل ہونا جیسے دنیا میں آنے کے برابر تھا ۔واقعی لڑکیوںکا مان ہی سسرال کے دم سے قائم ہوتا ہے۔ کتنا عجیب سا رشتہ ہوتا ہے میاں بیوی کا۔ صرف تین لفظ ۔دو انجان لوگوں کی زندگی بھر کے لیے ایک کر دیتے ہیں۔ ایسا مظبوط تعلق بن جاتا ہے۔ کہ سگے خون کے رشتے بھی پرائے بن جاتے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی میں آنے والے وقت کے خوش کن تصور میں کھو کر میری آنکھوں میں ایک ساتھ کئی قندیلیں جل اٹھیں۔ چہرہ جیسے جگمگا اٹھا۔ گالوں پر حیا کے رنگ بکھر گئے ۔شرمیلی دھیمی سی مکان میرے ہونٹوں پر آکر ٹھہر گئی۔ جب میرے شوہر نے میرے کان میں آتے ہی کہا۔
میری زندگی ۔میری جان ۔ میری کائنات۔ میری فریق ۔میرے دکھ درد کی شریک حیات ۔میرے ہر موسم کی ساتھی ۔یعنی میری بیوی ۔یہ تعارف تو بہت کم ہے ۔میرے پاس ذخیرہ الفاظ نہیں جس سے میں اپنی بیوی کا تعارف کرا سکوں ۔میں خوشی سے نہا ل ہوگئی ۔میرے چہرے پر شرم اور خوشی کا ایسا حسین رنگ امڈ آیا ۔کہ مجھے اپنی قسمت پر رشک آنے لگا۔ ایک سکون بھر کیفیت تھی جو میرے چہرے اور وجود سے چھلکنے لگی تھی۔ معلوم نہیںیہ جانے والے لوٹ کر کیوں نہیں آتے ؟ ان کا جسمانی وجود نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے بس انکے لمس کا احسااس باقی رہ جاتا ہے ۔ ہم خوابنگرمیںان سے ملتے ہیں ۔باتیں کرتے ہیں۔ مگر جب حقیقت کی نگری میں لوٹتے ہیں تو وہ ہاھتوںسے جیسے پھسل جاتے ہیں۔
روز رات جب میں اپنے بستر پر لیٹتی تو بس یہی یادیں اور باتیں میرا احاطہ کیے رہتیں۔ آج مجھے شوہر کے نہ ہونے سے روح میں ایک خلاء سا محسوس ہونے لگا اور آج شدت سے مجھے اپنے تنہا ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔ کمرے میںہر چیز موجود تھی ۔مگر ایک شخص کے نہ ہونے سے ہر چیز ادھوری لگ رہی تھی۔ نظریں اسے تلاشتی رہتی ۔دل کا ایک کونا سونا اور ویران لگتا۔ جیسے کچھ کھو گیا ہو۔ واقعی خوشی انسان کو وہ کچھ نہیں سکھاتی جو غم سکھاتا ہے۔ گرم گرم آنسو آنکھوں کے کناروں سے نکل کر میرے بالوں میں جذب ہونے لگے۔
جانے کیسی خطا ہوئی مجھ سے
ساری دنیا خفا ہوئی مجھ سے جس نے بھی دل دکھایا میرا
اس کے حق میں دعا ہوئی مجھ سے
میںیادوں کے دوش پر کسی کٹی پتنگ کی طرح ڈولتی۔ میرے سوکھے ہونٹوں پر مرجھایا ہوا تبسم تڑپ کر رہ جاتا۔ اس گھر کا احساس میرے پائوں کی زنجیر بن گیا ۔میں نے دل کو سمجھایا اب باقی عمر بھی اسی طرح گزارنی ہے۔ ہر طرح کی روحانی اور جسمانی آرزوں آشائوں اور تمنائوں کو دل میں دبا کر ۔آب و گیاہ ایک صحرا کی طرح۔ زبیح ہونا اور ہوتے رہنا ان دنوں میرا مقدر بن گیا تھا ۔کیونکہ کسی کی پریشانی میں کسی کا سکون پوشیدہ ہوتا ہے ۔کہتے ہیں زندگی کا چلنا پانی ٹہر جائے تو وقت ایک بھاری پتھر بن جاتا ہے۔ میری زندگی بھی ٹھہرا پانی تھی۔ بس ۔دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میںتبدیل ہو کر سال گزر تے جارہے تھے۔ یوں ہی بے قصد ۔بے مطلب۔ محبت میرے نصیب میں نہ تھی۔ میری آنکھوں میں نیند کہاں ۔میں ایسے ہی کہہ دیا کرتی ۔کہ میں سونا چاہتی ہوں۔ حقیقت میں ان آنکھوں میں نیند اور بیداری عرصے تک آنکھ مچولی کھیلتی رہی ۔ جب اپنے وجود کو غور سے دیکھا تو میر اغصہ ابلتے پانی کی طرح میری آنکھوں سے ٹپک پڑا ۔ یہ جلتے آنسو آگ کے انگارے تھے ۔بھائی کی محبت کا خمار اتر چکاتھا اور میں خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی جہنم میں کھڑی سوچ رہی تھی ۔کہ اس جہنم کو میں نے خود چنا ہے ۔جس محبت کے بھروسے پر میں آگ کے دریا میں اتری تھی ۔اسی محبت نے بجائے سہارا دے کر پار لگانے کے ۔بیچ منجدھار میںڈولنے اور جھلسنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ جو زندگی اندر مر چکی ہو ۔اسے جھوٹ موٹ جیتے رہنا کتنا دشوار ہوتاہے ۔
میں شب و روز خدمت گزاری میںمنہمک رہتی۔ باقی وقت عبادت میںگزار دیتی۔ کبھی کبھی پلو سے منہ ڈھانپ کر سسک سسک کر رو لیتی۔ ابو جی کے سامنے چہرے پر ہر وقت ایک نرم مسکراہٹ رکھتی ۔انہیں وقت پر کھانا کھلاتیں ۔وقت پر دوا دیتی۔ ضرورت کے وقت پائوں دابتیں ۔ مجھے آج ابو جی کی یاد بہت آنے لگی اور مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ جب میں بیوگی کا داغ لیے بابل کی دہلیز پر آپڑی ۔ابو جی نے بے اختیار مجھے اپنی چھاتی سے لگایا۔ جیسے میں کوئی برف کی اکڑی سل ہو۔ منہ ڈھانپ کر میں اس کے سامنے بیٹھ گئی اور انہوں نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا۔
تم جو سوچ رہی ہو بیٹا۔ اس میںشدتیں اختیار مت کرنا ۔کچھ ضرورتیں زندگی کا حصہ ہوتی ہیں ان سے اجتناب انسان میں کمزوریاں بھر دیتا ہے ۔خواہ وہ روحانی ہوں یا جسمانی ۔کچھ فیصلے صرف دل کے ہوتے ہیں دماغ آمادہ نہیں ہوتا اور کچھ فیصلے صرف دماغ کے۔ جس پر دل احتجاج کرتا رہ جاتا ہے۔ لیکن پائدار فیصلے وہی ہوتے ہیں جن پر دل اور دماغ دونوں متفق ہوں۔ میں نے کچھ دیر کے لیے آنکھیں موند لیں جیسے ہر دکھ پر ہر غم سے بے نیاز ہو جانا چاہتی تھی ۔ ابو جی کی آواز میرے کانوں میں لگا تار گونج رہی تھی۔ جو کہہ رہے تھے ۔ صبر ۔برداشت اور تحمل صرف کتابوں میںپڑھنے کی باتیں نہیں ۔عملی زندگی میں جب ان کا ثبوت دینا پڑتا ہے تو زندگی بہت دشوار لگنے لگتی ہے۔ بہت سی عورتیں آخڑ کار صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتی ہیں۔ وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر زندگی بھر واویلا کرتی رہتی ہیں۔ مگر وقت ان کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل چکا ہوتا ہے ۔مرد کے بغیر عورت بغیر چھت کا کمرہ ہوتی ہے ۔ایک ویرانہ ۔بلکہ ایک کھنڈر ۔رشتے انسان کی طاقت ہوتے ہیں۔ انسان کی مظبوط ترین حقیقت ۔رشتے ڈھال ہوتے ہیں ایسی ڈھال جس کے سہارے انسان بڑے سے بڑے طوفان کا مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ ہوں ۔تو انسان کی حثیت تنکے جیسی ہو جایا کرتی ہے۔ زندگی میں انسان کے پاس کچھ ہو ۔نہ ہو۔ ایک ایسا مظبوط اور خالص رشتہ ضرور ہونا چاہیے جس کے سہارے انسان کڑی دھوپ کا سفر آسانی سے طے کر سکے۔ گزرتے ہوئے لمحوں کو مظبوطی سے مٹھی میںتھام کر دبائے رکھنا اور نئے آنے والے لمحوں کے لیے ہاتھ میں جگہ نہ رکھنا کہاںکی عقلمندی ہے بیٹا۔کچھ چیزیں تقدیر لکھتی ہیںاور کچھ چیزیں انسان کو خود لکھنی پڑتی ہیں یا بنانی پڑتی ہیں۔ پچھلی زندگی کیسے اور کس طرح ختم ہو جاتی ہے کوئی نہیں جانتا ۔ایک دفعہ نئی زندگی میں قدم رکھ دو تو لگتا ہے پرانی زندگی تو کسی اور نے بسر کی تھی۔ ساتھی کے بٖغیر تو بڑھاپا نہیں گزرتا ۔جوانی تو بہت ہی مشکل ہے بیٹا ۔میرے اس بڑھاپے کی عمر میں مجھے ہر وقت ۔ہر لمحہ اٹھتے بیٹھتے ۔سوتے جاگتے ۔تیری ماں یا د آتی رہتی ہے وہ دن میری زندگی کا بہت ہی عظیم دن ہو گا ۔جب وہ مجھے اپنے پاس بلا ئے گی !
میں نے دیکھا ابو جی کی آنکھوں سے آنسو ٹپک ٹپک کر گر پڑے اور اس کے دامن میں جذب ہوتے گیے۔ اللہ اگر مشکل راستے نصیب میںلکھتا ہے تو پہلے اپنے بندوں کو ہمت اور حوصلہ کے ساتھ صبر و برداشت کی محنت سے نوازتا ہے ۔مانا کہ بیوہ عورت کو معاشرہ میں رحم ۔ہمدرد اور تر س مل جاتا ہے ۔لیکن دکھ سکھ کا ساتھی نہ ہو ۔ تو زندگی کے مسائل ہر آن پر یشان رکھتے ہیں ۔منزل تک جانے والے راستے تو ہمیشہ دھند میں گم ہوتے ہیں ۔ انہیں ڈھونڈنا خود ہی پڑتا ہے ۔روشنیاں تلاش کرنی پڑتی ہیں۔ چراغ جلائے جاتے ہیں۔ وہ کبھی خود سے نہیں جلتے۔ میری یہ باتیں تیری سمجھ میں آرہی ہیں۔۔۔ بیٹا ؟
دنیا میں اچھے لوگ مل ہی جاتے ہیں اور یہ بھی بڑی خوش نصیبی ہے۔ زندگی جمود کا نہیں آگے بڑھنے کا نام ہے ۔مرجانے والوں کو یادوں میںزندہ رکھا جاتا ہے۔ یہی زندگی کا اصول ہے۔ ان کے ساتھ قبرستان میں جاکر مرا نہیں جاتا اور نہ ہی جوگ لیا جاتا ہے۔ زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ اپنے ماضی سے نکل کر حال میںجینے اور مستقبل کو دیکھنے کی کوشش کرو۔ خون کا رشتہ بے معنی ہو کررہ جاتے ہیں۔ جب ڈھنگ سے انہیں برتانہ جائے۔ جوان عورت اپنے مر د کے بغیر کہیں بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔ہر انسان کی زندگی مقدس ہوتی ہے ۔چاہیے وہ بیوہ ہو یا شادی شدہ امیر ہو یا غریب ۔اس زمین پر بھیڑئیے کی شکل میں وہ لوگ ہیں جو بیوہ کو شادی کرنے سے روکتے ہیں یا شادی کروانے کے لیے وقت کو طول دیتے ہیں ۔ اللہ کی لعنت ہے ان لوگوں پر اور یہی لوگ اس زمین پر بوجھ ہیں ۔جو کسی دوسرے کی خوشی کو خوش نہیںدیکھ سکتے ۔مجھے ڈر ہے۔ بیٹا کہیں تم سب کے خواب پورے کرتے کرتے خود ایک خواب نہ بن جائو۔ دنیا میں اپنی زندگی کا کوئی خاص مقصد مقرر کرنا اور اس پر عمل پیرا ہونا کامیاب لوگوں کا ہمیشہ پاکیزہ اصول رہا ہے ۔یہ سب کچھ میں تم سے نہیں کہتا۔ اگر مجھ میں اٹھنے بیٹھنے کی ہمت ہوتی۔ میں چل بھی نہیں سکتا ۔ایک زندہ لاش ہوں ۔موت کا انتظار کررہا ہوں ۔مجھے اب۔۔ اپنا جسم خود اپنے آپ پر ایک ناقابل برداشت بوجھ معلوم ہونے لگا ہے ۔
پوری رات ابو جی کے الفاظ میرے زہن کی دیواروں سے ٹکراتے رہے۔ اس گھر میں عزت کا ایک لفظ نہ ملا۔ اچھا ہی ہے اس جہنم میںجینے سے تو بہتر ہے۔ کہ میں مر ہی جائوں۔ رشتے میں محبت نہ ہو تو زندگی نہیں ۔سمجھوتہ بن کر رہ جاتی ہے۔ وہ بڑ بڑاتی ہوئی پالک اور آلو کی ٹوکری اٹھانے لگی اور من ہی من میں شیخ سعدی کا یہ قول دہرانے لگی ۔ میرے اچھے وقت نے دنیا کو بتایا کہ میں کیسی ہوں اور میرے برے وقت نے مجھے بتایا کہ دنیا کیسی ہے ۔
یہ خوبصورت افسانے رسالوں اور جریدوں کی زینت بنتے ہیں۔ ان کا خیال لکھنے والوں کے زہنوں میں غیب سے نہیں اترتا۔ یہ سب اسی دنیا کی تلخ حقیقتیں ہیں۔جو بعد میںافسانہ بن جاتے ہیں۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں