لیبیا: تارکین وطن کو جسم فروشی اور جنسی زیادتی کا سامنا

جنگ نیوز ڈیسک

Office of the United Nations High Commissioner for Human Rights نے خبردار کیا ہے کہ لیبیا میں مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کو قتل، تشدد، جنسی زیادتی اور انسانی سمگلنگ سمیت منظم اور سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ یہ رپورٹ United Nations Support Mission in Libya کے اشتراک سے جاری کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جرائم پیشہ گروہ مہاجرین کو اغوا کر کے غیر قانونی حراستی مراکز میں رکھتے ہیں جہاں انہیں غلامی، جبری مشقت، جنسی استحصال، تاوان اور بھتہ خوری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بعض گروہوں کے روابط سرکاری شخصیات اور بیرون ملک نیٹ ورکس سے بھی جوڑے گئے ہیں۔ ہائی کمشنر Volker Türk نے کہا کہ یہ استحصالی نظام طاقت اور لالچ کے تحت چل رہا ہے۔
جنوری 2024 سے دسمبر 2025 تک کے عرصے پر مبنی رپورٹ تقریباً 100 متاثرین کے انٹرویوز پر تیار کی گئی۔ گواہیوں میں مشرقی لیبیا کے شہر طبروق سمیت مختلف مقامات پر خواتین اور کم عمر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، تشدد اور تاوان کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
مہاجرین نے بحیرہ روم کے وسطی راستے سے یورپ جانے کی خطرناک کوششوں اور لیبیا کے حکام کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال کا بھی ذکر کیا۔ بہت سے افراد کو زبردستی واپس بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ دوبارہ انہی مظالم کا شکار ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں اجتماعی اور جبری بے دخلی کو بین الاقوامی قانون اور افریقی یونین کے پناہ گزین کنونشن کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ Hanna Tetteh نے کہا کہ حراستی مراکز انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا مرکز بن چکے ہیں۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ناجائز طور پر قید افراد کو رہا کیا جائے، غیر قانونی داخلے کو جرم قرار دینے کی پالیسی ختم کی جائے اور سمندر میں تلاش و بچاؤ کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے۔ بین الاقوامی برادری سے بھی کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی ضمانت کے بغیر لیبیا کو معاونت فراہم نہ کی جائے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

لیبیا: تارکین وطن کو جسم فروشی اور جنسی زیادتی کا سامنا

جنگ نیوز ڈیسک

Office of the United Nations High Commissioner for Human Rights نے خبردار کیا ہے کہ لیبیا میں مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کو قتل، تشدد، جنسی زیادتی اور انسانی سمگلنگ سمیت منظم اور سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ یہ رپورٹ United Nations Support Mission in Libya کے اشتراک سے جاری کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جرائم پیشہ گروہ مہاجرین کو اغوا کر کے غیر قانونی حراستی مراکز میں رکھتے ہیں جہاں انہیں غلامی، جبری مشقت، جنسی استحصال، تاوان اور بھتہ خوری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بعض گروہوں کے روابط سرکاری شخصیات اور بیرون ملک نیٹ ورکس سے بھی جوڑے گئے ہیں۔ ہائی کمشنر Volker Türk نے کہا کہ یہ استحصالی نظام طاقت اور لالچ کے تحت چل رہا ہے۔
جنوری 2024 سے دسمبر 2025 تک کے عرصے پر مبنی رپورٹ تقریباً 100 متاثرین کے انٹرویوز پر تیار کی گئی۔ گواہیوں میں مشرقی لیبیا کے شہر طبروق سمیت مختلف مقامات پر خواتین اور کم عمر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، تشدد اور تاوان کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
مہاجرین نے بحیرہ روم کے وسطی راستے سے یورپ جانے کی خطرناک کوششوں اور لیبیا کے حکام کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال کا بھی ذکر کیا۔ بہت سے افراد کو زبردستی واپس بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ دوبارہ انہی مظالم کا شکار ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں اجتماعی اور جبری بے دخلی کو بین الاقوامی قانون اور افریقی یونین کے پناہ گزین کنونشن کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ Hanna Tetteh نے کہا کہ حراستی مراکز انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا مرکز بن چکے ہیں۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ناجائز طور پر قید افراد کو رہا کیا جائے، غیر قانونی داخلے کو جرم قرار دینے کی پالیسی ختم کی جائے اور سمندر میں تلاش و بچاؤ کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے۔ بین الاقوامی برادری سے بھی کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی ضمانت کے بغیر لیبیا کو معاونت فراہم نہ کی جائے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں