جنگ نیوز
بنگلہ دیش نے فیصلہ کن فیصلہ سنا دیا ہے، جہاں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی نے پارلیمانی انتخابات میں واضح برتری حاصل کی ہے اور طارق رحمان کے اگلے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ نوبل انعام یافتہ محمد یونس، جنہوں نے 2024 کی بغاوت کے بعد عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر ذمہ داری سنبھالی تھی، شیخ حسینہ کے خلاف عوامی غصے کے بعد ہونے والی اس بڑی سیاسی تبدیلی کے پس منظر میں منظر سے ہٹ گئے ہیں۔ بی این پی کی واپسی ملک کے لیے ایک ہنگامہ خیز عبوری دور کے بعد نئی سیاسی سمت کی نشاندہی کرتی ہے اور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی بھارت سے حوالگی کے مطالبے کو تقویت دیتی ہے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔
بنگلہ دیش کی سیاسی تبدیلی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی مسابقت کے درمیان سامنے آئی ہے۔ بھارت، چین اور امریکہ نے ڈھاکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ نئی دہلی نے شیخ حسینہ کے زوال کے بعد بھی ان سے قریبی روابط برقرار رکھے، جبکہ واشنگٹن نے خطے میں چین کی موجودگی پر کھل کر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم مودی کی طارق سے گفتگو
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے طارق رحمان کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ وہ دونوں ممالک کے عوام کی امن، ترقی اور خوشحالی کی خواہشات کی تکمیل کے لیے مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے تاریخی و ثقافتی رشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔


