جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی/واشنگٹن/امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اعلان سے قبل ٹرمپ نے وزیرِ اعظم مودی سے بات کی۔ یہ معاہدہ کئی ماہ کی بات چیت کے بعد سامنے آیا، جس کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی منڈی میں بھارتی برآمدات پر بھاری محصولات عائد کیے تھے۔ ان میں سے 25 فیصد محصولات بھارت کی روس کے ساتھ خام تیل کی تجارت سے متعلق تھے۔
یہ معاہدہ پیر کی رات ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’بھارت کے وزیرِ اعظم مودی سے بات کرنا میرے لیے اعزاز تھا۔ وہ میرے عظیم دوستوں میں سے ایک ہیں اور اپنے ملک کے طاقتور اور معزز رہنما ہیں۔ ہم نے تجارت سمیت کئی امور پر بات کی، روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے پر بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے روسی تیل کی خرید بند کرنے اور امریکہ سے کہیں زیادہ خریداری پر اتفاق کیا، اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے بھی۔
اس سے یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی، جہاں اس وقت ہزاروں لوگ ہر ہفتے مارے جا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’دوستی اور مودی کے احترام میں، اور ان کی درخواست پر، ہم نے فوری طور پر امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت امریکہ باہمی محصولات کم کرے گا—25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد۔ اسی طرح محصولات اور غیر محصولات رکاوٹوں کو صفر تک لانے کی سمت بھی پیش رفت کی جائے گی۔‘‘
وزیرِ اعظم نے امریکہ کے خلاف محصولات اور غیر محصولی رکاوٹوں کو صفر تک لانے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے ’بائے امریکن‘ کی پالیسی کو کہیں زیادہ سطح پر اپنانے کا بھی عزم کیا، اور 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی، کوئلہ اور دیگر مصنوعات کی خریداری پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو شاندار قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات آئندہ مزید مضبوط ہوں گے۔ ’’مودی اور میں کام کر کے نتائج حاصل کرنے والے لوگ ہیں—ایسی بات جو اکثر نہیں کہی جا سکتی۔‘‘
یہ معاہدہ بھارت اور یورپی یونین کی جانب سے اُس اعلان کے چند ہی دن بعد سامنے آیا جسے دونوں فریقین نے ’تمام معاہدوں کی ماں‘ قرار دیا تھا۔


