کہانی: مٹی کی خوشبو

 

مینا خان
ڈسٹرکٹ سیشن جج
امروہہ یوپی

پرانی دلی کے ایک محلے میں حاجی انور حسین صاحب اور نسرین بیگم کا گھر آج بھی ویسا ہی ہے جیسا 40 برس پہلے تھا۔ انگن میں نیم کا درخت اج بھی سایہ دیتا ہے۔ دہلی کی پرانے محلے میں بیچوں بیچ یہ گھر حاجی انورحسین صاحب نے اپنی جوانی کے دنوں میں تعمیر کیا تھا وہ اب وقت کے ساتھ رنگ الود ہونے لگا تھا مگر صحن میں وہ مٹی کی خوشبو ہے جو ہر برسات میں ان کے دلوں کو مہکا دیتی ہے۔حاجی صاحب کے گھر کی دیواروں میں ان کی محنت پسینے اور خوابوں کی خوشبو بسی ہوئی ہے مگر اب اس خوشبو میں تنہائی گھل گئی ہے ۔ ان کے تینوں بیٹے ایک ایک کر کے وطن چھوڑ گئے ہیں لندن نیویارک اور دبئی سب اپنے اپنے خوابوں کے پیچھے۔
نسرین بیگم صبح کے وقت چائے بناتیں تو چولہے کے پاس رک کر ایک لمبی سرد اہ بھرتیں ہائے۔ … یہی وہ گھر ہے وہ انگن ہے، جہاں میرے وقار فرحان اور انس کی ہنسی گونجتی تھی۔ وہ ہنسی وہ شرارتیں سب پردیس میں گم ہو گئی ہیں۔ فون پر باتیں بھی اب ضرورت بھر کی رہ گئی ہیں اور کل رات سب سے بڑے بیٹے وقار نے صاف کہہ دیا
"ابا… آپ لوگ یہاں کیوں اٹکے ہوئے ہیں؟ گھر بیچ دیں ۔ہمارے پاس آجائیں۔ یہاں سب سہولت ہے ۔
حاجی صاحب کچھ دیر خاموش رہے پھر ٹھنڈی سانس بھر کر بولے
"بیٹا سہولت تو ہے. مگر سکون؟ نسرین بیگم نے یہ کہتے ہوئے بات کاٹ دی۔
"ہاں بھئی.. وہاں سردیوں میں ایسی دھوپ کہاں ملے گی؟ یہاں صحن میں بیٹھ کر چائے پینے کا لطف کون دے گا؟” پردیس کی موسم میں آسائش تو تھی مگر رشتوں میں وہ گرمی نہ تھی ۔وہاں وقت گھڑیوں میں تولا جاتا تھا۔ اور یہاں گاؤں کی گلیوں میں یادیں پکڈنڈیوں کی طرح پھیلی ہوئی تھیں ۔ماضی کی چھاؤں میں اب بھی ان کے قدم ٹھہرتے تھے۔
جب وقار نے دوبارہ اصرار کیا تو حاجی صاحب نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
"بیٹا ..تم سب اب پردیس کے بام پر ہو ,مگر ہم ابھی دہلی کی زمین کے ہیں. مٹی سے بچھڑ جائیں تو جڑیں کہاں رہتی ہیں؟
فون بند ہوا تو صحن میں خاموشی چھا گئی ۔
وقار کے بعد ایک دن فرحان کا بھی فون آ یا۔ اس کی اواز میں جلدی ٫غصہ اور بے صبری تھی.
وہ ماں سے مخاطب ہو کر بولا "اماں۔۔۔ ابا کو سمجھائیں انڈیا میں کیا رکھا ہے ؟ساری زندگی یہیں بتائی ہے. اپ لوگ ہمارے پاس ائیں.. دنیا دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آ پ دونوں کتنے پیچھے رہ گئے ہیں۔ مکان فیکٹری سب بیچ دیں ۔ہم تینوں بھائی یہی چاہتے ہیں۔
نسرین بیگم ماں تھیں ۔بیٹے کو سخت جواب نہیں دینا چاہتی تھیں ،مگر حاجی صاحب سے رہا نہیں گیا وہ بولے ۔
"بیٹا… دولت بانٹی جا سکتی ہے مگر جڑیں نہیں… یہ مٹی ہمارا ٹھکانہ ہے .ہمیشہ… آب کو اس کی خوشبو محسوس نہیں ہوئی۔
کچھ دن گزرے تو انس کا بھی فون اگیا
ابا ۔۔۔آخر یہ ضد کس بات کی ہے۔ آ پ بھی تو سکون چاہتے ہیں۔ آ پ اپنے بیٹوں کے ،پوتوں کے ساتھ رہیں گے تو آ پ کو سچی خوشی ملے گی۔ یہاں ساری نعمتیں ہیں ۔وہاں کیا رکھا ہے؟ بجلی چلی جاتی ہے۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔۔ حکومت نکمی ہے۔
حاجی صاحب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی
‘انس سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی لاڈلا تھا .
"بیٹا انس وطن کمزور ہو تو سہارا بنو ..کنارہ نہیں … میں نے ہی کپ چاہا تھا ,تم لوگ یہاں سے جاؤ. لیکن تم گئے تو میں نے روکا نہیں.. جانے دیا.. تم سب بھی ہمیں مجبور مت کرو… میں اپنے ملک کی مٹی میں دفن ہونا چاہتا ہوں ".
حاجی صاحب کی یہ باتیں بیٹوں کو گراں گزری. ان کے لہجے میں خفگی انے لگی۔ انا جانا کم ہو گیا۔ فون کالز اور پیغامات چھوٹے ہو گئے۔ نسرین بیگم کے چہرے پر تنہائی اور فکر کی لکیریں نمایاں ہونے لگیں ۔کچھ سال بعد حاجی صاحب بیمار پڑ گئے۔ فیکٹری کے مزدوروں نے تیمارداری کی۔ محلے کے لوگ خبرگیری کرتے رہے، مگر بیٹے صرف تصویر ہی پیغامات بھیج سکے ۔اور چھٹی نہ ملنے کے بہانے کرتے رہے۔ ساتھ ہی یہ طعنہ بھی دیتے کہ اگر ہماری بات مان کر یہاں اگئے ہوتے تو اج اچھا علاج بھی ہوتا اور یوں غیروں کے رحم و کرم پر زندہ نہ ہوتے۔
نسرین بیگم دل مسوس کر رہ جاتیں ۔۔کیا اس دن کے لیے انہوں نے تین تین بیٹوں کو پیدا کیا تھا؟ کتنی امید تھی کہ بیٹے بڑھاپے کا سہارا بنیں گے. اللہ نے انہیں بیٹی نہیں دی تھی جس کا انہیں افسوس تھا لیکن تین بیٹوں کی ماں ہونے پر ہمیشہ فخر محسوس کرتی تھیں۔ انہوں نے بیٹوں کی پرورش پڑھائی لکھائی کھانے پینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ حاجی صاحب نے ہر سہولت مہیا کرائی ۔اور پڑھنے کے لیے باہر بھیجا ۔انہیں کیا پتہ تھا کہ تینوں میں سے ایک بیٹا بھی دہلی میں ان کے پاس نہیں رہے گا۔۔ انہوں نے شادیاں بھی اپنی اپنی پسند سے کیں اور اپنے والدین کو یہ حق بھی نہیں دیا جس کا ارمان ہر والدین کو ہوتا ہے ۔وہ کہتے تھے شادی ہمیں کرنی ہے ہم بہتر سمجھتے ہیں کہ ہمیں کیسا لائف پارٹنر چاہیے۔
حاجی صاحب نے صبر کر لیا وہ بیٹوں کے لیے دعا کرتے رہتے اور نسرین بیگم کو بھی سمجھاتے "اب زمانہ بدل گیا ہے بیگم . ،ہم خود بھی تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ خوش رہیں اباد رہیں”
بیماری کی حالت میں حاجی صاحب نے بیٹوں کو بہت یاد کیا .وہ ہر آہٹ پر کان لگائے ہوئے تھے۔ شاید کوئی بیٹا اچانک آ کر انہیں سرپرائز کر دے۔ لیکن جب سیریس حالت کا پتہ چلنے پر بھی کوئی نہیں ایا تو انہیں بے حد صدمہ ہوا ۔۔۔
ایک دن فجر سے پہلے حاجی صاحب کی سانسیں دھیمی ہوئیں ۔ نسرین بیگم نے جلدی سے انہیں زم زم پلایا۔ زم زم کے قطرے حلق میں گئے اور کلمہ پڑھتے پڑھتے ہی ان کی روح پرواز کر گئی۔
بیٹوں کو خبر کی گئی تو تینوں بیٹے آ گئے ۔
اگلے دن صبح ہی سب ایک ساتھ بیٹھے اور ماں کو سمجھانے لگے
” ابا یہیں کی سرزمین میں دفن ہونا چاہتے تھے. ان کی خواہش پوری ہو گئی…. اماں اب ۔آپ چلنے کی تیاری کریں۔ اب یہاں اکیلے رہنے سے کیا فائدہ؟ نسرین بیگم خاموش ہو گئیں چہرے پر ایک تھکن تھی اور انکھوں میں ایک سوال ۔۔۔ کیا تمہیں اپنے وطن سے، ہماری خوشی سے کوئی سروکار نہیں؟
چند دنوں میں ہی مکان کی دیواریں "برائے فروخت” کے بورڈ سے ڈھک گئیں ۔سودے طے ہونے لگے۔ مارکیٹ ریٹ سے کم پر بیچنے پر بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ظاہر ہے مکان میں یا فیکٹری میں ان کی محنت یا ان کا کوئی پیسہ نہیں لگا تھا اس لیے انہیں جو مل جائے وہی بہتر تھا۔
نسرین بیگم کو حاجی صاحب کے جانے کا صدمہ تھا ۔بچوں کے رویے نے ان کی کمر ہی توڑ دی تھی۔ کھانا پینا برائے نام رہ گیا تھا۔ جس کی طرف بیٹوں کی کوئی توجہ نہیں تھی۔ وہ جلد از جلد سارا سرمایہ بیچ کر نکل جانا چاہتے تھے۔ بیٹوں نے گھر اور فیکٹری کے ساتھ تمام مشینری اور گھر کا سامان فرنیچر برتن ہوم اپلائنسز وغیرہ سب کچھ فروخت کر دیا تھا ۔
واپسی کے ٹکٹ تیار تھے۔
جب روانگی کا وقت ایا اور نسرین بیگم کمرے سے نہیں نکلیں تو جلدی جلدی تینوں بیٹے ماں کے کمرے میں داخل ہوئے
چلیں اماں۔۔۔ دیر ہو جائے گی۔ نسرین بیگم بستر پر نیم دراز تھیں ۔۔ہاتھ میں حاجی صاحب کی تصویر تھی۔۔ آنکھیں بند۔۔ سانسوں کا سفر ختم ہو چکا تھا ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ۔۔۔ جیسے کہہ رہی ہوں۔۔۔ اب مجھے بھی اسی مٹی میں سلا دوں۔ جہاں تمہارے ابا سوئے ہوئے ہیں کمرے کی خاموشی میں اذان کی اواز گونجی تھی ۔نسرین بیگم بھی اسی مٹی میں جا ملیں جسے چھوڑنے کا اُنہونے تصور بھی نہیں کیا تھا ۔اسی وقت بارش کی بوندیں گریں پیڑ کے پتے لرزے، اور صحن کی مٹی سے خوشبو اٹھی۔ جیسے کہہ رہی ہو ۔۔۔ جس کو اپنے ملک کی مٹی سے عشق ہو ان کی کبھی ہجرت نہیں ہوتی۔۔ تینوں بیٹے چند لمحے سکتے میں رہے پھر رسم جنازے کی تیاری کی ۔۔ پھرانہوں نے رقم کی تقسیم کا کام نپٹا یا اور اپنی اپنی منزلوں کو روانہ ہو گئے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

کہانی: مٹی کی خوشبو

 

مینا خان
ڈسٹرکٹ سیشن جج
امروہہ یوپی

پرانی دلی کے ایک محلے میں حاجی انور حسین صاحب اور نسرین بیگم کا گھر آج بھی ویسا ہی ہے جیسا 40 برس پہلے تھا۔ انگن میں نیم کا درخت اج بھی سایہ دیتا ہے۔ دہلی کی پرانے محلے میں بیچوں بیچ یہ گھر حاجی انورحسین صاحب نے اپنی جوانی کے دنوں میں تعمیر کیا تھا وہ اب وقت کے ساتھ رنگ الود ہونے لگا تھا مگر صحن میں وہ مٹی کی خوشبو ہے جو ہر برسات میں ان کے دلوں کو مہکا دیتی ہے۔حاجی صاحب کے گھر کی دیواروں میں ان کی محنت پسینے اور خوابوں کی خوشبو بسی ہوئی ہے مگر اب اس خوشبو میں تنہائی گھل گئی ہے ۔ ان کے تینوں بیٹے ایک ایک کر کے وطن چھوڑ گئے ہیں لندن نیویارک اور دبئی سب اپنے اپنے خوابوں کے پیچھے۔
نسرین بیگم صبح کے وقت چائے بناتیں تو چولہے کے پاس رک کر ایک لمبی سرد اہ بھرتیں ہائے۔ … یہی وہ گھر ہے وہ انگن ہے، جہاں میرے وقار فرحان اور انس کی ہنسی گونجتی تھی۔ وہ ہنسی وہ شرارتیں سب پردیس میں گم ہو گئی ہیں۔ فون پر باتیں بھی اب ضرورت بھر کی رہ گئی ہیں اور کل رات سب سے بڑے بیٹے وقار نے صاف کہہ دیا
"ابا… آپ لوگ یہاں کیوں اٹکے ہوئے ہیں؟ گھر بیچ دیں ۔ہمارے پاس آجائیں۔ یہاں سب سہولت ہے ۔
حاجی صاحب کچھ دیر خاموش رہے پھر ٹھنڈی سانس بھر کر بولے
"بیٹا سہولت تو ہے. مگر سکون؟ نسرین بیگم نے یہ کہتے ہوئے بات کاٹ دی۔
"ہاں بھئی.. وہاں سردیوں میں ایسی دھوپ کہاں ملے گی؟ یہاں صحن میں بیٹھ کر چائے پینے کا لطف کون دے گا؟” پردیس کی موسم میں آسائش تو تھی مگر رشتوں میں وہ گرمی نہ تھی ۔وہاں وقت گھڑیوں میں تولا جاتا تھا۔ اور یہاں گاؤں کی گلیوں میں یادیں پکڈنڈیوں کی طرح پھیلی ہوئی تھیں ۔ماضی کی چھاؤں میں اب بھی ان کے قدم ٹھہرتے تھے۔
جب وقار نے دوبارہ اصرار کیا تو حاجی صاحب نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
"بیٹا ..تم سب اب پردیس کے بام پر ہو ,مگر ہم ابھی دہلی کی زمین کے ہیں. مٹی سے بچھڑ جائیں تو جڑیں کہاں رہتی ہیں؟
فون بند ہوا تو صحن میں خاموشی چھا گئی ۔
وقار کے بعد ایک دن فرحان کا بھی فون آ یا۔ اس کی اواز میں جلدی ٫غصہ اور بے صبری تھی.
وہ ماں سے مخاطب ہو کر بولا "اماں۔۔۔ ابا کو سمجھائیں انڈیا میں کیا رکھا ہے ؟ساری زندگی یہیں بتائی ہے. اپ لوگ ہمارے پاس ائیں.. دنیا دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آ پ دونوں کتنے پیچھے رہ گئے ہیں۔ مکان فیکٹری سب بیچ دیں ۔ہم تینوں بھائی یہی چاہتے ہیں۔
نسرین بیگم ماں تھیں ۔بیٹے کو سخت جواب نہیں دینا چاہتی تھیں ،مگر حاجی صاحب سے رہا نہیں گیا وہ بولے ۔
"بیٹا… دولت بانٹی جا سکتی ہے مگر جڑیں نہیں… یہ مٹی ہمارا ٹھکانہ ہے .ہمیشہ… آب کو اس کی خوشبو محسوس نہیں ہوئی۔
کچھ دن گزرے تو انس کا بھی فون اگیا
ابا ۔۔۔آخر یہ ضد کس بات کی ہے۔ آ پ بھی تو سکون چاہتے ہیں۔ آ پ اپنے بیٹوں کے ،پوتوں کے ساتھ رہیں گے تو آ پ کو سچی خوشی ملے گی۔ یہاں ساری نعمتیں ہیں ۔وہاں کیا رکھا ہے؟ بجلی چلی جاتی ہے۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔۔ حکومت نکمی ہے۔
حاجی صاحب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی
‘انس سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی لاڈلا تھا .
"بیٹا انس وطن کمزور ہو تو سہارا بنو ..کنارہ نہیں … میں نے ہی کپ چاہا تھا ,تم لوگ یہاں سے جاؤ. لیکن تم گئے تو میں نے روکا نہیں.. جانے دیا.. تم سب بھی ہمیں مجبور مت کرو… میں اپنے ملک کی مٹی میں دفن ہونا چاہتا ہوں ".
حاجی صاحب کی یہ باتیں بیٹوں کو گراں گزری. ان کے لہجے میں خفگی انے لگی۔ انا جانا کم ہو گیا۔ فون کالز اور پیغامات چھوٹے ہو گئے۔ نسرین بیگم کے چہرے پر تنہائی اور فکر کی لکیریں نمایاں ہونے لگیں ۔کچھ سال بعد حاجی صاحب بیمار پڑ گئے۔ فیکٹری کے مزدوروں نے تیمارداری کی۔ محلے کے لوگ خبرگیری کرتے رہے، مگر بیٹے صرف تصویر ہی پیغامات بھیج سکے ۔اور چھٹی نہ ملنے کے بہانے کرتے رہے۔ ساتھ ہی یہ طعنہ بھی دیتے کہ اگر ہماری بات مان کر یہاں اگئے ہوتے تو اج اچھا علاج بھی ہوتا اور یوں غیروں کے رحم و کرم پر زندہ نہ ہوتے۔
نسرین بیگم دل مسوس کر رہ جاتیں ۔۔کیا اس دن کے لیے انہوں نے تین تین بیٹوں کو پیدا کیا تھا؟ کتنی امید تھی کہ بیٹے بڑھاپے کا سہارا بنیں گے. اللہ نے انہیں بیٹی نہیں دی تھی جس کا انہیں افسوس تھا لیکن تین بیٹوں کی ماں ہونے پر ہمیشہ فخر محسوس کرتی تھیں۔ انہوں نے بیٹوں کی پرورش پڑھائی لکھائی کھانے پینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ حاجی صاحب نے ہر سہولت مہیا کرائی ۔اور پڑھنے کے لیے باہر بھیجا ۔انہیں کیا پتہ تھا کہ تینوں میں سے ایک بیٹا بھی دہلی میں ان کے پاس نہیں رہے گا۔۔ انہوں نے شادیاں بھی اپنی اپنی پسند سے کیں اور اپنے والدین کو یہ حق بھی نہیں دیا جس کا ارمان ہر والدین کو ہوتا ہے ۔وہ کہتے تھے شادی ہمیں کرنی ہے ہم بہتر سمجھتے ہیں کہ ہمیں کیسا لائف پارٹنر چاہیے۔
حاجی صاحب نے صبر کر لیا وہ بیٹوں کے لیے دعا کرتے رہتے اور نسرین بیگم کو بھی سمجھاتے "اب زمانہ بدل گیا ہے بیگم . ،ہم خود بھی تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ خوش رہیں اباد رہیں”
بیماری کی حالت میں حاجی صاحب نے بیٹوں کو بہت یاد کیا .وہ ہر آہٹ پر کان لگائے ہوئے تھے۔ شاید کوئی بیٹا اچانک آ کر انہیں سرپرائز کر دے۔ لیکن جب سیریس حالت کا پتہ چلنے پر بھی کوئی نہیں ایا تو انہیں بے حد صدمہ ہوا ۔۔۔
ایک دن فجر سے پہلے حاجی صاحب کی سانسیں دھیمی ہوئیں ۔ نسرین بیگم نے جلدی سے انہیں زم زم پلایا۔ زم زم کے قطرے حلق میں گئے اور کلمہ پڑھتے پڑھتے ہی ان کی روح پرواز کر گئی۔
بیٹوں کو خبر کی گئی تو تینوں بیٹے آ گئے ۔
اگلے دن صبح ہی سب ایک ساتھ بیٹھے اور ماں کو سمجھانے لگے
” ابا یہیں کی سرزمین میں دفن ہونا چاہتے تھے. ان کی خواہش پوری ہو گئی…. اماں اب ۔آپ چلنے کی تیاری کریں۔ اب یہاں اکیلے رہنے سے کیا فائدہ؟ نسرین بیگم خاموش ہو گئیں چہرے پر ایک تھکن تھی اور انکھوں میں ایک سوال ۔۔۔ کیا تمہیں اپنے وطن سے، ہماری خوشی سے کوئی سروکار نہیں؟
چند دنوں میں ہی مکان کی دیواریں "برائے فروخت” کے بورڈ سے ڈھک گئیں ۔سودے طے ہونے لگے۔ مارکیٹ ریٹ سے کم پر بیچنے پر بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ظاہر ہے مکان میں یا فیکٹری میں ان کی محنت یا ان کا کوئی پیسہ نہیں لگا تھا اس لیے انہیں جو مل جائے وہی بہتر تھا۔
نسرین بیگم کو حاجی صاحب کے جانے کا صدمہ تھا ۔بچوں کے رویے نے ان کی کمر ہی توڑ دی تھی۔ کھانا پینا برائے نام رہ گیا تھا۔ جس کی طرف بیٹوں کی کوئی توجہ نہیں تھی۔ وہ جلد از جلد سارا سرمایہ بیچ کر نکل جانا چاہتے تھے۔ بیٹوں نے گھر اور فیکٹری کے ساتھ تمام مشینری اور گھر کا سامان فرنیچر برتن ہوم اپلائنسز وغیرہ سب کچھ فروخت کر دیا تھا ۔
واپسی کے ٹکٹ تیار تھے۔
جب روانگی کا وقت ایا اور نسرین بیگم کمرے سے نہیں نکلیں تو جلدی جلدی تینوں بیٹے ماں کے کمرے میں داخل ہوئے
چلیں اماں۔۔۔ دیر ہو جائے گی۔ نسرین بیگم بستر پر نیم دراز تھیں ۔۔ہاتھ میں حاجی صاحب کی تصویر تھی۔۔ آنکھیں بند۔۔ سانسوں کا سفر ختم ہو چکا تھا ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ۔۔۔ جیسے کہہ رہی ہوں۔۔۔ اب مجھے بھی اسی مٹی میں سلا دوں۔ جہاں تمہارے ابا سوئے ہوئے ہیں کمرے کی خاموشی میں اذان کی اواز گونجی تھی ۔نسرین بیگم بھی اسی مٹی میں جا ملیں جسے چھوڑنے کا اُنہونے تصور بھی نہیں کیا تھا ۔اسی وقت بارش کی بوندیں گریں پیڑ کے پتے لرزے، اور صحن کی مٹی سے خوشبو اٹھی۔ جیسے کہہ رہی ہو ۔۔۔ جس کو اپنے ملک کی مٹی سے عشق ہو ان کی کبھی ہجرت نہیں ہوتی۔۔ تینوں بیٹے چند لمحے سکتے میں رہے پھر رسم جنازے کی تیاری کی ۔۔ پھرانہوں نے رقم کی تقسیم کا کام نپٹا یا اور اپنی اپنی منزلوں کو روانہ ہو گئے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون