کہانی: شرابی

شبیر احمد میر

آنکھوں میں اتنی بے بسی ۔بے کسی۔ ویرانی اور خالی پن ۔جیسے چالیس سال کی کوئی عورت نہ ہو ۔برسوں سے ویران پڑا۔ اجڑا۔ بچھڑا گھر ہو۔ کھنڈر بننے کو ۔ ڈھے جانے کو۔ بس گرنے کو تیار ۔ شریک سفر بڑے نصیب سے ملتا ہے نہ جانے کتنے جوڑے ایک دوسرے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ مگر مصلحتوں کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں ۔صبر کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتے ۔ جب انسان کسی چیز کا عادی ہو جائے تو وہ اسے بری نہیں لگتی ۔ عادتیں شروع میں کچے دھاگے کی طرح ہوتی ہیں۔ مگر بعد میں لوہے کی تاروں کی مانند ہو جاتی ہیں۔ جس میں انسان جکڑ کر رہ جاتا ہے۔ اگر ہم ان لمحوں کی گرفت سے نکل جائیں تو انسانیت کی محراج کو چھوتے ہیں ۔
دولہا خوبصورت ہو۔ بڑی بڑی آنکھوں والا۔ کالے گھنے بالوں والا ہو۔ بہت گورا نہ بہت کالا ۔میرے اوپر عشاق ہو جائے ۔یہ تو دل کی آواز ہے۔ لڑکیاں جیسا سوچتی ہیں ویسا بر نہیں ملتا ۔پھر جیسا بھی ملتا ہے اس کے ساتھ گزارا کر لتی ہیں ۔جب عورت گھر بار والی ہو جاتی ہے۔ تو گھر کی مصروفیات سے اسے خوشی ملتی ہے۔ اس میں اعتماد آتا ہے۔ سچی خوشیوں کا شعور آتا ہے۔ اب اگر عورت اور شوہر دونوں کے درمیان خلوص کا رشہ استوار نہ ہو جاے تو ایک خلیج ان کے درمیان حائل ہو جاتی ہے ۔وہ کبھی سچی خوشی اور پر خلوص محبت کا تصور نہیں کرسکتے۔ گھر کی حفاظت کرنا ہر زی روح کا فرض ہے ۔ہوش اور حواس قائم رکھنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ ورنہ سب کچھ بکھر جائے گا اور دل سے ہر وقت ایک آہ نکلے گی۔ افسوس زندگی کیسی مصیبت میں آپڑی ۔
مت چکھو ایسا ذائقہ ؟جس سے زندگی عذاب ہو جائے۔ آپ بخوبی جانتے ہیںشراب انسانی عقل کا جنازہ نکالنے میں کمال حاصل ہے اور آپ کی لاتعلقی سے بڑھ کر کوئی اور کڑی سز ا ہو سکتی ہے ہمارے لیے۔ رشتے۔ زمہ داریوں کا د و سرا نام ہے۔ پھر کیوںآپ رشتوں کے بوجھ سے خود کو آزاد سمجھتے ہیں ۔میرے من میں کوئی تمنا نہیں۔ کوئی خواہش نہیں۔ میں شروع سے ہی آپ کی ہر بات مانتی اآرہی ہوں۔ کبھی کوئی ڈیمانڈ نہیں کی۔ کچھ مانگا نہیں۔ جیسے چاہا گزارا کر لیا ۔کیونکہ شوہر پیار محبت اعتماد اور تحفظ دینے والے رشتے کا نام ہے !
غصے سے میری بات کاٹتے ہوئے میری طر ف دیکھ کر کہا ۔دیکھو! ابھی کوئی مشورہ نہ دو۔ مجھے معلوم ہے تم میری بہتری کے لیے مشورہ دے رہی ہو۔ لیکن ابھی میںتمہارے مشوروں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیںہوں ۔اس وقت تم چلی جاو ۔جب دماغ زرا پرسکون ہونے لگے ۔میںتمہیں خود بلائو ںگا مشورے دینے کے لیے۔ تب ہی تیرے یہ بہترین مشورے میری سمجھ میں آئیں گے ۔
میںوہاںجس گھر سے نکل کر آئی ہوں کیا ریوں میںپودوںکی بھی پوری طرح نگرانی ہوتی ہے۔ میںدل کا موتی پہلے ہی تم پر لٹا چکی ہوں۔ لیکن تم نے قدر نہیںکی ۔ مان نہیں رکھا۔
میںتمہاری سہاگن بن گئی۔ تمہارے نام کے سہاگ کی چوڑیاں پہنیں ۔دلہن بنی۔ تمہارے گھر کو تمہاری دنیا آباد کرنے آئی ۔لیکن قسمت یہاں مہربان نہیں ہوئی۔ یقین تھا۔ بھرم تھا۔ آس تھی۔ امید تھی کہ تم وعدہ وفا کرو گے لیکن تم نے یقین توڑ دیا۔ بھرم مٹا دیا۔ آس کی لو بجھا دی اور امید کی ڈور توڑ ڈالی۔ میں خودکود دھوپ میںجل رہی ہوں اور تم لوگوں کو چھائوں دے رہی ہوں۔ میں خوابوں کے پیچھے نہں بھاگ رہی ہوں بلکہ خواب میرے تعاقب میںچلے آرہے ہیں۔ اس نے سگریٹ کا ایک گہرا کش لیا اور آہستہ آہستہ دھواں اگلتے ہوئے پر خیال انداز میں گلاس لبوں سے لگا کر روک دیا شراب کے گلاس کو میز پر رکھتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔ ہر روز وہ اپنی ازدواجی زندگی کو تلخ کرتا جاتا۔پھر تلخی زہر میںبدلتی اور یہی زہر وہ اس وقت پی رہا تھا ۔سختی سے اس نے میرا بازو تھا م لیا ۔خوف کی ایک سرد لہر میری ریٖڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔
اجیرن کر دی تم نے میری زندگی ۔سکون کا ایک پل بھی مجھے نصیب نہیں ۔جب دیکھو مشورے دیتی رہتی ہو ۔تیرے نیک اورکمال کے مشورے سن سن کر میرے کان پک گئے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تم اپنی پستی سے بلندی کی طرف بندریا کی طرح چلانگ لگانے کی کوشش کیو ںکررہی ہو؟ تم ایک عورت ہو اور عورت کی حد میں رہو۔ اسی انداز سے سوچا بھی کرو۔ آگ لگے اس دنیا کو ۔یہ دنیا عورتوں سے بھر ی پڑی ہے لیکن میرے حصے میںآئی تو بس ۔یہ چڑیل۔ کتنا بد قسمت ہوں میں ۔
اس کے لفظ چابک کی صورت مجھے لگنے لگے اور جسم کی نہیں ۔بلکہ میری روح کی کھال ادھیڑ کر رکھ دی۔ احساس توہین سے میرا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور آنکھیں برسنے کو تھیں۔ اس وقت نشہ اس پر حاوی ہو رہا تھا نگاہوں کے سامنے غصے سے اسے ہر چیز گھومتی ہوئی نظر آرہی تھی ۔جب شراب اپنا تسلط جما لیتی ہے اور سر گھومنے لگتا ہے تو زہن کو قابو میںرکھنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔
دماغ کھاتی ہے ۔سچ ہی تو کہتے ہیں ۔عورت سے منہ کی نہ کھاو۔ اس نے میری طرف حقارت سے دیکھا مجھے نفرت سے گھورا اور نفرت جیسے انداز میں اس نے مجھے جھٹک دیا۔ میں دیوار کے ساتھ جا لگی اور میرا سر دیوار سے ٹکرایا ۔ زمین و آسمان میری نظروں کے سامنے گھوم گئے اور میری شانوںپر اس کی گرفت سخت ہوگئی۔ اس کی انگلیوں کا دباو مجھے اپنے گوشت کے اندر پیوست ہوتا محسوس ہو۔ اب اس نے میری کلائی کو زور سے پکڑا اور میری کلائی پر اس کی گرفت کے نشان پیوست ہو گئے۔ دکھ کی شدت سے میری آواز پھٹ سی گئی۔ ایک چٹاخ کی آواز کے ساتھ اس کا بھاری ہاتھ میرے گال پر پڑا اور کہا ۔
میرے راستے میں آئے گی تو ٹکڑے ٹکڑ ے کر کے رکھ دوں گا ۔ وہ نشے کی حالت میںگرج رہا تھا اور اس سماج پر کیچڑ اچھال رہا تھا۔ اس کے سامنے کوئی قانون یا کوئی اخلاقی پابندی نہیں تھی وہ اپنی ہر کمزوری کو گالیوں کی طرح ننگا کررہا تھا اور گالیاں دیتے دیتے اس نے خود کو بھی ننگا کر دیا۔ چیخ و پکار لڑائی جھگڑے اور نہ جانے کیسے کیسے ہنگامے جنم لے رہے تھے اس گھر میں ۔ پاپا مت ماریئے میر ی مما کو !میری بیٹی نے مجھے تھام لیا۔ ہم دونوں نے جب اس کے چہرے کا جائزہ لیا تو اس کا چہرہ چلا چلا کے کہہ رہا تھا۔ میں شکا ر ہو چکا ہوں ۔میں نشے میں چیخ رہا ہوں ۔چلا رہا ہوں۔ جھلا رہا ہوں۔ مگر سنبھل نہیںرہا ۔بچ نہیں رہا ۔مررہا ہوں ۔ ہر گھڑی ہر لمحہ ۔مچھلی کی طرح تڑپنے ہوئے میں نے خود کو اس کی گرفت سے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی ۔کرب کی لہریں اپنے وجود میںیوں محسوس ہوئیں جیسے رگ رگ میں تلوا رکے گھاو لگ رہے ہوں۔تنگ نظر۔ تنگ زہن اور خود غرض لوگوں میںزندگی گزارنا ۔گویا دنیا میںپل صراط سے گزرنے کے مترادف ہے اور میں نے پل صراط کے ہزاروں حصے میںوحشت زدہ ہو کر سوچا۔ وہ میرے لیے کسی زہریلے سانپ کی طرح خطرے کا پیش خیمہ تھا ۔ہمار ا گھر برباد ہو گیا۔ تباہ ہو گیا ۔منحوس ہو گیا ۔جس گھر میں شراب وہ لوگ کبھی سکون سے نہیں رہ سکتے۔ ایسے ہم لوگ بھی کبھی خوش نہیں ہو سکتے اور ایسے میں ہم بھی کبھی سکون سے نہیں رہ سکتے ہیں۔ جب انسان جہالت میں۔ فسادات کا سبب بنتا ہے تو مقدر کی تاریکیاں اسے سورج کی روشنی میں بھی منزل سے بھٹکا دیتی ہے ۔
میرے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی۔ آنکھیں ویران ہو گیئں۔ میں تو احساسات جذبات میں گوندھی ایک ایسی عورت تھی۔ جس کے خواب بہت اونچے نہ سہی لیکن محبت سے سینچے ہوئے ضرورتھے ۔ میں اپنے مرد کی خدمت کا خاص جذبہ لے کر اس دنیا میں آئی تھی مگر میں جانتی ہوں کچھ گناہوں کی سزا انسان کو موت کے بعد ملتی ہے اور کچھ گناہوں کی سزا موت سے پہلے ۔اس لیے یہی سمجھ لیں ۔کہ میں موت سے پہلے گناہوں کی سزا جھیل رہی ہوں۔وہ بھی ایک ایسا سنگین گناہ ۔جس میں خدا کے علاوہ اپنے شوہر کوخدا مان بیٹھی تھی ۔سو مجھے سزا تو ملنی ہی تھی ۔مما روتی ہوئی کمرے سے باہر نکل آئیں۔ مجھے دیکھ کر لمحہ بھر کاپنیں پھر میرے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔ اپنے کمرے کے دروازے پر پہنچنے تک اس کے سارے ارمان آنسووں میںبہہ گئے۔ کیا یہ زلت اس کا مقدر تھی ۔صرف اس لیے کہ اس کا شوہر شرابی ہے
پریشانی کی حالت میں انسان کو ایسی باتیں بھی یاد آجاتی ہیں جہنیں وہ فراموش کر چکا ہوتا ہے۔ بیٹی کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ میںنے کوئی بے ادبی نہیںکی تھی بیٹی۔ ہر عور ت مرد کی بے وفائی کے باوجود سمندر جیسا دل رکھتی ہے ۔مرد کی ساری زیادتیاں اور خطائیں معاف کر کے کبھی کبھی اولاد کی خاطر سمجھوتہ کر لیتی ہے ۔ میں بھی آج یہ فاصلے ۔یہ خلیج کبھی نہ بانٹتی۔ اگر مجھے تیرے کل کی فکر دامن گیر نہ ہوتی ۔ ہم ایک کے ساتھ تو رہتے ہیں ۔مگر ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ جسے رشتوں کا پاس نہیں وہ کسی سے محبت نہیںکر سکتا۔ مکمل گھر اسی وقت بنتا ہے جب عورت کے ساتھ مرد کو بھی بے عیب گوہر ہو نا چائیے۔ تب ہی ایک دوسرے کے لیے وہ سچے اور مخلص ہم سفر بن سکتے ہیں۔ ایسے آدمی جو عورت کی محبت کی قدر نہیں کرتے ان کے دل میں جگہ پیدا کرنے کی کوئی ترکیب نہیں۔ اس قسم کے سنگدل انسان پیار محبت کے لطیف و نازک جذبات سمجھ نہیں سکتے۔ جس انسان کا دل پتھر ہو۔ اس کے لیے کوئی مشورہ نہیںدیا جاتا ۔رشتوں کی خوبصورتی ان کو بنا نے میں نہیں۔بلکہ ان کو نبھانے میں ہے اور رشتوں کو نبھانے کے لے محبت سے زیادہ موثر اورپایدار ہتھیا ر کوئی اور ہو ہی نہیںسکتا۔
میرے زہن کے پردے پر مما کی تصویر رو رہی تھی۔ وہ شدید جذباتی صدمے کا شکار تھی۔ اپنی زندگی سے مایوس تھی اور اسکی یہ مایوسی میرے اندر بھی اندھیرا کررہی تھی۔ میری آنکھیں بھی جل تھل ہو رہی تھیں۔ میری مما۔ جو موم کی گڑیا تھی ۔اب پھتر کی سل بن چکی تھی۔ جذبات سے گوندھی میری مما ۔شمع کی مانند پگھل کر ختم ہورہی تھی۔ اس کی ازدواجی زندگی بالکل برباد ہو گئی تھی اور ایسی خوشی اسے کبھی نصیب ہو گی جب آپس کے پیارکی بنیادی اینٹ ہی نکل جائے تو ازدواجی زندگی کی عمارت کیونکر کھڑی ہو سکتی ہے ۔ممانے ساری رات پلنگ پر بیٹھی اپنی آنکھوں میں کاٹ دی ۔وہ بالکل سونہ سکی ۔بس تکیہ رکھ کر اپنے خوابوں کو اجڑتا دیکھتی رہی۔ اس کے سر کی چوٹ ابھی تک پھوڑے کی طرح دکھ رہی تھی ۔پورا جسم ابھی تک درد کی لپیٹ میںتھا۔ خوابوں کا وہ دیوتا ۔جس کے ہاتھ میں اس نے اپنی زندگی کی لگام دے دی! کیا یہی اس کے تمام سپنوں کی تعبیر ہے ۔ جو اس نے پہلے اپنے باپ کے گھر میں۔ آنگن میں۔لگے درختوں کے سایوں میں اور کنواری راتوں میںدیکھے تھے ۔ جس کے لیے گھر چھوڑ ا گلی ۔محلہ۔ ماں باپ۔ بہن بھائی۔ سہلیاں ختی ٰ کہ اپنا وجود بھی سب کچھ چھوڑ دیا ۔ایک وفا شعار میری مما ۔جیسی عورت کسی آدمی کو مل جائے ۔تو اس سے بڑی دولت اور کیا ہو سکتی ہے ۔
ممانے عجیب نظروں سے مجھے دیکھا ۔میںنے ااس کا چہرہ پڑھ لیا۔ اسکی نظروں میں دنیا جہاں کی عورتوں کا دکھ سمٹ آیا تھا۔ ان تمام عورتوں کا دکھ ۔جو مردوں سے پیار کرتی ہیں۔سخت گیر باپوں سے ۔خود غرض بھائیوںسے۔ پیٹنے والے شوہروں سے اور رات دیر سے لوٹنے والے بیٹوں سے ۔یہ سب انہیں دکھ دیتے ہیں۔ کوئی کسی طرح۔ کوئی کسی طرح ۔ان تمام عورتوں کا دکھ میری مما کی آنکھوں میں تھا اس وقت مجھے وہ الفاظ یاد آگئے۔ جو میں نے ایک رسالہ میں پڑھا تھا۔ اگر مرد کو آنکھ تصور کیا جائے تو عورت ااس کی بینائی اور اگر پھول تصور کیا جائے تو عورت اس کی خوشبو۔ جس گھر میں عورت نہیں وہاں سعادت کے فرشتے قدم نہیں رکھتے۔ عورت وہ شاخ ہے جو ہوا کے نرم جھونکے پر جھک تو سکتی ہے ۔مگر طوفان کی سختی سے ٹوٹ نہیں سکتی۔
انتہائی دکھ سے سوچتے ہوئے میںلحاف میںجاچھپی۔ آنکھوں کا پانی پہلے ہی آنکھوں سے ڈھلک چکا تھا اور اب تو روانی سے بہنے لگا ۔ کچھ وقت پہلے اسی جگہ بیٹھی میںماں باپ کا پیار۔ خوبصورت انداز میںسجا رہی تھی اور اب ان کے ریزوں کی چھبن۔ آنکھوں میںبلکہ میری روح تک اتررہی تھی ۔دل چاہا چیخ چیخ کر رونے لگوں ۔لیکن میں ایسا نہیںکر سکی ۔اس لیے تکیہ میں سر رکھ کر سسکتی رہی ۔ اور میں سوچتی رہی۔ ایک اچھے اور صالح ماحول میںزندگی کتنی راحتوں سے بھر جاتی ہے۔ کتنا سکون نصیب ہوتا ہے۔ وہ جانتی تھی ایسی ہی بہت سے راتیں آئیں گھر میں۔جب بھی جھگڑا ہوتا تھا تو رات کو پاپا گھر میں بہت دیر سے لوٹتے ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کل پاپا کو ڈھونڈ کے رہے گی اور کہے گی ۔
پاپا اپنے گھر چلیئے زندگی بکھری ہوئی ہے ۔ اسے سمیٹ لیجیئے ۔چلتے پھرتے ،سوتے جاگتے میںاپنے دل میں آپ دونوں کی محبت محسوس کرتی ہوں ۔کیوں یہ فکر یہ پریشانی دبے پائوں آکر ہم پر حملہ کرتی رہتی ہے اس کو روکیے پایا۔ میںآپ کے پائوں پڑتی ہوں ۔یہ پریشانی جو بوتلوں میںبند پڑی ہے۔ ڈھکن کھلتے ہی سانپ کی طرح پھن پھیلائے ہمارے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ ان بوتلوں کو توڑ ئیے۔ ان کو توڑنے کے لیے میں بھی آپ کی مدد کروں گی ۔ پریشانی کے سانپ کو میں خود مار ڈالوں گی۔ میرے اچھے پاپا۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

کہانی: شرابی

شبیر احمد میر

آنکھوں میں اتنی بے بسی ۔بے کسی۔ ویرانی اور خالی پن ۔جیسے چالیس سال کی کوئی عورت نہ ہو ۔برسوں سے ویران پڑا۔ اجڑا۔ بچھڑا گھر ہو۔ کھنڈر بننے کو ۔ ڈھے جانے کو۔ بس گرنے کو تیار ۔ شریک سفر بڑے نصیب سے ملتا ہے نہ جانے کتنے جوڑے ایک دوسرے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ مگر مصلحتوں کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں ۔صبر کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتے ۔ جب انسان کسی چیز کا عادی ہو جائے تو وہ اسے بری نہیں لگتی ۔ عادتیں شروع میں کچے دھاگے کی طرح ہوتی ہیں۔ مگر بعد میں لوہے کی تاروں کی مانند ہو جاتی ہیں۔ جس میں انسان جکڑ کر رہ جاتا ہے۔ اگر ہم ان لمحوں کی گرفت سے نکل جائیں تو انسانیت کی محراج کو چھوتے ہیں ۔
دولہا خوبصورت ہو۔ بڑی بڑی آنکھوں والا۔ کالے گھنے بالوں والا ہو۔ بہت گورا نہ بہت کالا ۔میرے اوپر عشاق ہو جائے ۔یہ تو دل کی آواز ہے۔ لڑکیاں جیسا سوچتی ہیں ویسا بر نہیں ملتا ۔پھر جیسا بھی ملتا ہے اس کے ساتھ گزارا کر لتی ہیں ۔جب عورت گھر بار والی ہو جاتی ہے۔ تو گھر کی مصروفیات سے اسے خوشی ملتی ہے۔ اس میں اعتماد آتا ہے۔ سچی خوشیوں کا شعور آتا ہے۔ اب اگر عورت اور شوہر دونوں کے درمیان خلوص کا رشہ استوار نہ ہو جاے تو ایک خلیج ان کے درمیان حائل ہو جاتی ہے ۔وہ کبھی سچی خوشی اور پر خلوص محبت کا تصور نہیں کرسکتے۔ گھر کی حفاظت کرنا ہر زی روح کا فرض ہے ۔ہوش اور حواس قائم رکھنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ ورنہ سب کچھ بکھر جائے گا اور دل سے ہر وقت ایک آہ نکلے گی۔ افسوس زندگی کیسی مصیبت میں آپڑی ۔
مت چکھو ایسا ذائقہ ؟جس سے زندگی عذاب ہو جائے۔ آپ بخوبی جانتے ہیںشراب انسانی عقل کا جنازہ نکالنے میں کمال حاصل ہے اور آپ کی لاتعلقی سے بڑھ کر کوئی اور کڑی سز ا ہو سکتی ہے ہمارے لیے۔ رشتے۔ زمہ داریوں کا د و سرا نام ہے۔ پھر کیوںآپ رشتوں کے بوجھ سے خود کو آزاد سمجھتے ہیں ۔میرے من میں کوئی تمنا نہیں۔ کوئی خواہش نہیں۔ میں شروع سے ہی آپ کی ہر بات مانتی اآرہی ہوں۔ کبھی کوئی ڈیمانڈ نہیں کی۔ کچھ مانگا نہیں۔ جیسے چاہا گزارا کر لیا ۔کیونکہ شوہر پیار محبت اعتماد اور تحفظ دینے والے رشتے کا نام ہے !
غصے سے میری بات کاٹتے ہوئے میری طر ف دیکھ کر کہا ۔دیکھو! ابھی کوئی مشورہ نہ دو۔ مجھے معلوم ہے تم میری بہتری کے لیے مشورہ دے رہی ہو۔ لیکن ابھی میںتمہارے مشوروں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیںہوں ۔اس وقت تم چلی جاو ۔جب دماغ زرا پرسکون ہونے لگے ۔میںتمہیں خود بلائو ںگا مشورے دینے کے لیے۔ تب ہی تیرے یہ بہترین مشورے میری سمجھ میں آئیں گے ۔
میںوہاںجس گھر سے نکل کر آئی ہوں کیا ریوں میںپودوںکی بھی پوری طرح نگرانی ہوتی ہے۔ میںدل کا موتی پہلے ہی تم پر لٹا چکی ہوں۔ لیکن تم نے قدر نہیںکی ۔ مان نہیں رکھا۔
میںتمہاری سہاگن بن گئی۔ تمہارے نام کے سہاگ کی چوڑیاں پہنیں ۔دلہن بنی۔ تمہارے گھر کو تمہاری دنیا آباد کرنے آئی ۔لیکن قسمت یہاں مہربان نہیں ہوئی۔ یقین تھا۔ بھرم تھا۔ آس تھی۔ امید تھی کہ تم وعدہ وفا کرو گے لیکن تم نے یقین توڑ دیا۔ بھرم مٹا دیا۔ آس کی لو بجھا دی اور امید کی ڈور توڑ ڈالی۔ میں خودکود دھوپ میںجل رہی ہوں اور تم لوگوں کو چھائوں دے رہی ہوں۔ میں خوابوں کے پیچھے نہں بھاگ رہی ہوں بلکہ خواب میرے تعاقب میںچلے آرہے ہیں۔ اس نے سگریٹ کا ایک گہرا کش لیا اور آہستہ آہستہ دھواں اگلتے ہوئے پر خیال انداز میں گلاس لبوں سے لگا کر روک دیا شراب کے گلاس کو میز پر رکھتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔ ہر روز وہ اپنی ازدواجی زندگی کو تلخ کرتا جاتا۔پھر تلخی زہر میںبدلتی اور یہی زہر وہ اس وقت پی رہا تھا ۔سختی سے اس نے میرا بازو تھا م لیا ۔خوف کی ایک سرد لہر میری ریٖڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔
اجیرن کر دی تم نے میری زندگی ۔سکون کا ایک پل بھی مجھے نصیب نہیں ۔جب دیکھو مشورے دیتی رہتی ہو ۔تیرے نیک اورکمال کے مشورے سن سن کر میرے کان پک گئے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تم اپنی پستی سے بلندی کی طرف بندریا کی طرح چلانگ لگانے کی کوشش کیو ںکررہی ہو؟ تم ایک عورت ہو اور عورت کی حد میں رہو۔ اسی انداز سے سوچا بھی کرو۔ آگ لگے اس دنیا کو ۔یہ دنیا عورتوں سے بھر ی پڑی ہے لیکن میرے حصے میںآئی تو بس ۔یہ چڑیل۔ کتنا بد قسمت ہوں میں ۔
اس کے لفظ چابک کی صورت مجھے لگنے لگے اور جسم کی نہیں ۔بلکہ میری روح کی کھال ادھیڑ کر رکھ دی۔ احساس توہین سے میرا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور آنکھیں برسنے کو تھیں۔ اس وقت نشہ اس پر حاوی ہو رہا تھا نگاہوں کے سامنے غصے سے اسے ہر چیز گھومتی ہوئی نظر آرہی تھی ۔جب شراب اپنا تسلط جما لیتی ہے اور سر گھومنے لگتا ہے تو زہن کو قابو میںرکھنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔
دماغ کھاتی ہے ۔سچ ہی تو کہتے ہیں ۔عورت سے منہ کی نہ کھاو۔ اس نے میری طرف حقارت سے دیکھا مجھے نفرت سے گھورا اور نفرت جیسے انداز میں اس نے مجھے جھٹک دیا۔ میں دیوار کے ساتھ جا لگی اور میرا سر دیوار سے ٹکرایا ۔ زمین و آسمان میری نظروں کے سامنے گھوم گئے اور میری شانوںپر اس کی گرفت سخت ہوگئی۔ اس کی انگلیوں کا دباو مجھے اپنے گوشت کے اندر پیوست ہوتا محسوس ہو۔ اب اس نے میری کلائی کو زور سے پکڑا اور میری کلائی پر اس کی گرفت کے نشان پیوست ہو گئے۔ دکھ کی شدت سے میری آواز پھٹ سی گئی۔ ایک چٹاخ کی آواز کے ساتھ اس کا بھاری ہاتھ میرے گال پر پڑا اور کہا ۔
میرے راستے میں آئے گی تو ٹکڑے ٹکڑ ے کر کے رکھ دوں گا ۔ وہ نشے کی حالت میںگرج رہا تھا اور اس سماج پر کیچڑ اچھال رہا تھا۔ اس کے سامنے کوئی قانون یا کوئی اخلاقی پابندی نہیں تھی وہ اپنی ہر کمزوری کو گالیوں کی طرح ننگا کررہا تھا اور گالیاں دیتے دیتے اس نے خود کو بھی ننگا کر دیا۔ چیخ و پکار لڑائی جھگڑے اور نہ جانے کیسے کیسے ہنگامے جنم لے رہے تھے اس گھر میں ۔ پاپا مت ماریئے میر ی مما کو !میری بیٹی نے مجھے تھام لیا۔ ہم دونوں نے جب اس کے چہرے کا جائزہ لیا تو اس کا چہرہ چلا چلا کے کہہ رہا تھا۔ میں شکا ر ہو چکا ہوں ۔میں نشے میں چیخ رہا ہوں ۔چلا رہا ہوں۔ جھلا رہا ہوں۔ مگر سنبھل نہیںرہا ۔بچ نہیں رہا ۔مررہا ہوں ۔ ہر گھڑی ہر لمحہ ۔مچھلی کی طرح تڑپنے ہوئے میں نے خود کو اس کی گرفت سے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی ۔کرب کی لہریں اپنے وجود میںیوں محسوس ہوئیں جیسے رگ رگ میں تلوا رکے گھاو لگ رہے ہوں۔تنگ نظر۔ تنگ زہن اور خود غرض لوگوں میںزندگی گزارنا ۔گویا دنیا میںپل صراط سے گزرنے کے مترادف ہے اور میں نے پل صراط کے ہزاروں حصے میںوحشت زدہ ہو کر سوچا۔ وہ میرے لیے کسی زہریلے سانپ کی طرح خطرے کا پیش خیمہ تھا ۔ہمار ا گھر برباد ہو گیا۔ تباہ ہو گیا ۔منحوس ہو گیا ۔جس گھر میں شراب وہ لوگ کبھی سکون سے نہیں رہ سکتے۔ ایسے ہم لوگ بھی کبھی خوش نہیں ہو سکتے اور ایسے میں ہم بھی کبھی سکون سے نہیں رہ سکتے ہیں۔ جب انسان جہالت میں۔ فسادات کا سبب بنتا ہے تو مقدر کی تاریکیاں اسے سورج کی روشنی میں بھی منزل سے بھٹکا دیتی ہے ۔
میرے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی۔ آنکھیں ویران ہو گیئں۔ میں تو احساسات جذبات میں گوندھی ایک ایسی عورت تھی۔ جس کے خواب بہت اونچے نہ سہی لیکن محبت سے سینچے ہوئے ضرورتھے ۔ میں اپنے مرد کی خدمت کا خاص جذبہ لے کر اس دنیا میں آئی تھی مگر میں جانتی ہوں کچھ گناہوں کی سزا انسان کو موت کے بعد ملتی ہے اور کچھ گناہوں کی سزا موت سے پہلے ۔اس لیے یہی سمجھ لیں ۔کہ میں موت سے پہلے گناہوں کی سزا جھیل رہی ہوں۔وہ بھی ایک ایسا سنگین گناہ ۔جس میں خدا کے علاوہ اپنے شوہر کوخدا مان بیٹھی تھی ۔سو مجھے سزا تو ملنی ہی تھی ۔مما روتی ہوئی کمرے سے باہر نکل آئیں۔ مجھے دیکھ کر لمحہ بھر کاپنیں پھر میرے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔ اپنے کمرے کے دروازے پر پہنچنے تک اس کے سارے ارمان آنسووں میںبہہ گئے۔ کیا یہ زلت اس کا مقدر تھی ۔صرف اس لیے کہ اس کا شوہر شرابی ہے
پریشانی کی حالت میں انسان کو ایسی باتیں بھی یاد آجاتی ہیں جہنیں وہ فراموش کر چکا ہوتا ہے۔ بیٹی کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ میںنے کوئی بے ادبی نہیںکی تھی بیٹی۔ ہر عور ت مرد کی بے وفائی کے باوجود سمندر جیسا دل رکھتی ہے ۔مرد کی ساری زیادتیاں اور خطائیں معاف کر کے کبھی کبھی اولاد کی خاطر سمجھوتہ کر لیتی ہے ۔ میں بھی آج یہ فاصلے ۔یہ خلیج کبھی نہ بانٹتی۔ اگر مجھے تیرے کل کی فکر دامن گیر نہ ہوتی ۔ ہم ایک کے ساتھ تو رہتے ہیں ۔مگر ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ جسے رشتوں کا پاس نہیں وہ کسی سے محبت نہیںکر سکتا۔ مکمل گھر اسی وقت بنتا ہے جب عورت کے ساتھ مرد کو بھی بے عیب گوہر ہو نا چائیے۔ تب ہی ایک دوسرے کے لیے وہ سچے اور مخلص ہم سفر بن سکتے ہیں۔ ایسے آدمی جو عورت کی محبت کی قدر نہیں کرتے ان کے دل میں جگہ پیدا کرنے کی کوئی ترکیب نہیں۔ اس قسم کے سنگدل انسان پیار محبت کے لطیف و نازک جذبات سمجھ نہیں سکتے۔ جس انسان کا دل پتھر ہو۔ اس کے لیے کوئی مشورہ نہیںدیا جاتا ۔رشتوں کی خوبصورتی ان کو بنا نے میں نہیں۔بلکہ ان کو نبھانے میں ہے اور رشتوں کو نبھانے کے لے محبت سے زیادہ موثر اورپایدار ہتھیا ر کوئی اور ہو ہی نہیںسکتا۔
میرے زہن کے پردے پر مما کی تصویر رو رہی تھی۔ وہ شدید جذباتی صدمے کا شکار تھی۔ اپنی زندگی سے مایوس تھی اور اسکی یہ مایوسی میرے اندر بھی اندھیرا کررہی تھی۔ میری آنکھیں بھی جل تھل ہو رہی تھیں۔ میری مما۔ جو موم کی گڑیا تھی ۔اب پھتر کی سل بن چکی تھی۔ جذبات سے گوندھی میری مما ۔شمع کی مانند پگھل کر ختم ہورہی تھی۔ اس کی ازدواجی زندگی بالکل برباد ہو گئی تھی اور ایسی خوشی اسے کبھی نصیب ہو گی جب آپس کے پیارکی بنیادی اینٹ ہی نکل جائے تو ازدواجی زندگی کی عمارت کیونکر کھڑی ہو سکتی ہے ۔ممانے ساری رات پلنگ پر بیٹھی اپنی آنکھوں میں کاٹ دی ۔وہ بالکل سونہ سکی ۔بس تکیہ رکھ کر اپنے خوابوں کو اجڑتا دیکھتی رہی۔ اس کے سر کی چوٹ ابھی تک پھوڑے کی طرح دکھ رہی تھی ۔پورا جسم ابھی تک درد کی لپیٹ میںتھا۔ خوابوں کا وہ دیوتا ۔جس کے ہاتھ میں اس نے اپنی زندگی کی لگام دے دی! کیا یہی اس کے تمام سپنوں کی تعبیر ہے ۔ جو اس نے پہلے اپنے باپ کے گھر میں۔ آنگن میں۔لگے درختوں کے سایوں میں اور کنواری راتوں میںدیکھے تھے ۔ جس کے لیے گھر چھوڑ ا گلی ۔محلہ۔ ماں باپ۔ بہن بھائی۔ سہلیاں ختی ٰ کہ اپنا وجود بھی سب کچھ چھوڑ دیا ۔ایک وفا شعار میری مما ۔جیسی عورت کسی آدمی کو مل جائے ۔تو اس سے بڑی دولت اور کیا ہو سکتی ہے ۔
ممانے عجیب نظروں سے مجھے دیکھا ۔میںنے ااس کا چہرہ پڑھ لیا۔ اسکی نظروں میں دنیا جہاں کی عورتوں کا دکھ سمٹ آیا تھا۔ ان تمام عورتوں کا دکھ ۔جو مردوں سے پیار کرتی ہیں۔سخت گیر باپوں سے ۔خود غرض بھائیوںسے۔ پیٹنے والے شوہروں سے اور رات دیر سے لوٹنے والے بیٹوں سے ۔یہ سب انہیں دکھ دیتے ہیں۔ کوئی کسی طرح۔ کوئی کسی طرح ۔ان تمام عورتوں کا دکھ میری مما کی آنکھوں میں تھا اس وقت مجھے وہ الفاظ یاد آگئے۔ جو میں نے ایک رسالہ میں پڑھا تھا۔ اگر مرد کو آنکھ تصور کیا جائے تو عورت ااس کی بینائی اور اگر پھول تصور کیا جائے تو عورت اس کی خوشبو۔ جس گھر میں عورت نہیں وہاں سعادت کے فرشتے قدم نہیں رکھتے۔ عورت وہ شاخ ہے جو ہوا کے نرم جھونکے پر جھک تو سکتی ہے ۔مگر طوفان کی سختی سے ٹوٹ نہیں سکتی۔
انتہائی دکھ سے سوچتے ہوئے میںلحاف میںجاچھپی۔ آنکھوں کا پانی پہلے ہی آنکھوں سے ڈھلک چکا تھا اور اب تو روانی سے بہنے لگا ۔ کچھ وقت پہلے اسی جگہ بیٹھی میںماں باپ کا پیار۔ خوبصورت انداز میںسجا رہی تھی اور اب ان کے ریزوں کی چھبن۔ آنکھوں میںبلکہ میری روح تک اتررہی تھی ۔دل چاہا چیخ چیخ کر رونے لگوں ۔لیکن میں ایسا نہیںکر سکی ۔اس لیے تکیہ میں سر رکھ کر سسکتی رہی ۔ اور میں سوچتی رہی۔ ایک اچھے اور صالح ماحول میںزندگی کتنی راحتوں سے بھر جاتی ہے۔ کتنا سکون نصیب ہوتا ہے۔ وہ جانتی تھی ایسی ہی بہت سے راتیں آئیں گھر میں۔جب بھی جھگڑا ہوتا تھا تو رات کو پاپا گھر میں بہت دیر سے لوٹتے ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کل پاپا کو ڈھونڈ کے رہے گی اور کہے گی ۔
پاپا اپنے گھر چلیئے زندگی بکھری ہوئی ہے ۔ اسے سمیٹ لیجیئے ۔چلتے پھرتے ،سوتے جاگتے میںاپنے دل میں آپ دونوں کی محبت محسوس کرتی ہوں ۔کیوں یہ فکر یہ پریشانی دبے پائوں آکر ہم پر حملہ کرتی رہتی ہے اس کو روکیے پایا۔ میںآپ کے پائوں پڑتی ہوں ۔یہ پریشانی جو بوتلوں میںبند پڑی ہے۔ ڈھکن کھلتے ہی سانپ کی طرح پھن پھیلائے ہمارے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ ان بوتلوں کو توڑ ئیے۔ ان کو توڑنے کے لیے میں بھی آپ کی مدد کروں گی ۔ پریشانی کے سانپ کو میں خود مار ڈالوں گی۔ میرے اچھے پاپا۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں