
شبیر احمد میر
چپ چپ سی وہ بیٹی ہے آنکھوں میں نمی سی ہے
نازک سی نگاہوں میں نازک سافسانہ ہے
نفسیاتی ڈاکٹر نے محسوس کیا اس کے سوجھے ہوئے چہرے اور سرخ آنکھوں کے ساتھ اس کا پورا جسم جیسے درد کی لپیٹ میںتھا ۔جبکہ ہونٹ خشک تھے ۔جیسے صدیاں پیاس کی ازیت برداشت کرتے رہے ہوں ۔ پھر بھی وہ سوچتی تھی ۔کاش یہ زندگی یوں ہی گزر جاتی ۔ایک خواب کی طرح ۔کسی پھول کی طرح ۔کسی خوشبو کی طرح ۔اس وقت اس کی بند مٹھیوں میں بے شمار ستارے اور خوبصورت لمحوں کی رنگین تتلیاں آبسی تھیں ۔ زور سے دروازہ کھلنے کی آواز پر بھی اس کے سکون میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ڈاکٹر اس کے سامنے کرسی پربیٹھتے ہوئے اپنا نچلا ہونٹ اوپر والے ہونٹ پر چڑھا کر اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا کر۔ سوالیہ نظروں سے لڑکی طرف دیکھ کر کہا ۔بتاو کیا ہوتا تمہیں ؟
وہ چند لمحات تک خاموش رہ کر اپنے زہن میں بکھرے خیالات کو ایک نقطہ پر مرکوز کرتی رہی۔ اس دوران ڈاکٹر نے غور سے اس کی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے من ہی من میں کہا۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں ہر وقت اداسی تیرتی رہتی ہے۔ وہ مسکراتی بھی ہے۔ مگر اس کی مسکراہٹ آنسووں میں بھیگی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ وہ ٹھہرے ہوئے انداز میں بولی۔ بولتے بولتے وہ تھک سی جاتی ۔شاید اتنا بولنا اس کی عادت نہیں تھی۔ پھر بھی ڈاکٹر نے جائزہ لیا کہ اس میں ایک خاص قسم کی انکساری ۔نسوانیت ۔سکون اور ٹھہراو تھا ۔
جب میں چھوٹی تھی ڈاکٹر! تو آسمان سے ایک بوند ٹوٹ کر گرتا اور پھر لاتعداد بوندوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا اور دیکھتے ہی دیکھتے چھما چھم بارش برسنے لگتی۔ میں پاییٔچے اوپر چڑھا کر خوشی سے نہا ل ہوتی اور پانی میں چھپا چھپ کرتی رہتی ۔ بچن کے دن بھی کیا دن تھے۔ سنہرے ۔بے فکری۔ بھولپن اور معصومیت کا دورتھا ۔ جیسے جیسے عمر بڑھنے لگی عمر کے ساتھ عقل و شعور کی منزلیںبھی طے ہوتی گیئں ۔دل میں محبت کے ساتھ عزت کا جذبہ بھی بیدار ہوا ۔یہ فطرت کے مناظر انسانی جذبات پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور انسانی فطرت احساسات کے زور پر تھر کتا ہے ۔جب بھی میں سونے جاتی ہوں ڈاکٹر! تو مجھے خیال آتا ہے اور یہ خیال انتہائی روح پرور ہوتا ہے ۔میرے جسم میں گدگری سی ہونے لگتی ہے ۔مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی مجھ پر رنگ برنگے ڈھیر سارے پھول برسا رہا ہے۔ ایک عجیب سی کیفیت ہو جاتی ہے۔ ایسے عالم میں جسم ہلکا اور کھلا کھلا سا محسوس ہوتا ہے ۔جیسے میں فضائوں میںتحلیل ہو رہی ہوں اور یہ دنیا میرے وجود سے مہک اٹھی ہے ۔جب چاند کی جانب دیکھتی ہوں تو چاند کے اندر ایک خوبصورت سا محل نظر آتا ہے ۔ جی چاہتا ہے اس محل میں پہنچ جائوں۔ اس دنیا میں نہ رہوں۔ لیکن تب میرے کانوں میں ایک آواز گونجتی ہے۔ جس میں عشق کا لہجہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ایک دم سے میرے جذبات لافانی ہو جاتے ہیںٰ اور میں سوچتی ہوں ۔یہ تو ممکن ہی نہیں کہ وہ مجھے نہ ملے اور میں زندہ رہوں۔ وہ کب اور کیسے میرے دل کی دھڑکن بن گیا ۔مجھے پتہ بھی نہیں چلا ۔جبکہ وہ مجھے کبھی ملا ہی نہیں اور نہ کبھی میں نے اس کو دیکھا ۔ ہم سب دل سے مجبور ہو جاتے ہیں۔ انسان کے سینے میں موجود دل بنیادی طورپر سرخ خون سے بنا گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو انسان کے جذبات ۔احساسات اور حالات کے سرد گرم کے اثر سے جمتا اور پگھلتا ہے اور وہ بھی اس جمنے اور پگھلنے میں بھی صدیوں اور سالوں کا نہیں بلکہ سیکنڈ سے بھی کم وقت لیتا ہے۔ ادھر کوئی خیال زہن کو چھو کر گزر جائے اور ادھر دل جیسا لوتھڑا پگھل جائے۔ میں اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھتی ہوں۔ جب وہ مجھے کہتا ہے ۔
اس زندگی کے سفر میں اب تم تنہا نہیں ہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ جب بھی تم ایک قدم اٹھاوگی تو دوسرا قدم میرا ہمراہ پاو گی ۔ ہم مل کر اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھائیں گے۔ محبت ایک یقین ہے۔ ربط ہے اور میں اپنے دل کو تمہارے دل سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہوں اور تم بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہو۔ میں اپنی ان دھڑکنوں کو تمہارے ساتھ جوڑنا چاہتا ہوں۔ تمہارے قدموں میں قدم ملا کر چلنا چاہتا ہوں اور تجھے خود جان لینا چاہیے کہ کس بات کا احساس ہے یہ۔ اگر یہ محبت ہے تو میں چاہتا ہوں تم وقت کی رفتار کو کچھ دھیمی کر دو۔ تاکہ یہ سارے منظر ایک دم نہ گزر جائیں ۔یہ ساری چیزیں دل پر اثر کر سکیں۔ اس عمر میں جو کھلی آنکھوںسے دکھائی نہیں دیتا وہ بند آنکھو ںسے دکھائی دیتا ہے۔ تم میرے معاملے میںاپنی آنکھیں بند کر لو ۔سماعتوں کو تالے لگا دو اور صرف دل کو محسوس کرنے کو تنہا چھوڑدو ۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر بولی۔
ڈاکٹر! وہ مدہم سرگوشی میں عجیب قسم کا جادو پھونک رہا تھا۔ اس سرگوشی نے میرے گرد محبتوں نے حصار کھینچ دیا ۔میں بے بس سی ہوگی ۔ کیا کیا جائے یہ محبت نہ وقت دیکھتی ہے نہ موقعہ۔ ایک دم سے امڈ کر آتی ہے۔ یہ تاریک جنگل کی طرح ہوتی ہے۔ ایک بار اس کے اندر چلے جائو پھر باہر آنے نہیں دیتی۔ باہر آبھی جائو۔ تو آنکھیں جنگل کی تاریکی کی اتنی عادی ہو جاتی ہے کہ روشنی میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتیں۔ وہ بھی نہیں جو بالکل صاف واضع اور روشن ہوتا ہے۔ محبت اختیار میں نہیں ہے یہ بہت بے اختیار یوں میں گری رہتی ہے اور بہت سی بے اختیار میں گھیر دیتی ہے ۔ یہ لامحدود اوربے اختیار سے باہر کی شے ہے ۔یہ کیسی ہوتی ہے۔ میں نہیں جانتی۔ میرے لیے محبت میرے اندر کا سکون ہے ۔میرا دل تو ہر وقت اس کے لیے دھڑکتا ہے۔ اس سے بچ پانا ناممکن ہے ۔یہ تو ایک فطری جذبہ ہے جو عود کر آتا ہے۔ تب ہم نہ کوئی بند یا باندھ سکتے ہیں نا ہی اس سے انکار کر سکتے ہیں ۔ تالے لگا دینے سے بھی حقائق چھپ نہیں سکتے ۔ ان آنکھوں کا کیا کروں ؟میری تو ہر نظر ایک روشنی ہے۔ میں بات کروں یا نہ کروں میری آنکھوں کی روشنی بات کرتی ہے ۔میں اس محبت کے سامنے ساکت سی ہو کر اس کی سمت تکنے لگتی ہوں۔ اس کے قریب بیٹھنے سے ۔بات کرنے سے۔ میرے اندر کوئی لگن سی لگی رہتی ہے۔ کچھ عجیب سا محسوس ہونے لگتا ہے ۔ جواس سے پہلے محسوس نہیں ہوا تھا۔ کیا یہ خواہشوں کا انبار ہے جو میرے اندر مچلتا ہے یا کوئی اور احساس ہے یا صرف دل کادھڑکنا ہے۔ کیا ہے یہ ؟ میں سمجھ نہیں پاتی۔ میں جنون کی حد تک یہ محسوس کرتی ہوں ۔کہ میںمحبت کے قریب جائوں اسے سمجھوں !کیوں اسے چھونے کو دل چاہتا ہے؟یقین کرنے کو دل کرتا ہے ۔کیوں میرے دما غ میںہلچل سی مچ جاتی ہے ؟ سوتے وقت خوابوں میںاور جاگتے وقت خیالوں میں۔خیر یہ میرے خیالوں کی جذباتی پرواز ہے ؟ میری آنکھیں بھیگ جاتی
جب ان میں اشکوںکی روانی ہوتی ہے اس لمحے ان آنکھوں میں
جب محبت کی کہانی ہوتی ہے ۔
میںرو رہی تھی۔ بول رہی تھی۔ روتے روتے بول رہی تھی اور بولتے بولتے رو رہی تھی۔ کم بخت ایک بے جان جھلک نے میرا اندر باہر تہس نہس کر دیا۔ مجھے یہ سارا جنون ایک پاگل پن دکھائی دے رہا ہے ۔میں اس جگہ جانا چاہتی ہوں جہاں دل کو قرار ملے ۔ مگر ہوش مندی اور بے خودی کے بیچ میں میں بری طرح ڈول رہی ہوں ۔ پوری پوری رات میں کسی بھٹکتی روح کی طرح چکراتی پھرتی رہتی ہوں۔ یہ قدرت کے تماشے بھی ٹھہر ٹھہر کر سمجھ میں آتے ہیں۔ مجھے اسکی زندگی عزیز ہے اور میری زندگی اسکو عزیز ہے ۔یہ ہے کیا ؟ تھک کر اور کراہ کر میںنے ڈاکٹر سے کہا ڈاکتر نے میری بات کاٹتے ہوئے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا۔ اب تم چپ رہو اور میری بات غور سے سنو ۔ یہ خواب جو تم نے اپنی آنکھوں میں سجائے ہیں ۔یہ ہر جوان لڑکے اور لڑکی کی آنکھوں میں مرچیں بھر دیتی ہیں ۔ اپنی خواب گاہ میں بیٹھ کر چھت کی طرف یا خلاء میں اس طرح گھورنا بند کرو ۔یہ بھولے بسرے خواب بھی خود بخود بند ہو جائیں گے۔
آپ کا مشورہ مجھے مایوس کررہا ہے ڈاکٹر ۔میں بول کیا رہی ہوں اور آپ کہہ کیا رہے ہیں۔ آپ ایسا کیوں نہیں کہتے کہ قدرت کے فیصلے میری سمجھ سے باہر ہیں اور یہ فیصلے مجھے منظور نہیں۔ ڈاکٹڑ کی بے بسی پر مجھے خوب ہنسی آئی ہنستے ہنستے میں نے کہا ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔
کبھی سوالوں پہ چوٹ کھا ئی
کبھی جوابوںنے مار ڈالا
ہم وہ مسافر ہیں زندگی کے
جھنیں خوابوں نے مارڈالا
ویسے پیار کے معاملے میں غریبوں کا عشق کچھ زیادہ ہی پختہ ہو جاتا ہے، ڈاکٹر۔ لفظو ں سے کھیلنا اور انہیں تتلیوں کی مانند پکڑ پکڑ کر صفحہ قر طاس پر موتیوں کی مانند چپکانا صرف محبت کی وجہ سے ہے۔ اسی کی بدولت سے انسان اچھا بولنے اور لکھنے لگتا ہے۔ ویسے گہری بات سوچنے کے لیے ویسا دماغ بھی ہونا چاہیئے ڈاکٹر اس میں بڑی بڑی اور اچھی ڈگری ردی کا غذ کے برابر ہوتی ہے ۔جو آپ کے پاس ہے ۔
ڈاکٹر نے جواب دیا ۔ مجھے بہت ہی خوشی ہوئی ہماری آجکل کی جنریشن بہت ہی زہین اور قابل ہیں۔ مگر اس بات کا بھی افسوس ہے کہ اخلاقیات کے لاکھوں سبق پڑھنے کے بعد بھی یہ نسل کورے کے کورے ہیں اور یہ سوچ جو آپ کی ہے ۔یہ شیطان کی ایک صفت ہے اور تم جیسی کمزور ارادوں والی اس کے دامن سے بچ نہیں پاتی ۔
چاہیے کچھ بھی ہے ڈاکٹر۔ ہے کم بخت بہت ہی پیاری چیز۔ اس کی بدولت سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی چاند کا حسن بہت زیادہ نکھر کے آجاتا ہے۔ اس کا ہر رنگ دوسرے رنگ سے زیادہ نکھر کے آجاتا ہے ۔ اس کے تیور نرالے ہیں اور انوکھے بھی ۔مجھے احساس نہیں ہوا ۔میں قطرہ قطرہ اس کی سمت بہنے لگی ۔میرے بہاو کو اس نے اپنی طرف موڑ لیا اور اس کا اندازہ مجھے نہیں ہو پایا ۔اس دنیا میں اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک جوان لڑکی کو آپ جیسے لوگ آئینہ دیکھنے سے محروم کردیتے ہیں ۔محبت کرنے والوں کا پہلا سبق برداشت کاپڑھ لینا چاہے۔ یہ کہکراب اس نے دعا کے انداز میں دونوں ہاتھوں کا پیلا بنا کر اپنے چہرے تک لے گیٔ اور دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیاں آنکھوں پر رکھ دیں اور کہا ۔ یا اللہ مین مشکل ترین موڑ پر کھڑی ہوں۔ تیری رحمت کی امیدوار ہوں۔ اے بڑے عظیم عظمت والے رب ۔مجھے ایسی سزا کا بوجھ ڈھونے سے بچا ۔جس کی طاقت مجھ میں نہیں ہے اور ایسی محبت کو میرے لیے آسان کردے۔ اب اس نے ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑیں اور ڈاکٹر کی طرف دیکھ کر کہا ۔
ڈاکٹر میں گھر جانا چاہتی ہوں۔
ڈاکٹر نے محسوس کیا اس کے خوبصورت معصوم چہرے پر الجھنیں ابھی تک بکھری پڑی تھیں۔ ایک سرد آہ ڈاکٹر نے بھری اور من ہی من میں کہا۔ کیسی عجیب لڑکی ہے۔ کم بخت!
ساون کے بادلوں سی ۔لمحوں میں دھوپ سی۔ مسکراتی ہوئی ہر سمت پھیل جاتی ۔لمحے میںٹوٹ کر برسنے لگتی ہے۔ اس کے لیے یہ محبت کا احساس بہت طاقتور ہے اور یقین کی حد تک پختہ ہو گیا ہے۔ قربانی کے بکرے کی طرح جو ہر قربانی دینے کے لیے تیا ر بیٹھی ہے ۔یہ تو کائنات کی مظبوط ترین حقیقت ہے ۔اس لڑکی سے ہم بھی بہت کچھ سیکھ گئے ۔ویسے سچ ہی تو کہتی ہے ۔
انتہا کوئی نہیں ابتدا ہونے کے بعد عشق کیا ہے جان لو گے مبتلا ہونے کے بعد۔ ہم جیسے تنہا لوگوں کا رونا کیا ۔مسکرانا کیا۔ جب چاہنے والا کوئی نہیںپھر جینا کیا۔ مرنا کیا۔ ڈاکٹر کی آنکھوں سے دو آنسو گر کر ماربل کے فرش پر گر پڑے اور اپنی ہاتھوں کی انگلیوں سے آنسو پونچھتے ہوئے کھڑکی سے باہر خلاء کو غورسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا ۔اس وقت اس کی آنکھیں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ ڈاکٹر کواس وقت اپنی ہمسفر ٹوٹ ٹوٹ کر یا د آرہی تھی ۔جو اب اس دنیا میں نہیں تھی ۔


