واجد اختر صدیقی
ڈاکٹر شمس الدین چودھری ہمارے عہد کے ایک سنجیدہ فکر کے حامل محقق ہیں۔ ان کی پہلی محققانہ کاوش سن 2025 میں ”ضلع گلبرگہ میں اردو ادب و صحافت“ کے عنوان سے منظر عام پر آئی۔ دراصل یہ کتاب ان کے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے ”ضلع گلبرگہ میں اردو زبان و ادب کے ارتقا کا جائزہ“ کی تلخیص ہے، جسے موصوف نے ”ضلع گلبرگہ میں اردو ادب و صحافت: ما بعد آزادی تا 1992ء تک“ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ زیرِ نظر ان کی یہ تصنیف گلبرگہ میں اردو ادب کے ارتقا اور اردو صحافت پر ایک سنجیدہ فکری دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کسی بھی علاقے کی ادبی تاریخ اور صورت حال کا جائزہ دراصل اس علاقے کی تہذیبی، ثقافتی اور سماجی تاریخ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ادب کو محض تخلیقی اظہار تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ ادب اپنے عہد کے شعور کو اجاگر کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ ضلع گلبرگہ اس اعتبار سے کافی زرخیز ہے۔ یہاں نہ صرف اردو زبان نے فروغ پایا بلکہ یہاں کی تہذیب میں رچ بس کر اردو نے ایک مضبوط روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر شمس الدین چودھری کی یہ تصنیف ایک اہم، وقیع اور قابلِ اعتبار کارنامہ ہے۔
ڈاکٹر شمس الدین چودھری نے اس تحقیقی مقالے کو کتابی شکل دیتے وقت تحقیقی معیار اور وقار کو برقرار رکھنے کی بھرپور سعی کی ہے۔ اس لحاظ سے یہ تصنیف محض جامعاتی تحقیق تک محدود نہیں بلکہ عام اور سنجیدہ قاری کے لیے بھی نہایت کارآمد ہے۔
تخلیق، تحقیق اور تنقید ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ تینوں میدان یکساں اہمیت کے حامل ہیں، بشرطیکہ قلم کار اپنے کام کو تندہی، دیانت داری اور غیر جانبدارانہ انداز میں انجام دے۔ میدانِ تحقیق غیر معمولی محنت شاقہ کا متقاضی ہوتا ہے۔ مکھی پر مکھی مارنے کو ہرگز تحقیق نہیں کہا جا سکتا۔ تحقیق دراصل کھوجنے اور معلوم سے نامعلوم کی طرف سفر کرنے کا عمل ہے، جس میں محقق کو کئی کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ 1947 سے 1992ء تک کی ادبی صورت حال اور ارتقا کا جائزہ لینا بلاشبہ ایک مشکل مرحلہ تھا، جسے ڈاکٹر شمس الدین چودھری نے سنگلاخ راہوں سے گزر کر ایک مستند دستاویزی کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔
فاضل مصنف نے اس کتاب میں شامل اپنے ابتدائی مضمون ”پیش نگاہ“ میں اس جانب اشارہ کیا ہے:
”میرے اس تحقیقی سفر کا سب سے مشکل اور کٹھن مرحلہ بلاشبہ مواد کی فراہمی تھا۔ ضلع گلبرگہ کے ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں خصوصاً مرحومین کے سوانحی حالات اور ان کے گراں قدر رشحاتِ قلم کو حاصل کرنا یقیناً جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔“
وہ مزید لکھتے ہیں:
”یہ مقالہ محض میز پر بیٹھ کر لائبریریوں کی کتابوں کی مدد سے تیار نہیں کیا گیا بلکہ یہ گلبرگہ کی گلی کوچوں کی خاک چھاننے، ادبی محفلوں میں شرکت کرنے اور تاریخ کے بوسیدہ اوراق کو کھوجنے کا زندہ جاوید نتیجہ ہے۔“
ان اقتباسات کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ تحقیق بھی تخلیقی فعالیت کی مظہر ہوتی ہے۔ اگرچہ تحقیق تخلیق ہی کے بطن سے جنم لیتی ہے، تاہم تحقیق کی سچائی، ترتیب اور پیش کش ایک غیر معمولی کارنامہ تصور کی جاتی ہے۔ محقق دراصل دو راہوں کا مسافر ہوتا ہے۔ محقق کے لیے تخلیق کار ہونا چاہیے یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے، لیکن اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ اگر محقق تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعی ذہانت سے بہرہ مند ہو تو اس کی تحقیقی کاوشیں زیادہ ثمر آور ثابت ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر شمس الدین چودھری اس معنی میں خوش نصیب محقق ہیں کہ ان کے اساتذہ میں ڈاکٹر راہی قریشی اور پروفیسر عبدالرزاق فاروقی جیسی معتبر علمی اور تخلیقی شخصیات شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی صحبتوں کے اثرات ڈاکٹر شمس الدین کی تحریروں میں جا بجا محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر انیس صدیقی ممتاز ادیب، محقق، خاکہ نگار اور ماہرِ تدوین ہیں جنہوں نے اس کتاب کی ترتیب اور اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ”شفاف معصومیت کا استعارہ: شمس الدین چودھری“ کے عنوان سے انہوں نے ایک خاکہ نما مضمون تحریر کیا ہے، جس سے شمس الدین چودھری کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ بطورِ خاص یہ پیراگراف قابلِ توجہ ہے:
”شمس الدین چودھری جتنے کم آمیز ہیں اتنے ہی کم گفتار بھی۔ وہ گفتگو کے مقابلے میں سماعت کو ترجیح دیتے ہیں۔ مجالسِ خاص ہوں یا کسی ادارے یا تنظیم کے اجلاس، وہ ہمیشہ ضرورت کے تحت ہی لب کشائی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے لغو گوئی، دشنام طرازی اور غیبت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی خاموشی ایک طرح کی حکمت کی مظہر ہے جو انہیں فضول باتوں کے شر سے محفوظ رکھتی ہے۔“
ڈاکٹر انیس صدیقی نے نہایت فنکارانہ مہارت کے ساتھ مصنف کی شخصیت کے اہم گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔
زیرِ نظر کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب ”ضلع گلبرگہ کا تاریخی و تہذیبی پس منظر“ کے عنوان سے ہے، جو نہایت اہم، پرمغز اور معلوماتی ہے۔ اس میں عہدِ بہمنی کے قیام سے لے کر آصف جاہی دور کے اختتام تک اردو زبان و ادب کی نشوونما، درباری سرپرستی، صوفیانہ روایت اور عوامی سطح پر اردو کے فروغ کے اسباب کو تاریخی شواہد کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔
دوسرے باب میں ما بعد آزادی دور کے گلبرگہ کے شعری منظرنامے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس باب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ شعراء کے محض سوانحی کوائف ہی پیش نہیں کیے گئے بلکہ ان کے فن پر مختصر تجزیہ اور منتخب کلام بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس باب میں ان شعراء کو بھی جگہ دی گئی ہے جنہوں نے تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان ہجرت کی۔ اس میں مجموعی طور پر 55 شعراء کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
تیسرا باب گلبرگہ کے نثر نگاروں کی ادبی خدمات پر مشتمل ہے، جس میں تنقید، تحقیق، سوانح عمری اور خاکہ نگاری جیسی اصناف میں کام کرنے والے اہلِ قلم کا متوازن اور سنجیدہ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
چوتھا باب افسانہ نگاری کے لیے مخصوص ہے، کیونکہ گلبرگہ میں اردو افسانے کی روایت نہایت مضبوط اور مستحکم رہی ہے۔ اس باب میں افسانہ نگاروں کی زبان، اسلوب، تکنیک اور موضوعاتی تنوع کا احاطہ کیا گیا ہے۔
پانچواں باب طنز و مزاح کے میدان میں خدمات انجام دینے والے ادیبوں کے لیے مختص ہے۔ گلبرگہ کے مزاح نگاروں نے اس نازک صنف میں فنی مہارت کے ساتھ سماجی شعور بیدار کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
چھٹا اور آخری باب گلبرگہ کی اردو صحافت پر ایک جامع اور دستاویزی مطالعہ پیش کرتا ہے، جس میں اخبارات و رسائل کی تاریخ، اثرات اور خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
اس کتاب کی ایک نمایاں خوبی ڈاکٹر شمس الدین چودھری کا متوازن اور غیر جانبدارانہ اسلوب ہے۔ وہ نہ ماضی پرستی کا شکار ہیں اور نہ جدیدیت کو بلا تنقید قبول کرتے ہیں۔ ان کی زبان شستہ، رواں اور ادبی وقار کی حامل ہے۔
مجموعی طور پر ”ضلع گلبرگہ میں اردو ادب و صحافت“ ایک سنجیدہ، مستند اور تخلیقی اعتبار سے قابلِ قدر تصنیف ہے۔ 292 صفحات پر مشتمل یہ کتاب محبانِ اردو گلبرگہ کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب اردو کے طلبہ، اساتذہ، صحافیوں اور سنجیدہ قارئین کے لیے نہایت مفید اور آئندہ محققین کے لیے ایک معتبر حوالہ ثابت ہوگی۔
ززز


