’’پتوں پر لکھی تحریریں‘‘کا موضوعاتی مطالعہ

ڈاکٹرمحمد یاسین گنائی
دیپک بدکی کا شمار جموں وکشمیر کے نامور فکشن نگارو ں میں ہوتا ہے اور اب تک ان کی تین درجن کے قریب کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں،جن میں دس افسانوی مجموعے بھی شامل ہیں ۔ زیرِ نظر کتاب’’پتوں پر لکھی تحریریں‘‘ان کا دسواں افسانوی مجموعہ ہے۔سچ پوچھیں تو پہلی بار کسی آئی پی ایس(IPS) کی کتاب پر لکھنے کی جسارت کررہا ہوں؛ویسے بھی مجھے بیورکریٹ(Bureaucrat) آفیسروں کی  درویشانہ زندگی بہت پسند ہے ۔زیرِ نظر مجموعہ ان کے ۱۶ افسانوں اور ۲ انشائیوں کا مجموعہ ہے۔ان افسانوں کا مطالعہ کرنے سے عام قاری کو ایک اعلیٰ آفیسر کی فکری جہات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے،کیونکہ عام لوگوں کی دنیا اور اعلیٰ آفیسروں کی دنیا بہت الگ ہوتی ہے۔ان کا اُٹھنا بیٹھنا اورکام کاج کا طریقہ الگ کا ہوتا ہے لیکن ان کے اندازِ نگارش سے ان کے ذہن تک کسی تک رسائی ملتی ہے۔ان افسانوں کا موضوعاتی مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کووڈ۔۱۹،حقیقت نگاری،تانیثی شعور،سیاسی شعور،مذہبی شعور،ناسٹلجیا،سماجی ومعاشرتی زندگی کی عکاسی اور منظر نگاری ان کہانیوں کا خاصا ہے۔فنی اظہار کی بات کریں تو سفرنامہ،مضمون نگاری،مکالمہ نگاری اورخودکلامی جیسے صفات افسانوں میں ملتے ہیں۔بقول انور شیخ:
’’آپ کے افسانوں سے آپ بیتی کا رنگ ٹپکتا ہے۔پلاٹس میں ہم آہنگی اور آسان فہمی ہے۔تکنیک میں انتظاریہ عنصر ہے۔بے سودSuspense نہیں جوکہ افسانے کی خوبیوں میں شما رہوتا ہے۔آپ کی زبان صاف اور بامعنی ہے۔۔۔اندازِ بیان موثر ہے اور کہانی پن میں جان ہے۔‘‘(دیپک بدکی کی افسانہ نگاری،جاوید اقبال شاہ،میزان پبلشرز بٹہ مالو سرینگر،۲۰۰۹،ص:۱۶)
ان افسانوں میں پہلی چیز جو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ کووڈ۔۱۹ پر لکھے گئے تین افسانوں؛’’جرآتِ اظہار،بے نام سورما اورپتوں پر لکھی تحریریں‘‘میں ان کا سائنسی شعور،معاشرتی عکاسی اور حقیقت نگاری ہے۔’’جرآتِ اظہار‘‘میں امر سنگھ کی جرآت کا اظہار لفظوں سے باہر ہے کیونکہ بیوی کے انتقال کے باوجود بچوں کو اچھی تعلیم وتربیت فراہم کرتا ہے اور ان کو اعلیٰ آفیسر بناتا ہے۔بیٹی کی شادی کنیڈا میں ہوتی ہے اورایک دن ا ن کے پاس جاتا ہے تو واپسی پر ہندوستان میں کووڈ۔ ۱۹ کا اعلان ہوتا ہے اور ان کو آئرپوٹ سے ہی اسپتال کے قرنطینہ وارڈ
( ward Quarantine)میں رکھا جاتا ہے۔یہاں موت کو قریب دیکھ کر اور بچوں اور رشتہ داروں کی سرد مہری دیکھ کر ڈاکٹر کو فرشتوں کے لقب سے یاد کرتا ہے۔ان کی دریا دلی اُس وقت سامنے آتی ہے جب وہ ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ میرے بدلے کسی جوان کو
(Ventilator)دیجئے کیونکہ میں نے زندگی کے تمام دُکھ سُکھ کا مزہ دچکھاہے اور جوانوں کو ابھی سب کچھ دیکھنا باقی ہے اور یہی اس افسانے کا مرکزی خیال بھی ہے۔مصنف نے کووڈ کے حوالے سے اہم سائنسی اصطلاحات جیسے کورونا وائرس،قرنطینہ،سماجی فاصلہ،مدافعت،بخار،لاک ڈائون،عالمی وبا،پی پی ای،ماسک، Ventilator وغیرہ کو بخوبی استعمال کیا ہے۔  کورونا وائرس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
’’ایک خورد بینی وائرس نے عالم کا توازن بگاڑ دیا ہے۔نہ جاندار ہے اور نہ بے جان،دونوں کے درمیان انتہائی باریک کڑی ہے،جس نے سارے جہاں میں تہلکہ مچا دیا ہے۔پروٹین کا ایک خفیف سا ذرہ۔۔
۔۔اسمی مادہ۔۔۔زہریلا اور جان لیوا۔۔۔۔‘‘(پتوں پر لکھی تحریریں،ص:۱۵)
’’بے نام سورما‘‘   کورونا  پر دوسراافسانہ ہے لیکن یہاں مریض کے بجائے ڈاکٹر کی موت ہوتی ہے۔ہیرالال جوہری کو کورونا کے سبب گھروالے اسپتال میں بے یار ومدد گار چھوڑ دیتے ہیں۔اس دروان نرس صوفیہ اور ڈاکٹر پارکر ان کی خدمت بچوں سے بڑھ کرکرتے ہیں اور ٹھیک ہونے پر گھر بھی نہیں جانا چاہتا تھا لیکن انہی کے سمجھانے پر کہ ’کورونا  ایسی بیمار ہے کہ اگر گھروالے اپنا بچاو نہ کریں گے، تو سارا خاندان نیست ونابود ہوسکتا ہے‘۔گھر سے ایک دن اسپتال فون کرتا ہے تو صوفیہ بتاتی ہے کہ ڈاکٹر پارکر کورونا کا شکار ہوگئے ہیں اور یوں ان کو بڑا افسوس ہوتا ہے۔دونوں افسانوں میں چین کے شہر ووہان  کا ذکر ملتا ہے،لیکن اس افسانے میں انسان کی تعمیری اور تخریبی ذہن کی طرف اشارہ ملتا ہے،یہاں حکومت کی غلط حکمت علمی کو نشانہ بنایا گیا ہے کہ مزدوروں کو اچانک لاک ڈائون کے سبب ہزاروں کلو میٹر پیدا گھر جانا پڑتا ہے،حکومت تعلیم اور صحت کے بجائے دوسرے کاموں میں پیسے برباد کرتی ہے،اور یہاں کورونا کو اَکٹوپس(octopus) سے تشبیہ دے کر  گہرائی پیدا کی ہے۔دیپک بدکی نے بطور سماج کے نبض شناس  اپنا فرض بخوبی نبھایا ہے۔ڈاکٹر صغیر افراہیم نے فرد اور سماج کے رشتے کے حوالے سے  لکھا ہے:
’’فرد سے سماج کا ناگزیر ربط ہوتا ہے۔بعض فن کار ذات کے وسیلے سے سماج کی طرف آتے ہیں اور بعض دوسرے ادیب سماج کے وسیلے سے ذات کی طرف آتے ہیں۔دونوں طرف مرکزیت فن پارے کوہی حاصل ہوتی ہے۔‘‘(اردو فکشن:تنقید اور تجزیہ،ڈاکٹر صغیر افراہیم،ایجوکیشنل بُک ہاوس،علی گڑھ،۲۰۰۳،ص:۲۴۱)
دیپک بدکی کی تخلیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سماج کے وسیلے سے ذات کی طرف آنے والے قلمکار ہے۔کورونا پر ان کاتیسرا افسانہ’’پتوں پر لکھی تحریریں‘‘  ہے، پہلے دو افسانوں کے مقابلے میں یہ  بالکل مختلف نوعیت کا ہے۔نرنجن ناتھ غریبی کے سبب پنجاب مزدوری کرنے جاتا ہے اوریوں اپنی بیوی نرملا اور بچوں کی پرورش کرتاہے۔یہاں مصنف نے کشمیر کی پرانی یادیں تازہ کی ہیں، جب کشمیری   پیدل پنجاب جاکر محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتے تھے۔یہاں کلاسیکی ماکسیت کے مقابلے میں مصنف نے نیو مارکسیت کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے مادیت کے ساتھ نظریات،کشمیری ثقافت،زبان اور نفسیات کو بھی زیر ِ بحث لایا ہے۔بہرحال نرنجن کے دونوں بچے ڈاکٹر بن کر امریکہ اور  برطانیہ میں ملازمت و سکونت اختیار کرتے ہیں۔جب کووڈ کے سبب ماں کا انتقال ہوتا ہے تو لاک ڈاون کے سبب کوئی بھی ماں کا آخری دیدار کرنے نہیں آتا ہے، بلکہ ویڈیو کال پر ہی اپنے غم کا اظہار کرتے ہیں۔  اس افسانے میں قدیم اور جدید زمانیکے ساتھ ساتھ شہری اور گائوں کی زندگی کا موازنہ بھی پیش کیا گیا ہے۔یوں ان تینوں افسانوں کو معاشرتی افسانوں کی ذیل میں رکھا جاسکتا ہے کیونکہ ان میں معاشرے کی عکاسی،معاشرے کی گفتگو،معاشرے کی تہذیب وتمدن اور اخلاقیات کا ذکر بخوبی ملتا ہے۔بقول ہیری لیون(Harry Levin)
’’ادب اور معاشرہ کا تعلق دو طرفہ ہے،ادب معاشرتی عوامل کا موہونِ منت ہی نہیں ہوتا بلکہ بذاتِ خود یہ معاشرتی عوامل کا باعث بھی بنتا ہے۔‘‘(تنقیدی دبستان،ص:۱۴۳)
زیرِ نظر افسانوی مجموعے میں سماجی ومعاشرتی عکاسی صرف انہیں تین افسانوں میں نہیں بلکہ مزید کچھ افسانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔’’کالے حروف کا ساحر‘‘میں معاشرے کی عکاسی بھی ہے اور تانیثی پہلو بھی۔مہیش اپنی بیوی لیلا وتی اور بچوں کو چھوڑ کر دہلی میں ایک فکشن نگار شیرین سے شادی کرتا ہے۔ وہ بطور قلمکار عورتوں کے حقوق کی باتیں کرتاہے اور تانیثی تحریک کا علمبردار بنتا ہے لیکن عملی طورپر اپنے بیوی بچوں کو دہلی میں در در ٹھوکریں کھانیپر مجبور کردیتا ہے۔مصنف نے اچھی بات کی اشارہ کیا ہے کہ انسان جو کہتا ہے اور مصنف جو کچھ لکھتا ہے، دونوں اپنے کہے اور لکھے پر کاربند نہیں ہوتے ہیں۔’’اچھے دن‘‘میں بھی معاشرے کی عکاسی ملتی ہے،سوبھا دیوی اور ایکناتھ غربت کی زندگی گزارتے ہیں ،غربت اور نشہ جب ایک ہی انسان کو ڈس لیتے ہیں تو وہ ایکناتھ جیسا کردار ہی پیدا کرتے ہیں۔وہ مزدوری کے پیسے نشے میں خرچ کرتا ہے اور کم قلیل رقم بیوی کو گھر چلانے کے لیے دیتا تھا۔مصنف نے المناک سین پیش کیا ہے کہ نشے کی لت انسان کو یہ فیصلہ بھی نہیں کرنے دیتی کہ پیسے سے بچے کی جان بچائے یا پھر ایک بوتل انڈیل لی جائے۔شوہر کے انتقال کے بعد سوبھا ونتی پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے اور ایک بچے کی موت ہوتی ہے،اور وہ دوسرے بچے کو بچانے کے خاطر’’گئودان‘‘کے ہوری کی طرح ایک بیٹی کو  بھیج دیتی ہے اور خود شہر جاکر اجتماعی عصمت ریزی کا شکار ہوکر مر جاتی ہے۔یہاں منظر نگاری،جذبات نگاری اور حقیقت نگاری کا دریا بہتا نظر آرہا ہے۔مصنف نے سوالات کھڑے کیے ہیں کہ گائوں کی قحط سالی کب ختم ہوگی؟حکومت کی فلاحی اسکیمیں کہاں جاتی ہے؟ساہو کاروں کا قرضہ کب ادا ہوگا؟گائوں میں بارش کب ہوگی؟اور غریبوں کو انصاف کب ملے گا؟
’’ماسٹر جی‘‘ میں پریم چند کے افسانہ’’عبرت‘‘ اور ناول’’بیوہ‘‘کا سنگم نظر آتا ہے۔یہاں تمہید میں گاندھی جی کی ستیہ گرہ،بال وِواہ،بیواوں کی دوسری شادی جیسے سماجی بندھنوں کا ذکر ملتا ہے۔ماسٹر جی کی پہلی شادی بال وِواہ کے طرز پر ایک جاہل لڑکی سے ہوتی ہے اوروہ جہنم کا مزہ چکھ لیتا ہے اور دوسری شادی ایک بیوہ سے ہوتی ہے اور وہ جنت کی سیر کراتی ہے۔ماسٹرجی جیتے جی اپنے پیشے کے بجائے گھریلوں مصروفیات میں گرا رہتا ہے،لیکن انتقال کے بعد ان کا ایک مسلم  اور دلت شاگرد ان کے گھر کو ایک شاندار لائبریری میں تبدل کرکے پورے علاقے میں ماسٹر جی کی عظمتکو چار چاند لگاتے ہیں۔اگر’’عبرت‘‘ اور’’ماسٹر جی‘‘ کاتقابلی مطالعہ پیش کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ پنڈت چندر دھر کے شاگرد کرپا شنکر کی وجہ سے استاد کی عزت اپنے پڑوسیوں میں بڑھ جاتی ہے لیکن ماسٹر جی کے شاگردوں کی وجہ ان کی عزت پورے گائوں میں بڑھ جاتی ہے۔وہاں سب کچھ استاد کے جیتے جی ہوتا ہے اور یہاں سب کچھ اُستاد کی موت کے بعد ہوتا ہے۔’’فردِ تعلیقہ‘‘بھی ایک سماجی ومعاشرتی موضوع کا افسانہ ہے۔کپٹن سبرا منیم اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر ایک عیاش کی طرح چنچل اور شوق لڑکیوں پر فدا ہوتا ہے اور ان پر پیسے خرچ کرتا ہے۔یہاں سبرا منیم اور ارجن دیو کی عیاشی بھی ہے اور ان کے گھروالوں کی کسمپری بھی ہے۔ابتدائی حصے میں سبرامرکزی کردار لگتاہے اور آخری حصے میں ارجن، عنوان پر غور کریں تو ’’فردِ تعلیقہ‘‘ اصطلاح کی مناسبت سے مال واسباب کی ضبطی ارجن دیو کی ہوتی ہے اور تعلیقہ کی لغوی معنی کے اعتبار سے سبرا اپنے اہل خانہ کو حاشیہ پر رکھتا ہے۔مصنف نے کہانی او ر اس کے عنوان میں  ایہام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
دیپک بدکی کی حقیقت نگاری کا دیپک ایسے جلتا ہے جیسے ہم پہاڑ کی چوٹی سے بہتا دریا آہستہ آہستہ بہتا ہوا دیکھتے ہیں اورآسمان پر کبھی کالے تو کبھی دودھ سے سفید بادل بھاگتے ہوئے دیکھتے ہیں۔’’خود سر صحافی،خوابوں کا کہرا اوروہ دُکھ بھرا دن‘‘میں کمال کی حقیقت نگاری نظرآتی ہے۔’’خود سر صحافی‘‘نہ صرف فاروق شاہین کی دیانت اور نڈر صحافت کی کہانی ہے بلکہ ہر ذمہ دار صحافی کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔اس قسم کے صحافیوں کو صرف عوامی ہمدردی اور شاباشی ملتی ہے لیکن ان کو اشتہار اور انعامات سے دور ہی رکھاجاتا ہے۔  فاروق شاہین کی طرح ایسے تمام نڈر اور سچے صحافیوں کا انجام موت اور صرف دردناک موت ہوتی ہے۔اس افسانے میں سنگ بازی اور کانگڑی جنگ جیسی اصطلات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا زمان ومکان نوے کے بعد کا کشمیر ہے۔’’خوابوں کا کہرا‘‘اصل میں کیول اورکانتی جیسے میاں بیوی کی کہانی ہے جو وکاس کو کسی یتیم خانے سے گود لیتے ہیں،تاکہ ان کا اکیلا پن دور ہوجائے ۔وکاس کا تعارف یوں پیش کیا ہے:
’’جب وہ سنِ بلوغ کو پہنچ گیا تو اس کی ساری توانائی دھرم کو بچانے میں خرچ ہونے لگی۔کہیں مندر مسجد کے جھگڑے،کہیں گئو  رکھشا،کہیں دھرم پریورتن اور کہیں لو جہاد۔‘‘(پتوں کے لکھی تحریریں،ص:۶۷)
 یہاں ایک ہی مذہب کے دو پیشوائوں اور ان کی تربیت کو موضوع بنایا گیا ہے۔پہلا سوامی اس کو ایسی تعلیم دیتا ہے کہ وہ ہندومسلم فسادات جیسے موضوع کی چکر میں پھنس جاتا ہے،جبکہ دوسرا سوامی اس کو ایم ایل اے ہونے کے باوجود ایسی روحانی تعلیم سے سرفراز کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کوہی بھول جاتا ہے اور جنگلوں میں اپنی زندگی گزارتا ہے۔کئی سال بعد گائوں والے اوروالدین بھی اس کو نہیں پہنچان پاتے ہیں۔وہ ایک کتاب’’شریمد بھگوت گیتا اور اس کا ارتھ‘‘ بھی لکھتا ہے۔اس افسانے سے مصنف کا مذہبی شعور واضح ہوتا ہے کہ وہ فتنہ فساد برپا کرنے والوں کے بجائے انسانیت اور امن واماں کو ترجیح دینے والے گروہ کی نمائندگی کرتا ہے۔’’وہ دُکھ بھرا دن‘‘میں فکری پہلو کے بجائے مصنف کا فنی پہلو زیادہ واضح ہوتا ہے۔اردو فکشن میں خط کی شکل میں افسانہ لکھنے کی روایت ملتی ہے جبکہ بدکی نے ایک مضمون کی شکل میں افسانہ لکھنے میں پہل کی ہے۔  پورا افسانہ فلیش بیک کی تکنیک اور ناسٹلجیائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔شفالی سنہا مسوری انٹرنیشنل اسکول میں زیر تعلیم ہوتی ہے اور امتحا ن میں ایک مضمون’’میری زندگی کا سب سے المناک دن‘‘ لکھنے کو کہا جاتا ہے اور وہ اُس حادثے کو یاد کرکے لکھتی ہے جب کلکتہ سے ہوائی جہاز کو دو سو سواریوں کے ساتھ ہائی جیک کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں چند دہشت گردوں کو رہا کرنے کا حکم ملتا ہے۔یہ قندہار واقعہ پر ایک یادگار افسانہ ہے۔اس افسانوی مجموعے سے مصنف کا سائنسی شعور ،مذہبی شعور،سماجی ومعاشرتی عکاسی،حقیقت نگاری اور عصری آگہی کے ساتھ ساتھ تانیثی شعور،خودکلامی،ناسٹلجیا،سیاسی شعور،منظر نگاری وجذبات نگاری کے عمدہ نمونے بھی ملتے ہیں۔اردو فکشن میں موضوعات کا تحریکات اور رجحانات کے ساتھ بدلنا ایک فطری عمل ہے اورایک مصنف اپنے آپ کو نہ سماج سے دور رکھ سکتا ہے اورنہ تحریکات ورجحانات سے چشم پوشی کرسکتا ہے۔اب کوئی مصنف ایک ہی تحریک یا رجحان کا علمبردار بنتا ہے اور کوئی مختلف اوقات میں مختلف تحریکات ورجحانات کے پس منظر میں اپنے اپنا قلمی تعاون پیش کرتا ہے۔دیپک بدکی کو دوسرے قسم کے ادیبوں میں رکھا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے یہاں رومانیت بھی ہے اوراشتراکیت بھی،یہاں جدیدیت بھی اور تانیثیت بھی،یہاں فرد کے انفرادی مسائل بھی ہے اورسماج کے اجتماعی مسائل کی عکاسی بھی ہے،یہاں سکولر مزاجی  بھی ہے اورمذاہب کے غیر معتقد بھی ہیں۔لہٰذا دیپک بدکی کو ایک سماج شناس اور فرد شناس ادیب کہا جاسکتا ہے۔بقول ڈاکٹر صغیر افراہیم:
’’فکشن کی تنقید کے پورے منظر نامے کو سامنے رکھیں تو اسلوب کے اعتبار سے،موضوعات کے اعتبار سے،نظریات کے اعتبار سے فکشن میںاصلاح پسندی اور رومانیت کے بعد سماجی اور نفسیاتی حقیقت نگاری کو فروغ ملتا ہے۔مارکسیت کی گرفت کمزور ہوتی ہے ، تو حقیقت نگاری کی روایت جو سماجی اور نفسیاتی زاویوں سے معاشرے کودیکھ رہی تھی،اپنا اثر کھونے لگتی ہے اور اُس کی جگہ فردیت اور تنہائی کے موضوعات در آتے ہیں۔جدیدیت کے اس رجحان نے فردیت اور داخلیت کے تحت شعور کی رئو اور آزاد تلازمئہ خیال کو اپنا یا جن کے باعث علامتی،استعاراتی ،تمثیلی اور تجریدی پیرائیہ اظہار پورے ادبی منظر نامہ پر چھا گیا۔‘‘(اردو فکشن :تنقید اور تجزیہ،ص:۲۴۵)
تانیثی شعور کے پیش ِنظر’’تیرا سچ ، میرا سچ‘‘کو پیش کیا جاسکتا ہے۔اس میں بظاہر میاں بیوی کا مکالمہ نظرآتا ہے لیکن اصل میں تانیثیت کے پیشِ نظر مرد اور خاتون قلمکار کے جذبات اورمعاشرتی حقیقت نگاری کو موضوع بنایا ہے۔مصنف کا ماننا ہے کہ مرد اپنے تمام تررازونیاز اپنی تخلیقات میں خوشی اورسچائی سے لکھتا ہے جبکہ ایک عورت کو ایسا کرنے میں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔منٹواور عصمت ایک ہی  ذہنیت ،تحریک اوردبستان ِ نفسیات کے قلمکار تھے لیکن مرد اورعورت کے ضمن ان کا مطالعہ   صاف ظاہر کرتا ہے کہ منٹو ؔنے عصمتؔ سے زیادہ سچائی،گہرائی اورنڈر انداز میں اپنی بات رکھی ہے۔ بیوی کہتی ہے’’میرے حدود کا تعین ہجری عہد میں ہواتھا۔‘‘ شاید عورت کی زبانی یہ اشارہ سرزمینِ عرب کی طرف ہے کہ وہاں عورت کو غلام سمجھا جاتا تھا یا پھر لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا۔لیکن اصل میں ہجری عہد کے بعد عورت کو سب سے زیادہ حقوق اور بادشاہت کا درجہ ملا ہے۔فنی لحاظ سے اس افسانے میں مکالمہ نگار ی کے بہترین نمونے ملتے ہیں۔ایک مثال:
’’میں جو صحیح سمجھتا ہوں وہی لکھتا ہوں۔ میری نگارشات میں معروضیت ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔
ان میں میرا تجربہ،میرا مشاہدہ اور میری دقیقہ شناسی شامل ہوتی ہے۔‘‘
’’ہاہاہا۔۔۔معروضیت۔۔۔یا۔۔۔نرینہ عصبیت کی ترجمانی۔۔۔!
 حق ملکیت جتانے والے مرد کا پوشیدہ روپ۔۔۔! تمہیں عورت کے ہر عضو کو چٹخارے لے لے کر بیان کرنے کا حق حاصل ہے اور اس پر تم فخر کرتے ہو۔‘‘(ص:۲۳)
’’سُلگتے خواب‘‘میں بھی تانیثی شعور ملتا ہے۔اس میں بیٹی کو برابر حقوق اورحوصلہ دینے کی طرف اشارہ ہے ۔ ان کی تعلیم وتربیت کے لئے سماجی ومعاشرتی بندھن توڑنے کی بات کی ہے۔اشرف علی اپنی بیوی کی باتوں اور مولوی صاحب کے تمام حربوں کو نظر انداز کرکے بیٹی نعیمہ اشرف کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور بیٹی بھی ذہین اور با شعور بن کر باپ کی لاج رکھتے ہوئے آئی اے ایس آفیسر بن کر والدین اور شہر کا نام روشن کرتی ہے۔یہاں والدین کی حوصلہ افزائی اور بیٹیوں کی صحیح رہنمائی کو موضوع بنا یا گیا ہے۔
سیاسی شعور ایک بیروکریٹ میں کافی وسیع اور بلند ہوتا ہے کیونکہ اپنی ملازمت کے دوران ان کا اُٹھنا بیٹھنا ہی سیاست دانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔’’شہادت کا صلہ‘‘کا بغور مطالعہ کیجئے تو سیاست اور شہادت یا شہادت پر سیاست کا المناک سچ سامنے آتا ہے۔دو شہیدوں عرفان اورگلریز کا موازنہ کیا ہے کہ دونوں ملک کی حفاظت کرتے کرتے شہید ہوجاتے ہیں ۔عرفان عین الیکشن کے دنوں شہید ہوتا ہے تو اس کی میت پر لوگوں اور لیڈروں کا جلوس ہوتا ہے جبکہ گلریز اُن دنوں شہید ہوتا ہے جب کوئی الیکشن نہیں تھا تو اس کی میت کو عام لوگوں کی طرف سُپرد خاک کیا جاتا ہے۔گلریز کی بیوی حمیدہ کو افسوس ہوتا ہے کہ کیا میرا شوہر شہید نہیں ہوا ہے؟ اور یہی افسانے کا مرکزی خیال بھی ہے۔
’’اُجاڑ مکان کی آتم کتھا‘‘ہجرت کے موضوع پر عمدہ افسانہ ہے اور اس کو تمثیل(Allegory)کی تکنیک میں تراشاگیا ہے۔کشمیری پنڈتوں کا ایک ٹوٹا پھوٹا مکان اپنی روئیداد سنا رہا ہے کہ کیسے مکاں سے گھر بنا تھا،کیسے یہاں چہل پہل رہتی تھی اور بچوں اور بڑوں کی کھیل کود،شادی بیاہ اورہنسی مزاق مجھے راس آتا تھا لیکن ایک دن راتوں رات سب مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور مجھے ویران چھوڑ دیا ۔ اب کوئی اگر سیر سپاٹے کے لئے یہاں آتا بھی ہے تو میرے ساتھ تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر لرزہ خیز انداز میں یوں پوسٹ کردیتا ہے،’’ہمارا اُجڑا ہوا آشیانہ‘‘(ص:۷۷)اس افسانے میں ہندومسلم اتحاد کی جھلک بھی ہے اورنوے کے فسادات اور اجتماعی ہجرت کی داستان بھی،یہاں کشمیری تہذیب وتمدن،کشمیری کلچر اور کشمیری زبان،کانگڑی،فرن وغیرہ کا ذکربھی ملتا ہے جس کو کشمیری پنڈت آج بھی ملک کی دیگر ریاستوں میں مہاجر ہونے کے باجود بچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
افسانہ’’کالے حروف کا ساحر‘‘میں اشترکیت،تانیثیت اورسماجی حقیقت نگاری کا ذکر ملتا ہے، مہیش ابتدا میں ایک لادین انسان ہوتا ہے جس کو نہ خدا پراور نہ کسی مذہبی کتاب پر یقین ہوتا ہے لیکن شیرین نامی مسلمان لڑکی سے شادی کرکے نواز شریف بن جاتا ہے اور آخر میں اس کی لاش کو جلایا جاتا ہے۔یہاں مصنف نے واضح پیغام دیا ہے کہ مرد اساس معاشرے کے مرد قمکار تانیثی بننے کے باوجود گھر میں عورتوں پر ظلم کرتے ہیں۔’’اچھے دن‘‘ اور’’آج جانے دو‘‘ میں بھی مارکسی نظریہکی گونج سنائی دیتی ہے ۔ رتی رام مزدوری کے پیسے شراب میں اڑا دیتا ہے۔اور بیوی جمنا ایک متحرک کردار کی حیثیت سے شرابی شوہر کے کرتوت دیکھ کر جفاکشی اور محنت کشی کا قدم اُٹھاتی ہے اور پڑوس کے گھروں میں برتن صاف کرتی ہے ، لیکن جب مسائل کا کوئی حل نہیں نکلتا ہے تو بچوں سمیت اپنے خاندان کا صفایا کرتی ہے۔دوسری طرف شوہر شرابی اور اندوشواس کا متوالا  ، طوطے کی پرچے پر بھروسہ کرکے ردراکش خریدتا ہے کہ گھر کے حالات بدل جائیں گے لیکن گھر پہنچ کے پانچ لاشیں ملتی ہیں۔یہاں مصنف نے پیغام دیا ہے کہ محنت ومشقت سے ہی گھر کی تقدیل بدل سکتی ہے ،نہ کہ شراب پینے اور اند وشواس سے!۔ سوالیہ نشان سماج پر بھی لگا یاہے کہ غریبوں کی لاشوں کا نظارہ کرنے پہنچ جاتے ہیں لیکن ضرورت کے وقت ان کی مدد نہیں کرتے ہیں۔’’ایک یادگار یاترا‘‘بھی ایک ناستک انسان کلدیپ کی کہانی ہے جواپنے دوست کشوری لال کے ساتھ امرناتھ کی یاترا کرنے پہلگام جاتا ہے لیکن جن چیزوں کو عقیدت کے چلتے سب لوگ دیکھنے آتے ہیں ،ان چیزوں کو نہ دیکھ پاتا ہے اور نہ ان چیزوں کو مانتا ہے۔اس افسانے میں سفرنامہ کا لطف بھی ملتا ہے اور پہلگام جیسی خوبصورت جگہ کی دلکش منظر نگاری بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔یہاں کلدیپ اور کشوری لال کا کردار عقیدے اور غیر عقیدے کی نمائندگی کرتے ہیں،ایک سائنسی مشاہدے کا پجاری ہے اور دوسرے مذہبی تقلید وعقیدے کا پیروکار ہے۔منظر نگاری کی ایک مثال:
’’تقریباً ۱۳۰۰۰؍ فت کی اونچائی پر واقع امرناتھ کی گپھا تک پہنچنے کے لیے پہلگام سے آگے چندن واڑی سے ۴۳ کلو میٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ایک ون شین ناگ تک لگتا ہے،دوسرا دن پنچ ترنی تک اور پھر وہاں سے سیدھا گپھا میں پہنچ جاتے ہیں۔‘‘(ص:۱۰۵)
اس مجموعے میں دو انشائیے ’’سونٹے‘‘ اور’’صوتی آلودگی‘‘بھی ہے جن میں سونٹے یعنی ایک قسم کی چھڑی ہے کہ بچپن سے بڑھاپے تک انسان کو کسی نہ کسی قسم کے سونٹے یعنی چھڑی سے مار کھانی پڑتی ہے اور دوسرا’’صوتی آلودگی‘‘ میں سونو نگم کے اس بیان کو حدف تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اُس کو صوتی آلودگی صرف مسجدکے لوڈ اسپیکر سے دی جانے والی اذان میں نظر آتی ہے،نہ مندروں،گردواروں،شادی ہالوں،تہواروں پر پھوٹنے والے پٹاخوں کا شور آلودگی نہیں ہے۔ان کو اذان صرف ہندوستان میں صوتی آلودگی نظر آتی ہے،دوبئی میں
 نہیں،دبئی میں نہیں۔
مصنف کے مذہبی شعور کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ کٹر واد ہندو نہیں ہے بلکہ انسانیت کی پوجا کرنے والا ہندو ہے۔ان کے افسانوں میں کرتار سنگھ کی زبان سے اللہ تعالیٰ کے نام رحیم،غفار،کریم وغیرہ اداہوتے ہیں(جرآتِ اظہار)،ان کے افسانوں میں ہجری عہد کی معنویت کا ذکر ملتا ہے ،جب عرب میں عورت کو غلام لونڈی کا درجہ حاصل تھا اور لڑکیوں کا زندہ دفن کیا جاتا تھا لیکن حضرت محمدؐکے آنے سے سرزمین عرب میں بہار ہی بہار آئی اور عورتوں کو انصاف ملا اور ان کو بادشاہت کا درجہ ملا۔(تیرا سچ ،میرا سچ)،مذہبی شعور اور سیکولر مزاج کے تحت ڈاکٹر پارکر،نرس صوفیہ اور ہیرا لال جوہری کے کرداروں میں انسانیت کا رشتہ قائم کرکے انسانیت اور ہندومسلم سکھ عیسائی اتحاد کی عمدہ مثال قائم کی ہے(بے نام سورما)،اپنے افسانوں میں نعیمہ اشرف کو آئی اے ایس آفیسر بنانا بھی ایک زندہ مثال ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی بیٹیاں بھی آئی اے ایس بن سکتی ہیں(سلگتے خواب)،ہندودھرم میںہی اچھے سوامی اور برے سوامی کی مثال پیش کی ہے(خوابوں کا کہرا)،ماسٹر جی ایک ہندو استاد ہے اور اس کے ہونہار شاگردوں میں دلت اور مسلمان کو پیش کرنا سیکولر انسان کی پہچان ہے۔شاید ان کے ایسے مذہبی شعور کا بغور جائزہ لینے کے بعد سلطانہ مہر نے   لکھا ہے:
’’دیپک بدکی ایک ایسا افسانہ نگار ہے جو نہ ہندو ہے، نہ مسلمان اور نہ عیسائی۔اس کا دل ایک مظلوم کے دُکھ سے تڑپتا ہے۔انسانیت پر ظلم وبربریت دیکھ کر اس کی آنکھیں خون بھرے آنسوں سے لبریز ہوتی ہے۔‘‘
(دیپک بدکی کی افسانہ نگاری،جاوید اقبال شاہ،میزان پبلشرز سرینگر،۲۰۰۹،ص:۱۲۰)
افسانوں اور انشائیوں کے اس مجموعے سے مصنف کی ذہنی انفجار اور فکری تسلسلکا اظہار ملتا ہے۔ان کے افسانوں میں ان کے تجربات اور مشاہدات کانچوڑ بخوبی نظر آتا ہے ۔ سائنسی ومذہبی اور علمی و سیاسی شعور کے ساتھ تانیثی شعور،سماجی ومعاشرتی شعور سے ان کیتخلیقی ارتقا کیتمام مراحل طے ہوتے نظر آرہے ہیں۔’’پتوں پر لکھی تحریریں‘‘ تاریخی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ قدیم مخطوطات انہی پتوں کی زننت بنے تھییوںان تحریروں کو عارضی ہونے کے بجائے تاریخی پنوں سے تعبیر کیاجاسکتاہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

’’پتوں پر لکھی تحریریں‘‘کا موضوعاتی مطالعہ

ڈاکٹرمحمد یاسین گنائی
دیپک بدکی کا شمار جموں وکشمیر کے نامور فکشن نگارو ں میں ہوتا ہے اور اب تک ان کی تین درجن کے قریب کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں،جن میں دس افسانوی مجموعے بھی شامل ہیں ۔ زیرِ نظر کتاب’’پتوں پر لکھی تحریریں‘‘ان کا دسواں افسانوی مجموعہ ہے۔سچ پوچھیں تو پہلی بار کسی آئی پی ایس(IPS) کی کتاب پر لکھنے کی جسارت کررہا ہوں؛ویسے بھی مجھے بیورکریٹ(Bureaucrat) آفیسروں کی  درویشانہ زندگی بہت پسند ہے ۔زیرِ نظر مجموعہ ان کے ۱۶ افسانوں اور ۲ انشائیوں کا مجموعہ ہے۔ان افسانوں کا مطالعہ کرنے سے عام قاری کو ایک اعلیٰ آفیسر کی فکری جہات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے،کیونکہ عام لوگوں کی دنیا اور اعلیٰ آفیسروں کی دنیا بہت الگ ہوتی ہے۔ان کا اُٹھنا بیٹھنا اورکام کاج کا طریقہ الگ کا ہوتا ہے لیکن ان کے اندازِ نگارش سے ان کے ذہن تک کسی تک رسائی ملتی ہے۔ان افسانوں کا موضوعاتی مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کووڈ۔۱۹،حقیقت نگاری،تانیثی شعور،سیاسی شعور،مذہبی شعور،ناسٹلجیا،سماجی ومعاشرتی زندگی کی عکاسی اور منظر نگاری ان کہانیوں کا خاصا ہے۔فنی اظہار کی بات کریں تو سفرنامہ،مضمون نگاری،مکالمہ نگاری اورخودکلامی جیسے صفات افسانوں میں ملتے ہیں۔بقول انور شیخ:
’’آپ کے افسانوں سے آپ بیتی کا رنگ ٹپکتا ہے۔پلاٹس میں ہم آہنگی اور آسان فہمی ہے۔تکنیک میں انتظاریہ عنصر ہے۔بے سودSuspense نہیں جوکہ افسانے کی خوبیوں میں شما رہوتا ہے۔آپ کی زبان صاف اور بامعنی ہے۔۔۔اندازِ بیان موثر ہے اور کہانی پن میں جان ہے۔‘‘(دیپک بدکی کی افسانہ نگاری،جاوید اقبال شاہ،میزان پبلشرز بٹہ مالو سرینگر،۲۰۰۹،ص:۱۶)
ان افسانوں میں پہلی چیز جو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ کووڈ۔۱۹ پر لکھے گئے تین افسانوں؛’’جرآتِ اظہار،بے نام سورما اورپتوں پر لکھی تحریریں‘‘میں ان کا سائنسی شعور،معاشرتی عکاسی اور حقیقت نگاری ہے۔’’جرآتِ اظہار‘‘میں امر سنگھ کی جرآت کا اظہار لفظوں سے باہر ہے کیونکہ بیوی کے انتقال کے باوجود بچوں کو اچھی تعلیم وتربیت فراہم کرتا ہے اور ان کو اعلیٰ آفیسر بناتا ہے۔بیٹی کی شادی کنیڈا میں ہوتی ہے اورایک دن ا ن کے پاس جاتا ہے تو واپسی پر ہندوستان میں کووڈ۔ ۱۹ کا اعلان ہوتا ہے اور ان کو آئرپوٹ سے ہی اسپتال کے قرنطینہ وارڈ
( ward Quarantine)میں رکھا جاتا ہے۔یہاں موت کو قریب دیکھ کر اور بچوں اور رشتہ داروں کی سرد مہری دیکھ کر ڈاکٹر کو فرشتوں کے لقب سے یاد کرتا ہے۔ان کی دریا دلی اُس وقت سامنے آتی ہے جب وہ ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ میرے بدلے کسی جوان کو
(Ventilator)دیجئے کیونکہ میں نے زندگی کے تمام دُکھ سُکھ کا مزہ دچکھاہے اور جوانوں کو ابھی سب کچھ دیکھنا باقی ہے اور یہی اس افسانے کا مرکزی خیال بھی ہے۔مصنف نے کووڈ کے حوالے سے اہم سائنسی اصطلاحات جیسے کورونا وائرس،قرنطینہ،سماجی فاصلہ،مدافعت،بخار،لاک ڈائون،عالمی وبا،پی پی ای،ماسک، Ventilator وغیرہ کو بخوبی استعمال کیا ہے۔  کورونا وائرس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
’’ایک خورد بینی وائرس نے عالم کا توازن بگاڑ دیا ہے۔نہ جاندار ہے اور نہ بے جان،دونوں کے درمیان انتہائی باریک کڑی ہے،جس نے سارے جہاں میں تہلکہ مچا دیا ہے۔پروٹین کا ایک خفیف سا ذرہ۔۔
۔۔اسمی مادہ۔۔۔زہریلا اور جان لیوا۔۔۔۔‘‘(پتوں پر لکھی تحریریں،ص:۱۵)
’’بے نام سورما‘‘   کورونا  پر دوسراافسانہ ہے لیکن یہاں مریض کے بجائے ڈاکٹر کی موت ہوتی ہے۔ہیرالال جوہری کو کورونا کے سبب گھروالے اسپتال میں بے یار ومدد گار چھوڑ دیتے ہیں۔اس دروان نرس صوفیہ اور ڈاکٹر پارکر ان کی خدمت بچوں سے بڑھ کرکرتے ہیں اور ٹھیک ہونے پر گھر بھی نہیں جانا چاہتا تھا لیکن انہی کے سمجھانے پر کہ ’کورونا  ایسی بیمار ہے کہ اگر گھروالے اپنا بچاو نہ کریں گے، تو سارا خاندان نیست ونابود ہوسکتا ہے‘۔گھر سے ایک دن اسپتال فون کرتا ہے تو صوفیہ بتاتی ہے کہ ڈاکٹر پارکر کورونا کا شکار ہوگئے ہیں اور یوں ان کو بڑا افسوس ہوتا ہے۔دونوں افسانوں میں چین کے شہر ووہان  کا ذکر ملتا ہے،لیکن اس افسانے میں انسان کی تعمیری اور تخریبی ذہن کی طرف اشارہ ملتا ہے،یہاں حکومت کی غلط حکمت علمی کو نشانہ بنایا گیا ہے کہ مزدوروں کو اچانک لاک ڈائون کے سبب ہزاروں کلو میٹر پیدا گھر جانا پڑتا ہے،حکومت تعلیم اور صحت کے بجائے دوسرے کاموں میں پیسے برباد کرتی ہے،اور یہاں کورونا کو اَکٹوپس(octopus) سے تشبیہ دے کر  گہرائی پیدا کی ہے۔دیپک بدکی نے بطور سماج کے نبض شناس  اپنا فرض بخوبی نبھایا ہے۔ڈاکٹر صغیر افراہیم نے فرد اور سماج کے رشتے کے حوالے سے  لکھا ہے:
’’فرد سے سماج کا ناگزیر ربط ہوتا ہے۔بعض فن کار ذات کے وسیلے سے سماج کی طرف آتے ہیں اور بعض دوسرے ادیب سماج کے وسیلے سے ذات کی طرف آتے ہیں۔دونوں طرف مرکزیت فن پارے کوہی حاصل ہوتی ہے۔‘‘(اردو فکشن:تنقید اور تجزیہ،ڈاکٹر صغیر افراہیم،ایجوکیشنل بُک ہاوس،علی گڑھ،۲۰۰۳،ص:۲۴۱)
دیپک بدکی کی تخلیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سماج کے وسیلے سے ذات کی طرف آنے والے قلمکار ہے۔کورونا پر ان کاتیسرا افسانہ’’پتوں پر لکھی تحریریں‘‘  ہے، پہلے دو افسانوں کے مقابلے میں یہ  بالکل مختلف نوعیت کا ہے۔نرنجن ناتھ غریبی کے سبب پنجاب مزدوری کرنے جاتا ہے اوریوں اپنی بیوی نرملا اور بچوں کی پرورش کرتاہے۔یہاں مصنف نے کشمیر کی پرانی یادیں تازہ کی ہیں، جب کشمیری   پیدل پنجاب جاکر محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتے تھے۔یہاں کلاسیکی ماکسیت کے مقابلے میں مصنف نے نیو مارکسیت کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے مادیت کے ساتھ نظریات،کشمیری ثقافت،زبان اور نفسیات کو بھی زیر ِ بحث لایا ہے۔بہرحال نرنجن کے دونوں بچے ڈاکٹر بن کر امریکہ اور  برطانیہ میں ملازمت و سکونت اختیار کرتے ہیں۔جب کووڈ کے سبب ماں کا انتقال ہوتا ہے تو لاک ڈاون کے سبب کوئی بھی ماں کا آخری دیدار کرنے نہیں آتا ہے، بلکہ ویڈیو کال پر ہی اپنے غم کا اظہار کرتے ہیں۔  اس افسانے میں قدیم اور جدید زمانیکے ساتھ ساتھ شہری اور گائوں کی زندگی کا موازنہ بھی پیش کیا گیا ہے۔یوں ان تینوں افسانوں کو معاشرتی افسانوں کی ذیل میں رکھا جاسکتا ہے کیونکہ ان میں معاشرے کی عکاسی،معاشرے کی گفتگو،معاشرے کی تہذیب وتمدن اور اخلاقیات کا ذکر بخوبی ملتا ہے۔بقول ہیری لیون(Harry Levin)
’’ادب اور معاشرہ کا تعلق دو طرفہ ہے،ادب معاشرتی عوامل کا موہونِ منت ہی نہیں ہوتا بلکہ بذاتِ خود یہ معاشرتی عوامل کا باعث بھی بنتا ہے۔‘‘(تنقیدی دبستان،ص:۱۴۳)
زیرِ نظر افسانوی مجموعے میں سماجی ومعاشرتی عکاسی صرف انہیں تین افسانوں میں نہیں بلکہ مزید کچھ افسانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔’’کالے حروف کا ساحر‘‘میں معاشرے کی عکاسی بھی ہے اور تانیثی پہلو بھی۔مہیش اپنی بیوی لیلا وتی اور بچوں کو چھوڑ کر دہلی میں ایک فکشن نگار شیرین سے شادی کرتا ہے۔ وہ بطور قلمکار عورتوں کے حقوق کی باتیں کرتاہے اور تانیثی تحریک کا علمبردار بنتا ہے لیکن عملی طورپر اپنے بیوی بچوں کو دہلی میں در در ٹھوکریں کھانیپر مجبور کردیتا ہے۔مصنف نے اچھی بات کی اشارہ کیا ہے کہ انسان جو کہتا ہے اور مصنف جو کچھ لکھتا ہے، دونوں اپنے کہے اور لکھے پر کاربند نہیں ہوتے ہیں۔’’اچھے دن‘‘میں بھی معاشرے کی عکاسی ملتی ہے،سوبھا دیوی اور ایکناتھ غربت کی زندگی گزارتے ہیں ،غربت اور نشہ جب ایک ہی انسان کو ڈس لیتے ہیں تو وہ ایکناتھ جیسا کردار ہی پیدا کرتے ہیں۔وہ مزدوری کے پیسے نشے میں خرچ کرتا ہے اور کم قلیل رقم بیوی کو گھر چلانے کے لیے دیتا تھا۔مصنف نے المناک سین پیش کیا ہے کہ نشے کی لت انسان کو یہ فیصلہ بھی نہیں کرنے دیتی کہ پیسے سے بچے کی جان بچائے یا پھر ایک بوتل انڈیل لی جائے۔شوہر کے انتقال کے بعد سوبھا ونتی پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے اور ایک بچے کی موت ہوتی ہے،اور وہ دوسرے بچے کو بچانے کے خاطر’’گئودان‘‘کے ہوری کی طرح ایک بیٹی کو  بھیج دیتی ہے اور خود شہر جاکر اجتماعی عصمت ریزی کا شکار ہوکر مر جاتی ہے۔یہاں منظر نگاری،جذبات نگاری اور حقیقت نگاری کا دریا بہتا نظر آرہا ہے۔مصنف نے سوالات کھڑے کیے ہیں کہ گائوں کی قحط سالی کب ختم ہوگی؟حکومت کی فلاحی اسکیمیں کہاں جاتی ہے؟ساہو کاروں کا قرضہ کب ادا ہوگا؟گائوں میں بارش کب ہوگی؟اور غریبوں کو انصاف کب ملے گا؟
’’ماسٹر جی‘‘ میں پریم چند کے افسانہ’’عبرت‘‘ اور ناول’’بیوہ‘‘کا سنگم نظر آتا ہے۔یہاں تمہید میں گاندھی جی کی ستیہ گرہ،بال وِواہ،بیواوں کی دوسری شادی جیسے سماجی بندھنوں کا ذکر ملتا ہے۔ماسٹر جی کی پہلی شادی بال وِواہ کے طرز پر ایک جاہل لڑکی سے ہوتی ہے اوروہ جہنم کا مزہ چکھ لیتا ہے اور دوسری شادی ایک بیوہ سے ہوتی ہے اور وہ جنت کی سیر کراتی ہے۔ماسٹرجی جیتے جی اپنے پیشے کے بجائے گھریلوں مصروفیات میں گرا رہتا ہے،لیکن انتقال کے بعد ان کا ایک مسلم  اور دلت شاگرد ان کے گھر کو ایک شاندار لائبریری میں تبدل کرکے پورے علاقے میں ماسٹر جی کی عظمتکو چار چاند لگاتے ہیں۔اگر’’عبرت‘‘ اور’’ماسٹر جی‘‘ کاتقابلی مطالعہ پیش کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ پنڈت چندر دھر کے شاگرد کرپا شنکر کی وجہ سے استاد کی عزت اپنے پڑوسیوں میں بڑھ جاتی ہے لیکن ماسٹر جی کے شاگردوں کی وجہ ان کی عزت پورے گائوں میں بڑھ جاتی ہے۔وہاں سب کچھ استاد کے جیتے جی ہوتا ہے اور یہاں سب کچھ اُستاد کی موت کے بعد ہوتا ہے۔’’فردِ تعلیقہ‘‘بھی ایک سماجی ومعاشرتی موضوع کا افسانہ ہے۔کپٹن سبرا منیم اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر ایک عیاش کی طرح چنچل اور شوق لڑکیوں پر فدا ہوتا ہے اور ان پر پیسے خرچ کرتا ہے۔یہاں سبرا منیم اور ارجن دیو کی عیاشی بھی ہے اور ان کے گھروالوں کی کسمپری بھی ہے۔ابتدائی حصے میں سبرامرکزی کردار لگتاہے اور آخری حصے میں ارجن، عنوان پر غور کریں تو ’’فردِ تعلیقہ‘‘ اصطلاح کی مناسبت سے مال واسباب کی ضبطی ارجن دیو کی ہوتی ہے اور تعلیقہ کی لغوی معنی کے اعتبار سے سبرا اپنے اہل خانہ کو حاشیہ پر رکھتا ہے۔مصنف نے کہانی او ر اس کے عنوان میں  ایہام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
دیپک بدکی کی حقیقت نگاری کا دیپک ایسے جلتا ہے جیسے ہم پہاڑ کی چوٹی سے بہتا دریا آہستہ آہستہ بہتا ہوا دیکھتے ہیں اورآسمان پر کبھی کالے تو کبھی دودھ سے سفید بادل بھاگتے ہوئے دیکھتے ہیں۔’’خود سر صحافی،خوابوں کا کہرا اوروہ دُکھ بھرا دن‘‘میں کمال کی حقیقت نگاری نظرآتی ہے۔’’خود سر صحافی‘‘نہ صرف فاروق شاہین کی دیانت اور نڈر صحافت کی کہانی ہے بلکہ ہر ذمہ دار صحافی کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔اس قسم کے صحافیوں کو صرف عوامی ہمدردی اور شاباشی ملتی ہے لیکن ان کو اشتہار اور انعامات سے دور ہی رکھاجاتا ہے۔  فاروق شاہین کی طرح ایسے تمام نڈر اور سچے صحافیوں کا انجام موت اور صرف دردناک موت ہوتی ہے۔اس افسانے میں سنگ بازی اور کانگڑی جنگ جیسی اصطلات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا زمان ومکان نوے کے بعد کا کشمیر ہے۔’’خوابوں کا کہرا‘‘اصل میں کیول اورکانتی جیسے میاں بیوی کی کہانی ہے جو وکاس کو کسی یتیم خانے سے گود لیتے ہیں،تاکہ ان کا اکیلا پن دور ہوجائے ۔وکاس کا تعارف یوں پیش کیا ہے:
’’جب وہ سنِ بلوغ کو پہنچ گیا تو اس کی ساری توانائی دھرم کو بچانے میں خرچ ہونے لگی۔کہیں مندر مسجد کے جھگڑے،کہیں گئو  رکھشا،کہیں دھرم پریورتن اور کہیں لو جہاد۔‘‘(پتوں کے لکھی تحریریں،ص:۶۷)
 یہاں ایک ہی مذہب کے دو پیشوائوں اور ان کی تربیت کو موضوع بنایا گیا ہے۔پہلا سوامی اس کو ایسی تعلیم دیتا ہے کہ وہ ہندومسلم فسادات جیسے موضوع کی چکر میں پھنس جاتا ہے،جبکہ دوسرا سوامی اس کو ایم ایل اے ہونے کے باوجود ایسی روحانی تعلیم سے سرفراز کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کوہی بھول جاتا ہے اور جنگلوں میں اپنی زندگی گزارتا ہے۔کئی سال بعد گائوں والے اوروالدین بھی اس کو نہیں پہنچان پاتے ہیں۔وہ ایک کتاب’’شریمد بھگوت گیتا اور اس کا ارتھ‘‘ بھی لکھتا ہے۔اس افسانے سے مصنف کا مذہبی شعور واضح ہوتا ہے کہ وہ فتنہ فساد برپا کرنے والوں کے بجائے انسانیت اور امن واماں کو ترجیح دینے والے گروہ کی نمائندگی کرتا ہے۔’’وہ دُکھ بھرا دن‘‘میں فکری پہلو کے بجائے مصنف کا فنی پہلو زیادہ واضح ہوتا ہے۔اردو فکشن میں خط کی شکل میں افسانہ لکھنے کی روایت ملتی ہے جبکہ بدکی نے ایک مضمون کی شکل میں افسانہ لکھنے میں پہل کی ہے۔  پورا افسانہ فلیش بیک کی تکنیک اور ناسٹلجیائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔شفالی سنہا مسوری انٹرنیشنل اسکول میں زیر تعلیم ہوتی ہے اور امتحا ن میں ایک مضمون’’میری زندگی کا سب سے المناک دن‘‘ لکھنے کو کہا جاتا ہے اور وہ اُس حادثے کو یاد کرکے لکھتی ہے جب کلکتہ سے ہوائی جہاز کو دو سو سواریوں کے ساتھ ہائی جیک کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں چند دہشت گردوں کو رہا کرنے کا حکم ملتا ہے۔یہ قندہار واقعہ پر ایک یادگار افسانہ ہے۔اس افسانوی مجموعے سے مصنف کا سائنسی شعور ،مذہبی شعور،سماجی ومعاشرتی عکاسی،حقیقت نگاری اور عصری آگہی کے ساتھ ساتھ تانیثی شعور،خودکلامی،ناسٹلجیا،سیاسی شعور،منظر نگاری وجذبات نگاری کے عمدہ نمونے بھی ملتے ہیں۔اردو فکشن میں موضوعات کا تحریکات اور رجحانات کے ساتھ بدلنا ایک فطری عمل ہے اورایک مصنف اپنے آپ کو نہ سماج سے دور رکھ سکتا ہے اورنہ تحریکات ورجحانات سے چشم پوشی کرسکتا ہے۔اب کوئی مصنف ایک ہی تحریک یا رجحان کا علمبردار بنتا ہے اور کوئی مختلف اوقات میں مختلف تحریکات ورجحانات کے پس منظر میں اپنے اپنا قلمی تعاون پیش کرتا ہے۔دیپک بدکی کو دوسرے قسم کے ادیبوں میں رکھا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے یہاں رومانیت بھی ہے اوراشتراکیت بھی،یہاں جدیدیت بھی اور تانیثیت بھی،یہاں فرد کے انفرادی مسائل بھی ہے اورسماج کے اجتماعی مسائل کی عکاسی بھی ہے،یہاں سکولر مزاجی  بھی ہے اورمذاہب کے غیر معتقد بھی ہیں۔لہٰذا دیپک بدکی کو ایک سماج شناس اور فرد شناس ادیب کہا جاسکتا ہے۔بقول ڈاکٹر صغیر افراہیم:
’’فکشن کی تنقید کے پورے منظر نامے کو سامنے رکھیں تو اسلوب کے اعتبار سے،موضوعات کے اعتبار سے،نظریات کے اعتبار سے فکشن میںاصلاح پسندی اور رومانیت کے بعد سماجی اور نفسیاتی حقیقت نگاری کو فروغ ملتا ہے۔مارکسیت کی گرفت کمزور ہوتی ہے ، تو حقیقت نگاری کی روایت جو سماجی اور نفسیاتی زاویوں سے معاشرے کودیکھ رہی تھی،اپنا اثر کھونے لگتی ہے اور اُس کی جگہ فردیت اور تنہائی کے موضوعات در آتے ہیں۔جدیدیت کے اس رجحان نے فردیت اور داخلیت کے تحت شعور کی رئو اور آزاد تلازمئہ خیال کو اپنا یا جن کے باعث علامتی،استعاراتی ،تمثیلی اور تجریدی پیرائیہ اظہار پورے ادبی منظر نامہ پر چھا گیا۔‘‘(اردو فکشن :تنقید اور تجزیہ،ص:۲۴۵)
تانیثی شعور کے پیش ِنظر’’تیرا سچ ، میرا سچ‘‘کو پیش کیا جاسکتا ہے۔اس میں بظاہر میاں بیوی کا مکالمہ نظرآتا ہے لیکن اصل میں تانیثیت کے پیشِ نظر مرد اور خاتون قلمکار کے جذبات اورمعاشرتی حقیقت نگاری کو موضوع بنایا ہے۔مصنف کا ماننا ہے کہ مرد اپنے تمام تررازونیاز اپنی تخلیقات میں خوشی اورسچائی سے لکھتا ہے جبکہ ایک عورت کو ایسا کرنے میں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔منٹواور عصمت ایک ہی  ذہنیت ،تحریک اوردبستان ِ نفسیات کے قلمکار تھے لیکن مرد اورعورت کے ضمن ان کا مطالعہ   صاف ظاہر کرتا ہے کہ منٹو ؔنے عصمتؔ سے زیادہ سچائی،گہرائی اورنڈر انداز میں اپنی بات رکھی ہے۔ بیوی کہتی ہے’’میرے حدود کا تعین ہجری عہد میں ہواتھا۔‘‘ شاید عورت کی زبانی یہ اشارہ سرزمینِ عرب کی طرف ہے کہ وہاں عورت کو غلام سمجھا جاتا تھا یا پھر لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا۔لیکن اصل میں ہجری عہد کے بعد عورت کو سب سے زیادہ حقوق اور بادشاہت کا درجہ ملا ہے۔فنی لحاظ سے اس افسانے میں مکالمہ نگار ی کے بہترین نمونے ملتے ہیں۔ایک مثال:
’’میں جو صحیح سمجھتا ہوں وہی لکھتا ہوں۔ میری نگارشات میں معروضیت ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔
ان میں میرا تجربہ،میرا مشاہدہ اور میری دقیقہ شناسی شامل ہوتی ہے۔‘‘
’’ہاہاہا۔۔۔معروضیت۔۔۔یا۔۔۔نرینہ عصبیت کی ترجمانی۔۔۔!
 حق ملکیت جتانے والے مرد کا پوشیدہ روپ۔۔۔! تمہیں عورت کے ہر عضو کو چٹخارے لے لے کر بیان کرنے کا حق حاصل ہے اور اس پر تم فخر کرتے ہو۔‘‘(ص:۲۳)
’’سُلگتے خواب‘‘میں بھی تانیثی شعور ملتا ہے۔اس میں بیٹی کو برابر حقوق اورحوصلہ دینے کی طرف اشارہ ہے ۔ ان کی تعلیم وتربیت کے لئے سماجی ومعاشرتی بندھن توڑنے کی بات کی ہے۔اشرف علی اپنی بیوی کی باتوں اور مولوی صاحب کے تمام حربوں کو نظر انداز کرکے بیٹی نعیمہ اشرف کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور بیٹی بھی ذہین اور با شعور بن کر باپ کی لاج رکھتے ہوئے آئی اے ایس آفیسر بن کر والدین اور شہر کا نام روشن کرتی ہے۔یہاں والدین کی حوصلہ افزائی اور بیٹیوں کی صحیح رہنمائی کو موضوع بنا یا گیا ہے۔
سیاسی شعور ایک بیروکریٹ میں کافی وسیع اور بلند ہوتا ہے کیونکہ اپنی ملازمت کے دوران ان کا اُٹھنا بیٹھنا ہی سیاست دانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔’’شہادت کا صلہ‘‘کا بغور مطالعہ کیجئے تو سیاست اور شہادت یا شہادت پر سیاست کا المناک سچ سامنے آتا ہے۔دو شہیدوں عرفان اورگلریز کا موازنہ کیا ہے کہ دونوں ملک کی حفاظت کرتے کرتے شہید ہوجاتے ہیں ۔عرفان عین الیکشن کے دنوں شہید ہوتا ہے تو اس کی میت پر لوگوں اور لیڈروں کا جلوس ہوتا ہے جبکہ گلریز اُن دنوں شہید ہوتا ہے جب کوئی الیکشن نہیں تھا تو اس کی میت کو عام لوگوں کی طرف سُپرد خاک کیا جاتا ہے۔گلریز کی بیوی حمیدہ کو افسوس ہوتا ہے کہ کیا میرا شوہر شہید نہیں ہوا ہے؟ اور یہی افسانے کا مرکزی خیال بھی ہے۔
’’اُجاڑ مکان کی آتم کتھا‘‘ہجرت کے موضوع پر عمدہ افسانہ ہے اور اس کو تمثیل(Allegory)کی تکنیک میں تراشاگیا ہے۔کشمیری پنڈتوں کا ایک ٹوٹا پھوٹا مکان اپنی روئیداد سنا رہا ہے کہ کیسے مکاں سے گھر بنا تھا،کیسے یہاں چہل پہل رہتی تھی اور بچوں اور بڑوں کی کھیل کود،شادی بیاہ اورہنسی مزاق مجھے راس آتا تھا لیکن ایک دن راتوں رات سب مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور مجھے ویران چھوڑ دیا ۔ اب کوئی اگر سیر سپاٹے کے لئے یہاں آتا بھی ہے تو میرے ساتھ تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر لرزہ خیز انداز میں یوں پوسٹ کردیتا ہے،’’ہمارا اُجڑا ہوا آشیانہ‘‘(ص:۷۷)اس افسانے میں ہندومسلم اتحاد کی جھلک بھی ہے اورنوے کے فسادات اور اجتماعی ہجرت کی داستان بھی،یہاں کشمیری تہذیب وتمدن،کشمیری کلچر اور کشمیری زبان،کانگڑی،فرن وغیرہ کا ذکربھی ملتا ہے جس کو کشمیری پنڈت آج بھی ملک کی دیگر ریاستوں میں مہاجر ہونے کے باجود بچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
افسانہ’’کالے حروف کا ساحر‘‘میں اشترکیت،تانیثیت اورسماجی حقیقت نگاری کا ذکر ملتا ہے، مہیش ابتدا میں ایک لادین انسان ہوتا ہے جس کو نہ خدا پراور نہ کسی مذہبی کتاب پر یقین ہوتا ہے لیکن شیرین نامی مسلمان لڑکی سے شادی کرکے نواز شریف بن جاتا ہے اور آخر میں اس کی لاش کو جلایا جاتا ہے۔یہاں مصنف نے واضح پیغام دیا ہے کہ مرد اساس معاشرے کے مرد قمکار تانیثی بننے کے باوجود گھر میں عورتوں پر ظلم کرتے ہیں۔’’اچھے دن‘‘ اور’’آج جانے دو‘‘ میں بھی مارکسی نظریہکی گونج سنائی دیتی ہے ۔ رتی رام مزدوری کے پیسے شراب میں اڑا دیتا ہے۔اور بیوی جمنا ایک متحرک کردار کی حیثیت سے شرابی شوہر کے کرتوت دیکھ کر جفاکشی اور محنت کشی کا قدم اُٹھاتی ہے اور پڑوس کے گھروں میں برتن صاف کرتی ہے ، لیکن جب مسائل کا کوئی حل نہیں نکلتا ہے تو بچوں سمیت اپنے خاندان کا صفایا کرتی ہے۔دوسری طرف شوہر شرابی اور اندوشواس کا متوالا  ، طوطے کی پرچے پر بھروسہ کرکے ردراکش خریدتا ہے کہ گھر کے حالات بدل جائیں گے لیکن گھر پہنچ کے پانچ لاشیں ملتی ہیں۔یہاں مصنف نے پیغام دیا ہے کہ محنت ومشقت سے ہی گھر کی تقدیل بدل سکتی ہے ،نہ کہ شراب پینے اور اند وشواس سے!۔ سوالیہ نشان سماج پر بھی لگا یاہے کہ غریبوں کی لاشوں کا نظارہ کرنے پہنچ جاتے ہیں لیکن ضرورت کے وقت ان کی مدد نہیں کرتے ہیں۔’’ایک یادگار یاترا‘‘بھی ایک ناستک انسان کلدیپ کی کہانی ہے جواپنے دوست کشوری لال کے ساتھ امرناتھ کی یاترا کرنے پہلگام جاتا ہے لیکن جن چیزوں کو عقیدت کے چلتے سب لوگ دیکھنے آتے ہیں ،ان چیزوں کو نہ دیکھ پاتا ہے اور نہ ان چیزوں کو مانتا ہے۔اس افسانے میں سفرنامہ کا لطف بھی ملتا ہے اور پہلگام جیسی خوبصورت جگہ کی دلکش منظر نگاری بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔یہاں کلدیپ اور کشوری لال کا کردار عقیدے اور غیر عقیدے کی نمائندگی کرتے ہیں،ایک سائنسی مشاہدے کا پجاری ہے اور دوسرے مذہبی تقلید وعقیدے کا پیروکار ہے۔منظر نگاری کی ایک مثال:
’’تقریباً ۱۳۰۰۰؍ فت کی اونچائی پر واقع امرناتھ کی گپھا تک پہنچنے کے لیے پہلگام سے آگے چندن واڑی سے ۴۳ کلو میٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ایک ون شین ناگ تک لگتا ہے،دوسرا دن پنچ ترنی تک اور پھر وہاں سے سیدھا گپھا میں پہنچ جاتے ہیں۔‘‘(ص:۱۰۵)
اس مجموعے میں دو انشائیے ’’سونٹے‘‘ اور’’صوتی آلودگی‘‘بھی ہے جن میں سونٹے یعنی ایک قسم کی چھڑی ہے کہ بچپن سے بڑھاپے تک انسان کو کسی نہ کسی قسم کے سونٹے یعنی چھڑی سے مار کھانی پڑتی ہے اور دوسرا’’صوتی آلودگی‘‘ میں سونو نگم کے اس بیان کو حدف تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اُس کو صوتی آلودگی صرف مسجدکے لوڈ اسپیکر سے دی جانے والی اذان میں نظر آتی ہے،نہ مندروں،گردواروں،شادی ہالوں،تہواروں پر پھوٹنے والے پٹاخوں کا شور آلودگی نہیں ہے۔ان کو اذان صرف ہندوستان میں صوتی آلودگی نظر آتی ہے،دوبئی میں
 نہیں،دبئی میں نہیں۔
مصنف کے مذہبی شعور کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ کٹر واد ہندو نہیں ہے بلکہ انسانیت کی پوجا کرنے والا ہندو ہے۔ان کے افسانوں میں کرتار سنگھ کی زبان سے اللہ تعالیٰ کے نام رحیم،غفار،کریم وغیرہ اداہوتے ہیں(جرآتِ اظہار)،ان کے افسانوں میں ہجری عہد کی معنویت کا ذکر ملتا ہے ،جب عرب میں عورت کو غلام لونڈی کا درجہ حاصل تھا اور لڑکیوں کا زندہ دفن کیا جاتا تھا لیکن حضرت محمدؐکے آنے سے سرزمین عرب میں بہار ہی بہار آئی اور عورتوں کو انصاف ملا اور ان کو بادشاہت کا درجہ ملا۔(تیرا سچ ،میرا سچ)،مذہبی شعور اور سیکولر مزاج کے تحت ڈاکٹر پارکر،نرس صوفیہ اور ہیرا لال جوہری کے کرداروں میں انسانیت کا رشتہ قائم کرکے انسانیت اور ہندومسلم سکھ عیسائی اتحاد کی عمدہ مثال قائم کی ہے(بے نام سورما)،اپنے افسانوں میں نعیمہ اشرف کو آئی اے ایس آفیسر بنانا بھی ایک زندہ مثال ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی بیٹیاں بھی آئی اے ایس بن سکتی ہیں(سلگتے خواب)،ہندودھرم میںہی اچھے سوامی اور برے سوامی کی مثال پیش کی ہے(خوابوں کا کہرا)،ماسٹر جی ایک ہندو استاد ہے اور اس کے ہونہار شاگردوں میں دلت اور مسلمان کو پیش کرنا سیکولر انسان کی پہچان ہے۔شاید ان کے ایسے مذہبی شعور کا بغور جائزہ لینے کے بعد سلطانہ مہر نے   لکھا ہے:
’’دیپک بدکی ایک ایسا افسانہ نگار ہے جو نہ ہندو ہے، نہ مسلمان اور نہ عیسائی۔اس کا دل ایک مظلوم کے دُکھ سے تڑپتا ہے۔انسانیت پر ظلم وبربریت دیکھ کر اس کی آنکھیں خون بھرے آنسوں سے لبریز ہوتی ہے۔‘‘
(دیپک بدکی کی افسانہ نگاری،جاوید اقبال شاہ،میزان پبلشرز سرینگر،۲۰۰۹،ص:۱۲۰)
افسانوں اور انشائیوں کے اس مجموعے سے مصنف کی ذہنی انفجار اور فکری تسلسلکا اظہار ملتا ہے۔ان کے افسانوں میں ان کے تجربات اور مشاہدات کانچوڑ بخوبی نظر آتا ہے ۔ سائنسی ومذہبی اور علمی و سیاسی شعور کے ساتھ تانیثی شعور،سماجی ومعاشرتی شعور سے ان کیتخلیقی ارتقا کیتمام مراحل طے ہوتے نظر آرہے ہیں۔’’پتوں پر لکھی تحریریں‘‘ تاریخی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ قدیم مخطوطات انہی پتوں کی زننت بنے تھییوںان تحریروں کو عارضی ہونے کے بجائے تاریخی پنوں سے تعبیر کیاجاسکتاہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں