ڈاکٹر غلام محمد پٹیل کی ایک یادگار کار آمد کتاب

 

 

اسلم چستی
.
ریاستِ مہاراشٹر کے تاریخی و ثقافتی شہر شولاپور سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ ادیب و ڈرامہ نگار ڈاکٹر غلام محمد پٹیل جو جی ایم پٹیل کے نام سے اُردو کی ادبی اور ثقافتی دنیا میں شہرت رکھتے ہیں – مَیں انہیں جانتا ہوں اور ان کی خدمات سے بھی واقف ہوں – اسٹیج اور پرنٹ میڈیا میں ان کی فعالیت کا معترف بھی ہوں – اب جبکہ ان کی نئی کتاب میرے مطالعے میں آئی تو مُجھے خوشی اس لیے ہوئی کہ یہ کتاب مسلم سماج کے لیے اپنا ایک مقصد رکھتی ہے کہ یہ مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے ملک سے مَحبّت کو درشاتی ہے –
ڈاکٹر پٹیل کی تعلیمی قابلیت بی ایس سی، ایم بی بی ایس ہے تاریخِ پیدائش 24 ستمبر 1948.ء ہے (جائے پیدائش کتاب میں درج نہیں ہے) 1963.ء سے یہ لکھ رہے ہیں گو کہ لکھنا ان کا پیشہ نہیں شوق ہے اپنے پیشے طب سے جب یہ فرصت پاتے ہیں تو اُردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہو جاتے ہیں – یہ ان دنوں ایک عرصے سے پونے میں رہائش پذیر ہیں – طب اور ادب دونوں انسان کی خدمت کے شعبے ہیں انہوں نے ان دونوں شعبوں میں کام کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے ان کی کاوشوں سے اہلِ پونہ اچھّی طرح واقف ہیں ویسے ان کی اور بھی کتابیں شائع ہوئی ہیں – اب 2023.ء میں ان کی نئی کتاب اُردو دُنیا میں گشت کر رہی ہے تو آئیے اس کا جائزہ لیں –
222 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا ٹائٹل رنگین پُر کشش ہے جس پر جلی حرفوں میں لکھا ہُوا ہے ” مسلم مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کی یاد دہانی ” اس کے نیچے ہے کاروانِ ادب اس کے ساتھ ہی لکھا گیا ہے ادبی، سائنسی و تنقیدی ادارتی مضمون کا مجموعہ اور نیچے نام لکھا ہے ڈاکٹر غلام محمد پٹیل ( قاری کے لیے ٹائٹل کا مواد کنفیوژن پیدا کرتا ہے ) پتہ نہیں چلتا کہ ڈاکٹر صاحب اس کتاب کے مُصنّف ہیں کہ مُرتّب ( سب ٹائٹل پر بھی ٹائٹل والا مواد ہے ) صفحہ نمبر 2 پر نیچے لکھا ہُوا ہے ۔
” یہ کتاب کاروانِ ادب ” مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو ساہتیہ اکادمی کی مالی اعانت سے شائع کی گئی ہے – اس سے معلوم ہُوا کہ کتاب کا نام کاروانِ ادب ہے اس نام پر قاری یہ سوچتا ہے کہ یہ کتاب شاید ادب کی تاریخ بیان کرے گی یا اس میں مُصنّف کی یا کسی کے ادبی مضامین ہوں گے – صفحہ نمبر 3 کی فہرست قاری کی غلط فہمی تو دور کرتی ہے تمہید کے تحت ڈاکٹر پٹیل کی تحریر اس کتاب کے مقصد کو ظاہر کرتی ہے لیکن اس میں مسلم مجاہدینِ آزادی کے بارے میں مؤثر ڈھنگ سے معلومات ملتی ہیں جبکہ اس کے دوسرے حصّے کے بارے میں کچھ معلومات نہیں وہ حصّہ
ہے ادبی، سائنسی و تنقیدی ادارتی مضامین کا خیر یہ تو صرف کتاب کے 6 صفحات کا تعارف و تجزیہ ہے آگے اور بھی بہت کچھ ہے جن میں معلومات کا ایک خزانہ ہے –
پہلا مضمون” پہلی جنگِ آزادی اور شہنشاہ بہادر شاہ ظفر” آزادی کی پہلی جنگ اور 1857.ء بہادر شاہ ظفر کی سربراہی کا وسیع پیمانے پر منظر نامہ پیش کرتا ہے اس کی خوبی یہ ہے کہ اختصار کے باوجود پُر اثر ہے اور یہ ہی وہ مضمون ہے کہ قاری کتاب کے دیگر مشمولات پڑھنے کا عہد کرتا ہے اور پڑھے بناء نہیں رہتا –
دوسرا مضمون شہید اشفاق اللہ خان کی حب الوطنی اور آزادی کی جدوجہد اور جدوجہد میں ثابت قدمی اور پیش قدمی کو روشنی میں لاتا اور شہید اشفاق اللہ خان کی قربانی کی یاد دلاتا اور ایک مسلمان کی وفاداری کا ثبوت پیش کرتا ہے –
تیسرا مضمون ” برِ صغیر کا پہلا جنگجو شہید سلطان ” ٹیپو سلطان کی جرآت، ہمّت ، اور آزادی کی لڑائی میں اہم رول،انگریزوں سے جنگ اور مسلسل جنگ پھر فتح در فتح اس کے بعد اپنوں نے بے وفائی اور غلط رہبری کی وجہ سے شکست کو مُصنّف نے صرف ڈھیر صفحے میں پیش کر کے کمال کر دیا ہے – اسی معیار اور مرتبہ کا ایک مضمون شہید صحافی مولوی محمد باقر ( 1780-1857) کی جہد مسلسل پر ہے صحافت کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کا پیغام دینے سے لے کر شہید ہونے تک کی معلومات بھی صرف ڈھائی صفحے میں رقم کی گئی ہے -ان چار مضامین سے کتاب کے قاری میں جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے اسلاف کی حب الوطنی اور قربانیوں کو جاننا چاہتا ہے – آگے پڑھنے کو ملتے ہیں مولانا پیر علی خان، شہید طرباز خان طرم خان ، شہید محمد شیر علی آفریدی اور شہید مولوی احمد اللہ شاہ فیض آبادی کی حب الوطنی اور قربانیوں کی داستانیں ہیں جو اختصار میں بیان کی گئی ہیں –
ڈاکٹر پٹیل نے اس موضوع پر بہت سوجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے تحریکِ آزادی میں مسلم خواتین کی قربانیوں پر بھی مضامین قلمبند کیے ہیں، یہ ایک غیر معمولی بات اس لیے بھی ہے کہ اس زمانے میں عورتیں گوشہ نشین ہُوا کرتی تھیں ان میں جو انگریزوں کے ظلم کے خلاف جو جذبات تھے اس کا اظہار نہیں ہو پاتا تھا ان ہی میں کچھ خواتین ایسی نکل آئیں جنھوں نے آزادی کی جنگ میں مردوں کے شانہ بشانہ حصّہ لیا – ایسی بہادر عورتوں کی تعداد بھی خاصی رہی ہوگی! ڈاکٹر پٹیل نے اپنے تئیں اپنی تحقیق سے چند بہادر عورتوں کی جو انہیں فراہم ہو سکیں وہ معلومات اپنے قاری کو دے کر اپنا فرض ادا کیا – وہ جانباز عورتیں بیگم حضرت محل ، ارونا آصف علی ، آبادی بانو بیگم ، انیس قدوائی ، بی بی امتہ السلام ، کلثوم سیانی ، باجی جمال النساء ، سیّد فخر الحیا حسن ، ہاجرہ بی بی اسماعیل ، ہاجرہ بیگم ، امجدی بیگم ، بیگم نشاط النساء موہانی ، سعادت بانو کیچلیو، زلیخہ بیگم ، اور اصغری بیگم ہیں ان بیگمات پر معلومات بہت کم ملتی ہیں جنگِ آزادی کی تاریخ میں ان کے کہیں مل بھی جائیں تو حالات اور کارنامے ڈھونڈے سے نہیں ملتے ڈاکٹر پٹیل نے ڈھونڈ نکالا اور کتاب میں پیش کیا جو قابلِ داد ہے –
اس کے علاوہ جن مسلم مجاہدینِ آزادی کے بارے میں اُردو اخبارات، رسائل اور کتابوں کتابچوں میں ہم پڑھتے آئے ہیں جن کے بارے میں نئی نسل تک ان کے نام تو پہونچے لیکن پوری طرح ان کا کام نہ پہونچا ڈاکٹر پٹیل نے ایک باب میں آج کے قارئین تک پہونچانے کی
کوشش کی ہے اور ایک کام مُصنّف نے یہ بھی کیا ہے کہ ان کے حالات اور کارناموں کو بیان کرتے ہوئے اپنی بیباکانہ رائے بھی قائم کی ہے – ان مجاہدین کے نام ہیں سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان ، حکیم محمد اجمل خان ،ڈاکٹر مختار احمد انصاری ، مولانا مظہر الحق، ڈاکٹر مغفور احمد اعجازی ،مولانا سیّد فضل الحسن حسرت موہانی،امیر شریعت سیّد عطا اللہ بخاری، مولوی لیاقت علی، مولانا محمد علی جوہر، شوکت علی ، مولانا سیّد حُسین احمد مدنی ، مولانا محمود الحسن دیوبندی ، آصف علی ، مولانا عبید اللہ سندھی ، محمد فضلِ حق خیر آبادی ، پروفیسر عبدالباری ، کرنل شوکت علی ملک ، عبد القیوم انصاری ، میجر عابد حسن صفرانی ، یوسف مہر علی مرچنٹ ، بدر الدین طیب جی ، مولوی حافظ بَرَکَت اللہ بھوپالی ، ان مضامین کے بعد ڈاکٹر پٹیل نے بھولے ہوئے مردِ مجاہد کے عنوان سے بہت ہی مختصر الفاظ میں لکھا اور مسلمانوں کو یہ بتایا کہ دیکھو یہ بھی تھے مجاہدینِ آزادی جنہیں ہم بھلائے بیٹھے ہیں – ان کے نام ہیں بطخ میاں ، مجنون شاہ فقیر ، مولوی حافظ بَرَکَت اللہ بھوپالی ، کامریڈ مُظفّر احمد ، عبدالمجید خواجہ صاحب ، ابو سعید محمد مخدوم محی الدین، عبد المطلب مجمدار ،کرنل محبوب احمد ، محمد عبد الرحمن صاحب ،مولانا سیّد علائالدین حیدر، مولانا محمد جعفر تھانیسری، جنرل محمد بخت، نواب غلام رسول خان ، مولانا محمود میاں منصور انصاری ، میجر جنرل شاہ نواز ،نواب سیّد محمد بہادر، عسکری سر سیّد علی امام ، مولوی وکوم عبد المجید ، عبد الطیف فاروقی ، کرنل نظام الدین عرف سیف الدین ،صادق علی،سیّد محمد شرف الدین قادری، عبّاس طیب جی ، اللہ بخش محمد عمر سومرو، مولوی منصور علی بھلائے ہوئے ان مجاہدینِ آزادی کی فہرست یہاں اس لیے پیش کر دی گئی ہے کہ ناچیز کی تحریر کے ذریعے قارئین کے اذہان میں کم از کم ان کے نام محفوظ ہو جائیں اور خاص قارئین اور اسکالرز چاہیں تو ان کے بارے میں تحقیق کر کے پڑھ لیں –
یہ تو بات ہوئی کتاب کے حصّے اوّل ” مسلم مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کی یاد دہانی ” کی جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے – ڈاکٹر پٹیل نے خوب خوب محنت لگن اور دلچسپی سے لکھا جو ہماری نئی نسل کے لیے مفید تر ہے -اب رہی اس کتاب کے دوسرے باب کی۔
ادبی ، سائنسی و تنقیدی اِدارتی مضامین کی تو یہ باب ایک الگ موضوعات پیش کرتا ہے – مُصنّف نے اسے اس کتاب میں کیوں شامل کیا سمجھ میں نہیں آیا – یہ کتاب مسلم مجاہدینِ آزادی پر ہی ہوتی تو بہتر تھا – اس کے باوجود مختلف موضوعات پر لکھے ہوئے ان مضامین کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان میں عصرِ حاضر کے مسائل کو پیش کیا گیا ہے – یہ وہ مسائل ہیں جسے مراسلاتی یا صحافتی تو کہہ سکتے ہیں مگر ادبی نہیں کہہ سکتے – ان کی زبان رواں ضرور ہے لیکن اس میں تقریری انداز اپنایا گیا ہے – بیباکی ضرور ہے لیکن پیش کرنے کا انداز زیب نہیں دیتا ناچیز کی اس رائے سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن انکار نہیں کیا جا سکتا –
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

ڈاکٹر غلام محمد پٹیل کی ایک یادگار کار آمد کتاب

 

 

اسلم چستی
.
ریاستِ مہاراشٹر کے تاریخی و ثقافتی شہر شولاپور سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ ادیب و ڈرامہ نگار ڈاکٹر غلام محمد پٹیل جو جی ایم پٹیل کے نام سے اُردو کی ادبی اور ثقافتی دنیا میں شہرت رکھتے ہیں – مَیں انہیں جانتا ہوں اور ان کی خدمات سے بھی واقف ہوں – اسٹیج اور پرنٹ میڈیا میں ان کی فعالیت کا معترف بھی ہوں – اب جبکہ ان کی نئی کتاب میرے مطالعے میں آئی تو مُجھے خوشی اس لیے ہوئی کہ یہ کتاب مسلم سماج کے لیے اپنا ایک مقصد رکھتی ہے کہ یہ مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے ملک سے مَحبّت کو درشاتی ہے –
ڈاکٹر پٹیل کی تعلیمی قابلیت بی ایس سی، ایم بی بی ایس ہے تاریخِ پیدائش 24 ستمبر 1948.ء ہے (جائے پیدائش کتاب میں درج نہیں ہے) 1963.ء سے یہ لکھ رہے ہیں گو کہ لکھنا ان کا پیشہ نہیں شوق ہے اپنے پیشے طب سے جب یہ فرصت پاتے ہیں تو اُردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہو جاتے ہیں – یہ ان دنوں ایک عرصے سے پونے میں رہائش پذیر ہیں – طب اور ادب دونوں انسان کی خدمت کے شعبے ہیں انہوں نے ان دونوں شعبوں میں کام کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے ان کی کاوشوں سے اہلِ پونہ اچھّی طرح واقف ہیں ویسے ان کی اور بھی کتابیں شائع ہوئی ہیں – اب 2023.ء میں ان کی نئی کتاب اُردو دُنیا میں گشت کر رہی ہے تو آئیے اس کا جائزہ لیں –
222 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا ٹائٹل رنگین پُر کشش ہے جس پر جلی حرفوں میں لکھا ہُوا ہے ” مسلم مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کی یاد دہانی ” اس کے نیچے ہے کاروانِ ادب اس کے ساتھ ہی لکھا گیا ہے ادبی، سائنسی و تنقیدی ادارتی مضمون کا مجموعہ اور نیچے نام لکھا ہے ڈاکٹر غلام محمد پٹیل ( قاری کے لیے ٹائٹل کا مواد کنفیوژن پیدا کرتا ہے ) پتہ نہیں چلتا کہ ڈاکٹر صاحب اس کتاب کے مُصنّف ہیں کہ مُرتّب ( سب ٹائٹل پر بھی ٹائٹل والا مواد ہے ) صفحہ نمبر 2 پر نیچے لکھا ہُوا ہے ۔
” یہ کتاب کاروانِ ادب ” مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو ساہتیہ اکادمی کی مالی اعانت سے شائع کی گئی ہے – اس سے معلوم ہُوا کہ کتاب کا نام کاروانِ ادب ہے اس نام پر قاری یہ سوچتا ہے کہ یہ کتاب شاید ادب کی تاریخ بیان کرے گی یا اس میں مُصنّف کی یا کسی کے ادبی مضامین ہوں گے – صفحہ نمبر 3 کی فہرست قاری کی غلط فہمی تو دور کرتی ہے تمہید کے تحت ڈاکٹر پٹیل کی تحریر اس کتاب کے مقصد کو ظاہر کرتی ہے لیکن اس میں مسلم مجاہدینِ آزادی کے بارے میں مؤثر ڈھنگ سے معلومات ملتی ہیں جبکہ اس کے دوسرے حصّے کے بارے میں کچھ معلومات نہیں وہ حصّہ
ہے ادبی، سائنسی و تنقیدی ادارتی مضامین کا خیر یہ تو صرف کتاب کے 6 صفحات کا تعارف و تجزیہ ہے آگے اور بھی بہت کچھ ہے جن میں معلومات کا ایک خزانہ ہے –
پہلا مضمون” پہلی جنگِ آزادی اور شہنشاہ بہادر شاہ ظفر” آزادی کی پہلی جنگ اور 1857.ء بہادر شاہ ظفر کی سربراہی کا وسیع پیمانے پر منظر نامہ پیش کرتا ہے اس کی خوبی یہ ہے کہ اختصار کے باوجود پُر اثر ہے اور یہ ہی وہ مضمون ہے کہ قاری کتاب کے دیگر مشمولات پڑھنے کا عہد کرتا ہے اور پڑھے بناء نہیں رہتا –
دوسرا مضمون شہید اشفاق اللہ خان کی حب الوطنی اور آزادی کی جدوجہد اور جدوجہد میں ثابت قدمی اور پیش قدمی کو روشنی میں لاتا اور شہید اشفاق اللہ خان کی قربانی کی یاد دلاتا اور ایک مسلمان کی وفاداری کا ثبوت پیش کرتا ہے –
تیسرا مضمون ” برِ صغیر کا پہلا جنگجو شہید سلطان ” ٹیپو سلطان کی جرآت، ہمّت ، اور آزادی کی لڑائی میں اہم رول،انگریزوں سے جنگ اور مسلسل جنگ پھر فتح در فتح اس کے بعد اپنوں نے بے وفائی اور غلط رہبری کی وجہ سے شکست کو مُصنّف نے صرف ڈھیر صفحے میں پیش کر کے کمال کر دیا ہے – اسی معیار اور مرتبہ کا ایک مضمون شہید صحافی مولوی محمد باقر ( 1780-1857) کی جہد مسلسل پر ہے صحافت کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کا پیغام دینے سے لے کر شہید ہونے تک کی معلومات بھی صرف ڈھائی صفحے میں رقم کی گئی ہے -ان چار مضامین سے کتاب کے قاری میں جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے اسلاف کی حب الوطنی اور قربانیوں کو جاننا چاہتا ہے – آگے پڑھنے کو ملتے ہیں مولانا پیر علی خان، شہید طرباز خان طرم خان ، شہید محمد شیر علی آفریدی اور شہید مولوی احمد اللہ شاہ فیض آبادی کی حب الوطنی اور قربانیوں کی داستانیں ہیں جو اختصار میں بیان کی گئی ہیں –
ڈاکٹر پٹیل نے اس موضوع پر بہت سوجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے تحریکِ آزادی میں مسلم خواتین کی قربانیوں پر بھی مضامین قلمبند کیے ہیں، یہ ایک غیر معمولی بات اس لیے بھی ہے کہ اس زمانے میں عورتیں گوشہ نشین ہُوا کرتی تھیں ان میں جو انگریزوں کے ظلم کے خلاف جو جذبات تھے اس کا اظہار نہیں ہو پاتا تھا ان ہی میں کچھ خواتین ایسی نکل آئیں جنھوں نے آزادی کی جنگ میں مردوں کے شانہ بشانہ حصّہ لیا – ایسی بہادر عورتوں کی تعداد بھی خاصی رہی ہوگی! ڈاکٹر پٹیل نے اپنے تئیں اپنی تحقیق سے چند بہادر عورتوں کی جو انہیں فراہم ہو سکیں وہ معلومات اپنے قاری کو دے کر اپنا فرض ادا کیا – وہ جانباز عورتیں بیگم حضرت محل ، ارونا آصف علی ، آبادی بانو بیگم ، انیس قدوائی ، بی بی امتہ السلام ، کلثوم سیانی ، باجی جمال النساء ، سیّد فخر الحیا حسن ، ہاجرہ بی بی اسماعیل ، ہاجرہ بیگم ، امجدی بیگم ، بیگم نشاط النساء موہانی ، سعادت بانو کیچلیو، زلیخہ بیگم ، اور اصغری بیگم ہیں ان بیگمات پر معلومات بہت کم ملتی ہیں جنگِ آزادی کی تاریخ میں ان کے کہیں مل بھی جائیں تو حالات اور کارنامے ڈھونڈے سے نہیں ملتے ڈاکٹر پٹیل نے ڈھونڈ نکالا اور کتاب میں پیش کیا جو قابلِ داد ہے –
اس کے علاوہ جن مسلم مجاہدینِ آزادی کے بارے میں اُردو اخبارات، رسائل اور کتابوں کتابچوں میں ہم پڑھتے آئے ہیں جن کے بارے میں نئی نسل تک ان کے نام تو پہونچے لیکن پوری طرح ان کا کام نہ پہونچا ڈاکٹر پٹیل نے ایک باب میں آج کے قارئین تک پہونچانے کی
کوشش کی ہے اور ایک کام مُصنّف نے یہ بھی کیا ہے کہ ان کے حالات اور کارناموں کو بیان کرتے ہوئے اپنی بیباکانہ رائے بھی قائم کی ہے – ان مجاہدین کے نام ہیں سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان ، حکیم محمد اجمل خان ،ڈاکٹر مختار احمد انصاری ، مولانا مظہر الحق، ڈاکٹر مغفور احمد اعجازی ،مولانا سیّد فضل الحسن حسرت موہانی،امیر شریعت سیّد عطا اللہ بخاری، مولوی لیاقت علی، مولانا محمد علی جوہر، شوکت علی ، مولانا سیّد حُسین احمد مدنی ، مولانا محمود الحسن دیوبندی ، آصف علی ، مولانا عبید اللہ سندھی ، محمد فضلِ حق خیر آبادی ، پروفیسر عبدالباری ، کرنل شوکت علی ملک ، عبد القیوم انصاری ، میجر عابد حسن صفرانی ، یوسف مہر علی مرچنٹ ، بدر الدین طیب جی ، مولوی حافظ بَرَکَت اللہ بھوپالی ، ان مضامین کے بعد ڈاکٹر پٹیل نے بھولے ہوئے مردِ مجاہد کے عنوان سے بہت ہی مختصر الفاظ میں لکھا اور مسلمانوں کو یہ بتایا کہ دیکھو یہ بھی تھے مجاہدینِ آزادی جنہیں ہم بھلائے بیٹھے ہیں – ان کے نام ہیں بطخ میاں ، مجنون شاہ فقیر ، مولوی حافظ بَرَکَت اللہ بھوپالی ، کامریڈ مُظفّر احمد ، عبدالمجید خواجہ صاحب ، ابو سعید محمد مخدوم محی الدین، عبد المطلب مجمدار ،کرنل محبوب احمد ، محمد عبد الرحمن صاحب ،مولانا سیّد علائالدین حیدر، مولانا محمد جعفر تھانیسری، جنرل محمد بخت، نواب غلام رسول خان ، مولانا محمود میاں منصور انصاری ، میجر جنرل شاہ نواز ،نواب سیّد محمد بہادر، عسکری سر سیّد علی امام ، مولوی وکوم عبد المجید ، عبد الطیف فاروقی ، کرنل نظام الدین عرف سیف الدین ،صادق علی،سیّد محمد شرف الدین قادری، عبّاس طیب جی ، اللہ بخش محمد عمر سومرو، مولوی منصور علی بھلائے ہوئے ان مجاہدینِ آزادی کی فہرست یہاں اس لیے پیش کر دی گئی ہے کہ ناچیز کی تحریر کے ذریعے قارئین کے اذہان میں کم از کم ان کے نام محفوظ ہو جائیں اور خاص قارئین اور اسکالرز چاہیں تو ان کے بارے میں تحقیق کر کے پڑھ لیں –
یہ تو بات ہوئی کتاب کے حصّے اوّل ” مسلم مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کی یاد دہانی ” کی جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے – ڈاکٹر پٹیل نے خوب خوب محنت لگن اور دلچسپی سے لکھا جو ہماری نئی نسل کے لیے مفید تر ہے -اب رہی اس کتاب کے دوسرے باب کی۔
ادبی ، سائنسی و تنقیدی اِدارتی مضامین کی تو یہ باب ایک الگ موضوعات پیش کرتا ہے – مُصنّف نے اسے اس کتاب میں کیوں شامل کیا سمجھ میں نہیں آیا – یہ کتاب مسلم مجاہدینِ آزادی پر ہی ہوتی تو بہتر تھا – اس کے باوجود مختلف موضوعات پر لکھے ہوئے ان مضامین کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان میں عصرِ حاضر کے مسائل کو پیش کیا گیا ہے – یہ وہ مسائل ہیں جسے مراسلاتی یا صحافتی تو کہہ سکتے ہیں مگر ادبی نہیں کہہ سکتے – ان کی زبان رواں ضرور ہے لیکن اس میں تقریری انداز اپنایا گیا ہے – بیباکی ضرور ہے لیکن پیش کرنے کا انداز زیب نہیں دیتا ناچیز کی اس رائے سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن انکار نہیں کیا جا سکتا –
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں