فاطمہ بنت محمد الفہر یہ القریشیہ :عالمی قدیم ترین یونیورسٹی ’جامعۃالقرویین‘‘ کی بانی

 

ڈاکٹر جی۔ایم ۔پٹیل

مسلم تہذیب میں مختلف عقائد اور پسِ منظر سے تعلق رکھنے والی غیر معمولی خواتین نے اپنی برادری کی ترقی ، معاشرتی فلاح کے لئے مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کیا ،انکی متاثر کن کہانیاں ،کرشماتی شخصیات اور اپنے ماحول کی نشو و نما میں حصہ لینے کے عمل نے انہیں وہ برقی توانائی ، رہنمائی ،رہبری ، علمی وادبی روشنی عطا کی جو نوجوان خواتین کے لئے مشعل راہ بن گئیں۔
’’فاطمہ محمد الفہریہ ‘‘ ایک عرب خاتون تھیں جنہیں مراکش کے شہر ’ فیض ‘ یا ’فاس‘ میں ۸۵۹ ء میں ’’ القرویین ‘‘ مسجد کی بنیاد رکھنے کا حق حاصل ہے۔آپ کو ’’ ام البنین ( بچوں کی ماں ‘‘ اس نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔حدیث اسباق اور اقوال اور فقہ کی قابل احترام اسکالر ہونے کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ القارویین مسجد ایک تدریسی ادارہ ’’ یونیورسٹی ‘‘ ، ۱۹۶۳ میں ’’جدید جامعہ القارویین ‘‘ بن گیاجو ’ ۹ ویںصدی ‘ میں فاطمہ السفہر ی ‘ دینی اور تعلیمی مرکز قائم کیا ۔ دینی و تدریسی تعلیم کا مرکز ’’ القار ویین مسجد ، یونیورسٹی ، مندروجات کا جدول ، مر اکش کی ثقافت کا تاریخی عظیم ترین مثال بلکہ درسی و تعلیمی و ادبی ،ثقافتی میراث نے اسلامی سنہرے دور کا سکہ تاریخ کے اوراق پر ثبت کر گیا۔
مراکش کے تاریخی شہر ’’ فیس البال ( فا س البا س ’ فیز ‘ مراکش کا قدیم ترین علاقہ ہے جو اس جدید ترین شہری ترتیب اور متعدد تاریخی یاد گاروں کے تحفظ کے لئے اہم عالمی مرکز ہے، جس نے اس شہر کو ’’ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہے او ر اسلام کے سنہرے دور میں تعلیم حاصل کرنے کے نمایاں مراکز میں سے ایک ہے۔
۱۳ویں اور ۱۴ویں صدی میں اپنے عروج پر القرو یین نے متعدد ذہین اور ہونہار طلباء پر فخر کیا۔قریبی مضامات میں میں درجنوں مدارس کے طلباء و طالبات کی رہائش کے لئے کمیشن بنایا گیا۔ اپنے عروج پر پر اقوامی و بین الاقومی متعدد طلبا کوا القرویین ‘ اس عظیم بنیاد پر فختر ہے۔ وسیع و دراز ،ارد گرد کے مضامات میں درجنوں مدارس، طلبا کی رہائش گاہ ، تعلیمی ادارے اور اس دور کی یہاں موجود معروف ’’ تاریخی لائبریری اسلامی دنیا اور یوروپ سے قریب ۰۰۰،۳۰ ہزار سے زائد جلدوں پر مشتمل تھی۔مراکش کے تاریخی شہر ‘فیض‘ کا ایک عالیشان منظر جس میں سفید اور خاکستری عمارات اور درمیان میں’ القارویین مسجد اور تعلیمی اداروں کی سبز چھتیں ،مسجد میں دو آسماں کو چھونے والے مینار،ایک ‘ کلاک ٹاور ، اور وسیع سبز گنبد و نیلگوں آسماں میں تعلیمی و ترقی کی برقی روشنی کا ایک منور ،علم اور دانائی سے جیسے سارے عالم میں روشن ہے۔
یونیسکو نے قبل از ایں مدینہ فیز کے لئے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہوں کے اندراج میں القرویین کو ’ دنیا کی’’ قدیم ترین یونیورسٹی ‘‘ قرار دیا ہے۔عام طور پر قرون وسطی ٰکی قدیم ترین یوروپی یونیورسٹی کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔کچھ مورخین اور علما ء القا رویین کو دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی بھی کہتے ہیں۔اسی طرح انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا نے القارویین یونیورسٹی کی بنیاد ۸۵۹ مین مسجد کی بنیاد سے منسوب کی ہے ۔ دوسرے ذرائع نے بھی تاریخی یا قبل از جدید القرویین کو ’’ یونیورسٹی ‘‘ یا اسلامی یونیورسٹی کہا ہے۔
یونیسکو اور گنئیز ورلڈ رکارڈ کے مطابق ’ القار ویین ‘ سب سے قدیم و مسلسل چلائی جانے والی ،اور عالمی اول ’’ ڈگری ‘‘ دینے والی یونیورسٹی ہے۔
۸۰۰ء میںالقریین (موجودہ کاراآؤین) ،تیونس کے ایک تاجر کے گھر انے میں ’ فاطمہ ا لفہری ‘پیدا ہوئیں۔بغداد میں بربر قبائل اور حکمران خلافت کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے درمیان اسی سال خلیفہ نے اپنے فاتح ایجنٹ ’ ابراہیم ابن الغلب ‘ کو قیروین میں امیر کا خطاب عطا کیا اور اسے پورے خطے میں تقریباَ ایک آزاد ریاست کے موروثی حکمرانی کے حقوق عطا کئے،جہاں اس نے بعد ازاں اضلاب خاندان قائم کیا ۔۸۲۴ء میں اغلابیوں کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد، فاطمہ کے خاندان کو اور دیگر قریب ۲۰۰۰ ،شیعہ خاندانوں کے ساتھ شہر سے جلا وطن کر دیااور یہ دیگر بیشتر جلا وطنوں کے ساتھ ’’ فیض ‘‘ میں آباد ہوئے۔کاروبار کے پھلنے پھولنے کے لئے ’ فیض ‘ بہترین مقام ثابت ہوا۔اور فاطمہ کے والد محترم نے شہر میں خود ایک امیر اور معزز تاجر کے طور پر مقیم ہوئے۔
آپ کے والد آپ کے اور آپکی بہن مریم کی تعلیم کے بارے میں پُر جوش تھے۔ اس دور کے متوسط اور اعلیٰ طبقے کی خواتین دونوں کو اپنی رہائش گاہ پر ہی خانگی تدریس کا انتظام کیا گیا۔ والد محترم نے فاطمہ جو ایک دیندار خاتون تھیں انکا بیا ہ کر دیا اور آپ نے معیار کے مطابق ازدواجی زندگی،گھر کی دیکھ بھال ،اپنا قیمتی وقت دینی و دنوی مطالعہ اور خیراتی کاموں میں خوب دلچسپی لیتی رہیں۔ آپ کی معمول زندگی یکسر میں ایک طوفان سا آیا ،آپکے شوہر ،بھائی اور والد صاحب کچھ ہی عرصہ بعد ہی رحلت کرگئے لیکن ایک مثبت بات یہ تھی کہ آپ کے والدین نے آپکی وراثت میں ایک بڑا حصہ سرمایہ کا چھوڑ گئے تھے۔دونوں مریم اور آپ اس وراثت کو ایک پائیدار میراث میں بدلتے ہوئے دیکھنے کے لئے پر عزم تھیں۔ آپکی بہن محترمہ مریم نے ، ’’ الفس پر اندلیس ‘‘کے خطہ میں ’’ الاندلس ‘‘ میں ایک مسجد تعمیر کی جس کا نام ان مہاجرین کے نام پر رکھا گیا جنہوں نے اس ضلع کو آبا د کیا تھا،مسجد اب بھی قائم ہے۔
فاطمہ نے بھی قریب ہی میں واقع ایک علاقے میں مسجد تعمیر کی جس کا نام آپ نے اپنے آبائی شہر ’’ قیر وان ‘‘ کے نام پر رکھ دیا، اس وقت شاید آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ مسجد دنیا کی سب سے قدیم ترین یونیورٹی کی بنیاد تھی اور فاطمہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ بڑی میراث تھی۔
القارویین کی ابتدائی مسجد اور مدرسہ ۸۵۹ میں قائم ہونے والی مسجد دنیا کی سب سے قدیم اور ممکنہ طور پر پہلی یونیورسٹی اور لائبریری اسی سال مکمل ہوئی اور لائبریری کی بحالی ۲۰۱۶ میں خاتون ماہر تعمیرات ’ عزیزہ چاونی ‘ کے ذریعے کی گئی جس میں ۴۰۰۰ سے قدیم نسخے حاصل کئے گئے۔ بشمول ۱۲ ویں صدی کی قدیم ترین ’’ طبّی ڈگری ‘‘ اور دنیا کی قدیم ترین ریکارڈ شدہ ’’ ایم ،ڈی ‘‘ ڈگری ، جسے فیز ، مراکش میان القروین یونیورسٹی نے عطا کی تھی۔ ’’ڈاکٹر عبداللہ صالح الکوتی‘‘ کو 1207 ء میں انسانی اور ویٹر نری میڈیسن میں مہارت کے لئے عطا کی گئی،قراویین کی لائبریری سے ایک مخطوطہ جو بہت سے لوگوں کے خیال میں۱۲۰۷ عیسوی میں دنیا کی قدیم ترین طبی ڈگری ہے۔فاطمہ ۸۸۰ ء میں اپنی وفات تک القر ویین کی سر براہ رہیں۔آپ نے القرویین کو نہ صرف عبادت گاہ بلکہ اعلیٰ تعلیمی مرکز کے طور پر قائم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کی بانی فاطمہ الفہری کی ایک مثال جس کے پس منظر میں شہر کا منظر اور مشرقی موزیک ہے ،؛اگرچہ مسجد اور مدرسہ کے ابتدائی ایام کے بارے میں بہت کم معلومات ہے ْلیکن القارویین کو علمی مرکز کے طور پر مشہور ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگی ۔نصاب کو سائنس اور فلسفے کے مضامین کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے قرآن اور اسلامی نظریاتی علوم سے آگے بڑھایا گیاتھا۔ تعلیم کے میدان میں مزید وسعت دے کر القرو یین نے اپنے آپ کو جدید علم متلاشی افراد کے لئے ایک روشن مشعل راہ بن گئیںجو اسلامی سنہری دور کی ا مشعل کی روشنی کو تا قیامت بر قرار رکھا۔۹ویں صدی میں ایک خاتون کے لئے یہ بالکل قابل قبول ہوتا کہ جس میں کوئی والد ،شوہر یا بھائی محافظ نہ ہوتا ،گھر میں پر سکون زندگی گزرانا ،لیکن فاطمہ نے اپنا وقت اور یونیورسٹی کے معیار کو بڑھانے و تعلیم کی ترقی کے لئے وقف کرنا طئے کیا، عوامی زندگی ان سے دور کی خواتین کے لئے بہت زیادہ عام نہیں تھی ،لیکن ایک آزاد ذرائع کی تعلیم یافتہ خاتون کے طور پر یہ بھی عام سے باہر نہیںتھیں،یقینی طور پر ممنوع سے بہت دور۔
در حقیقت فاطمہ کے دور میں متعدد خواتین کافی تعلیم یافتہ اور معاشرے میں ان کی بہت زیادہ قدر و عزت ہوتی تھی۔خواتین اکثر مساجد اور خیراتی اداروں کی سرپرست تھیں،بعض سرکاری عہدوں پر بھی فائز تھیں۔۷ ویں صدی میں اسلام کی آمد سے شروع ہونے والی مسلم خواتین کی اسکالر شپ کی ایک طویل روایت بھی برقرار رہی۔
آپ نے شاید اپنی سر گرمیوں کی پہل روی نہیں سمجھیں ،اور اکثر اس کے بعد آنے والی تاریخ ،تعصبات کے عینک سے دیکھا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کی اسے اکثر خواتین با اختیار بنانے کی علامت کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔
نویں صدی میں چمڑے پر’ کیفیک خطاطی ‘ میں کندہ قرآن سونے کی سنہری کڑھائی کے ساتھ سیاہ سطح پر آویزاں ہے، بائیں سفح کے نیچے بائیں کونے پر سونے کی مہر ہے، القارویین لائبریری ، ’’ فیز ‘‘،مراکش میں رکھا گیا ہے،فکری تبادلہ کے مرکز کے طور پر یونیورسٹی نے اسلامی دنیا اور اس سے باہر کے اسکالر اور طلبا ء کو راغب کیا۔القارویین نے مطالعہ کے مختلف شعبوں میں ایک جامع تعلیم فراہم کی ، بشمول الحیات ، قانون ، گرامر ، طبّ ، ریاضی اور بہت کچھ۔وہ طلباء جنہوں نے پانچ سالوں کے دوران یونیورسٹی میں باقاعدہ حاضری کو بر قرار رکھا اور کسی موضوع پر مہارت کا مظاہرہ کیا، انہیں اس مضمون میں ایک ’’ اعزاز ‘‘ سے نوازہ جاتا ہے ۔ایک ایسا نظام جس نے جدید تعلیم کو ہموار کیا۔۹۰۰ کی دہائی کے وسط تک القرویین کو ’’ فیز ‘‘ کی سرکاری جمعہ کی مسجد نامزد ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ عمارات کو حکمران امیر ڈس ‘‘ کے بڑے عطیہ کے ذریعے وسیع و طویل کیا گیا اور بعد میں ۱۲ ویں صدی میں ’’ الموراوڈوس ‘‘ کے زریعے اہم تزئین و آرائش کی گئی ،فاطمہ کی دور اندیشی کی بدولت مسجد کی ابتدائی تعمیر کے وقت ہی ارد گرد کی زمین خرید رکھی تھیں جس کی توسیع منصبوں کو مکمل کرنا تھا ۔یونیورسٹی نے اسلامی دنیا اور یوروپ کے دانشوروں کو اپنی طرف راغب کیا جنہوں نے علم کے تسلسل کو فروغ دیا اور’ نشاۃ ثانیہ بڑی ثقافتی و فکری تحریک ،سائنس ، فنون لطیفہ ، اور فلسفے میں نئی روح پھونکی ، بیج بوئے۔
۱۰ ویں صدی کے فرانسسی پوپ ، ’’ پوپ سلویسٹر دوم ‘‘ نے القارویین میں ’قانون ، انجینئرنگ ‘ اور’ فلکیات ‘کے علاوہ دیگر علوم کی تعلیم حاصل کی،جو کچھ انہوں نے سیکھا اپنے ساتھ روم لے آئے۔ انہوں نے ’’ اورینٹ ‘‘ میں اس وقت کے بارے میں کیا محسوس کیا یہ بحث کا موضوع ہے ؟ کیوں کہ انہیں صلیبی جنگوں کے خیال کو جنم دیا اور یروشلم کو ’’ کافروں ‘‘ کے قبضے سے آزاد کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔
فاطمہ الفہری علم کی ترقی کے لئے آپکی تعلیمی بے لوث محبت ، انسانی فہم کے سب سے طویل ادوار میں تشکیل دینے میں ایسے بیج بوئے جو متعدد غیر امکانی جگہوں پر نشو نما پائیں گے،اسلامی تاریخ میں ایک خاتون رہنما ۔قابل تقلید شخص کے طور پر معروف ہیں۔تیونس کی شہزادی کو ’’ اسلامی سنت یا والیہ‘‘ سمجھتے ہیںاس دعویٰ کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔اسلامی سنہرے دور کو پھلنے پھولنے میں فاطمہ ا لفہری کا تعاون ناقابل تردید ہے،القار و یین اس وقت دنیا میں علم کا ممتاز ترین مرکز ہے جہاں آّج تک بانی اور اسلام و اعلیٰ تعلیم کی اپنی ر روایات جاری ہیں۔
۲۰۱۶ میں القرون لائبریری کی بحالی کے بعد سے فاطمہ الفہری افسانے نے مرکزی دھارے میں زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ آپ ایک غیر معمولی طورپر سرشار خاتون تھیں،لیکن شاید اپنے وقت کے لئے اس قسم کی رعایت نہیں تھی کہ ہمارا جدید نقطۂ نظر اسے آ پ فکر و احسات کی عکاسی کرنا چاہتا ہے۔آپ مسلم خواتین اسکالرز اور سرپرستوں کی ایک بھرپور روایت کے کندھوں پر کھڑی ہیں اور اس کے بعد بہت سے لوگوں کے لئے آپکی پیروی کرنے کے لئے ،خدمت خلق و ملت کی تعلیمی و ثقافتی کی ترقی،ترجیح کے خواب کی تعبیر میں مگن رہے۔ اسلامی سنہرے دور کو پھلنے پھولنے میں فاطمہ ا لفہری کا تعاون ناقابل تردید ہے،القار و یین اس وقت دنیا میں علم کا ممتاز ترین مرکز ہے جہاں آّج تک بانی اور اسلام و اعلیٰ تعلیم کی اپنی ر روایات جاری ہیں۔ تعلیم کی تبلیغ ، تعلیم کا فروغ علم کے سنہرے ادوار کی بانی ، فاطمہ الفہری اسلامی معاشر ے کے لئے ایک انمول رتن ثابت ہوئیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

فاطمہ بنت محمد الفہر یہ القریشیہ :عالمی قدیم ترین یونیورسٹی ’جامعۃالقرویین‘‘ کی بانی

 

ڈاکٹر جی۔ایم ۔پٹیل

مسلم تہذیب میں مختلف عقائد اور پسِ منظر سے تعلق رکھنے والی غیر معمولی خواتین نے اپنی برادری کی ترقی ، معاشرتی فلاح کے لئے مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کیا ،انکی متاثر کن کہانیاں ،کرشماتی شخصیات اور اپنے ماحول کی نشو و نما میں حصہ لینے کے عمل نے انہیں وہ برقی توانائی ، رہنمائی ،رہبری ، علمی وادبی روشنی عطا کی جو نوجوان خواتین کے لئے مشعل راہ بن گئیں۔
’’فاطمہ محمد الفہریہ ‘‘ ایک عرب خاتون تھیں جنہیں مراکش کے شہر ’ فیض ‘ یا ’فاس‘ میں ۸۵۹ ء میں ’’ القرویین ‘‘ مسجد کی بنیاد رکھنے کا حق حاصل ہے۔آپ کو ’’ ام البنین ( بچوں کی ماں ‘‘ اس نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔حدیث اسباق اور اقوال اور فقہ کی قابل احترام اسکالر ہونے کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ القارویین مسجد ایک تدریسی ادارہ ’’ یونیورسٹی ‘‘ ، ۱۹۶۳ میں ’’جدید جامعہ القارویین ‘‘ بن گیاجو ’ ۹ ویںصدی ‘ میں فاطمہ السفہر ی ‘ دینی اور تعلیمی مرکز قائم کیا ۔ دینی و تدریسی تعلیم کا مرکز ’’ القار ویین مسجد ، یونیورسٹی ، مندروجات کا جدول ، مر اکش کی ثقافت کا تاریخی عظیم ترین مثال بلکہ درسی و تعلیمی و ادبی ،ثقافتی میراث نے اسلامی سنہرے دور کا سکہ تاریخ کے اوراق پر ثبت کر گیا۔
مراکش کے تاریخی شہر ’’ فیس البال ( فا س البا س ’ فیز ‘ مراکش کا قدیم ترین علاقہ ہے جو اس جدید ترین شہری ترتیب اور متعدد تاریخی یاد گاروں کے تحفظ کے لئے اہم عالمی مرکز ہے، جس نے اس شہر کو ’’ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہے او ر اسلام کے سنہرے دور میں تعلیم حاصل کرنے کے نمایاں مراکز میں سے ایک ہے۔
۱۳ویں اور ۱۴ویں صدی میں اپنے عروج پر القرو یین نے متعدد ذہین اور ہونہار طلباء پر فخر کیا۔قریبی مضامات میں میں درجنوں مدارس کے طلباء و طالبات کی رہائش کے لئے کمیشن بنایا گیا۔ اپنے عروج پر پر اقوامی و بین الاقومی متعدد طلبا کوا القرویین ‘ اس عظیم بنیاد پر فختر ہے۔ وسیع و دراز ،ارد گرد کے مضامات میں درجنوں مدارس، طلبا کی رہائش گاہ ، تعلیمی ادارے اور اس دور کی یہاں موجود معروف ’’ تاریخی لائبریری اسلامی دنیا اور یوروپ سے قریب ۰۰۰،۳۰ ہزار سے زائد جلدوں پر مشتمل تھی۔مراکش کے تاریخی شہر ‘فیض‘ کا ایک عالیشان منظر جس میں سفید اور خاکستری عمارات اور درمیان میں’ القارویین مسجد اور تعلیمی اداروں کی سبز چھتیں ،مسجد میں دو آسماں کو چھونے والے مینار،ایک ‘ کلاک ٹاور ، اور وسیع سبز گنبد و نیلگوں آسماں میں تعلیمی و ترقی کی برقی روشنی کا ایک منور ،علم اور دانائی سے جیسے سارے عالم میں روشن ہے۔
یونیسکو نے قبل از ایں مدینہ فیز کے لئے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہوں کے اندراج میں القرویین کو ’ دنیا کی’’ قدیم ترین یونیورسٹی ‘‘ قرار دیا ہے۔عام طور پر قرون وسطی ٰکی قدیم ترین یوروپی یونیورسٹی کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔کچھ مورخین اور علما ء القا رویین کو دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی بھی کہتے ہیں۔اسی طرح انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا نے القارویین یونیورسٹی کی بنیاد ۸۵۹ مین مسجد کی بنیاد سے منسوب کی ہے ۔ دوسرے ذرائع نے بھی تاریخی یا قبل از جدید القرویین کو ’’ یونیورسٹی ‘‘ یا اسلامی یونیورسٹی کہا ہے۔
یونیسکو اور گنئیز ورلڈ رکارڈ کے مطابق ’ القار ویین ‘ سب سے قدیم و مسلسل چلائی جانے والی ،اور عالمی اول ’’ ڈگری ‘‘ دینے والی یونیورسٹی ہے۔
۸۰۰ء میںالقریین (موجودہ کاراآؤین) ،تیونس کے ایک تاجر کے گھر انے میں ’ فاطمہ ا لفہری ‘پیدا ہوئیں۔بغداد میں بربر قبائل اور حکمران خلافت کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے درمیان اسی سال خلیفہ نے اپنے فاتح ایجنٹ ’ ابراہیم ابن الغلب ‘ کو قیروین میں امیر کا خطاب عطا کیا اور اسے پورے خطے میں تقریباَ ایک آزاد ریاست کے موروثی حکمرانی کے حقوق عطا کئے،جہاں اس نے بعد ازاں اضلاب خاندان قائم کیا ۔۸۲۴ء میں اغلابیوں کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد، فاطمہ کے خاندان کو اور دیگر قریب ۲۰۰۰ ،شیعہ خاندانوں کے ساتھ شہر سے جلا وطن کر دیااور یہ دیگر بیشتر جلا وطنوں کے ساتھ ’’ فیض ‘‘ میں آباد ہوئے۔کاروبار کے پھلنے پھولنے کے لئے ’ فیض ‘ بہترین مقام ثابت ہوا۔اور فاطمہ کے والد محترم نے شہر میں خود ایک امیر اور معزز تاجر کے طور پر مقیم ہوئے۔
آپ کے والد آپ کے اور آپکی بہن مریم کی تعلیم کے بارے میں پُر جوش تھے۔ اس دور کے متوسط اور اعلیٰ طبقے کی خواتین دونوں کو اپنی رہائش گاہ پر ہی خانگی تدریس کا انتظام کیا گیا۔ والد محترم نے فاطمہ جو ایک دیندار خاتون تھیں انکا بیا ہ کر دیا اور آپ نے معیار کے مطابق ازدواجی زندگی،گھر کی دیکھ بھال ،اپنا قیمتی وقت دینی و دنوی مطالعہ اور خیراتی کاموں میں خوب دلچسپی لیتی رہیں۔ آپ کی معمول زندگی یکسر میں ایک طوفان سا آیا ،آپکے شوہر ،بھائی اور والد صاحب کچھ ہی عرصہ بعد ہی رحلت کرگئے لیکن ایک مثبت بات یہ تھی کہ آپ کے والدین نے آپکی وراثت میں ایک بڑا حصہ سرمایہ کا چھوڑ گئے تھے۔دونوں مریم اور آپ اس وراثت کو ایک پائیدار میراث میں بدلتے ہوئے دیکھنے کے لئے پر عزم تھیں۔ آپکی بہن محترمہ مریم نے ، ’’ الفس پر اندلیس ‘‘کے خطہ میں ’’ الاندلس ‘‘ میں ایک مسجد تعمیر کی جس کا نام ان مہاجرین کے نام پر رکھا گیا جنہوں نے اس ضلع کو آبا د کیا تھا،مسجد اب بھی قائم ہے۔
فاطمہ نے بھی قریب ہی میں واقع ایک علاقے میں مسجد تعمیر کی جس کا نام آپ نے اپنے آبائی شہر ’’ قیر وان ‘‘ کے نام پر رکھ دیا، اس وقت شاید آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ مسجد دنیا کی سب سے قدیم ترین یونیورٹی کی بنیاد تھی اور فاطمہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ بڑی میراث تھی۔
القارویین کی ابتدائی مسجد اور مدرسہ ۸۵۹ میں قائم ہونے والی مسجد دنیا کی سب سے قدیم اور ممکنہ طور پر پہلی یونیورسٹی اور لائبریری اسی سال مکمل ہوئی اور لائبریری کی بحالی ۲۰۱۶ میں خاتون ماہر تعمیرات ’ عزیزہ چاونی ‘ کے ذریعے کی گئی جس میں ۴۰۰۰ سے قدیم نسخے حاصل کئے گئے۔ بشمول ۱۲ ویں صدی کی قدیم ترین ’’ طبّی ڈگری ‘‘ اور دنیا کی قدیم ترین ریکارڈ شدہ ’’ ایم ،ڈی ‘‘ ڈگری ، جسے فیز ، مراکش میان القروین یونیورسٹی نے عطا کی تھی۔ ’’ڈاکٹر عبداللہ صالح الکوتی‘‘ کو 1207 ء میں انسانی اور ویٹر نری میڈیسن میں مہارت کے لئے عطا کی گئی،قراویین کی لائبریری سے ایک مخطوطہ جو بہت سے لوگوں کے خیال میں۱۲۰۷ عیسوی میں دنیا کی قدیم ترین طبی ڈگری ہے۔فاطمہ ۸۸۰ ء میں اپنی وفات تک القر ویین کی سر براہ رہیں۔آپ نے القرویین کو نہ صرف عبادت گاہ بلکہ اعلیٰ تعلیمی مرکز کے طور پر قائم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کی بانی فاطمہ الفہری کی ایک مثال جس کے پس منظر میں شہر کا منظر اور مشرقی موزیک ہے ،؛اگرچہ مسجد اور مدرسہ کے ابتدائی ایام کے بارے میں بہت کم معلومات ہے ْلیکن القارویین کو علمی مرکز کے طور پر مشہور ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگی ۔نصاب کو سائنس اور فلسفے کے مضامین کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے قرآن اور اسلامی نظریاتی علوم سے آگے بڑھایا گیاتھا۔ تعلیم کے میدان میں مزید وسعت دے کر القرو یین نے اپنے آپ کو جدید علم متلاشی افراد کے لئے ایک روشن مشعل راہ بن گئیںجو اسلامی سنہری دور کی ا مشعل کی روشنی کو تا قیامت بر قرار رکھا۔۹ویں صدی میں ایک خاتون کے لئے یہ بالکل قابل قبول ہوتا کہ جس میں کوئی والد ،شوہر یا بھائی محافظ نہ ہوتا ،گھر میں پر سکون زندگی گزرانا ،لیکن فاطمہ نے اپنا وقت اور یونیورسٹی کے معیار کو بڑھانے و تعلیم کی ترقی کے لئے وقف کرنا طئے کیا، عوامی زندگی ان سے دور کی خواتین کے لئے بہت زیادہ عام نہیں تھی ،لیکن ایک آزاد ذرائع کی تعلیم یافتہ خاتون کے طور پر یہ بھی عام سے باہر نہیںتھیں،یقینی طور پر ممنوع سے بہت دور۔
در حقیقت فاطمہ کے دور میں متعدد خواتین کافی تعلیم یافتہ اور معاشرے میں ان کی بہت زیادہ قدر و عزت ہوتی تھی۔خواتین اکثر مساجد اور خیراتی اداروں کی سرپرست تھیں،بعض سرکاری عہدوں پر بھی فائز تھیں۔۷ ویں صدی میں اسلام کی آمد سے شروع ہونے والی مسلم خواتین کی اسکالر شپ کی ایک طویل روایت بھی برقرار رہی۔
آپ نے شاید اپنی سر گرمیوں کی پہل روی نہیں سمجھیں ،اور اکثر اس کے بعد آنے والی تاریخ ،تعصبات کے عینک سے دیکھا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کی اسے اکثر خواتین با اختیار بنانے کی علامت کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔
نویں صدی میں چمڑے پر’ کیفیک خطاطی ‘ میں کندہ قرآن سونے کی سنہری کڑھائی کے ساتھ سیاہ سطح پر آویزاں ہے، بائیں سفح کے نیچے بائیں کونے پر سونے کی مہر ہے، القارویین لائبریری ، ’’ فیز ‘‘،مراکش میں رکھا گیا ہے،فکری تبادلہ کے مرکز کے طور پر یونیورسٹی نے اسلامی دنیا اور اس سے باہر کے اسکالر اور طلبا ء کو راغب کیا۔القارویین نے مطالعہ کے مختلف شعبوں میں ایک جامع تعلیم فراہم کی ، بشمول الحیات ، قانون ، گرامر ، طبّ ، ریاضی اور بہت کچھ۔وہ طلباء جنہوں نے پانچ سالوں کے دوران یونیورسٹی میں باقاعدہ حاضری کو بر قرار رکھا اور کسی موضوع پر مہارت کا مظاہرہ کیا، انہیں اس مضمون میں ایک ’’ اعزاز ‘‘ سے نوازہ جاتا ہے ۔ایک ایسا نظام جس نے جدید تعلیم کو ہموار کیا۔۹۰۰ کی دہائی کے وسط تک القرویین کو ’’ فیز ‘‘ کی سرکاری جمعہ کی مسجد نامزد ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ عمارات کو حکمران امیر ڈس ‘‘ کے بڑے عطیہ کے ذریعے وسیع و طویل کیا گیا اور بعد میں ۱۲ ویں صدی میں ’’ الموراوڈوس ‘‘ کے زریعے اہم تزئین و آرائش کی گئی ،فاطمہ کی دور اندیشی کی بدولت مسجد کی ابتدائی تعمیر کے وقت ہی ارد گرد کی زمین خرید رکھی تھیں جس کی توسیع منصبوں کو مکمل کرنا تھا ۔یونیورسٹی نے اسلامی دنیا اور یوروپ کے دانشوروں کو اپنی طرف راغب کیا جنہوں نے علم کے تسلسل کو فروغ دیا اور’ نشاۃ ثانیہ بڑی ثقافتی و فکری تحریک ،سائنس ، فنون لطیفہ ، اور فلسفے میں نئی روح پھونکی ، بیج بوئے۔
۱۰ ویں صدی کے فرانسسی پوپ ، ’’ پوپ سلویسٹر دوم ‘‘ نے القارویین میں ’قانون ، انجینئرنگ ‘ اور’ فلکیات ‘کے علاوہ دیگر علوم کی تعلیم حاصل کی،جو کچھ انہوں نے سیکھا اپنے ساتھ روم لے آئے۔ انہوں نے ’’ اورینٹ ‘‘ میں اس وقت کے بارے میں کیا محسوس کیا یہ بحث کا موضوع ہے ؟ کیوں کہ انہیں صلیبی جنگوں کے خیال کو جنم دیا اور یروشلم کو ’’ کافروں ‘‘ کے قبضے سے آزاد کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔
فاطمہ الفہری علم کی ترقی کے لئے آپکی تعلیمی بے لوث محبت ، انسانی فہم کے سب سے طویل ادوار میں تشکیل دینے میں ایسے بیج بوئے جو متعدد غیر امکانی جگہوں پر نشو نما پائیں گے،اسلامی تاریخ میں ایک خاتون رہنما ۔قابل تقلید شخص کے طور پر معروف ہیں۔تیونس کی شہزادی کو ’’ اسلامی سنت یا والیہ‘‘ سمجھتے ہیںاس دعویٰ کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔اسلامی سنہرے دور کو پھلنے پھولنے میں فاطمہ ا لفہری کا تعاون ناقابل تردید ہے،القار و یین اس وقت دنیا میں علم کا ممتاز ترین مرکز ہے جہاں آّج تک بانی اور اسلام و اعلیٰ تعلیم کی اپنی ر روایات جاری ہیں۔
۲۰۱۶ میں القرون لائبریری کی بحالی کے بعد سے فاطمہ الفہری افسانے نے مرکزی دھارے میں زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ آپ ایک غیر معمولی طورپر سرشار خاتون تھیں،لیکن شاید اپنے وقت کے لئے اس قسم کی رعایت نہیں تھی کہ ہمارا جدید نقطۂ نظر اسے آ پ فکر و احسات کی عکاسی کرنا چاہتا ہے۔آپ مسلم خواتین اسکالرز اور سرپرستوں کی ایک بھرپور روایت کے کندھوں پر کھڑی ہیں اور اس کے بعد بہت سے لوگوں کے لئے آپکی پیروی کرنے کے لئے ،خدمت خلق و ملت کی تعلیمی و ثقافتی کی ترقی،ترجیح کے خواب کی تعبیر میں مگن رہے۔ اسلامی سنہرے دور کو پھلنے پھولنے میں فاطمہ ا لفہری کا تعاون ناقابل تردید ہے،القار و یین اس وقت دنیا میں علم کا ممتاز ترین مرکز ہے جہاں آّج تک بانی اور اسلام و اعلیٰ تعلیم کی اپنی ر روایات جاری ہیں۔ تعلیم کی تبلیغ ، تعلیم کا فروغ علم کے سنہرے ادوار کی بانی ، فاطمہ الفہری اسلامی معاشر ے کے لئے ایک انمول رتن ثابت ہوئیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں