غزل-شہزاد احمد کھٹانہ

شہزاد احمد کھٹانہ
شوپیان، کشمیر
تم سے ملنے کو دل چاہتا ہے
آپنا حال سُوننے کو دل چاہتا ہے
تم سے باتیں کرنے کو بے کارار ہو
تم سے باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے
تم دُور ہو مجھ سے بہت لیکن
تم سے ملنے کو دل چاہتا ہے
دُوریا درمیان بہت ہے ہمارے۔
یہ دوریا میٹنے کو دل چاہتا ہے
بارشوں میں ساتھ بیگھنے کا دل چاہتا ہے
تم سے ملنے کو آب دل چاہتا ہے
تیری حسِین آنکھنوں میں خُو جانے کا دل چاہتا ہے
تیرا دیدار کرنے کو دل چاہتا ہے
مومکِن نہیں ملاقات ہماری پر
تم سے ملنے کو دل چاہتا ہے۔۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

غزل-شہزاد احمد کھٹانہ

شہزاد احمد کھٹانہ
شوپیان، کشمیر
تم سے ملنے کو دل چاہتا ہے
آپنا حال سُوننے کو دل چاہتا ہے
تم سے باتیں کرنے کو بے کارار ہو
تم سے باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے
تم دُور ہو مجھ سے بہت لیکن
تم سے ملنے کو دل چاہتا ہے
دُوریا درمیان بہت ہے ہمارے۔
یہ دوریا میٹنے کو دل چاہتا ہے
بارشوں میں ساتھ بیگھنے کا دل چاہتا ہے
تم سے ملنے کو آب دل چاہتا ہے
تیری حسِین آنکھنوں میں خُو جانے کا دل چاہتا ہے
تیرا دیدار کرنے کو دل چاہتا ہے
مومکِن نہیں ملاقات ہماری پر
تم سے ملنے کو دل چاہتا ہے۔۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون