
شہزاد احمد کھٹانہ
شوپیان، کشمیر
تم سے ملنے کو دل چاہتا ہے
آپنا حال سُوننے کو دل چاہتا ہے
تم سے باتیں کرنے کو بے کارار ہو
تم سے باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے
تم دُور ہو مجھ سے بہت لیکن
تم سے ملنے کو دل چاہتا ہے
دُوریا درمیان بہت ہے ہمارے۔
یہ دوریا میٹنے کو دل چاہتا ہے
بارشوں میں ساتھ بیگھنے کا دل چاہتا ہے
تم سے ملنے کو آب دل چاہتا ہے
تیری حسِین آنکھنوں میں خُو جانے کا دل چاہتا ہے
تیرا دیدار کرنے کو دل چاہتا ہے
مومکِن نہیں ملاقات ہماری پر
تم سے ملنے کو دل چاہتا ہے۔۔


