حمد باری تعالیٰ
احمد وکیل علیمی
خدا تو خدا ہے ، خدا ہی بقا ہے
خدا نور ہے ، ساری خلقت فنا ہے
سمجھ میں جو مفہومِ توحید آئے
عبادت کا اصلی مزہ بندہ پائے
نہ جنّت کے لالچ میں ہو اب عبادت
خدا تو عطا کر مجھے یہ سعادت
طرفدارِ بدعت کو دے دے معافی
تو ایسوں کو دے اب شعورِ معافی
نوازش ، عطا مجھ پہ رحمت تری ہے
یہ دُنیا تو مہونِ منّت تری ہے
ہر ایک شئے میں تو ُ ، تیری جلوہ گری ہے
یقیناً تری منفرد دلبری ہے
علیمی ؔ گنہگار ہے اک ترا بھی
اگر سب کا ہے تو ، تو کچھ ہے مرا بھی


