غزل-بٹ بسمہ

بٹ بسمہ

دوستوں کے شہر میں اغیار ہوگی ہوں میں
ساتھ چھوڑا سب نے، گرفتار ہوگی ہوں میں
انجان سفر میں بچھڑا ہے دلدار میرا کوئی
تیز ہوا میں خود سے دوچار ہو گئی ہوں میں
دل گرفتہ میں ہوں، غمگسار ہو کے چل دیے
شہر کی بستی میں اب غمخوار ہو گی ہوں میں
رات کی تنہائی میں اجڑ گیا خواب‌دار کوئی
راہ بھٹکا، تیز‌تر رفتار ہوگی ہوں میں
بےوفائیوں کا صلہ کچھ تو وفا میں پایا
زخم کھا کے عشق میں ہوشیار ہوگی ہوں میں
اب نہ وہ جذبہ رہا، نہ وہ قرارِ دل باقی
وقت کے ہاتھوں سے بیزار ہو گی ہوں میں
زمانے بھر کے دکھ سینے میں پکار اٹھے،
خامشی میں بھی عجب گفتار ہو گئی ہوں میں۔
کبھی خوابوں میں تھی، اب آئینۂ حقیقت ہوں
تجربوں کے بوجھ سے سمجھدار ہو گئی ہوں میں
بسمہ کہتی ہے دل سے ہر گھڑی یہ رازِ عشق
تجھ کو پا کے بھی عجب لاچار ہو گئی ہوں میں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

غزل-بٹ بسمہ

بٹ بسمہ

دوستوں کے شہر میں اغیار ہوگی ہوں میں
ساتھ چھوڑا سب نے، گرفتار ہوگی ہوں میں
انجان سفر میں بچھڑا ہے دلدار میرا کوئی
تیز ہوا میں خود سے دوچار ہو گئی ہوں میں
دل گرفتہ میں ہوں، غمگسار ہو کے چل دیے
شہر کی بستی میں اب غمخوار ہو گی ہوں میں
رات کی تنہائی میں اجڑ گیا خواب‌دار کوئی
راہ بھٹکا، تیز‌تر رفتار ہوگی ہوں میں
بےوفائیوں کا صلہ کچھ تو وفا میں پایا
زخم کھا کے عشق میں ہوشیار ہوگی ہوں میں
اب نہ وہ جذبہ رہا، نہ وہ قرارِ دل باقی
وقت کے ہاتھوں سے بیزار ہو گی ہوں میں
زمانے بھر کے دکھ سینے میں پکار اٹھے،
خامشی میں بھی عجب گفتار ہو گئی ہوں میں۔
کبھی خوابوں میں تھی، اب آئینۂ حقیقت ہوں
تجربوں کے بوجھ سے سمجھدار ہو گئی ہوں میں
بسمہ کہتی ہے دل سے ہر گھڑی یہ رازِ عشق
تجھ کو پا کے بھی عجب لاچار ہو گئی ہوں میں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں