’’خیال‘‘
=سیما شکور، حیدر آباد
لوگ بدلتے ہیں …
تو خیال آتا ہے
تتلیوں کے رنگ تو …
کچے ہی ہوتے ہیں
اُتر جاتے ہیں
انگلیوں پر لگ جاتے ہیں!
ریت کی دیوار تو …
ہوتی ہے فقط ڈھے جانے کے لیے!
سمندر کی موج …
کب اپنا بناسکی ہے ساحل کو …
آتی ہے ، ٹھہرتی ہے …
چھو کے ایک بار گزر جاتی ہے!
خوشبو کب نبھاتی ہے ساتھ …
پھولوں کا
بچھڑ جاتی ہے …
دور کہیں چلی جاتی ہے !!
درخت بھی چھوڑ دیتے ہیں …
ساتھ ، کر کے تنہا تنہا
پتوں کو گرا دیتے ہیں
لوگ بدلتے ہیں …
تو خیال آتاہے !
لوگ بدلتے ہیں …
تو خیال آتاہے !
l l l


