وندے ماترم پر مسلمانوں کے اعتراض کے وجوہات

ڈاکٹر صالحہ صدیقی

وندے ماترم‘‘ کا مسئلہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم بحث کا موضوع رہا ہے ،’’وندے ماترم‘‘ بنکم چندر چٹرجی کے ناول آنند مٹھ سے ماخوذ ایک معروف قومی نغمہ ہے۔ اس گیت میں مادرِ وطن کی تعریف کی گئی ہے لیکن مکمل نظم میں بنگال کی سرزمین کو ہندو دیویوں (درگا، لکشمی، سرسوتی) کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔
’’وندے ماترم‘‘ ہندوستانی قومیت کا ایک اہم نغمہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس کے بعض حصوں پر مسلمانوں کی جانب سے اعتراض کیا جاتا ہے۔ یہ اعتراض کسی سیاسی یا سماجی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالص مذہبی عقیدے سے متعلق ہے۔ ہندوستانی مسلمان ہمیشہ سے ملک و قوم کے وفادار رہے ہیں اور تحریکِ آزادی میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، اس لیے ’’وندے ماترم‘‘ پر اعتراض کو ہرگز حب الوطنی کی کمی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اس اختلاف کی اصل جڑ اس گیت کے مذہبی پس منظر اور اس میں استعمال ہونے والے عقیدتی تصورات سے وابستہ ہے۔
اس ناول میں بنگال کی مادرِ وطن کو ہندو دیویوں مثلاً درگا، لکشمی اور سرسوتی کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ گیت کے مکمل بند میں مادرِ وطن کو دیوی کا درجہ دیتے ہوئے ’’پوجا‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو اسلام کے بنیادی عقیدے سے متصادم ہے۔ اسلام میں عبادت، بندگی اور تعظیم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ کسی بھی شخصیت، مخلوق یا ملک کی اس نوعیت کی پوجا یا الوہیت کا تصور مسلمانوں کے عقیدے میں جگہ نہیں رکھتا۔ چنانچہ جب ’’وندے ماترم‘‘ کے بعض اشعار میں مادرِ وطن کو دیوی کے طور پر پکارا جاتا ہے تو اس کی ادائیگی مسلمانوں کے لیے مذہبی طور پر مشکل ہو جاتی ہے۔
اصل نظم کے ابتدائی دو بند نسبتاً غیر متنازع ہیں، جن میں صرف وطن کی زرخیزی، خوبصورتی اور نعمتوں کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن مسئلہ اُس حصے سے شروع ہوتا ہے جہاں شاعر مادرِ وطن کو براہِ راست ہندو دیویوں جیسے درگا، لکشمی (کملا) اور سرسوتی—کے روپ میں خطاب کرتا ہے۔ متنازعہ لائن اس طرح ہے: ’’تو ہی درگا، دَلن، ہی کملا، تو ہی وِدیا، تو ہی دِیا، ماتا‘‘۔ اس میں شاعر کہتا ہے کہ مادرِ وطن ہی درگا ہے، وہی لکشمی ہے، وہی سرسوتی یعنی علم کی دیوی ہے۔ اس اندازِ بیان میں ملک کو ایک دیوی کا درجہ دے کر اس کی الوہیت تسلیم کرنے کا تصور ملتا ہے۔ یہ دراصل ایک مذہبی اظہار ہے جو ہندو مہاکاویات اور دیوی پوجا کی روایات سے جڑا ہوا ہے۔
مسلمانوں کا موقف بالکل واضح ہے کہ وہ وطن سے محبت کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ اسلام میں وطن، قوم اور سرزمین کی عزت و حرمت مسلم ہے۔ مسلمان ’’جن گن من‘‘ جیسے قومی ترانے کو احترام سے پڑھتے ہیں کیونکہ اس میں کوئی ایسا لفظ یا تصور موجود نہیں جس سے عقیدے پر زد پڑے۔ اس کے برعکس ’’وندے ماترم‘‘ کے مکمل گیت میں مذہبی رنگ نمایاں ہے جو اسے ایک عام قومی گیت کے دائرے سے نکال کر مذہبی مناجات کے قریب لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان صرف ان حصوں کو پڑھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں جن میں پوجا کا تصور بیان ہوا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 1937 میں انڈین نیشنل کانگریس نے بھی اس مسئلے کا اعتراف کرتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ ’’وندے ماترم‘‘ کے صرف پہلے دو بند ہی ایسے ہیں جن پر کسی مذہبی طبقے کو اعتراض نہیں۔ ان بندوں میں مادرِ وطن کی تعریف تو ہے مگر دیوی اور پوجا کا تصور شامل نہیں۔ اسی لیے بہت سے مسلمان ان دو بندوں کو قابلِ قبول سمجھتے ہیں جبکہ مکمل گیت کی تلاوت سے پرہیز کرتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ متعدد مسلمان مفکرین، قائدین اور قومی شخصیات نے اس گیت کے بارے میں معتدل، مثبت اور متوازن رائے بھی پیش کی ہے۔ یہ شخصیات اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ قومی وحدت، مذہبی آزادی اور باہمی احترام کو ساتھ لے کر ہی اس مسئلے کو سمجھا جا سکتا ہے۔
ان ممتاز شخصیات میں مولانا ابوالکلام آزاد کا نام سب سے نمایاں ہے۔ مولانا آزاد نے واضح طور پر کہا کہ ’’وندے ماترم‘‘ کے ابتدائی دو بند، جن میں صرف وطن کی خوبصورتی اور نعمتوں کا ذکر ہے، غیر مذہبی ہیں اور ان پر مسلمانوں کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ مولانا آزاد کا مؤقف یہ تھا کہ حب الوطنی ایمان کا حصہ ہے، اس لیے غیر مذہبی قومی گیت کا احترام کرنا مسلمانوں کی دینی تعلیمات کے منافی نہیں۔ ان کے خیال میں تنازع صرف ان بندوں سے پیدا ہوتا ہے جن میں دیوی پوجا کا تصور موجود ہے۔
اسی طرح لیاقت علی خان نے بھی تقسیمِ ہند سے قبل ہونے والی بحث میں متوازن رویّہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو مذہبی حصوں کی ادائیگی پر مجبور نہ کیا جائے، لیکن گیت کے غیر مذہبی حصوں کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے نزدیک اس تنازع کا حل یہی تھا کہ قومی سطح پر صرف ابتدائی دو بند اپنائے جائیں، تاکہ تمام مذاہب کے لوگ یکجہتی کے ساتھ اسے قبول کر سکیں۔
کشمیر کے مقبول رہنما شیخ محمد عبداللہ نے بھی ہمیشہ اس مسئلے کو جذباتی بنانے کے بجائے مثبت زاویے سے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان وطن سے محبت کرتے ہیں اور ’’وندے ماترم‘‘ کے وہ حصے جن میں ملک کی قدرتی خوبصورتی کا ذکر ہے، کسی مذہبی ٹکراؤ کا باعث نہیں۔ شیخ عبداللہ نے مذہبی احترام کو برقرار رکھتے ہوئے قومی وحدت پر زور دیا۔
علامہ عنایت اللہ مشرقی (بانیٔ خاکسار تحریک) نے اس گیت پر ہونے والی تنقید کو خالص مذہبی حساسیت کا معاملہ قرار دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر متنازع مذہبی حصے الگ کر دیے جائیں تو یہ گیت ایک بے ضرر قومی نغمے کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مؤقف مسلمانوں کے مذہبی تحفظ اور ملک کی وحدت دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش تھا۔
جدید دور میں عالمی شہرت یافتہ موسیقی کار ار اے۔ آر۔ رحمان نے ’’وندے ماترم‘‘ کی کمپوزیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک یہ گیت مادرِ وطن سے محبت کے اظہار کا ذریعہ ہے، مذہبی عقیدہ نہیں۔ انہوں نے اپنی موسیقی میں صرف غیر متنازع حصے شامل کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اس گیت کی مثبت تعبیر کے قائل ہیں۔
سابق صدرِ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین بھی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے کہا کہ قومی فخر اور مذہبی آزادی دونوں کا احترام ضروری ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ’’وندے ماترم‘‘ کے غیر مذہبی حصے قومی سطح پر اختیار کیے جائیں تو اس کے احترام میں کوئی قباحت نہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ’’وندے ماترم‘‘ پر مسلمانوں کا اعتراض نہ تو سیاسی ضد ہے، نہ قومیت سے گریز، بلکہ ایمان اور عقیدے سے وابستہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ مسلمان مادرِ وطن کا احترام اور محبت پوری شدت سے رکھتے ہیں، مگر عبادت کا حق صرف اللہ کے لیے مانتے ہیں۔ اس پس منظر کو سمجھ کر دیکھا جائے تو یہ اختلاف مذہبی حساسیت سے زیادہ نہیں، اور اسے قومی اتحاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

وندے ماترم پر مسلمانوں کے اعتراض کے وجوہات

ڈاکٹر صالحہ صدیقی

وندے ماترم‘‘ کا مسئلہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم بحث کا موضوع رہا ہے ،’’وندے ماترم‘‘ بنکم چندر چٹرجی کے ناول آنند مٹھ سے ماخوذ ایک معروف قومی نغمہ ہے۔ اس گیت میں مادرِ وطن کی تعریف کی گئی ہے لیکن مکمل نظم میں بنگال کی سرزمین کو ہندو دیویوں (درگا، لکشمی، سرسوتی) کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔
’’وندے ماترم‘‘ ہندوستانی قومیت کا ایک اہم نغمہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس کے بعض حصوں پر مسلمانوں کی جانب سے اعتراض کیا جاتا ہے۔ یہ اعتراض کسی سیاسی یا سماجی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالص مذہبی عقیدے سے متعلق ہے۔ ہندوستانی مسلمان ہمیشہ سے ملک و قوم کے وفادار رہے ہیں اور تحریکِ آزادی میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، اس لیے ’’وندے ماترم‘‘ پر اعتراض کو ہرگز حب الوطنی کی کمی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اس اختلاف کی اصل جڑ اس گیت کے مذہبی پس منظر اور اس میں استعمال ہونے والے عقیدتی تصورات سے وابستہ ہے۔
اس ناول میں بنگال کی مادرِ وطن کو ہندو دیویوں مثلاً درگا، لکشمی اور سرسوتی کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ گیت کے مکمل بند میں مادرِ وطن کو دیوی کا درجہ دیتے ہوئے ’’پوجا‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو اسلام کے بنیادی عقیدے سے متصادم ہے۔ اسلام میں عبادت، بندگی اور تعظیم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ کسی بھی شخصیت، مخلوق یا ملک کی اس نوعیت کی پوجا یا الوہیت کا تصور مسلمانوں کے عقیدے میں جگہ نہیں رکھتا۔ چنانچہ جب ’’وندے ماترم‘‘ کے بعض اشعار میں مادرِ وطن کو دیوی کے طور پر پکارا جاتا ہے تو اس کی ادائیگی مسلمانوں کے لیے مذہبی طور پر مشکل ہو جاتی ہے۔
اصل نظم کے ابتدائی دو بند نسبتاً غیر متنازع ہیں، جن میں صرف وطن کی زرخیزی، خوبصورتی اور نعمتوں کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن مسئلہ اُس حصے سے شروع ہوتا ہے جہاں شاعر مادرِ وطن کو براہِ راست ہندو دیویوں جیسے درگا، لکشمی (کملا) اور سرسوتی—کے روپ میں خطاب کرتا ہے۔ متنازعہ لائن اس طرح ہے: ’’تو ہی درگا، دَلن، ہی کملا، تو ہی وِدیا، تو ہی دِیا، ماتا‘‘۔ اس میں شاعر کہتا ہے کہ مادرِ وطن ہی درگا ہے، وہی لکشمی ہے، وہی سرسوتی یعنی علم کی دیوی ہے۔ اس اندازِ بیان میں ملک کو ایک دیوی کا درجہ دے کر اس کی الوہیت تسلیم کرنے کا تصور ملتا ہے۔ یہ دراصل ایک مذہبی اظہار ہے جو ہندو مہاکاویات اور دیوی پوجا کی روایات سے جڑا ہوا ہے۔
مسلمانوں کا موقف بالکل واضح ہے کہ وہ وطن سے محبت کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ اسلام میں وطن، قوم اور سرزمین کی عزت و حرمت مسلم ہے۔ مسلمان ’’جن گن من‘‘ جیسے قومی ترانے کو احترام سے پڑھتے ہیں کیونکہ اس میں کوئی ایسا لفظ یا تصور موجود نہیں جس سے عقیدے پر زد پڑے۔ اس کے برعکس ’’وندے ماترم‘‘ کے مکمل گیت میں مذہبی رنگ نمایاں ہے جو اسے ایک عام قومی گیت کے دائرے سے نکال کر مذہبی مناجات کے قریب لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان صرف ان حصوں کو پڑھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں جن میں پوجا کا تصور بیان ہوا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 1937 میں انڈین نیشنل کانگریس نے بھی اس مسئلے کا اعتراف کرتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ ’’وندے ماترم‘‘ کے صرف پہلے دو بند ہی ایسے ہیں جن پر کسی مذہبی طبقے کو اعتراض نہیں۔ ان بندوں میں مادرِ وطن کی تعریف تو ہے مگر دیوی اور پوجا کا تصور شامل نہیں۔ اسی لیے بہت سے مسلمان ان دو بندوں کو قابلِ قبول سمجھتے ہیں جبکہ مکمل گیت کی تلاوت سے پرہیز کرتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ متعدد مسلمان مفکرین، قائدین اور قومی شخصیات نے اس گیت کے بارے میں معتدل، مثبت اور متوازن رائے بھی پیش کی ہے۔ یہ شخصیات اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ قومی وحدت، مذہبی آزادی اور باہمی احترام کو ساتھ لے کر ہی اس مسئلے کو سمجھا جا سکتا ہے۔
ان ممتاز شخصیات میں مولانا ابوالکلام آزاد کا نام سب سے نمایاں ہے۔ مولانا آزاد نے واضح طور پر کہا کہ ’’وندے ماترم‘‘ کے ابتدائی دو بند، جن میں صرف وطن کی خوبصورتی اور نعمتوں کا ذکر ہے، غیر مذہبی ہیں اور ان پر مسلمانوں کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ مولانا آزاد کا مؤقف یہ تھا کہ حب الوطنی ایمان کا حصہ ہے، اس لیے غیر مذہبی قومی گیت کا احترام کرنا مسلمانوں کی دینی تعلیمات کے منافی نہیں۔ ان کے خیال میں تنازع صرف ان بندوں سے پیدا ہوتا ہے جن میں دیوی پوجا کا تصور موجود ہے۔
اسی طرح لیاقت علی خان نے بھی تقسیمِ ہند سے قبل ہونے والی بحث میں متوازن رویّہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو مذہبی حصوں کی ادائیگی پر مجبور نہ کیا جائے، لیکن گیت کے غیر مذہبی حصوں کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے نزدیک اس تنازع کا حل یہی تھا کہ قومی سطح پر صرف ابتدائی دو بند اپنائے جائیں، تاکہ تمام مذاہب کے لوگ یکجہتی کے ساتھ اسے قبول کر سکیں۔
کشمیر کے مقبول رہنما شیخ محمد عبداللہ نے بھی ہمیشہ اس مسئلے کو جذباتی بنانے کے بجائے مثبت زاویے سے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان وطن سے محبت کرتے ہیں اور ’’وندے ماترم‘‘ کے وہ حصے جن میں ملک کی قدرتی خوبصورتی کا ذکر ہے، کسی مذہبی ٹکراؤ کا باعث نہیں۔ شیخ عبداللہ نے مذہبی احترام کو برقرار رکھتے ہوئے قومی وحدت پر زور دیا۔
علامہ عنایت اللہ مشرقی (بانیٔ خاکسار تحریک) نے اس گیت پر ہونے والی تنقید کو خالص مذہبی حساسیت کا معاملہ قرار دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر متنازع مذہبی حصے الگ کر دیے جائیں تو یہ گیت ایک بے ضرر قومی نغمے کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مؤقف مسلمانوں کے مذہبی تحفظ اور ملک کی وحدت دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش تھا۔
جدید دور میں عالمی شہرت یافتہ موسیقی کار ار اے۔ آر۔ رحمان نے ’’وندے ماترم‘‘ کی کمپوزیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک یہ گیت مادرِ وطن سے محبت کے اظہار کا ذریعہ ہے، مذہبی عقیدہ نہیں۔ انہوں نے اپنی موسیقی میں صرف غیر متنازع حصے شامل کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اس گیت کی مثبت تعبیر کے قائل ہیں۔
سابق صدرِ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین بھی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے کہا کہ قومی فخر اور مذہبی آزادی دونوں کا احترام ضروری ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ’’وندے ماترم‘‘ کے غیر مذہبی حصے قومی سطح پر اختیار کیے جائیں تو اس کے احترام میں کوئی قباحت نہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ’’وندے ماترم‘‘ پر مسلمانوں کا اعتراض نہ تو سیاسی ضد ہے، نہ قومیت سے گریز، بلکہ ایمان اور عقیدے سے وابستہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ مسلمان مادرِ وطن کا احترام اور محبت پوری شدت سے رکھتے ہیں، مگر عبادت کا حق صرف اللہ کے لیے مانتے ہیں۔ اس پس منظر کو سمجھ کر دیکھا جائے تو یہ اختلاف مذہبی حساسیت سے زیادہ نہیں، اور اسے قومی اتحاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں