IPL 2026 میں آٹھ کرکٹروں کے نام: وادی میں کھیلوں کی نئی امید

 

سید راشد مقبول

وادی کشمیر کی فضا میں اس وقت خوشی اور امید کی ایک نئی لہر محسوس کی جا رہی ہے کیونکہIPL 2026کے کھلاڑیوں کی فہرست میں آٹھ کشمیری کرکٹر شامل کئے گئے ہیں۔ یہ صرف کھیلوں کی دنیا کی خبر نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی پیغام بھی ہے جو نئی نسل کے رجحانات اور بدلتے ہوئے زمینی حقائق کو ظاہر کرتا ہے۔ کشمیر کے نوجوان جو کبھی مشکلات اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار تھے اب اسمارٹ پچوں اور اسٹیڈیم کی روشنیاں اپنا مستقبل سمجھ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی محض فرد کی سطح پر نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذہنی سمت طے کرنے والی پیش رفت ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں کھیلوں کے شعبے میں کشمیری نوجوانوں کی دلچسپی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ کرکٹ کے علاوہ فٹبال، والی بال، کشتی اور سرمائی کھیلوں میں بھی نوجوان بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن آئی پی ایل جیسے بین الاقوامی معیار کے ایونٹ میں آٹھ نوجوانوں کا منتخب ہونا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مواقع فراہم ہوں تو کشمیر کا نوجوان دنیا کے بہترین مقابلوں میں بھی اپنی اہلیت منوا سکتا ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کھیل نوجوانوں کے لئے محض تفریح نہیں رہے۔ یہ ان کی شخصیت سازی، نظم و ضبط، اور محنت کی عادت کو فروغ دیتے ہیں۔ کھیلوں نے کشمیر کے نوجوانوں کو وہ راستہ دیا ہے جس میں کامیابی کا احساس ہے، مثبت شناخت ہے اور مستقبل کی تعمیر کا وعدہ ہے۔ جب نوجوان میدان میں دوڑتا ہے، اپنے آپ کو منواتا ہے اور اپنی کارکردگی کا اعتراف پاتا ہے تو وہ ایک نئی دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ یہ دنیا تشدد اور بے سمتی سے دور ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کھیل بہترین سماجی اصلاح کا ذریعہ ہیں۔
حالیہ برسوں میں حکومت اور مختلف اداروں نے بھی کھیلوں کے انفراسٹرکچر میں خاصی سرمایہ کاری کی ہے۔ نئے اسٹیڈیم، تربیتی مراکز، کوچنگ کیمپ اور ٹورنامنٹس نے نوجوانوں کو ایک باقاعدہ نظام دیا ہے۔ کہیں کرکٹ اکیڈمیاں قائم ہو رہی ہیں، کہیں کھیلوں کے نئے میدان کھل رہے ہیں۔ یہ سب عوامل مل کر ایک ایسے ماحول کی تشکیل کر رہے ہیں جس میں نوجوان اپنی توانائی درست سمت میں صرف کر رہے ہیں۔
آئی پی ایل کی فہرست میں شامل کشمیری کھلاڑی بھی اسی تبدیلی کی علامت ہیں۔ ان میں سے کچھ کے سفر انتہائی مشکل تھے۔ کسی نے خراب معاشی حالات میں ٹینس بال کرکٹ سے آغاز کیا، کوئی برف سے ڈھکی گلیوں میں پریکٹس کرتا رہا۔ لیکن ان سب کی محنت، حوصلے اور لگن نے آج انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ ان کی کامیابی سے وادی کے ہزاروں نوجوانوں کو یہ یقین ملا ہے کہ وہ بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اور اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کھیل نے نوجوانوں کو ایک مثبت بیانیہ دیا ہے۔ آج کشمیر کا نوجوان یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ بندوق نہیں بلکہ بیٹ تھام کر دنیا کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ وہ میدان میں اپنی مہارت دکھا کر عزت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کھیلوں نے اس نسل کو نہ صرف مصروف رکھا ہے بلکہ انہیں وہ اعتماد اور حوصلہ دیا ہے جو ایک پائیدار اور پر امن معاشرے کے لئے ناگزیر ہے۔
آٹھ کشمیری کھلاڑیوں کی آئی پی ایل دو ہزار چھبیس کی فہرست میں شمولیت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ کشمیر کا مستقبل امن، کھیل، ترقی اور مثبت سرگرمیوں میں ہے۔ یہ نوجوان وادی کی نئی شناخت ہیں۔ وہ ایک خاموش لیکن طاقتور پیغام دے رہے ہیں کہ خواب دیکھنے اور انہیں حاصل کرنے کے لئے صرف محنت اور راستہ درکار ہوتا ہے۔
یہ لمحہ وادی کے لئے باعث فخر ہے۔ یہ نوجوان صرف کھلاڑی نہیں بلکہ کشمیر کے روشن چہروں کے سفیر بھی ہیں۔ ان کی کامیابی کے ساتھ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید نوجوان کھیلوں کے میدان میں قدم رکھیں گے اور دنیا کے سامنے ایک طاقتور، صحت مند اور پرعزم کشمیر کی تصویر پیش کریں گے۔
یہ پیش رفت نہ صرف موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے بلکہ مستقبل کے امکانات کو بھی روشن کرتی ہے۔ وادی میں کھیلوں کی سرگرمیوں نے رفتہ رفتہ ایک ایسی مثبت فضا قائم کی ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ نوجوانوں کو پہنچ رہا ہے۔ اس مثبت رجحان نے سماج میں ایک نئی گفتگو کو جنم دیا ہے جس میں نوجوانوں کے کردار، ان کے امکانات اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
کشمیر کے کوچز اور کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن آٹھ کھلاڑیوں کو آئی پی ایل دو ہزار چھبیس کے لئے منتخب کیا گیا ہے ان کی تکنیکی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی مضبوطی بھی قابل تعریف ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے روزمرہ مشکلات کے باوجود مسلسل محنت کی۔ خراب موسم، محدود سہولیات اور بعض سماجی دباؤ کے باوجود ان کے جذبے میں کمی نہیں آئی۔ ان کے لئے کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ خوابوں کی تعبیر کا ذریعہ تھا۔
ان کھلاڑیوں کا انتخاب اس لئے بھی اہم ہے کہ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ کشمیر میں موجود ٹیلنٹ کسی بھی بڑے شہر کے کھلاڑیوں سے کم نہیں۔ اگر وادی میں مزید سہولیات اور مواقع فراہم کئے جائیں تو آنے والے برسوں میں کشمیر کھیلوں کے میدان میں ایک مضبوط پہچان بنا سکتا ہے۔ اس حوالے سے والدین کا بدلتا ہوا رویہ بھی قابل ذکر ہے۔ ابھی چند دہائیاں قبل تک کھیلوں کو صرف وقت گزاری سمجھا جاتا تھا لیکن اب والدین اپنے بچوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کھیلوں نے وادی میں معاشرتی سطح پر ایک مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔ جب نوجوان اسٹیڈیموں میں مشغول ہوتے ہیں تو ان کا وقت صحت مند سرگرمیوں میں گزرتا ہے۔ اس سے نہ صرف وہ جسمانی طور پر مضبوط ہوتے ہیں بلکہ ذہنی تناؤ بھی کم ہوتا ہے۔ کھیلوں میں مقابلے کا جذبہ انہیں نظم و ضبط، محنت، ٹیم ورک اور صبر جیسی خوبیاں سکھاتا ہے۔ یہی خصوصیات بعد میں ان کی عملی زندگی میں بھی ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔
کھیلوں کی بہتری سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔ کرکٹ اکیڈمیوں میں نئے روزگار پیدا ہوئے ہیں۔ کوچز، ٹرینرز، اسپورٹس شاپس، اسٹیڈیم کے عملے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والوں کو بھی نئی راہیں ملی ہیں۔ آئی پی ایل جیسے بڑے ایونٹس میں کشمیری نوجوانوں کی شمولیت سے وادی دنیا بھر میں ایک مثبت پیغام دیتی ہے کہ یہ علاقہ امن، تعمیر، صلاحیت اور ترقی کا مرکز بن رہا ہے۔
یہ بھی اہم ہے کہ وادی میں منعقد ہونے والے مقامی ٹورنامنٹس نے نوجوانوں کو اپنے کھیل کو نکھارنے کے لئے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ چنار کرکٹ لیگ، سرمائی اسپورٹس فیسٹیول اور دیگر مقابلوں نے نہ صرف کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کئے بلکہ مقامی سطح پر کرکٹ کے کلچر کو بھی مضبوط کیا ہے۔ ان ٹورنامنٹس میں بڑے پیمانے پر شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان اب اپنی شناخت کھیل کے ذریعے قائم کرنا چاہتے ہیں۔
آٹھ کھلاڑیوں کا آئی پی ایل کی فہرست میں شامل ہونا دراصل ایک علامت ہے۔ یہ اس سفر کی نمائندگی کرتا ہے جو نوجوانوں نے مشکلات سے امید تک کا طے کیا ہے۔ یہ انتخاب صرف ایک خبر نہیں بلکہ اس نوجوان نسل کی خاموش کامیابی ہے جو اپنی محنت سے دنیا کو بتا رہی ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا راستہ کھیلوں، تعلیم اور ترقی سے ہو کر گزرتا ہے۔
یہ لمحہ ہم سب کے لئے خوشی کا ہے۔ یہ نوجوان نہ صرف اپنے خاندان کا سہارا بنیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بھی ہوں گے۔ ان کی کامیابی سے وادی کے ہر گھر میں یہ یقین پیدا ہو رہا ہے کہ محنت رنگ لاتی ہے۔ امید ہے کہ یہ سفر جاری رہے گا اور کشمیر کے نوجوان آنے والے برسوں میں بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے رہیں گے۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

IPL 2026 میں آٹھ کرکٹروں کے نام: وادی میں کھیلوں کی نئی امید

 

سید راشد مقبول

وادی کشمیر کی فضا میں اس وقت خوشی اور امید کی ایک نئی لہر محسوس کی جا رہی ہے کیونکہIPL 2026کے کھلاڑیوں کی فہرست میں آٹھ کشمیری کرکٹر شامل کئے گئے ہیں۔ یہ صرف کھیلوں کی دنیا کی خبر نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی پیغام بھی ہے جو نئی نسل کے رجحانات اور بدلتے ہوئے زمینی حقائق کو ظاہر کرتا ہے۔ کشمیر کے نوجوان جو کبھی مشکلات اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار تھے اب اسمارٹ پچوں اور اسٹیڈیم کی روشنیاں اپنا مستقبل سمجھ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی محض فرد کی سطح پر نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذہنی سمت طے کرنے والی پیش رفت ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں کھیلوں کے شعبے میں کشمیری نوجوانوں کی دلچسپی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ کرکٹ کے علاوہ فٹبال، والی بال، کشتی اور سرمائی کھیلوں میں بھی نوجوان بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن آئی پی ایل جیسے بین الاقوامی معیار کے ایونٹ میں آٹھ نوجوانوں کا منتخب ہونا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مواقع فراہم ہوں تو کشمیر کا نوجوان دنیا کے بہترین مقابلوں میں بھی اپنی اہلیت منوا سکتا ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کھیل نوجوانوں کے لئے محض تفریح نہیں رہے۔ یہ ان کی شخصیت سازی، نظم و ضبط، اور محنت کی عادت کو فروغ دیتے ہیں۔ کھیلوں نے کشمیر کے نوجوانوں کو وہ راستہ دیا ہے جس میں کامیابی کا احساس ہے، مثبت شناخت ہے اور مستقبل کی تعمیر کا وعدہ ہے۔ جب نوجوان میدان میں دوڑتا ہے، اپنے آپ کو منواتا ہے اور اپنی کارکردگی کا اعتراف پاتا ہے تو وہ ایک نئی دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ یہ دنیا تشدد اور بے سمتی سے دور ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کھیل بہترین سماجی اصلاح کا ذریعہ ہیں۔
حالیہ برسوں میں حکومت اور مختلف اداروں نے بھی کھیلوں کے انفراسٹرکچر میں خاصی سرمایہ کاری کی ہے۔ نئے اسٹیڈیم، تربیتی مراکز، کوچنگ کیمپ اور ٹورنامنٹس نے نوجوانوں کو ایک باقاعدہ نظام دیا ہے۔ کہیں کرکٹ اکیڈمیاں قائم ہو رہی ہیں، کہیں کھیلوں کے نئے میدان کھل رہے ہیں۔ یہ سب عوامل مل کر ایک ایسے ماحول کی تشکیل کر رہے ہیں جس میں نوجوان اپنی توانائی درست سمت میں صرف کر رہے ہیں۔
آئی پی ایل کی فہرست میں شامل کشمیری کھلاڑی بھی اسی تبدیلی کی علامت ہیں۔ ان میں سے کچھ کے سفر انتہائی مشکل تھے۔ کسی نے خراب معاشی حالات میں ٹینس بال کرکٹ سے آغاز کیا، کوئی برف سے ڈھکی گلیوں میں پریکٹس کرتا رہا۔ لیکن ان سب کی محنت، حوصلے اور لگن نے آج انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ ان کی کامیابی سے وادی کے ہزاروں نوجوانوں کو یہ یقین ملا ہے کہ وہ بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اور اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کھیل نے نوجوانوں کو ایک مثبت بیانیہ دیا ہے۔ آج کشمیر کا نوجوان یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ بندوق نہیں بلکہ بیٹ تھام کر دنیا کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ وہ میدان میں اپنی مہارت دکھا کر عزت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کھیلوں نے اس نسل کو نہ صرف مصروف رکھا ہے بلکہ انہیں وہ اعتماد اور حوصلہ دیا ہے جو ایک پائیدار اور پر امن معاشرے کے لئے ناگزیر ہے۔
آٹھ کشمیری کھلاڑیوں کی آئی پی ایل دو ہزار چھبیس کی فہرست میں شمولیت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ کشمیر کا مستقبل امن، کھیل، ترقی اور مثبت سرگرمیوں میں ہے۔ یہ نوجوان وادی کی نئی شناخت ہیں۔ وہ ایک خاموش لیکن طاقتور پیغام دے رہے ہیں کہ خواب دیکھنے اور انہیں حاصل کرنے کے لئے صرف محنت اور راستہ درکار ہوتا ہے۔
یہ لمحہ وادی کے لئے باعث فخر ہے۔ یہ نوجوان صرف کھلاڑی نہیں بلکہ کشمیر کے روشن چہروں کے سفیر بھی ہیں۔ ان کی کامیابی کے ساتھ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید نوجوان کھیلوں کے میدان میں قدم رکھیں گے اور دنیا کے سامنے ایک طاقتور، صحت مند اور پرعزم کشمیر کی تصویر پیش کریں گے۔
یہ پیش رفت نہ صرف موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے بلکہ مستقبل کے امکانات کو بھی روشن کرتی ہے۔ وادی میں کھیلوں کی سرگرمیوں نے رفتہ رفتہ ایک ایسی مثبت فضا قائم کی ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ نوجوانوں کو پہنچ رہا ہے۔ اس مثبت رجحان نے سماج میں ایک نئی گفتگو کو جنم دیا ہے جس میں نوجوانوں کے کردار، ان کے امکانات اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
کشمیر کے کوچز اور کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن آٹھ کھلاڑیوں کو آئی پی ایل دو ہزار چھبیس کے لئے منتخب کیا گیا ہے ان کی تکنیکی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی مضبوطی بھی قابل تعریف ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے روزمرہ مشکلات کے باوجود مسلسل محنت کی۔ خراب موسم، محدود سہولیات اور بعض سماجی دباؤ کے باوجود ان کے جذبے میں کمی نہیں آئی۔ ان کے لئے کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ خوابوں کی تعبیر کا ذریعہ تھا۔
ان کھلاڑیوں کا انتخاب اس لئے بھی اہم ہے کہ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ کشمیر میں موجود ٹیلنٹ کسی بھی بڑے شہر کے کھلاڑیوں سے کم نہیں۔ اگر وادی میں مزید سہولیات اور مواقع فراہم کئے جائیں تو آنے والے برسوں میں کشمیر کھیلوں کے میدان میں ایک مضبوط پہچان بنا سکتا ہے۔ اس حوالے سے والدین کا بدلتا ہوا رویہ بھی قابل ذکر ہے۔ ابھی چند دہائیاں قبل تک کھیلوں کو صرف وقت گزاری سمجھا جاتا تھا لیکن اب والدین اپنے بچوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کھیلوں نے وادی میں معاشرتی سطح پر ایک مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔ جب نوجوان اسٹیڈیموں میں مشغول ہوتے ہیں تو ان کا وقت صحت مند سرگرمیوں میں گزرتا ہے۔ اس سے نہ صرف وہ جسمانی طور پر مضبوط ہوتے ہیں بلکہ ذہنی تناؤ بھی کم ہوتا ہے۔ کھیلوں میں مقابلے کا جذبہ انہیں نظم و ضبط، محنت، ٹیم ورک اور صبر جیسی خوبیاں سکھاتا ہے۔ یہی خصوصیات بعد میں ان کی عملی زندگی میں بھی ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔
کھیلوں کی بہتری سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔ کرکٹ اکیڈمیوں میں نئے روزگار پیدا ہوئے ہیں۔ کوچز، ٹرینرز، اسپورٹس شاپس، اسٹیڈیم کے عملے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والوں کو بھی نئی راہیں ملی ہیں۔ آئی پی ایل جیسے بڑے ایونٹس میں کشمیری نوجوانوں کی شمولیت سے وادی دنیا بھر میں ایک مثبت پیغام دیتی ہے کہ یہ علاقہ امن، تعمیر، صلاحیت اور ترقی کا مرکز بن رہا ہے۔
یہ بھی اہم ہے کہ وادی میں منعقد ہونے والے مقامی ٹورنامنٹس نے نوجوانوں کو اپنے کھیل کو نکھارنے کے لئے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ چنار کرکٹ لیگ، سرمائی اسپورٹس فیسٹیول اور دیگر مقابلوں نے نہ صرف کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کئے بلکہ مقامی سطح پر کرکٹ کے کلچر کو بھی مضبوط کیا ہے۔ ان ٹورنامنٹس میں بڑے پیمانے پر شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان اب اپنی شناخت کھیل کے ذریعے قائم کرنا چاہتے ہیں۔
آٹھ کھلاڑیوں کا آئی پی ایل کی فہرست میں شامل ہونا دراصل ایک علامت ہے۔ یہ اس سفر کی نمائندگی کرتا ہے جو نوجوانوں نے مشکلات سے امید تک کا طے کیا ہے۔ یہ انتخاب صرف ایک خبر نہیں بلکہ اس نوجوان نسل کی خاموش کامیابی ہے جو اپنی محنت سے دنیا کو بتا رہی ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا راستہ کھیلوں، تعلیم اور ترقی سے ہو کر گزرتا ہے۔
یہ لمحہ ہم سب کے لئے خوشی کا ہے۔ یہ نوجوان نہ صرف اپنے خاندان کا سہارا بنیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بھی ہوں گے۔ ان کی کامیابی سے وادی کے ہر گھر میں یہ یقین پیدا ہو رہا ہے کہ محنت رنگ لاتی ہے۔ امید ہے کہ یہ سفر جاری رہے گا اور کشمیر کے نوجوان آنے والے برسوں میں بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے رہیں گے۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں