فلسطین کی آزادی، عالمی استحکام کی کلید،پوتن کاامید افزاء بیان 

جاوید جمال الدین

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے دو، روزہ دورہ پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں ایک بار پھر ایک مشرق وسطی کے اہم ترین مسئلہ فلسطین کے حل پر زور دیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں اس بات کا اظہار کیا کہ ’’فلسطین کی آزادی ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ اور اس مسئلہ کیلئے کسی نئے منصوبہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قراردادوں کے نفاذ کے ذریعہ اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ”
ولادیمیر پوتن نے فلسطین کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں واضح طورپرکہاکہ’’ہم کوئی نیا منصوبہ پیش نہیں کر رہے۔ ہمارا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اقوام متحدہ میں کئی برسوں میں جو قراردادیں منظور کی گئی ہیں،انہیں نافذ کیا جائے۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہاکہ سب سے اہم اور واحد حل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔روسی صدر نے کہا کہ یہی تمام مسائل کے حل کی کلید بھی ہے۔اس گفتگوکے دوران انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور دیرپا حل صرف اسی وقت ممکن ہے، جب طویل عرصے سے زیر التواء بین الاقوامی فریم ورک اور معاہدوں پر عمل درآمد ہو۔
اس سوال پر کہ ایران-اسرائیل تنازع پر وہ کس رائے کے حامل ہیں اور کیا عرب ممالک کو ایران کی طرح فلسطین کی زیادہ قوت کے ساتھ حمایت کرنی چاہئے، ولادیمیر پوتن نے فلسطین کیلئے اپنے اہم اتحادی ملک ایران کی حمایت کی پزیرائی کی مگر اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ عرب ممالک نے فلسطین کی خاطر خواہ مدد نہیں کی۔
انہوں نے کہاکہ ہرعرب ملک اپنے اپنے طور پر فلسطین اور اس کے عوام کیلئے فکر مند ہے اور مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔کچھ کوششیں نظر آتی ہیں اور کچھ پردہ کے پیچھے ہی رہتی ہیں،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کچھ نہیں کر رہا ہے۔
البتہ پوتن نے مسئلہ فلسطین کی پیچیدگی کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ اسے فوراً اور آسانی سے حل نہیں کیا جاسکتا۔بقول روسی صدر یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے کہ چند ماہ میں یا ایک بٹن دبا کر حل کر لیا جائے۔ اس تعلق سے عالمی برداری کوصبر اور مسلسل کوششوں پرتوجہ دینے پرزور دیا اور اس بات کو دہرایا کہ حتمی مقصد آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے۔
ویسے غزہ میں جو حالات ہیں ،وہ تشویش ناک ہیں، اسرائیل روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہا ہے ،بلکہ کئی منفی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش جاری ہےاب اس نے حماس کا مقابلہ کرنے کیلئےگزشتہ کچھ عرصے میں اپنے حمایت کردہ گروہوں کو سرگرم کردیا ہے، غزہ میں مسلح گروہ سرگرم ہوئے ہیں جن کے تعلق سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔دراصل ان میں سے کچھ قبائلی گروہ ہیں، کچھ جرائم پیشہ گینگ ہیں اور کچھ نئے ملیشیا ہیں، ان کے بارے جیسے پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر کو اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے دبے الفاظ میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فلسطین اتھاریٹی میں شامل چند عناصر بھی خفیہ طور پر ان گروہوں کی مدد کرتے ہیں،لیکن یہ گروہ غزہ کے اُس حصے میں اپنے آبائی علاقے میں کام کر رہے ہیں جو اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں لیکن انھیں سرکاری طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امن منصوبے میں شامل نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے ہیں امن منصوبے کے تحت عالمی استحکام فورس اور نئی تربیت یافتہ فلسطینی پولیس فورس کا تصور پیش کیا گیا تھا تاکہ معاہدے کے اگلے مرحلے میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا جا سکے۔ ان گروپوں میں سے ایک کی قیادت یاسر ابو شباب کر رہے ہیں، جن کی عوامی فورس جنوبی شہر رفح کے قریب کام کرتی ہے۔ حال ہی میں ایک ویڈیو میں ان کے نائب نے اس منصوبے کے تحت غزہ کا انتظام سنبھالنے والے بین الاقوامی ادارے، امن کونسل، کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بارے میں بات کی۔ اسی طرح حسام الاستل جنوبی شہر خان یونس کے قریب ’اینٹی ٹیرارسٹ اسٹرائک فورس‘ نامی گروپ کے قائد ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’امریکی نمائندوں‘ نے تصدیق کی ہے کہ ان کا گروہ غزہ کی آئندہ پولیس فورس میں اہم کردار ادا کرے گا۔ان سے دریافت کیے جانےپر ان کی مستقبل کے تعلق سے امریکی انتظامیہ سے گفتگو ہوئی ہےتب انہوں نے کہا کہ میں جلد ہی اس کی تفصیلات سے آپ کو آگاہ کروں گا۔بتایا جاتا ہے کہ یہ گروہ زیادہ پراعتما د دکھائی دے رہا ہے اور خان یونس کے قریب بستی میں ضروریاتِ زندگی کی اشیا سپلائی کر رہا ہے۔ اوراسرائیل انہیں امدادی اشیاء فراہم یا سپلائی کر رہا ہے،ویسے ان کا جواب غیر اطمینان بخش تھا ۔لیکن اسرائیل کے ساتھ خوراک، ہتھیار یہاں تک کہ سب کچھ لانے کیلئے وہ رابطہ کرتے ہیں۔‘ البتہ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل ہی واحد ملک نہیں ہے کہ جہاں سے مدد ملتی ہے۔ ہمیں یہ بھی سُننے کو ملتا ہے کہ ہم اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ ہم اسرائیل کے ایجنٹ نہیں ہیں۔‘ ہمیں فلسطینی اتھاریٹی، امریکہ یا کسی بھی ایسے فریق کے ساتھ تعاون کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں جو ہمارے ساتھ کھڑا ہو۔ ہم حماس کا متبادل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے باشندے جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو حماس سے مایوس ہو چکے ہیں، ان مسلح گروہوں سے ناخوش ہیں۔صرف چند ایسے مرد، جن کا نہ کوئی دین ہے، نہ ایمان اور نہ اخلاق، ان مجرموں کا ساتھ دے رہے ہیں۔یہ گروہ جو قبضے یعنی اسرائیل کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جنگ کی سب سے بدترین پیداوار ہیں ان میں شامل ہونا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ غداری ہے،اب متعدد مسلح گروہ حماس کا مقابلہ کر رہے ہیں جن کے باہمی تعلقات پیچیدہ اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
نیتن یاہو نے اصرار کیا ہے کہ غزہ پر نہ حماس حکومت کرے گی اور نہ ہی اس کی حریف فلسطینی اتھاریٹی۔ امریکی امن منصوبے کے مطابق فلسطینیوں کی ایک تکنیکی اور غیر سیاسی کمیٹی غزہ کا قلیل المدتی انتظام بین الاقوامی نگرانی میں چلائے گی۔
اگرروس کے صدر ولادیمیر پوتن کے بیان پر غور کیا جائے تو انہوں نے دو ٹوک انداز میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ فلسطین کی آزادی ہی تمام مسائل کا حل ہے اور اسے بنیادی حل قرار دیا ہے۔جس کے لیے انہوں نے کہاکہ اس کے لیے نئے منصوبہ کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ مسئلہ کا حل اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قراردادوں کے نفاذ کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔جبکہ انہوں نے زور دیا کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام سب سے اہم اور واحد حل ہے، اور یہی تمام مسائل کے حل کی کلید بھی ہے۔پوتن نے کہا کہ منصفانہ اور دیرپا حل صرف اسی وقت ممکن ہے جب طویل عرصے سے زیر التواء بین الاقوامی فریم ورک اور معاہدوں پر عمل درآمد ہو۔ولادیمیر پوتن نے فلسطین کے لیے اپنے اہم اتحادی ملک ایران کی حمایت کی پزیرائی کی۔وہ عرب ممالک کے اقدامات سے بھی مطمئن نظرآئے۔صدر پوتن کا بیان امید افزاء ہے کہ "فلسطین کی آزادی تمام مسائل کا حل ہے۔”
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

فلسطین کی آزادی، عالمی استحکام کی کلید،پوتن کاامید افزاء بیان 

جاوید جمال الدین

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے دو، روزہ دورہ پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں ایک بار پھر ایک مشرق وسطی کے اہم ترین مسئلہ فلسطین کے حل پر زور دیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں اس بات کا اظہار کیا کہ ’’فلسطین کی آزادی ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ اور اس مسئلہ کیلئے کسی نئے منصوبہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قراردادوں کے نفاذ کے ذریعہ اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ”
ولادیمیر پوتن نے فلسطین کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں واضح طورپرکہاکہ’’ہم کوئی نیا منصوبہ پیش نہیں کر رہے۔ ہمارا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اقوام متحدہ میں کئی برسوں میں جو قراردادیں منظور کی گئی ہیں،انہیں نافذ کیا جائے۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہاکہ سب سے اہم اور واحد حل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔روسی صدر نے کہا کہ یہی تمام مسائل کے حل کی کلید بھی ہے۔اس گفتگوکے دوران انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور دیرپا حل صرف اسی وقت ممکن ہے، جب طویل عرصے سے زیر التواء بین الاقوامی فریم ورک اور معاہدوں پر عمل درآمد ہو۔
اس سوال پر کہ ایران-اسرائیل تنازع پر وہ کس رائے کے حامل ہیں اور کیا عرب ممالک کو ایران کی طرح فلسطین کی زیادہ قوت کے ساتھ حمایت کرنی چاہئے، ولادیمیر پوتن نے فلسطین کیلئے اپنے اہم اتحادی ملک ایران کی حمایت کی پزیرائی کی مگر اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ عرب ممالک نے فلسطین کی خاطر خواہ مدد نہیں کی۔
انہوں نے کہاکہ ہرعرب ملک اپنے اپنے طور پر فلسطین اور اس کے عوام کیلئے فکر مند ہے اور مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔کچھ کوششیں نظر آتی ہیں اور کچھ پردہ کے پیچھے ہی رہتی ہیں،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کچھ نہیں کر رہا ہے۔
البتہ پوتن نے مسئلہ فلسطین کی پیچیدگی کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ اسے فوراً اور آسانی سے حل نہیں کیا جاسکتا۔بقول روسی صدر یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے کہ چند ماہ میں یا ایک بٹن دبا کر حل کر لیا جائے۔ اس تعلق سے عالمی برداری کوصبر اور مسلسل کوششوں پرتوجہ دینے پرزور دیا اور اس بات کو دہرایا کہ حتمی مقصد آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے۔
ویسے غزہ میں جو حالات ہیں ،وہ تشویش ناک ہیں، اسرائیل روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہا ہے ،بلکہ کئی منفی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش جاری ہےاب اس نے حماس کا مقابلہ کرنے کیلئےگزشتہ کچھ عرصے میں اپنے حمایت کردہ گروہوں کو سرگرم کردیا ہے، غزہ میں مسلح گروہ سرگرم ہوئے ہیں جن کے تعلق سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔دراصل ان میں سے کچھ قبائلی گروہ ہیں، کچھ جرائم پیشہ گینگ ہیں اور کچھ نئے ملیشیا ہیں، ان کے بارے جیسے پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر کو اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے دبے الفاظ میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فلسطین اتھاریٹی میں شامل چند عناصر بھی خفیہ طور پر ان گروہوں کی مدد کرتے ہیں،لیکن یہ گروہ غزہ کے اُس حصے میں اپنے آبائی علاقے میں کام کر رہے ہیں جو اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں لیکن انھیں سرکاری طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امن منصوبے میں شامل نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے ہیں امن منصوبے کے تحت عالمی استحکام فورس اور نئی تربیت یافتہ فلسطینی پولیس فورس کا تصور پیش کیا گیا تھا تاکہ معاہدے کے اگلے مرحلے میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا جا سکے۔ ان گروپوں میں سے ایک کی قیادت یاسر ابو شباب کر رہے ہیں، جن کی عوامی فورس جنوبی شہر رفح کے قریب کام کرتی ہے۔ حال ہی میں ایک ویڈیو میں ان کے نائب نے اس منصوبے کے تحت غزہ کا انتظام سنبھالنے والے بین الاقوامی ادارے، امن کونسل، کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بارے میں بات کی۔ اسی طرح حسام الاستل جنوبی شہر خان یونس کے قریب ’اینٹی ٹیرارسٹ اسٹرائک فورس‘ نامی گروپ کے قائد ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’امریکی نمائندوں‘ نے تصدیق کی ہے کہ ان کا گروہ غزہ کی آئندہ پولیس فورس میں اہم کردار ادا کرے گا۔ان سے دریافت کیے جانےپر ان کی مستقبل کے تعلق سے امریکی انتظامیہ سے گفتگو ہوئی ہےتب انہوں نے کہا کہ میں جلد ہی اس کی تفصیلات سے آپ کو آگاہ کروں گا۔بتایا جاتا ہے کہ یہ گروہ زیادہ پراعتما د دکھائی دے رہا ہے اور خان یونس کے قریب بستی میں ضروریاتِ زندگی کی اشیا سپلائی کر رہا ہے۔ اوراسرائیل انہیں امدادی اشیاء فراہم یا سپلائی کر رہا ہے،ویسے ان کا جواب غیر اطمینان بخش تھا ۔لیکن اسرائیل کے ساتھ خوراک، ہتھیار یہاں تک کہ سب کچھ لانے کیلئے وہ رابطہ کرتے ہیں۔‘ البتہ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل ہی واحد ملک نہیں ہے کہ جہاں سے مدد ملتی ہے۔ ہمیں یہ بھی سُننے کو ملتا ہے کہ ہم اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ ہم اسرائیل کے ایجنٹ نہیں ہیں۔‘ ہمیں فلسطینی اتھاریٹی، امریکہ یا کسی بھی ایسے فریق کے ساتھ تعاون کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں جو ہمارے ساتھ کھڑا ہو۔ ہم حماس کا متبادل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے باشندے جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو حماس سے مایوس ہو چکے ہیں، ان مسلح گروہوں سے ناخوش ہیں۔صرف چند ایسے مرد، جن کا نہ کوئی دین ہے، نہ ایمان اور نہ اخلاق، ان مجرموں کا ساتھ دے رہے ہیں۔یہ گروہ جو قبضے یعنی اسرائیل کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جنگ کی سب سے بدترین پیداوار ہیں ان میں شامل ہونا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ غداری ہے،اب متعدد مسلح گروہ حماس کا مقابلہ کر رہے ہیں جن کے باہمی تعلقات پیچیدہ اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
نیتن یاہو نے اصرار کیا ہے کہ غزہ پر نہ حماس حکومت کرے گی اور نہ ہی اس کی حریف فلسطینی اتھاریٹی۔ امریکی امن منصوبے کے مطابق فلسطینیوں کی ایک تکنیکی اور غیر سیاسی کمیٹی غزہ کا قلیل المدتی انتظام بین الاقوامی نگرانی میں چلائے گی۔
اگرروس کے صدر ولادیمیر پوتن کے بیان پر غور کیا جائے تو انہوں نے دو ٹوک انداز میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ فلسطین کی آزادی ہی تمام مسائل کا حل ہے اور اسے بنیادی حل قرار دیا ہے۔جس کے لیے انہوں نے کہاکہ اس کے لیے نئے منصوبہ کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ مسئلہ کا حل اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قراردادوں کے نفاذ کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔جبکہ انہوں نے زور دیا کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام سب سے اہم اور واحد حل ہے، اور یہی تمام مسائل کے حل کی کلید بھی ہے۔پوتن نے کہا کہ منصفانہ اور دیرپا حل صرف اسی وقت ممکن ہے جب طویل عرصے سے زیر التواء بین الاقوامی فریم ورک اور معاہدوں پر عمل درآمد ہو۔ولادیمیر پوتن نے فلسطین کے لیے اپنے اہم اتحادی ملک ایران کی حمایت کی پزیرائی کی۔وہ عرب ممالک کے اقدامات سے بھی مطمئن نظرآئے۔صدر پوتن کا بیان امید افزاء ہے کہ "فلسطین کی آزادی تمام مسائل کا حل ہے۔”
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں