
بلال احمد پرے
ہاری پاری گام ترال
حضرت نبی کریم ﷺ انتہائی رحم دل، محبت و شفقت کے پیکر اور خوش و خرم اخلاق کے روا دار تھے ۔ آپ ﷺ نہ صرف انسانیت سے بے پناہ محبت کرتے تھے بلکہ جمادات کے ساتھ ساتھ نباتات پر بھی رحمت و شفقت والے تھے ۔ آپﷺ کی رحمت دریا سے بڑھ کر جوئے ماراں تھی ۔
نبی رحمتﷺ کا بچوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ بے حد نرالا تھا ۔ آپ ﷺ نہ صرف اپنے بچوں بلکہ تمام بچوں پر نہایت ہی رحم دل، شفیق و مہربان تھے ۔ اس کا بین ثبوت آپﷺ کی نرم گفتار، حلیم کردار، شفیق لبِ اظہار، رُخِ دلدار اور محبتِ سرشار بھرے جوہر دار، دامن دار رویے سے ملتا ہے ۔ آپﷺ کے بچوں سے پیار، ان کی دعائیں، اور ان کی نصیحتیں جو بچوں کی تربیت اور پرورش کے لیے بہترین نمونہ ہیں واقعی قابلِ ساغر سرشار ہے ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ بچّوں پر مہربان تھے۔ (کتاب المسلم)
آپ ﷺ بچوں کو اپنے قریب لایا کرتے تھے اور ان کی نفسیات جانچ لیتے تھے ۔ انہیں اپنے گود میں بٹھا لیتے تھے ۔ پیار سے انہیں گلے لگاتے تھے ۔ ان کے سر پر اپنا دست مبارک پھیرتے تھے ۔ ان کو موسم کے اعتبار سے آنے والے نئے نئے پھل ہدیہ دیا کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ اُنہیں اپنی سواری پر بِٹھایا کرتے تھے ۔ انہیں ڈھیر ساری نیک دعائیں دیتے تھے ۔ ان کو نصیحت فرمایا کرتے تھے اور ساتھ میں بہترین تربیت فرماتے تھے ۔
آپ ﷺ کا مبارک ارشاد ہے کہ ” مسلمانوں کے بچے جنت کی چڑیاں ہیں۔” (کتاب المسلم)
اس طرح سے اس گھر میں چڑیوں کی طرح خوبصورت چہچہانا، ترنم و سریلی چوں چوں ہوتی ہیں، جہاں بچے ہوتے ہیں ۔ جو دل کو خوشی اور دماغ کو سکون بخشتے ہے ۔ بقول شاعر
فقط مال و زر ، دیوار و در اچھا نہیں لگتا
جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا
آپ ﷺ کا یہ غیر معمولی شفقت اور محبت نے بچوں کی پرورش کے لیے ایک ایسا نمونہ قائم کیا جو آج بھی مسلم معاشرے کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے رہنمائی کا ایک مضبوط ذریعہ اور لائحہ عمل پیش کرتا ہے ۔ جس سے بچوں میں مساوات اور حق کی اہمیت بڑی گہرائی کے ساتھ سکھائی گئی ہے ۔
۱۔ طریقۂ رسولﷺ اور محبت ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ” حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا۔ اُس وقت آپ ﷺ کے پاس اقرع بن حابس تمیمی بھی بیٹھے تھے وہ بولے یا رسول اللہﷺ! میرے دس بیٹے ہیں میں نے تو کبھی اُن میں سے کسی کو نہیں چوما۔ اِس پر آپ ﷺ نے اُس کی طرف دیکھ کر فرمایا جو رحم نہیں کرتا اُس پر رحم نہیں کیا جاتا۔” (متفق علیہ)
اس حدیث مبارک سے آج کے والدین کے لئے بچوں کی پرورش یعنی parenting کا ایک منفرد ماڑل بتایا گیا ہے ۔ جس سے ملحوظ نظر رکھتے ہوئے بچوں کے ساتھ ہر حال میں پیار، محبت، شفقت اور احترام دینا سکھایا گیا ہے ۔
اسی طرح کی دوسری حدیث ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ دیہاتی لوگ آئے، اور اُنہوں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ! کیا آپ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اُنہوں نے کہا: بخدا ہم تو اپنے بچوں کو بوسہ نہیں دیتے، آپ ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحمت نکال لی ہے تو میں اُس کا مالک تو نہیں ہوں۔ ” (متفق علیہ)
اس حدیث مبارک پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ نہایت ہی رحم دل رویہ اختیار کرنا چاہئے اور انہیں بے انتہا پیار دینا چاہئے ۔ لیکن غیر شرعی حدود سے باہر نکل کر ان کی من مانی کی چیزوں کے خریدنے یا ان کی غیر شرعی و غیر اخلاقی مرضی کو ماننے سے گریز کرنا چاہئے ۔
۲۔ مسجد کے اندر شفقت رسولﷺ کا رویہ ۔
آپﷺ کا یہ رویہ نہ صرف گھر میں ہوتا تھا بلکہ مسجد کے اندر تشریف فرماتے تو آپ ﷺ بچوں سے محبت و شفقت اور ادب و احترام سے پیش آیا کرتے تھے ۔ آپﷺ سیدنا عباسؓ کے بیٹوں حضرت عبداللہؓ اور حضرت عبید اللہؓ کو صف میں کھڑا کر کے فرماتے تھے کہ میری طرف دوڑ کر آؤ، جو پہلے آئے گا، اس سے یہ انعام ملے گا ۔ بچے دوڑ کر آپ ﷺ کی گود میں گِر پڑتے تھے، اور آپﷺ ان کا بوسہ لیتے تھے ۔” (مسند احمد)
ہم سب کو چاہئے کہ اس حدیث مبارک کے سانچے میں اپنے آپ کو سانچنے کی کوشش کریں ۔ کیا موجودہ دور میں ہمارا امام یا کوئی بھی مصلی اس طرح کا عمل مسجد شریف میں زندہ کر سکتا ہے ۔ کیا ہمارے اندر اس طرح کا رویہ دکھانے اور اس سے برداشت کرنے کا مادہ موجود ہے ۔ یہ کوئی نہیں عمل نہیں جس سے حیران ہوگی بلکہ یہ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا مبارک طریقہ ہے ۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ” حضور نبی اکرم ﷺ امامت کراتے ہوئے حالتِ نماز میں اپنی نواسی حضرت اُمامہ بنتِ زینب (ابو العاص بن ربیع کی بیٹی) کو اُٹھائے ہوئے تھے، سو جب آپ ﷺ قیام فرماتے تو اُسے اُٹھا لیتے اور جب سجدہ فرماتے تو اُسے نیچے اُتار دیتے۔” (متفق علیہ)
اللہ اکبر! نبی اکرمﷺ کا پیار و محبت اور شفقت کا یہ نرالا انداز اپنے آپ میں منفرد ہے ۔ ایسی شفقت پر ہم کیوں نہ قربان ہو جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی نانا اور نانی کو اپنے نواسوں سے بے پناہ محبت و شفقت دیکھنے کو ملتی ہے ۔ جس سے ہمیں کبھی بھی منفی سوچ کی نظر سے دیکھنا نہیں چاہئے بلکہ طریقہ رسولﷺ سمجھ کر اس سے مثبت رنگ دیتے ہوئے عمل پیرا ہونا چاہئے ۔
۳۔ یتیم بچوں سے شفقت رسولﷺ ۔
جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا جنگِ موتہ میں شہادت نصیب ہوئی تو نبی رحمت ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے ۔ وہاں آپﷺ نے ان کے بچوں کو پاس بلایا، ان کے سر پر ہاتھ پھیرا، انہیں پیار کیا اور حضرت جعفر کی جدائی کے غم میں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، یہاں تک کہ آپﷺ کی مبارک داڑھی بھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ حضرت عبداللہؓ جو اس وقت بچے تھے کو رحمتِ دو عالم ﷺ اپنے گھر لے گئے اور وہاں اپنے ساتھ کھانا کھلایا ۔ یہاں تک کہ وہ تین دن تک نبی اکرمﷺ کے گھر میں رہے۔”
اسی طرح غزوہ اُحد میں حضرت عَقرَبہ رضی اللہ عنہ جب شہید ہو گئے تو ان کا بیٹا بشير بن عقربہ رضی اللہ عنہ رو رہا تھا۔ حضرت نبی کریم ﷺ آپ کے پاس سے گزرے تو آپﷺ کی نگاہِ کرم اُن پر پڑی اور انہیں فرمایا کہ ” يَا حبيبُ ما يُبكيكَ” یعنی اے میرے پیارے آپ کیوں روتے ہو؟ یتیموں کے والی، بے سہاروں کے سہارا آقا نامدار ﷺ نے انہیں تسلی دی اور یوں فرمایا کہ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ میں ﷺ تمہارا باپ اور عائشہؓ تمہاری ماں ہو جائے؟
فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی کیوں نہیں اور یہ سن کر میرے اداس اور غمزدہ دل کو سکون و قرار آگیا۔
اس طرح آپ ﷺ غم زدوں، یتیموں، بے سہاروں، بے کسوں اور بے یاروں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن کرکھڑے رہتے تھے اور ان کے لئے اپنے گھر کے دروازے کُھلے رکھتے تھے ۔ جس سے دیکھ کر آج کل کے معاشرے کو مزید وسعت ظرفی اور مثبت سوچ کے ساتھ ایک بار پھر غور و فکر کرنے کی ضرورت آپہنچی ہے ۔ تاکہ ہم بھی آپﷺ کی طرح ایسے سبھی بے سہارا اور یتیم بچوں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن کر کھڑے رہ سکیں ۔ اور ان کی صحیح تعلیم و تربیت اور نشو و نما میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکیں ۔
٤۔ دوسرے بچوں کو یکسان محبت و شفقت سے دیکھنا ۔
ابو موسٰی اشعریؓ فرماتے ہیں کہ ” میرے گھر ایک لڑکا تولد ہوا، میں آپ ﷺ کے در پر حاضر ہوا، آپ ﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھا، کھجور سے اس کی تحنیک (گھُٹّی) فرمائی، اور اس بچے کے لیے برکت کی دعا فرمائی ۔” (بخاری)
اسی طرح جب بعض دفعہ دورانِ نماز بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپ ﷺ نماز میں تخفیف فرما دیتے تھے ۔ (بخاری)
ایک دفعہ آپﷺ نے ایک بچے کو گود میں اٹھا لیا، بچے نے کپڑے پر پیشاب کر دیا، آپ ﷺ نے اس پر پانی بہا کر صاف کر لیا۔ (بخاری)
اس طرح پیغمبر اسلام ﷺ دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں مشغولیت و مصروفیت ہونے کے باوجود بھی اپنے صحابہ کبار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی اولاد کے ساتھ نرمی، محبت، شفقت، انسیت اور الفت کا معاملہ فرماتے تھے ۔ انھیں ہمیشہ خوش کرتے تھے ۔ ان کے لئے ہمیشہ اپنی رحمتیں برساتے تھے ۔ اور سب بچوں کے ساتھ یکساں محبت و شفقت کا اظہار فرماتے تھے ۔
٥۔ شوقِ علم والوں کی حوصلہ افزائی ۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے چھوٹی عمر میں قرآن کریم کی کئیں سورتیں پڑھ لی تھیں اور انہیں حفظ بھی کر دیا تھا ۔ حضور ﷺ نے ان کا شوقِ علم دیکھ کر عبرانی زبان سیکھنے کا حکم دیا۔ تو انہوں نے قلیل وقت میں وہ سیکھ لی ۔ پھر آپﷺ نے سریانی زبانی سیکھنے کا حکم دیا تو وہ بھی کئیں دنوں میں سیکھ لی۔ پھر حضورﷺ ان زبانوں کے خطوط آپ رضی اللہ عنہ سے پڑھوایا اور لکھوایا کرتے تھے ۔(تاریخ ابن عساکر)
لہذا ہمیں بھی اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں موجود دیگر بھائیوں کے بچوں کے ساتھ محبت و شفقت میں یکسان کردار ادا کرنا چاہئے ۔ اس طرح سے ان کے والدین کے اندر ہمارے لیے بھی محبت اور شفقت پیدا ہوگی اور سماج میں مثبت سوچ زور پکڑتی جائے گی ۔ ذہین اور قابل بچوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ ہمیں ہر طرح کے بچوں کے ساتھ ہر جاہ، ہر وقت محبت و شفقت سے پیش آنا چاہئے ۔ یہاں تک کہ خیر الانام رحمت للعالمین ﷺ نے اپنے اُسوہ سے غیر مسلم بچوں کے ساتھ بھی نرمی کی تلقین فرمائی ہے ۔ مزید اُن سبھی بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے جو دونوں دنیاوی و اُخروی علوم میں کسی بھی طرح سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ دکھاتے ہوں گے ۔ یا دارالعلوم و مکاتب کے اندر حفظ قرآن کرتے ہوں گے ۔ یہاں ذات، نسل و رنگ کو اہمیت نہیں دینی چاہئے ۔ بلکہ ان کے خصوصی اوصاف کو دیکھ کر ان کی سراہنا کرنی چاہئے ۔
اللہ پاک ہمیں اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے طریقہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین


