حجاب وقفے وقفے کے بعد شہ سرخیوں میں کیوں؟

 

رشید پروین
سوپور ، کشمیر

ایک چھوٹی سی مدت کے بعد ’’حجاب‘‘ پھر ایک بار موضوعِ بحث بن گیا ہے اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ وقفے وقفے کے بعد کہیں نہ کہیں سے پردہ یا حجاب اخباروں کی سرخیوں میں آہی جاتا ہے۔ اب کی بار اپنے مخصوص انداز میں پھر ایک کالج سے اس کی شروعات ہوئی ہے۔ اس بار چمبور ممبئی کے ایک کالج نے طالبات پر برقع اور حجاب پہن کر آنے پر پابندی عائد کر دی۔ اس کے دیکھا دیکھی گوریگاؤں علاقہ میں بھی ایسی ہی ایک خبر رپورٹ ہوئی ہے جس کی رُو سے ’’وویک ودیالیہ جونیئر کالج‘‘ نے بھی اس طرح کا ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق کسی بھی مذہب کو ظاہر کرنے والی چیز پہننا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ایم آئی ایم کی وومنز ونگ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور احتجاجی مظاہرے بھی کئے ہیں۔ کالج حکام نے اس ڈریس کی وضاحت بھی کی ہے جسے پہن کر آنے کی اجازت ہوگی، جس کے مطابق طالبات کو کسی بھی مہذب ہندوستانی یا مغربی لباس میں آنے کی اجازت ہوگی۔
اب یہ لفظ ’’مہذب‘‘ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے اس کی ہم کوئی تشریح نہیں کرسکتے، کیونکہ مغربی لباس جو لباس کم ہی قرار دیا جاسکتا ہے، اس دور میں انتہائی مہذب لباس قرار دیا جاتا ہے اور ہندوستانی لباس میں ہم نہیں بتاسکتے کہ کون سا لباس اور کس نوعیت کا پہناوا اپنے میں شائستہ اور مہذبانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ عام فہم ذہن میں طالبات کے لئے فراق شلوار اور سر پر دوپٹہ ہی ہماری روایات کے تحت شاید مہذب ڈریس قرار دیا جاسکتا ہے یا بہرحال اس زمرے میں وہ سارے پہناوے آسکتے ہیں جو سر تا پا جسم کو ایک ڈھنگ سے چھپاتے ہوں اور جن میں طالبات کو چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے میں کسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو۔
بہرحال اس لمبی بحث سے بچتے ہوئے ہم آپ کو یاد دلائیں کہ کچھ عرصہ پہلے سپریم کورٹ نے ممبئی کے این جی آچاریہ اور ڈی کے مراٹھی کالج کے جاری کردہ سرکیولر پر روک لگا دی تھی، کیونکہ کچھ مدت پہلے دونوں کالجوں نے حجاب اور نقاب کے علاوہ پردے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کالج احاطے میں کوئی طالبہ حجاب یا برقع پہن کر داخل نہیں ہوسکتی۔ یہ احکامات اکتوبر 2022 میں صادر کئے گئے تھے۔ اس پابندی کے خلاف مسلم لڑکیوں نے ممبئی ہائی کورٹ میں ایک رِٹ دائر کی تھی جسے مسترد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان لڑکیوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جس کے نتیجے میں ان احکامات پر روک لگا دی گئی تھی۔
اس دوران بینچ اور کالج وکیل کے درمیان دلچسپ ریمارکس پاس ہوئے تھے۔ بینچ نے کالج سے کہا تھا کہ ’’بدقسمتی کی بات ہے کہ آزادی کے اتنے برسوں بعد اس طرح کی ہدایات جاری کی گئی ہیں‘‘ اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’’اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی‘‘۔ جسٹس کھنہ کی قیادت والی بینچ نے کالج کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل سے کہا کہ ایسا کوئی اصول نہیں بنانا چاہئے تھا جو مذہب کی عکاسی کرتا ہو۔ کالج وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ طالبات کا مذہب ظاہر نہ ہو۔ اس کے جواب میں جسٹس نے بڑا دلچسپ جواب دیا تھا کہ ’’کیا آپ نہیں جانتے کہ طلبہ کا مذہب صرف ان کے نام سے ظاہر ہوتا ہے‘‘ اور پھر کالج وکیل سے یہ بھی کہا تھا کہ کیا آپ کسی کو تلک یا بندی لگانے سے روک دیں گے؟ تاہم کلاس روم میں چہرہ ڈھکنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
بہرحال ہم جانتے ہیں کہ اچانک حجاب وقفے وقفے کے بعد شہ سرخیوں میں آجاتا ہے اور یہ کوئی الل ٹپ اور اتفاقی بات نہیں بلکہ اس کے پیچھے کچھ عزائم بھی ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے کے لئے حجاب سے متعلق اس کا تھوڑا سا پس منظر بھی ہمیں معلوم ہونا چاہئے تاکہ سمجھا جاسکے کہ حجاب یا پردے کے عنوان سے وقفے وقفے کے بعد سونامیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں یا پیدا کی جاتی ہیں؟
تاریخی طور پر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ حجاب سے بہت سارے مغربی ممالک ذہنی اور جسمانی انتشار میں مبتلا کیوں ہیں؟ دراصل ایک انحطاط پذیر، فحش، اخلاق سے عاری اور خدا بیزار معاشرے کی تخلیق کے لئے حجاب یا پردہ جو شرم و حیا کی نشانی سمجھی جاتی ہے مزاحمتی علامت ہے جسے خدا بیزار اور دجالی دور کسی بھی طرح برداشت اور گوارا کرنے کے حق میں نہیں۔ اصل مسئلہ ’’حجاب‘‘ نہیں، کیونکہ حجاب مسئلہ ہو ہی نہیں سکتا، اس پس منظر میں کہ یہاں بھارت میں ہزاروں برسوں سے، بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ویدک زمانوں سے ہی کسی نہ کسی صورت میں پردے کا رواج رہا ہے۔ بلکہ پردہ، گھونگھٹ، چنری، ساڑھی ویدک زمانے سے ہی ڈریس کا حصہ رہے ہیں۔ والمیکی نے اپنی رامائن میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ بن باس روانہ ہونے سے پہلے رام نے سیتا ماتا کو گھونگھٹ اٹھا کر عوام کو درشن دینے کی اجازت دی تھی۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رام کے زمانے میں پردہ تھا۔

بھلے ہی یہ رواج رہا ہو یا بھارتی سنسکاروں میں شامل رہا ہو، لیکن اس سب کو اس پس منظر میں دیکھا جائے تو سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی کہ سکھ برادری داڑھی رکھتی ہے، پگڑی باندھتی ہے، کرپان رکھتی ہے جو ان کے مذہبی ڈریس کوڈ کی شناختیں ہیں، اور بھارت جو رنگا رنگ تہذیبی اور تمدنی کثرتوں کا حامل ہے، کسی پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا اور اعتراض کرنے کا سوال ہی آئینی اور منطقی طور پر پیدا نہیں ہوتا۔ پھر ایک مسلم شناخت نشانے پر کیوں؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یورپ اور امریکی معاشرے جو اس دور کی امامت کر رہے ہیں، ان کے کلچر، تہذیب و تمدن اور اقدار کو ساری دنیا پر محیط ہونے میں اس وقت بھی اپنی ناتوانی اور ضعیفی کے باوجود اسلام علمی، عقلی اور معاشرتی چیلنج بن کے ان کی راہ میں کھڑا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ نام نہاد مسلم ممالک ہی سہی لیکن اس کے باوجود مغربی اور امریکی تمدن کو پوری طرح نہ تو تسلیم کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کا رنگ قبول کر رہے ہیں۔
انیسویں صدی کی آخری دہائی سے آزادی نسواں کی جو تحریک مسلم ممالک میں متعارف کرائی گئی اس کے پیچھے اصل میں یہی عزائم تھے کہ آہستہ آہستہ اسلامی شعائر اور طرز زندگی کو اسلام کے دائروں سے بہت دور لے جایا جاسکے اور اس کے لئے یہودی بڑے علما اور فلاسفرز نے ہر خرافات کو علمی اور سائنٹفک لبادوں میں پیش کرکے اقوام عالم اور مسلم قوم کو کچھ زیادہ ہی تحقیر و تضحیک کا نشانہ بنایا۔ مغربی تہذیب و تمدن کا ماحاصل ہی عورت کی وہ آزادی ہے جو بے قیود ہو، بے ضابطہ ہو اور کسی بھی دائرے میں مقید نہ ہو، اس پر کوئی اخلاقی، مذہبی یا سماجی قدغن نہ ہو بلکہ وہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا عملی اشتہار ہو۔ یہ بہت مختصر سی ڈیفنیشن ہوسکتی ہے۔
انسانی تہذیب و تمدن کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ عورت ذات کے وجود کو ہی شرم اور گناہ کا درجہ حاصل تھا۔ بہت سی اقوام میں بیٹی کی ذلت سے بچنے کے لئے لڑکیوں کا قتل بھی جائز تھا۔ رسول پاک ﷺ نے ہی عورت کو تاریخ میں پہلی بار عزت اور وقار کا درجہ ہی نہیں دیا بلکہ دنیا کو یہ تسلیم کرایا کہ وہ بھی اللہ کی اسی طرح مخلوق ہے جس طرح مرد۔ اور اعلان فرمایا کہ ’’اللہ نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا‘‘ (النساء) اور ’’خدا کی نگاہ میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں‘‘ (النساء 32) اور اس طرح وہ انقلاب پیدا ہوا جس کی چھاپ آج تک مسلم معاشروں میں کچھ دھندلی ہی سہی لیکن نظر آتی ہے۔
جہاں عورت کو یہ توقیر، احترام، عظمت اور پرجمال تقدس کا مقام عطا ہوا وہاں اس مقام پر برقرار رہنے کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر اور بندھن باندھے گئے جو انسانی فطرت کے عین مطابق بھی ہیں اور اس تقدس کو روز مرہ زندگی کے معمولات کے باوجود برقرار رکھنے میں معاون بھی۔ ان میں حجاب بھی ایک فیکٹر ہے جسے مسلم معاشرے کے چہرے سے نوچنے کے لئے ساری مغربی اور مسلم دشمن اقوام متحد ہو کر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حجاب کا جہاں تک تعلق ہے قرآن حکیم میں کئی جگہوں پر عورت کی توقیر، عزت و احترام اور اسے محفوظ و مامون رکھنے کے لئے حجاب کے احکامات دئے گئے ہیں۔ اس دور میں عجیب و غریب دلائل اور بحثیں اس منطق تک جان بوجھ کر پہنچائی جا رہی ہیں کہ حجاب یا پردہ عورت کی آزادی سلب کرتا ہے، سماج میں اسے بنیادی حقوق سے محروم کرتا ہے اور ایک طرح سے عورت کو اپنی زندگی قید میں گزارنی پڑتی ہے۔ یہ چند جملے شاید مغربی انداز فکر اور نقطہ نگاہ کی عکاسی کرتے ہیں لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
مرد و زن کے بہتر تعلقات اور ایک فلاحی معاشرے کی استواری پر اگرچہ قرآن حکیم میں بہت ساری آیات کریمہ بنی نوع انسان کی رہبری کے لئے موجود ہیں لیکن ہم صرف دو آیت کریمہ کے حوالے سے اللہ کی منشا اور مرضی سے آشنا ہوسکتے ہیں۔ ’’اللہ نے تمہارے لئے خود تم میں سے جوڑے بنائے اور جانوروں میں سے بھی جوڑے بنائے، اس طریقے سے وہ تم کو روئے زمین پر پھیلاتا ہے‘‘ (الشوریٰ 11) پھر مرد کو یاد دلایا کہ ’’تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں‘‘ (البقرہ 223)۔ در حقیقت کھیتی اور فصل اس کی محتاج ہوتی ہے کہ اس کا کسان جس نے بیج بوئے ہیں وہ اس کی رکھوالی بھی احسن طریقے سے کرے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کی عظمت، عفت، عصمت اور تقدس کو برقرار رکھنے کے بہت سارے عوامل اور حفاظتی تدبیروں میں حجاب ایک بہت مناسب اور بہتر تدبیر ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

حجاب وقفے وقفے کے بعد شہ سرخیوں میں کیوں؟

 

رشید پروین
سوپور ، کشمیر

ایک چھوٹی سی مدت کے بعد ’’حجاب‘‘ پھر ایک بار موضوعِ بحث بن گیا ہے اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ وقفے وقفے کے بعد کہیں نہ کہیں سے پردہ یا حجاب اخباروں کی سرخیوں میں آہی جاتا ہے۔ اب کی بار اپنے مخصوص انداز میں پھر ایک کالج سے اس کی شروعات ہوئی ہے۔ اس بار چمبور ممبئی کے ایک کالج نے طالبات پر برقع اور حجاب پہن کر آنے پر پابندی عائد کر دی۔ اس کے دیکھا دیکھی گوریگاؤں علاقہ میں بھی ایسی ہی ایک خبر رپورٹ ہوئی ہے جس کی رُو سے ’’وویک ودیالیہ جونیئر کالج‘‘ نے بھی اس طرح کا ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق کسی بھی مذہب کو ظاہر کرنے والی چیز پہننا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ایم آئی ایم کی وومنز ونگ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور احتجاجی مظاہرے بھی کئے ہیں۔ کالج حکام نے اس ڈریس کی وضاحت بھی کی ہے جسے پہن کر آنے کی اجازت ہوگی، جس کے مطابق طالبات کو کسی بھی مہذب ہندوستانی یا مغربی لباس میں آنے کی اجازت ہوگی۔
اب یہ لفظ ’’مہذب‘‘ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے اس کی ہم کوئی تشریح نہیں کرسکتے، کیونکہ مغربی لباس جو لباس کم ہی قرار دیا جاسکتا ہے، اس دور میں انتہائی مہذب لباس قرار دیا جاتا ہے اور ہندوستانی لباس میں ہم نہیں بتاسکتے کہ کون سا لباس اور کس نوعیت کا پہناوا اپنے میں شائستہ اور مہذبانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ عام فہم ذہن میں طالبات کے لئے فراق شلوار اور سر پر دوپٹہ ہی ہماری روایات کے تحت شاید مہذب ڈریس قرار دیا جاسکتا ہے یا بہرحال اس زمرے میں وہ سارے پہناوے آسکتے ہیں جو سر تا پا جسم کو ایک ڈھنگ سے چھپاتے ہوں اور جن میں طالبات کو چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے میں کسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو۔
بہرحال اس لمبی بحث سے بچتے ہوئے ہم آپ کو یاد دلائیں کہ کچھ عرصہ پہلے سپریم کورٹ نے ممبئی کے این جی آچاریہ اور ڈی کے مراٹھی کالج کے جاری کردہ سرکیولر پر روک لگا دی تھی، کیونکہ کچھ مدت پہلے دونوں کالجوں نے حجاب اور نقاب کے علاوہ پردے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کالج احاطے میں کوئی طالبہ حجاب یا برقع پہن کر داخل نہیں ہوسکتی۔ یہ احکامات اکتوبر 2022 میں صادر کئے گئے تھے۔ اس پابندی کے خلاف مسلم لڑکیوں نے ممبئی ہائی کورٹ میں ایک رِٹ دائر کی تھی جسے مسترد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان لڑکیوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جس کے نتیجے میں ان احکامات پر روک لگا دی گئی تھی۔
اس دوران بینچ اور کالج وکیل کے درمیان دلچسپ ریمارکس پاس ہوئے تھے۔ بینچ نے کالج سے کہا تھا کہ ’’بدقسمتی کی بات ہے کہ آزادی کے اتنے برسوں بعد اس طرح کی ہدایات جاری کی گئی ہیں‘‘ اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’’اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی‘‘۔ جسٹس کھنہ کی قیادت والی بینچ نے کالج کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل سے کہا کہ ایسا کوئی اصول نہیں بنانا چاہئے تھا جو مذہب کی عکاسی کرتا ہو۔ کالج وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ طالبات کا مذہب ظاہر نہ ہو۔ اس کے جواب میں جسٹس نے بڑا دلچسپ جواب دیا تھا کہ ’’کیا آپ نہیں جانتے کہ طلبہ کا مذہب صرف ان کے نام سے ظاہر ہوتا ہے‘‘ اور پھر کالج وکیل سے یہ بھی کہا تھا کہ کیا آپ کسی کو تلک یا بندی لگانے سے روک دیں گے؟ تاہم کلاس روم میں چہرہ ڈھکنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
بہرحال ہم جانتے ہیں کہ اچانک حجاب وقفے وقفے کے بعد شہ سرخیوں میں آجاتا ہے اور یہ کوئی الل ٹپ اور اتفاقی بات نہیں بلکہ اس کے پیچھے کچھ عزائم بھی ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے کے لئے حجاب سے متعلق اس کا تھوڑا سا پس منظر بھی ہمیں معلوم ہونا چاہئے تاکہ سمجھا جاسکے کہ حجاب یا پردے کے عنوان سے وقفے وقفے کے بعد سونامیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں یا پیدا کی جاتی ہیں؟
تاریخی طور پر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ حجاب سے بہت سارے مغربی ممالک ذہنی اور جسمانی انتشار میں مبتلا کیوں ہیں؟ دراصل ایک انحطاط پذیر، فحش، اخلاق سے عاری اور خدا بیزار معاشرے کی تخلیق کے لئے حجاب یا پردہ جو شرم و حیا کی نشانی سمجھی جاتی ہے مزاحمتی علامت ہے جسے خدا بیزار اور دجالی دور کسی بھی طرح برداشت اور گوارا کرنے کے حق میں نہیں۔ اصل مسئلہ ’’حجاب‘‘ نہیں، کیونکہ حجاب مسئلہ ہو ہی نہیں سکتا، اس پس منظر میں کہ یہاں بھارت میں ہزاروں برسوں سے، بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ویدک زمانوں سے ہی کسی نہ کسی صورت میں پردے کا رواج رہا ہے۔ بلکہ پردہ، گھونگھٹ، چنری، ساڑھی ویدک زمانے سے ہی ڈریس کا حصہ رہے ہیں۔ والمیکی نے اپنی رامائن میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ بن باس روانہ ہونے سے پہلے رام نے سیتا ماتا کو گھونگھٹ اٹھا کر عوام کو درشن دینے کی اجازت دی تھی۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رام کے زمانے میں پردہ تھا۔

بھلے ہی یہ رواج رہا ہو یا بھارتی سنسکاروں میں شامل رہا ہو، لیکن اس سب کو اس پس منظر میں دیکھا جائے تو سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی کہ سکھ برادری داڑھی رکھتی ہے، پگڑی باندھتی ہے، کرپان رکھتی ہے جو ان کے مذہبی ڈریس کوڈ کی شناختیں ہیں، اور بھارت جو رنگا رنگ تہذیبی اور تمدنی کثرتوں کا حامل ہے، کسی پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا اور اعتراض کرنے کا سوال ہی آئینی اور منطقی طور پر پیدا نہیں ہوتا۔ پھر ایک مسلم شناخت نشانے پر کیوں؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یورپ اور امریکی معاشرے جو اس دور کی امامت کر رہے ہیں، ان کے کلچر، تہذیب و تمدن اور اقدار کو ساری دنیا پر محیط ہونے میں اس وقت بھی اپنی ناتوانی اور ضعیفی کے باوجود اسلام علمی، عقلی اور معاشرتی چیلنج بن کے ان کی راہ میں کھڑا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ نام نہاد مسلم ممالک ہی سہی لیکن اس کے باوجود مغربی اور امریکی تمدن کو پوری طرح نہ تو تسلیم کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کا رنگ قبول کر رہے ہیں۔
انیسویں صدی کی آخری دہائی سے آزادی نسواں کی جو تحریک مسلم ممالک میں متعارف کرائی گئی اس کے پیچھے اصل میں یہی عزائم تھے کہ آہستہ آہستہ اسلامی شعائر اور طرز زندگی کو اسلام کے دائروں سے بہت دور لے جایا جاسکے اور اس کے لئے یہودی بڑے علما اور فلاسفرز نے ہر خرافات کو علمی اور سائنٹفک لبادوں میں پیش کرکے اقوام عالم اور مسلم قوم کو کچھ زیادہ ہی تحقیر و تضحیک کا نشانہ بنایا۔ مغربی تہذیب و تمدن کا ماحاصل ہی عورت کی وہ آزادی ہے جو بے قیود ہو، بے ضابطہ ہو اور کسی بھی دائرے میں مقید نہ ہو، اس پر کوئی اخلاقی، مذہبی یا سماجی قدغن نہ ہو بلکہ وہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا عملی اشتہار ہو۔ یہ بہت مختصر سی ڈیفنیشن ہوسکتی ہے۔
انسانی تہذیب و تمدن کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ عورت ذات کے وجود کو ہی شرم اور گناہ کا درجہ حاصل تھا۔ بہت سی اقوام میں بیٹی کی ذلت سے بچنے کے لئے لڑکیوں کا قتل بھی جائز تھا۔ رسول پاک ﷺ نے ہی عورت کو تاریخ میں پہلی بار عزت اور وقار کا درجہ ہی نہیں دیا بلکہ دنیا کو یہ تسلیم کرایا کہ وہ بھی اللہ کی اسی طرح مخلوق ہے جس طرح مرد۔ اور اعلان فرمایا کہ ’’اللہ نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا‘‘ (النساء) اور ’’خدا کی نگاہ میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں‘‘ (النساء 32) اور اس طرح وہ انقلاب پیدا ہوا جس کی چھاپ آج تک مسلم معاشروں میں کچھ دھندلی ہی سہی لیکن نظر آتی ہے۔
جہاں عورت کو یہ توقیر، احترام، عظمت اور پرجمال تقدس کا مقام عطا ہوا وہاں اس مقام پر برقرار رہنے کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر اور بندھن باندھے گئے جو انسانی فطرت کے عین مطابق بھی ہیں اور اس تقدس کو روز مرہ زندگی کے معمولات کے باوجود برقرار رکھنے میں معاون بھی۔ ان میں حجاب بھی ایک فیکٹر ہے جسے مسلم معاشرے کے چہرے سے نوچنے کے لئے ساری مغربی اور مسلم دشمن اقوام متحد ہو کر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حجاب کا جہاں تک تعلق ہے قرآن حکیم میں کئی جگہوں پر عورت کی توقیر، عزت و احترام اور اسے محفوظ و مامون رکھنے کے لئے حجاب کے احکامات دئے گئے ہیں۔ اس دور میں عجیب و غریب دلائل اور بحثیں اس منطق تک جان بوجھ کر پہنچائی جا رہی ہیں کہ حجاب یا پردہ عورت کی آزادی سلب کرتا ہے، سماج میں اسے بنیادی حقوق سے محروم کرتا ہے اور ایک طرح سے عورت کو اپنی زندگی قید میں گزارنی پڑتی ہے۔ یہ چند جملے شاید مغربی انداز فکر اور نقطہ نگاہ کی عکاسی کرتے ہیں لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
مرد و زن کے بہتر تعلقات اور ایک فلاحی معاشرے کی استواری پر اگرچہ قرآن حکیم میں بہت ساری آیات کریمہ بنی نوع انسان کی رہبری کے لئے موجود ہیں لیکن ہم صرف دو آیت کریمہ کے حوالے سے اللہ کی منشا اور مرضی سے آشنا ہوسکتے ہیں۔ ’’اللہ نے تمہارے لئے خود تم میں سے جوڑے بنائے اور جانوروں میں سے بھی جوڑے بنائے، اس طریقے سے وہ تم کو روئے زمین پر پھیلاتا ہے‘‘ (الشوریٰ 11) پھر مرد کو یاد دلایا کہ ’’تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں‘‘ (البقرہ 223)۔ در حقیقت کھیتی اور فصل اس کی محتاج ہوتی ہے کہ اس کا کسان جس نے بیج بوئے ہیں وہ اس کی رکھوالی بھی احسن طریقے سے کرے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کی عظمت، عفت، عصمت اور تقدس کو برقرار رکھنے کے بہت سارے عوامل اور حفاظتی تدبیروں میں حجاب ایک بہت مناسب اور بہتر تدبیر ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں