جسٹس سوریہ کانت نے ہندوستان کے 53ویں چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

جنگ نیوز

نئی دہلی: جسٹس سوریہ کانت نے پیر کو ملک کے 53ویں چیف جسٹس آف انڈیا کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ انہوں نے جسٹس بی آر گاوَئی کی جگہ سنبھالی۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے راشٹرپتی بھون میں انہیں عہدے کا حلف دلایا۔
جسٹس کانت کو 30 اکتوبر کو چیف جسٹس نامزد کیا گیا تھا اور وہ ریٹائرمنٹ تک تقریباً پندرہ ماہ اس منصب پر فائز رہیں گے۔ ان کی ریٹائرمنٹ 9 فروری 2027 کو 65 برس کی عمر مکمل ہونے پر ہوگی۔
10 فروری 1962 کو ہریانہ کے ضلع حصار میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے جسٹس سوریہ کانت نے ایک چھوٹے شہر سے وکالت کا آغاز کیا اور مسلسل محنت سے عدلیہ کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچے۔ انہوں نے 2011 میں کرکشیترا یونیورسٹی سے ایل ایل ایم میں فرسٹ کلاسفرسٹ پوزیشن حاصل کی۔
سپریم کورٹ میں تقرری سے قبل وہ 5 اکتوبر 2018 سے ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے اور اس   سے پہلے پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ میں کئی اہم فیصلے تحریر کیے۔ سپریم کورٹ میں ان کی مدت میں اہم آئینی اور قومی نوعیت کے فیصلے شامل ہیں جن میں دفعہ 370 کی منسوخی، شہریت سے متعلق معاملات، اظہار رائے کی آزادی اور انتخابی اصلاحات جیسے سنگ میل شامل ہیں۔
جسٹس کانت اس بینچ کا حصہ تھے جس نے بغاوت سے متعلق نوآبادیاتی دور کے قانون پر روک لگاتے ہوئے حکومت کو نئے مقدمات نہ درج کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بہار میں سپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران خارج کیے گئے پینسٹھ لاکھ ووٹرز کی تفصیلات عام کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو بھی متوجہ کیا۔

وہ سات رکنی بینچ کے بھی رکن تھے جس نے 1967 کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی فیصلے کو کالعدم قرار دیا، جس کے بعد ادارے کی اقلیتی حیثیت کا معاملہ دوبارہ غور کے لیے کھل گیا۔ اسی طرح گورنر اور صدر کے ریاستی بلز سے متعلق اختیارات پر صدارتی ریفرنس کی سماعت میں بھی ان کی موجودگی نے اس معاملے کی ملکی سطح پر اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

جسٹس سوریہ کانت نے ہندوستان کے 53ویں چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

جنگ نیوز

نئی دہلی: جسٹس سوریہ کانت نے پیر کو ملک کے 53ویں چیف جسٹس آف انڈیا کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ انہوں نے جسٹس بی آر گاوَئی کی جگہ سنبھالی۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے راشٹرپتی بھون میں انہیں عہدے کا حلف دلایا۔
جسٹس کانت کو 30 اکتوبر کو چیف جسٹس نامزد کیا گیا تھا اور وہ ریٹائرمنٹ تک تقریباً پندرہ ماہ اس منصب پر فائز رہیں گے۔ ان کی ریٹائرمنٹ 9 فروری 2027 کو 65 برس کی عمر مکمل ہونے پر ہوگی۔
10 فروری 1962 کو ہریانہ کے ضلع حصار میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے جسٹس سوریہ کانت نے ایک چھوٹے شہر سے وکالت کا آغاز کیا اور مسلسل محنت سے عدلیہ کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچے۔ انہوں نے 2011 میں کرکشیترا یونیورسٹی سے ایل ایل ایم میں فرسٹ کلاسفرسٹ پوزیشن حاصل کی۔
سپریم کورٹ میں تقرری سے قبل وہ 5 اکتوبر 2018 سے ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے اور اس   سے پہلے پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ میں کئی اہم فیصلے تحریر کیے۔ سپریم کورٹ میں ان کی مدت میں اہم آئینی اور قومی نوعیت کے فیصلے شامل ہیں جن میں دفعہ 370 کی منسوخی، شہریت سے متعلق معاملات، اظہار رائے کی آزادی اور انتخابی اصلاحات جیسے سنگ میل شامل ہیں۔
جسٹس کانت اس بینچ کا حصہ تھے جس نے بغاوت سے متعلق نوآبادیاتی دور کے قانون پر روک لگاتے ہوئے حکومت کو نئے مقدمات نہ درج کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بہار میں سپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران خارج کیے گئے پینسٹھ لاکھ ووٹرز کی تفصیلات عام کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو بھی متوجہ کیا۔

وہ سات رکنی بینچ کے بھی رکن تھے جس نے 1967 کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی فیصلے کو کالعدم قرار دیا، جس کے بعد ادارے کی اقلیتی حیثیت کا معاملہ دوبارہ غور کے لیے کھل گیا۔ اسی طرح گورنر اور صدر کے ریاستی بلز سے متعلق اختیارات پر صدارتی ریفرنس کی سماعت میں بھی ان کی موجودگی نے اس معاملے کی ملکی سطح پر اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں