نعت شریف-سعید قادری

 

سعید قادری

کون و مکاں میں دھوم شہِ بحر و بر کی ہے
جن کی ثنا میں تر زباں ، شام و سحر کی ہے
سینہ زجاجہ جن کا ہے، چہرہ ہے و الضّحیٰ
ابرو کو تکتی رہتی نظر بھی قمر کی ہے
باتیں ہیں ان کی لگتی فصاحت کا بانکپن
فصحا یہ کہہ رہے ہیں کہ شیریں ثمر کی ہے
رفتار جن کی دیکھ کے رف رف بھی دنگ ہے
جبریل ہم رکاب ہیں نہضت سفر کی ہے
وہ فقر و فاقہ میں بھی ہیں یکتائے روزگار
حیرت میں آج عقل بھی ہر اک بشر کی ہے
ہر گل کو ہر گلی کو تری جستجو حضور
شاہوں کو بھی تلاش تری خاک در کی ہے
تیرا وجود روز قیامت کا آسرا
دستار تیرے سر پہ شفاعت نگر کی ہے
اٹھ جائے گر نگاہ جہنم کی سمت جو
ہو جائے سرد ، بات فقط اک نظر کی ہے
حیرت میں شرق و غرب ہے باد نسیم بھی
” کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے “
دامن پسارے در پہ ترے آ گیا سعید
دے دے ذرا سی بھیک تمنّا جگر کی ہے
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

نعت شریف-سعید قادری

 

سعید قادری

کون و مکاں میں دھوم شہِ بحر و بر کی ہے
جن کی ثنا میں تر زباں ، شام و سحر کی ہے
سینہ زجاجہ جن کا ہے، چہرہ ہے و الضّحیٰ
ابرو کو تکتی رہتی نظر بھی قمر کی ہے
باتیں ہیں ان کی لگتی فصاحت کا بانکپن
فصحا یہ کہہ رہے ہیں کہ شیریں ثمر کی ہے
رفتار جن کی دیکھ کے رف رف بھی دنگ ہے
جبریل ہم رکاب ہیں نہضت سفر کی ہے
وہ فقر و فاقہ میں بھی ہیں یکتائے روزگار
حیرت میں آج عقل بھی ہر اک بشر کی ہے
ہر گل کو ہر گلی کو تری جستجو حضور
شاہوں کو بھی تلاش تری خاک در کی ہے
تیرا وجود روز قیامت کا آسرا
دستار تیرے سر پہ شفاعت نگر کی ہے
اٹھ جائے گر نگاہ جہنم کی سمت جو
ہو جائے سرد ، بات فقط اک نظر کی ہے
حیرت میں شرق و غرب ہے باد نسیم بھی
” کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے “
دامن پسارے در پہ ترے آ گیا سعید
دے دے ذرا سی بھیک تمنّا جگر کی ہے
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون