"ہم وعدوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں، مگر فیصلے تاخیر کا شکار رہتے ہیں کیونکہ فائلیں واپس نہیں آتیں”
جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے ایک سال مکمل کرلیا ہے، تاہم یہ مدت امید اور بے بسی دونوں سے عبارت رہی۔ اسمبلی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے باوجود، نیشنل کانفرنس حکومت کو دوہری حکمرانی کے نظام میں اختیارات کی شدید کمی کا سامنا ہے، جہاں اہم فیصلے اب بھی لیفٹیننٹ گورنرکے دفتر میں اٹکے ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جنہوں نے 16 اکتوبر 2024 کو حلف لیا تھا، بارہا اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کی حکومت آزادانہ طور پر کام نہیں کر پا رہی۔ ایک حالیہ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ’’ہم وعدوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں، مگر فیصلے تاخیر کا شکار رہتے ہیں کیونکہ فائلیں واپس نہیں آتیں۔‘‘
ذرائع کے مطابق ایل جی دفتر اب بھی قانون و نظم، اراضی امور اور انتظامی قواعد جیسے اہم محکموں پر قابض ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ سرندر چودھری نے بزنس رولز سے متعلق فائلیں واپس کرنے کی درخواست کی ہے، مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
نیشنل کانفرنس کے اراکین بھی محدود اختیارات پر برہمی ظاہر کر رہے ہیں۔ ایک سینئر رہنما نے کہا، ’’ہم حکومت چلانے کے لیے منتخب ہوئے، مگر اصل فیصلے بیوروکریٹس کر رہے ہیں۔‘‘
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر کمزوری کا الزام عائد کیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’’اہم معاملات پر حکومت کی خاموشی عوامی توقعات سے غداری ہے۔‘‘ پیپلز کانفرنس اور اپنی پارٹی نے بھی حکومت کو ’’اختیارات استعمال کرنے میں ناکام‘‘ قرار دیا ہے۔
سست معیشت، بے روزگاری اور بیوروکریسی کے غلبے نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ منتخب وزراء کا کہنا ہے کہ پالیسی سازی میں ان کی رائے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ نظام کے اندر رہ کر عوام کی خدمت جاری رکھیں گے، اگرچہ اختیارات محدود ہیں۔ ’’ہم شکایت نہیں، خدمت کے لیے آئے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ فائلیں رکی رہتی ہیں اور منظوریوں میں تاخیر ہوتی ہے۔‘‘
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ منتخب حکومت اور غیر منتخب انتظامیہ کے درمیان کشمکش نے عوامی اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔ فی الحال عمر عبداللہ حکومت عوامی مینڈیٹ اور محدود اختیارات کے بیچ توازن قائم رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے، جب کہ ریاستی درجہ اور وقار کی بحالی اس کی سب سے بڑی آزمائش بنی ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر مہاراجہ گلاب سنگھ کی متعارف کردہ ’’دربار مو‘‘ کی روایت بحال
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو چار سال کے وقفے کے بعد روایتی دو سالہ ’’دربار مو‘‘ نظام کی بحالی کا اعلان کیا۔ یہ روایت 2021 میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بند کر دی تھی۔
عمر عبداللہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کابینہ نے صدی پرانی روایت کی بحالی کی منظوری دے دی ہے۔ ’’فائل لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجی گئی تھی، جنہوں نے منظوری دے دی ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
اعلان کے فوراً بعد جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری دفاتر کو موسمِ سرما کے لیے سری نگر سے جموں منتقل کرنے کا حکم جاری کیا۔ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پانچ روزہ دفاتر 31 اکتوبر کو اور چھ روزہ دفاتر یکم نومبر کو سری نگر میں بند ہوں گے، جب کہ تمام محکمے 3 نومبر (سوموار) کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے۔
حکم نامے کے مطابق کچھ دفاتر مکمل طور پر جموں منتقل ہوں گے جبکہ بعض جزوی طور پر اپنے ایک تہائی عملے کے ساتھ منتقل کیے جائیں گے۔
جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن یکم اور 2 نومبر کو ملازمین کی نقل و حمل کے لیے بسیں فراہم کرے گا۔ پولیس قافلوں کی حفاظت کرے گی اور راستے میں کرین، خالی بسیں اور موبائل ورکشاپس بھی ساتھ رہیں گی۔
محکمہ صحت نے قاضی گنڈ، بانہال، رامسو، رامبن، چنینی، ادھم پور اور جھجر کوٹلی میں طبی سہولیات فراہم کرنے کا بندوبست کیا ہے۔
ملازمین کو ’’اسپیشل مو الاؤنس‘‘ کے طور پر 25 ہزار روپے دیے جائیں گے، تاہم مقررہ مدت میں منتقل نہ ہونے والوں کو یہ الاؤنس نہیں ملے گا۔
سرکاری حکم نامے میں ہدایت دی گئی ہے کہ کوئی بھی ملازم بغیر اجازت سرکاری رہائش گاہ پر قبضہ نہیں کرے گا۔ محکمہ خوراک و رسد جموں کی کالونیوں میں راشن کی فراہمی یقینی بنائے گا۔
سری نگر میں ’’ونٹر سیکریٹریٹ‘‘ معمول کے مطابق سول سیکریٹریٹ میں کام کرتا رہے گا۔ دفاتر کے اوقاتِ کار جموں میں سول سیکریٹریٹ کے لیے صبح 30:9سے شام30:5بجے تک اور دیگر محکموں کے لیے صبح 10سے شام30:4 بجے تک ہوں گے۔
دربار مو کی روایت 1872 میں مہاراجہ گلاب سنگھ نے متعارف کرائی تھی تاکہ موسم کے لحاظ سے دارالحکومت جموں اور سری نگر کے درمیان منتقل ہوتا رہے۔
حکومت کا پہلا سال ’’وعدہ خلافی اور دھوکے‘‘ سے عبارت
بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ترونچگنے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی این سی-کانگریس حکومت پر ’’عوام سے دھوکہ اور ناکامی‘‘ کا الزام عائد کیا، کہا کہ حکومت کا پہلا سال جھوٹے وعدوں اور بدانتظامی سے بھرا رہا۔
انہوں نے کہا کہ عمر اور فاروق عبداللہ نے 2024 کے انتخابات میں بڑے دعوے کیے تھے مگر ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ ’’12 مفت ایل پی جی سلنڈر دینے کا وعدہ کیا گیا، مگر کسی غریب کو کچھ نہیں ملا،‘‘چگنے کہا۔
انہوں نے بتایا کہ مفت بجلی، بل معافی اور روزگار کے وعدے سب کھوکھلے ثابت ہوئے۔ ’’لوگوں کو ریلیف کے بجائے زیادہ بل، بجلی کٹوتی اور مہنگائی ملی،‘‘ انہوں نے کہا۔
چُغھ نے کہا کہ ایک لاکھ نوکریوں اور یوتھ ایمپلائمنٹ ایکٹ کی بات صرف نعروں تک محدود رہی، خواتین کے لیے مفت ٹرانسپورٹ کا وعدہ بھی صرف کاغذی ثابت ہوا۔
سیاحت، زراعت اور تعلیم کے وعدوں پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، نہ ہاؤس بوٹ مالکان کو مدد ملی، نہ باغبانوں کو ایم ایس پی جیسا تحفظ۔
کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری پرچگنے کہا کہ ’’نہ کوئی منصوبہ ہے، نہ زمین، نہ مکانات‘‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’این سی حکومت صرف دہلی کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے، جبکہ عوام کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔‘‘


