پرتاپ گڑھ کے واسی عبد الرحمٰن 2/ اکتوبر 1938 کو دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کا شمار اتر پردیش کے بہادر پولس والوں میں ہوتا تھا۔ دوران ملازمت آپ فتح پور میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور وہیں کے ہوکر رہ گیے۔ چونکہ مدرسہ کے طالب علم رہے لہزا شاعری کی جانب متوجہ ہوئے۔ گھرانہ چونکہ دیندار تھا اس لیے آپ کی شاعری میں مذہب اور تصوف کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ چند اشعار سماعت فرمائیں:
کر دی ہے اس نے ایسی بصیرت ہمیں عطاء
اب ساری کائنات ہماری نظر میں ہے
صیاد اپنا جال بچھاتا رہے مگر
کوئی پرند ہاتھ نہ آئے خدا کرے
نشاط سرمدی ہے جس کو حاصل
صلیبوں پر وہی سر بولتا ہے
ادبی دنیا میں آپ رحمنٰ قدوس کے نام متعارف ہوئے۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ "دشت امکاں ” 2008 میں شائع ہوا۔ برسوں بعد آپ کے لایق وفایق صاحبزادے آلہ آباد یونیورسٹی میں صدرشعبہ جغرافیہ ڈاکٹر عزیز الرحمن صدیقی نےکلکتہ سے تشریف لانے مہمان مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے سابق ممبر و معلم خواجہ احمد حسین کی آلہ آباد آمد پہ 2/ اکتوبر 2025 کو اپنی رہائش گاہ پہ اعزازیہ نشست کا اہتمام کیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے والد بزرگوار کے اول مجموعہ کلام سے متعارف کرایا اور موصوف کی چند غزلیں سنانے کے بعد بہترین تجزیہ بھی پیش کیا۔ اس موقع پہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اپنے سابق دوست معروف فٹبالر وشاعر مرحوم خواجہ جاوید اختر کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ اس ادبی نشست کی صدارت اتر پردیش کے ماہر قانون و سابق ایڈیشنل جنرل آلہ آباد ہائیکورٹ قمر الحسن صدیقی اور نظامت معروف ایڈوکیٹ شاعر و ادیب بختیار یوسف نے کی۔ مہمان باوقار کی حیثیت سے لکھنؤ یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو ڈاکٹر فاضل ہاشمی، آلہ آباد کی ہردلعزیز عوامی شخصیت اسرار نیازی اور جواں سال ریسرچ اسکالر و صحافی اظہر عباس و دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پہ بابائے قوم گاندھی جی اور لال بہادر شاستری کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ شعری دور میں قمر الحسن صدیقی، خواجہ احمد حسین ، ڈاکٹر فاضل ہاشمی اور بختیار یوسف نے اپنے اپنے منتخب کلام پیش کیے۔ اسرار نیازی نے حاصل سیر ادبی گفتگو کی۔ رات ساڑھے دس بجے ڈاکٹر فاضل ہاشمی کے خوبصورت نعتیہ کلام اور طعام کے بعد محفل کا اختتام ہوا۔ بیگم عزیز الرحمن صدیقی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔


