جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر /سرینگر کی مشہور درگاہ حضرتبل ہفتہ کو روحانی مرکز بن گئی جہاں وادی بھر سے ہزاروں فرزندانِ توحید نے عید میلادالنبیؐ کے موقعے پر حاضری دی۔
جمعہ کی شب سے ہی زائرین بڑی تعداد میں درگاہ پہنچے اور شب خوانی، تلاوتِ قرآن اور دعاؤں میں شریک ہوئے۔ صبح کی نماز کے بعد جب موئے مقدسﷺ کی زیارت کرائی گئی تو رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ ہر نماز کے بعد موئے مقدس کی زیارت سے فضا تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھی اور عقیدتمند اشکبار ہوکر دعاؤں میں مصروف رہے۔
عقیدت مند مردو زن نے اس لمحے کو اپنی زندگی کی بڑی سعادت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک نظر زیارت سے دل کو سکون اور آنکھوں کو آنسو ملتے ہیں۔
انتظامیہ نے ٹریفک، بجلی، پانی اور طبی سہولیات سمیت ضروری انتظامات کئے تھے جبکہ وادی کی دیگر درگاہوں اور خانقاہوں میں بھی میلادالنبیؐ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔

اس دوران کشمیر کی گلی کوچے ہفتہ کو عید میلادالنبیؐ کی شان میں محبت و عقیدت کے رنگوں سے سج گئے۔ چھوٹے بچوں سے لے کر نوجوانوں اور بزرگوں تک، خواتین سمیت ہر عمر کے لوگ جلوسوں میں شریک ہوئے اور فضا نعت خوانی اور تکبیر سے معمور رہی۔
سرینگر کے پررونق بازاروں سے لے کر شمال و جنوب کے پُرسکون دیہات تک، ہر سمت سبز پرچم اور روشنیوں نے ایمان و اتحاد کا منظر پیش کیا۔ بچوں نے سبز پٹیاں باندھ رکھی تھیں، چہروں پر اسلامی پرچم کے رنگ سجائے ہوئے تھے اور نعتوں کی دھن پر چھوٹے چھوٹے قدموں سے جلوس میں رواں دواں تھے۔ علمگری بازار میں جھنڈے فضاؤں میں لہراتے رہے اور گلاب کے عرق کی خوشبو چار سو پھیل گئی۔ گھروں پر چراغاں ہوا، مساجد سجائی گئیں اور دکانداروں نے راہگیروں کو مٹھائیاں اور نان تقسیم کئے۔
اسی طرح گائوںجیسے اننت ناگ، بارہمولہ، پلوامہ، بڈگام، کپوارہ اور دیگر اضلاع میں بھی لوگوں نے جلوس نکالے۔ معمول کے خاموش دیہات بھی شام ڈھلے نعتوں اور درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھے۔


