جموں و کشمیر میںMBBS نشستوں میں اضافہ

نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کی جانب سے جموں و کشمیر کے پانچ سرکاری میڈیکل کالجوں میں 190 اضافی MBBSنشستوں کی منظوری ایک بروقت اور حوصلہ افزا اقدام ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی یو ٹی کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کی کل گنجائش 1185 سے بڑھ کر 1375 ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ بظاہر تعداد میں محدود لگتا ہے، مگر ڈاکٹر اور مریض کے بگڑتے ہوئے تناسب اور بڑھتی ہوئی ضرورت کے تناظر میں یہ فیصلہ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
عرصہ دراز سے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں مریضوں کو بنیادی طبی سہولیات تک رسائی کے لئے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں میڈیکل طلبہ کی سالانہ تعداد میں اضافہ نہ صرف مستقبل کے لئے معالجین کی ایک مستقل کھیپ فراہم کرے گا بلکہ مقامی صحت کے نظام کو بھی مستحکم کرے گا۔
یہ فیصلہ میڈیکل تعلیم کے خواہشمند طلبہ کے لئے بھی بڑی راحت ہے۔ جموں و کشمیر کے ہزاروں ہونہار طلبہ محدود نشستوں کے باعث بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہوتے رہے ہیں۔ متعدد رپورٹس سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے لئے ایم بی بی ایس کی نشست حاصل کرنے کی خاطر اپنی زمینیں فروخت کرنے یا عمر بھر کی جمع پونجی خرچ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایسے میں نشستوں میں اضافہ نہ صرف تعلیمی سہولت فراہم کرے گا بلکہ بہت سے خاندانوں کے لئے معاشی سکون کا باعث بھی بنے گا۔
تاہم یہ قدم حتمی کامیابی نہیں بلکہ ایک آغاز سمجھا جانا چاہیے۔ ضروری ہے کہ بڑھتی نشستوں کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچہ، فیکلٹی کی تعداد، کلینیکل سہولیات اور پوسٹ گریجویٹ تربیت کے مواقع بھی بڑھائے جائیں، بصورتِ دیگر میڈیکل تعلیم کے معیار پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت کو یہ بھی حکمت عملی بنانی ہوگی کہ مقامی طلبہ گریجویشن کے بعد جموں و کشمیر ہی میں خدمات انجام دیں، تاکہ اس سرزمین کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچے اور یہ ڈاکٹر بڑے شہروں یا بیرونِ ملک منتقل نہ ہوں۔
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

جموں و کشمیر میںMBBS نشستوں میں اضافہ

نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کی جانب سے جموں و کشمیر کے پانچ سرکاری میڈیکل کالجوں میں 190 اضافی MBBSنشستوں کی منظوری ایک بروقت اور حوصلہ افزا اقدام ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی یو ٹی کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کی کل گنجائش 1185 سے بڑھ کر 1375 ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ بظاہر تعداد میں محدود لگتا ہے، مگر ڈاکٹر اور مریض کے بگڑتے ہوئے تناسب اور بڑھتی ہوئی ضرورت کے تناظر میں یہ فیصلہ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
عرصہ دراز سے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں مریضوں کو بنیادی طبی سہولیات تک رسائی کے لئے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں میڈیکل طلبہ کی سالانہ تعداد میں اضافہ نہ صرف مستقبل کے لئے معالجین کی ایک مستقل کھیپ فراہم کرے گا بلکہ مقامی صحت کے نظام کو بھی مستحکم کرے گا۔
یہ فیصلہ میڈیکل تعلیم کے خواہشمند طلبہ کے لئے بھی بڑی راحت ہے۔ جموں و کشمیر کے ہزاروں ہونہار طلبہ محدود نشستوں کے باعث بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہوتے رہے ہیں۔ متعدد رپورٹس سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے لئے ایم بی بی ایس کی نشست حاصل کرنے کی خاطر اپنی زمینیں فروخت کرنے یا عمر بھر کی جمع پونجی خرچ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایسے میں نشستوں میں اضافہ نہ صرف تعلیمی سہولت فراہم کرے گا بلکہ بہت سے خاندانوں کے لئے معاشی سکون کا باعث بھی بنے گا۔
تاہم یہ قدم حتمی کامیابی نہیں بلکہ ایک آغاز سمجھا جانا چاہیے۔ ضروری ہے کہ بڑھتی نشستوں کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچہ، فیکلٹی کی تعداد، کلینیکل سہولیات اور پوسٹ گریجویٹ تربیت کے مواقع بھی بڑھائے جائیں، بصورتِ دیگر میڈیکل تعلیم کے معیار پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت کو یہ بھی حکمت عملی بنانی ہوگی کہ مقامی طلبہ گریجویشن کے بعد جموں و کشمیر ہی میں خدمات انجام دیں، تاکہ اس سرزمین کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچے اور یہ ڈاکٹر بڑے شہروں یا بیرونِ ملک منتقل نہ ہوں۔
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں