کشمیری اسکولوں میں خاموش امتیاز

اسکول ہمیشہ مساوات اور برابری کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ لباسِ یکساں بچوں کے درمیان ظاہری تفاوت کو مٹا دیتا ہے، فیسوں کا ڈھانچہ ایک سا ہوتا ہے اور جماعتوں کا نصب العین یہ ہے کہ ذات پات، مذہب یا خاندانی پس منظر سے بالا ہو کر سب کو برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔ تعلیم دراصل عدل و انصاف کا وعدہ ہے۔ لیکن افسوس،کشمیر میں یہ وعدہ خاموشی کے ساتھ ٹوٹ رہا ہے۔نظم و ضبط اور ہم آہنگی کے پردے کے نیچے ایک مکروہ رویہ پنپ رہا ہے، بالخصوص نجی اسکولوں میں۔ یہ مسئلہ محض نصابی تدریس کا نہیں بلکہ اس ثقافتی روش کا ہے جس میں شفیع گری اور اقربا پروری بچوں کے امکانات کا تعین کرتی ہے۔ ثقافتی پروگرام ہوں یا مباحثے، کھیلوں کے مقابلے ہوں یا محض تشہیری مناظر کی فلم بندی غرض ہر جگہ انہی چند طلبہ کو فوقیت دی جاتی ہے جن کا تعلق اساتذہ یا منتظمین سے قرابت و تعلق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
یہ طرزِ عمل معمولی یا بے ضرر نہیں۔ آج کے عہدِ رقمی (ڈیجیٹل) میں جب اسکول انسٹاگرام اور یوٹیوب کی جھلکیوں کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں، کسی سرگرمی میں شرکت اور نمائش، حوصلہ افزائی اور اعترافِ لیاقت کا ذریعہ بن چکی ہے۔ ایسے میں محنتی اور باصلاحیت کشمیری طلبہ کو نظرانداز کر کے صرف ’’وابستگان‘‘ کو ترجیح دینا ان کے ذہن و دل پر شدید صدمہ ڈالتا ہے۔ گویا انہیں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ نہ محنت معتبر ہے نہ صلاحیت بلکہ اصل کسوٹی تو محض تعلق اور سفارش ہے۔والدین یہ امتیاز بخوبی دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں مگر لب کشائی سے ہچکچاتے ہیں۔ ان کا خوف بجا ہے کہ اگر زبان کھولی گئی تو ان کے بچوں کو مزید اذیت جھیلنی پڑے گی۔ یہی خاموشی اس ناسور کو گہرا کر رہی ہے۔
یہ محض لغزش یا کوتاہی نہیں بلکہ تعلیم کے بنیادی فلسفے سے انحراف ہے۔ وہ سکول جو اقربا پروری اور جانبداری کو پروان چڑھاتی ہیں، دراصل مساوات کی جڑیں کاٹ رہی ہیں اور طلبہ کے اعتماد و مستقبل کو مجروح کر رہی ہیں۔ ایسے وقت میں جب کشمیری نوجوانوں کو بلند حوصلگی اور بااختیار بننے کی ضرورت ہے، ہمارے تعلیمی ادارے یہ زہر آلود سبق دے رہے ہیں کہ استحقاق اور اثر و رسوخ ہی اصل پیمانہ ہے۔ اب یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔ جموں و کشمیر کے اربابِ اختیار کو اس بابت فوری اور سخت اقدام کرنا ہوگا۔ امتیازی رویوں کے خلاف ضابطے مرتب ہوں، خاطی درسگاہوں کو نہ صرف جوابدہ بنایا جائے بلکہ عوام کے سامنے بے نقاب بھی کیا جائے۔ طالب علموں کی شمولیت میں شفافیت کو قانونی تقاضہ قرار دینا وقت کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

PDP کے سیاسی تجربے نے جموں و کشمیرسب کچھ چھین لیا/ رمضان

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری اور رکنِ...

تازہ ترین خبریں

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

PDP کے سیاسی تجربے نے جموں و کشمیرسب کچھ چھین لیا/ رمضان

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری اور رکنِ...

کشمیری اسکولوں میں خاموش امتیاز

اسکول ہمیشہ مساوات اور برابری کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ لباسِ یکساں بچوں کے درمیان ظاہری تفاوت کو مٹا دیتا ہے، فیسوں کا ڈھانچہ ایک سا ہوتا ہے اور جماعتوں کا نصب العین یہ ہے کہ ذات پات، مذہب یا خاندانی پس منظر سے بالا ہو کر سب کو برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔ تعلیم دراصل عدل و انصاف کا وعدہ ہے۔ لیکن افسوس،کشمیر میں یہ وعدہ خاموشی کے ساتھ ٹوٹ رہا ہے۔نظم و ضبط اور ہم آہنگی کے پردے کے نیچے ایک مکروہ رویہ پنپ رہا ہے، بالخصوص نجی اسکولوں میں۔ یہ مسئلہ محض نصابی تدریس کا نہیں بلکہ اس ثقافتی روش کا ہے جس میں شفیع گری اور اقربا پروری بچوں کے امکانات کا تعین کرتی ہے۔ ثقافتی پروگرام ہوں یا مباحثے، کھیلوں کے مقابلے ہوں یا محض تشہیری مناظر کی فلم بندی غرض ہر جگہ انہی چند طلبہ کو فوقیت دی جاتی ہے جن کا تعلق اساتذہ یا منتظمین سے قرابت و تعلق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
یہ طرزِ عمل معمولی یا بے ضرر نہیں۔ آج کے عہدِ رقمی (ڈیجیٹل) میں جب اسکول انسٹاگرام اور یوٹیوب کی جھلکیوں کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں، کسی سرگرمی میں شرکت اور نمائش، حوصلہ افزائی اور اعترافِ لیاقت کا ذریعہ بن چکی ہے۔ ایسے میں محنتی اور باصلاحیت کشمیری طلبہ کو نظرانداز کر کے صرف ’’وابستگان‘‘ کو ترجیح دینا ان کے ذہن و دل پر شدید صدمہ ڈالتا ہے۔ گویا انہیں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ نہ محنت معتبر ہے نہ صلاحیت بلکہ اصل کسوٹی تو محض تعلق اور سفارش ہے۔والدین یہ امتیاز بخوبی دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں مگر لب کشائی سے ہچکچاتے ہیں۔ ان کا خوف بجا ہے کہ اگر زبان کھولی گئی تو ان کے بچوں کو مزید اذیت جھیلنی پڑے گی۔ یہی خاموشی اس ناسور کو گہرا کر رہی ہے۔
یہ محض لغزش یا کوتاہی نہیں بلکہ تعلیم کے بنیادی فلسفے سے انحراف ہے۔ وہ سکول جو اقربا پروری اور جانبداری کو پروان چڑھاتی ہیں، دراصل مساوات کی جڑیں کاٹ رہی ہیں اور طلبہ کے اعتماد و مستقبل کو مجروح کر رہی ہیں۔ ایسے وقت میں جب کشمیری نوجوانوں کو بلند حوصلگی اور بااختیار بننے کی ضرورت ہے، ہمارے تعلیمی ادارے یہ زہر آلود سبق دے رہے ہیں کہ استحقاق اور اثر و رسوخ ہی اصل پیمانہ ہے۔ اب یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔ جموں و کشمیر کے اربابِ اختیار کو اس بابت فوری اور سخت اقدام کرنا ہوگا۔ امتیازی رویوں کے خلاف ضابطے مرتب ہوں، خاطی درسگاہوں کو نہ صرف جوابدہ بنایا جائے بلکہ عوام کے سامنے بے نقاب بھی کیا جائے۔ طالب علموں کی شمولیت میں شفافیت کو قانونی تقاضہ قرار دینا وقت کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں