کشمیر اس وقت شدید خوف اور گھبراہٹ کی لپیٹ میں ہے۔ جب ہم یہ سطور تحریر کر رہے ہیں تو پانی پہلے ہی راجباغ کے کچھ حصوں میں داخل ہوچکا ہے۔ یہ منظر کشمیری عوام کے دلوں میں 2014 کے تباہ کن سیلاب کی ڈراؤنی یادیں تازہ کر رہا ہے۔ خوف فطری ہے اور عوام کی بے چینی بالکل بجا۔یہ مرحلہ وقتی ہے اور گزر جائے گا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے 2014 کے سیلاب سے کچھ سیکھا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جواب نفی میں ہے۔ برسہا برس وادی سیلاب کے خطرے کے سائے میں جی رہی ہے، لیکن آج تک کوئی جامع نظام یا پالیسی تشکیل نہیں دی گئی جو اس خطرے کو کم کرسکے۔
2014 کی تباہی نے یہ ثابت کردیا تھا کہ ہمارا شہری منصوبہ بندی کا ڈھانچہ کتنا کمزور ہے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کس قدر ناکام ہے اور نکاسی آب کا نظام کس حد تک ناکارہ ہے۔ اربوں روپے کا نقصان ہوا، بے شمار زندگیاں برباد ہوئیں، لیکن دس برس بعد بھی عوام اسی خدشے میں مبتلا ہیں کہ تاریخ پھر نہ دہرائی جائے۔حکومت کے لیے اب مزید غفلت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ عارضی ریلیف اقدامات سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وادی کے لیے ایک طویل مدتی، سائنسی بنیادوں پر مبنی فلڈ مینجمنٹ پالیسی بنائی جائے—جس میں مضبوط پشتے، فعال ڈرینیج سسٹم، آبی ذخیروں اور ویٹ لینڈز کی بحالی، اور فلڈ پلین پر تعمیرات کی سخت پابندی شامل ہو۔ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے کہ پچھلے دس برسوں میں ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟
کشمیر کے عوام محض تسلیوں کے نہیں بلکہ عملی اقدامات کے مستحق ہیں۔ ان کی جان و مال کی حفاظت ریاستی ذمہ داری ہے، اور وقت کا تقاضا ہے کہ اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے نبھایا جائے۔
آج راجباغ میں بہتا ہوا پانی ایک واضح انتباہ ہے: کشمیر اب ایک اور 2014 برداشت نہیں کرسکتا۔
کشمیر ایک اور 2014 برداشت نہیں کرسکتا
کشمیر ایک اور 2014 برداشت نہیں کرسکتا
کشمیر اس وقت شدید خوف اور گھبراہٹ کی لپیٹ میں ہے۔ جب ہم یہ سطور تحریر کر رہے ہیں تو پانی پہلے ہی راجباغ کے کچھ حصوں میں داخل ہوچکا ہے۔ یہ منظر کشمیری عوام کے دلوں میں 2014 کے تباہ کن سیلاب کی ڈراؤنی یادیں تازہ کر رہا ہے۔ خوف فطری ہے اور عوام کی بے چینی بالکل بجا۔یہ مرحلہ وقتی ہے اور گزر جائے گا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے 2014 کے سیلاب سے کچھ سیکھا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جواب نفی میں ہے۔ برسہا برس وادی سیلاب کے خطرے کے سائے میں جی رہی ہے، لیکن آج تک کوئی جامع نظام یا پالیسی تشکیل نہیں دی گئی جو اس خطرے کو کم کرسکے۔
2014 کی تباہی نے یہ ثابت کردیا تھا کہ ہمارا شہری منصوبہ بندی کا ڈھانچہ کتنا کمزور ہے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کس قدر ناکام ہے اور نکاسی آب کا نظام کس حد تک ناکارہ ہے۔ اربوں روپے کا نقصان ہوا، بے شمار زندگیاں برباد ہوئیں، لیکن دس برس بعد بھی عوام اسی خدشے میں مبتلا ہیں کہ تاریخ پھر نہ دہرائی جائے۔حکومت کے لیے اب مزید غفلت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ عارضی ریلیف اقدامات سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وادی کے لیے ایک طویل مدتی، سائنسی بنیادوں پر مبنی فلڈ مینجمنٹ پالیسی بنائی جائے—جس میں مضبوط پشتے، فعال ڈرینیج سسٹم، آبی ذخیروں اور ویٹ لینڈز کی بحالی، اور فلڈ پلین پر تعمیرات کی سخت پابندی شامل ہو۔ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے کہ پچھلے دس برسوں میں ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟
کشمیر کے عوام محض تسلیوں کے نہیں بلکہ عملی اقدامات کے مستحق ہیں۔ ان کی جان و مال کی حفاظت ریاستی ذمہ داری ہے، اور وقت کا تقاضا ہے کہ اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے نبھایا جائے۔
آج راجباغ میں بہتا ہوا پانی ایک واضح انتباہ ہے: کشمیر اب ایک اور 2014 برداشت نہیں کرسکتا۔

