فاضل بٹ
انت ناگ، کشمیر
جمال الدین نے اپنے علاقے کے مختلف چھوٹے بڑے سرکاری اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کالج میں داخلہ لیا۔ کالج جمال الدین لئے کسی جنت سے کم نہیں تھا۔ اسکی طبعیت میں لڑکپن سے ہی کچھ عجیب بات تھی۔ حسن و جمال آنکھ کو خوب بھاتا تھا اور جب بھی کسی خوبصورت لڑکی کو دیکھتا تھا تو وہ بے چین ہو جاتا تھا۔ کالج میں چونکہ بہت سی خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ ان کو دیکھتے ہی جمال الدین کے دماغ میں پھلجھڑیاں پھوٹنے لگتی تھیں اور دل بلیوں اچھلنے لگتا تھا۔ گویا ہر ایک لڑکی سے اسے پیار ہو جاتا۔ یہ کسی پاگل نے افواہ اڑائی ہوگی کہ پیار زندگی میں صرف ایک بار ہوجاتا ہے ۔ وہ تو دن میں دس لڑکیوں کو اپنا دل دے بیٹھتا تھا۔ لیکن پھر یہ سوچ کر اپنے دل سے ان خیالات کو باہر پھینک دیتا تھا کہ کہیں یہ پڑھائی میں خلل کا سبب نہ بن جائے۔ تعلیم سے کوئی سمجھوتہ نہیں تھا مگر اسکا دل بھی اپنی پیاس بجھانے کو بے قرار رہتا تھا۔
جمال الدین تعلیم مکمل کرتے ہی ایک اچھی خاصی سرکاری نوکری حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ ا سکی شخصیت میں بھی ایک عجیب کشش اور وجاہت تھی اور صنفِ نازک اس کی طرف کسی مقناطیس کی طرح کھینچی چلی آتی تھی۔ سرکاری نوکری ملنا گویا اس کے ادھورے خوابوں کی ایک تعبیر تھی۔ یہ اسکی زندگی کا ایک بڑا مقصد تھا جس کے لیے اس نے اپنے بھر پور شباب کے دنوں میں خود کو کئی خوبصورت لڑکیوں سے مجبوراََ دور رکھا تھا۔ ان کی طرف مائل ہونے سے اپنے دل و دماغ پر جیسے پابندی لگا دی تھی۔ اب وہ قدغن ختم ہو چکی تھی۔ اتنے سالوں کی بھڑاس نکالنے کا اب وقت آچکا تھا۔ اب جمال الدین کے پاس چھوٹی موٹی طاقت تھی، پیسہ تھا، گویا اپنی چھوٹی سی دنیا کی ہر چیز اسکے قدموں میں تھی۔ نوکری ملتے ہی اس کو ہر خوبصورت لڑکی سے پیار ہو جاتا تھا۔ گاڑی میں، آفس میں، راستے میں، جتنی بھی خوبصورت لڑکیاں ملتی، اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا۔
حسن و جمال سے لطف اندوز ہونے کی شروعات نوکری ملنے کے ایک مہینے بعد ہی ہوئی۔ اس پہلی لڑکی کی خوشبو جمال الدین کو بے چین کر دیتی، اس کا جسم اس کی محبت کی آگ میں جھلس جاتا۔ اور وہ اس کے رنگین خوابوں میں کھو جاتا اور ایک دن وہ اس کی قربت میں آ ہی گئی۔ اتنے قریب کہ جمال الدین ہونٹ اس کے ہونٹوں میں پیوست ہوئے اور اس کی خوشبو اس کے سارے جسم میں پھیل گئی۔ اس رات وہ دونوں ایک ساتھ تھے، ایک کمرے میں، ایک بستر پر۔۔۔۔۔
کچھ ہوش اڑا دینے والی ملاقاتوں کے بعد پتہ نہیں کیوں جمال الدین کو اس لڑکی سے گھن آنے لگی۔ اس کے جسم سے، اس کے گلابی ہونٹوں سے، اس کی ہر ایک ادا سے اسے نفرت ہونے لگی اور اس نے اس کے ساتھ اپنا رابطہ منقطع کیا۔ جمال الدین کی پہلی ہوس اپنے تکمیل کو پہنچ چکی تھی۔
جمال الدین کا یہ سلسہ بلا ناغہ جاری رہا۔ خوبصورت لڑکیوں پر اپنا جسم، دولت اور وقت نچھاور کرنا اسے بڑا خوش کن لگتا تھا۔ شادی سے پہلے اس نے کئی لڑکیوں سے جسمانی تعلقات قائم کیے۔ پھر گھر والوں کی مرضی پر اس نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی شریکِ حیات خوبصورتی میں یکتا تھیں۔ ایک سال تک کسی بھی دوسری لڑکی کی طرف گویا اس کا دھیان ہی نہیں گیا۔ پھر اچانک جمال الدین کی بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی اسکی بیوی کے ساتھ دوریوں کا ایک ہلکا سا سلسلہ شروع ہوا۔
جمال الدین کے آفس میں ایک جوان لڑکی کام کرتی تھی۔ اب ا سکی ساری توجہ کی مرکز وہ لڑکی تھی۔ اس نے اپنی دفتری پوزیشن کے بل بوتے پر اس کے ساتھ خوب اپنی تسکین کا سامان کیا۔ لیکن پھر حسب عادت اس سے بھی دل بھر آیا اور اس کا تبادلہ کرا دیا۔
جمال الدین کے گھر پر بھی ایک کالج کی لڑکی شام کو اس کے پاس ٹیوشن کی غرض سے آیا کرتی تھی۔ وہ اسے اچھی لگنے لگی۔ اور وہ بھی شاید اسی بات کی منتظر تھی۔ اس کے دل میں بھی ارمانوں کا ٹھاٹھے مارتا سمندر جوش مار رہا تھا۔ جب بھی اس کی اہلیہ گھر میں نہیں ہوتی تھی، وہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت اچھے سے پوری کرتے رہے۔ اس لڑکی میں باقی لڑکیوں سے ہٹ کر ایک بات تھی۔ وہ جمال الدین کی ہی طرح جوش و جذبے کا ایک وسیع سمندر تھی۔ وہ اپنی مرضی سے خود کو پیش کرتی تھی اور بہت لطف اندوز ہوتی تھی۔ یہ شاندار کھیل بھی کئی مہینے جاری رہا۔ اور پھر جمال الدین کا من اس لڑکی سے متلانے لگا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ اس کو ایک اچھے خاصے گھر کا لڑکا مل گیا تھا اور اب وہ جمال الدین کے ساتھ ڈھیلی پڑ گئی تھی۔ جمال الدین نے بھی حالات کو بھانپ کر اس کی ٹیوشن سے چھٹی کر دی۔
جمال الدین اپنے علاقے کا ایک معزز شہری مانا جاتا تھا۔ اس کے اندر کے جانور سے سب لوگ بے خبر تھے۔ اپنی نوکری سے سبکدوش ہونے تک حسن و جمال سے ہر طرح سے حض حاصل کرنا جاری رہا۔ کیونکہ یہ اس کی ایک کمزوری بن چکی تھی۔ اسے اپنی بیوی سے بھی پیار تھا اور وہ اس کی تمام ضروریات پوری کرتا تھا لیکن اس کے برعکس سب خوبصورت عورتیں اور لڑکیاں بھی اسے اچھی لگتی تھیں اور ان کے ساتھ تعلق قائم کرنا اسکی کمزوری بن چکا تھا۔ اس نے کئی دفعہ سوچا کہ اپنی بیوی سے دوسری شادی کرنے کا کہہ دے، پھر اس کی ممکنہ پریشانیوں کا سوچ کر یہ فیصلہ بھی رد کیا۔ اور پھر ضرورت بھی نہیں تھی۔ کیونکہ اسکی تمام خواہشیں اچھے سے پوری ہو ہی جاتی تھیں۔ اس کا بھٹکا ہوا نفس اس پر اس قدر حاوی تھا کہ کبھی خوف خدا سے بھی اس کا دل نہ گھبرایا اور سوچا ریٹائرمنٹ کے بعد توبہ کر کے سارے گناہوں کی معافی ایک ساتھ مانگ لے گا۔ اس کی بیٹی بھی اب جوان ہو گئی تھی اور ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد جمال الدین نے حج کا متبرک فریضہ انجام دینے کا فیصلہ کیا۔
وہ اپنی بیوی کے ہمراہ سفرِ حج پر روانہ ہوا۔ لاکھوں کی تعداد میں خوبصورت عورتیں حج کا فریضہ انجام دینے میں مصروف تھیں۔ لوگ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے اور اس کی آنکھیں خوبصورت عورتوں کا دیدار کرنے میں محو تھیں۔ اس نے ایکا ایکی سوچا کہ کاش وہ اندھا ہو جاتا اور کسی بھی دنیاوی چیز دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا۔ لیکن یہ اس پر اللہ کا عذاب تھا کہ وہ اپنے پراگندہ ذہن و دل سے غلیظ اور شہوانی خیالات کو ارض مقدس میں بھی نہ نکال پایا۔
اب جمال الدین کے نام کے ساتھ ایک اور لفظ جڑ گیا۔ وہ حاجی تو بن گیا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں حسن و جمال کو دیکھنے کی عادت ابھی تک برقرار تھی۔ وہ مسجد جاتا، نمازیں ادا کرتا، صدقہ و خیرات بھی دیتا لیکن گھر میں ایک بیس سالہ کام کرنے والی سانولی لڑکی کو دیکھ کر اس کا جی بھی ہمیشہ للچاتا تھا۔
اب وہ دن بھر فیس بک پر لڑکیوں کا ناچ گانا دیکھتا رہتا۔ فیس بک پر ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ اس نے اپنی پوری سروس میں ایسی خوبصورت لڑکیاں نہ دیکھی تھیں۔ فیس بک پر بہت ساری عورتوں اور لڑکیوں سے اس کی دوستی ہو گئی۔وہ کسی بھی لڑکی یا عورت کے کسی بھی مبارک دن پر محترمہ کو مبارک باد پیش کرتا لیکن شاید اب عمر کی وجہ سے سر اور چہرے پر چھائی ہوئی سفیدی بھانپ کر سب عورتیں اور لڑکیاں اس کو نظر انداز ہی کرتیں۔
جمال الدین کی بیٹی جونئیر اسسٹنٹ تھی۔ ایک دن آفس سے گھر آکر وہ زار و قطار رونے لگی۔ استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ اس کے باس نے بدتمیزی کی ہے۔ اس کی آنکھیں متورم اور سرخ تھیں۔ جمال الدین نے اس کی پیٹھ کو پیار سے تھپتھپایا اور اس کے باس کو سبق سکھانے کا وعدہ کیا۔
اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اس نے آج تک جن لڑکیوں کے ساتھ اپنے جسمانی تعلقات قائم کیے تھے، وہ سب لڑکیاں اس کی آنکھوں کے سامنے تھیں۔ مکافات عمل شروع ہوچکا تھا۔
” دیکھا آج تمہاری بیٹی کے ساتھ کیا ہوا۔ وہی ہوا جو تم نے ہم سب کے ساتھ کیا تھا۔۔ اب بولو کیسا لگ رہا ہے تم کو۔۔۔” وہ سب لڑکیاں ایک ساتھ بلند آواز میں اس سے مخاطب تھیں۔ جمال الدین کی روح کانپ اُٹھی، اس کا جسم تھرتھرانے لگا، اسے اپنے وجود سے نفرت ہونے لگی۔۔
تھوڑی دیر کے بعد سنبھل کر جمال الدین نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا اور کیا دیکھتا ہےن کہ اس دوڑ میں، میں وہ تنہا نہیں ہے۔ بہت سارے ریٹائرڈ ڈاکٹر، انجینیئر، پروفیسر، کاروباری اور بڑے بڑے ادیب اور شاعر اسکی طرح ہین ٹھرکی نکلے۔۔ وہ لوگ بھی ان عورتوں کی تصاویر پر خوب کمنٹ کرتے، ان کی خوب پذیرائی کرتے۔ جنم دن پر مبارک باد دینا، پارٹی کی تصویروں پر شاندار شاندار تبصرے کرنا وغیرہ وغیرہ ان ٹھرکیوں کی طبعیتِ ثانیہ تھی۔ شاید یہ خوبصورت عورتیں ان کے بڑھاپے کا سہارا تھیں۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے اپنے شعبوں کے ماہرین تھے لیکن وہاں یہ کسی بھی نوجوان ڈاکٹر، انجینیر، طالب علم، ادیب یا نو آموز شاعر کی رہنمائی نہیں کرتے تھے۔ بلکہ معاشرے کی ایسی بے باک اور ماڈرن عورتوں اور لڑکیوں کی معمولی سے معمولی پوسٹ پر بھی اپنے تبصرے جاری رکھے ہوئے تھے۔
جمال الدین کے اندر کے جانور نے بھی ایک راحت کی جگالی کی اور ایک جوان لڑکی کی نئی تصویر کو لائک کرکے اس پر کمنٹ کرنے لگا۔
ززز

