فاسقہ

ایم۔ یونس

بینک میں گرمی، پسینہ، اور طویل قطار کا شور۔ لوگ تیزی سے رقم نکال رہے تھے جیسے وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہو۔ میں بھی اس بھیڑ کا ایک حصہ تھی—بظاہر عام سی لڑکی، مگر اندر سے شکستہ اور گناہوں کے بوجھ سے لدی ہوئی۔
میری زندگی ایک ایسے موڑ پر آ چکی تھی جہاں میں خود کو بھی پہچاننے سے قاصر تھی۔ میری سوچیں، میرے عمل، میری دوہری شخصیت—سب کچھ الجھا ہوا تھا۔ گھر میں فرمانبردار بیٹی، اور باہر… وہ سب جو میرے رب کو ناپسند تھا۔ والدین نے مجھے اے ٹی ایم کارڈ دینے سے انکار کیا، شاید دل کا کوئی گوشہ میرے بھٹکنے سے باخبر تھا۔ لیکن میں پہلے ہی بہت دور جا چکی تھی—بے حجاب، بے پروا، اور ایمان سے غافل۔
اسی بینک میں، ایک معمر شخص نماز کی فکر میں بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کی پیشانی پر سجدوں کا نور، آنکھوں میں درد، اور دل میں وقت کی قدر تھی۔ جب دو خواتین باری کے بغیر رقم لے گئیں تو انہوں نے ادب سے مجھ سے اپنی باری مانگی۔ میرے دل میں ایک لمحہ کو کوئی نرم شعلہ سا جاگا، لیکن میری زبان خاموش رہی۔
ایک بنگالی مسلم لڑکی نے ان کی مدد کی، مگر دیر ہو چکی تھی۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے اپنی جگہ دے دی۔ انہوں نے جو دعا دی، وہ سیدھی دل کے اندر اتری۔ جیسے پتھر پہ بارش کی پہلی بوند پڑی ہو۔
اچانک میرے ذہن میں بجلی سی کوندی—میں آج کورٹ میرج کے لیے روہت سے ملنے جا رہی تھی، جس نے مجھ پر مذہب بدلنے کا دباؤ ڈالا تھا۔ یہ محبت نہیں، روح کا سودا تھا۔ اس بزرگ کی نگاہ اور دعا نے میرے اندر کے ایمان کو جھنجھوڑا۔
ایک لمحہ جو زندگی کا رخ بدل دے—میں اسی لمحے میں زندہ ہوں۔
میں گھر لوٹی۔ ماں کی آنکھوں میں حیرانی اور پھر آنسو۔ میں ان کے قدموں میں گری، اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، اور ان کا ہاتھ تھام کر عہد کیا کہ اب کوئی فریب، کوئی دجل، کوئی جھوٹ ہماری زندگیوں میں نہیں آئے گا۔
وقت بدلا۔ میں نے خود کو سنوارنے کے لیے ایک دینی مدرسہ میں داخلہ لیا، جہاں علم کے ساتھ ساتھ روح کی پاکیزگی بھی ملی۔ آج میں وہی ہوں جو میں بننا چاہتی تھی—ایک فاسقہ سے فائزہ۔
اب میری زندگی کا مقصد اپنی بیٹیوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین کی روشنی دینا ہے، تاکہ وہ بھی کسی فریبِ محبت کا شکار نہ ہوں۔ میں روز ان کے کانوں میں سورۃ النور کی آیات پڑھتی ہوں، ان کے دل میں حیاء، عفت، اور صبر کا چراغ جلاتی ہوں۔
میری دعا ہے کہ ہماری ہر بہن، ہر بیٹی، اپنے رب کو پہچانے، گمراہی سے بچے، اور ایمان کی لذت کو چکھے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

فاسقہ

ایم۔ یونس

بینک میں گرمی، پسینہ، اور طویل قطار کا شور۔ لوگ تیزی سے رقم نکال رہے تھے جیسے وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہو۔ میں بھی اس بھیڑ کا ایک حصہ تھی—بظاہر عام سی لڑکی، مگر اندر سے شکستہ اور گناہوں کے بوجھ سے لدی ہوئی۔
میری زندگی ایک ایسے موڑ پر آ چکی تھی جہاں میں خود کو بھی پہچاننے سے قاصر تھی۔ میری سوچیں، میرے عمل، میری دوہری شخصیت—سب کچھ الجھا ہوا تھا۔ گھر میں فرمانبردار بیٹی، اور باہر… وہ سب جو میرے رب کو ناپسند تھا۔ والدین نے مجھے اے ٹی ایم کارڈ دینے سے انکار کیا، شاید دل کا کوئی گوشہ میرے بھٹکنے سے باخبر تھا۔ لیکن میں پہلے ہی بہت دور جا چکی تھی—بے حجاب، بے پروا، اور ایمان سے غافل۔
اسی بینک میں، ایک معمر شخص نماز کی فکر میں بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کی پیشانی پر سجدوں کا نور، آنکھوں میں درد، اور دل میں وقت کی قدر تھی۔ جب دو خواتین باری کے بغیر رقم لے گئیں تو انہوں نے ادب سے مجھ سے اپنی باری مانگی۔ میرے دل میں ایک لمحہ کو کوئی نرم شعلہ سا جاگا، لیکن میری زبان خاموش رہی۔
ایک بنگالی مسلم لڑکی نے ان کی مدد کی، مگر دیر ہو چکی تھی۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے اپنی جگہ دے دی۔ انہوں نے جو دعا دی، وہ سیدھی دل کے اندر اتری۔ جیسے پتھر پہ بارش کی پہلی بوند پڑی ہو۔
اچانک میرے ذہن میں بجلی سی کوندی—میں آج کورٹ میرج کے لیے روہت سے ملنے جا رہی تھی، جس نے مجھ پر مذہب بدلنے کا دباؤ ڈالا تھا۔ یہ محبت نہیں، روح کا سودا تھا۔ اس بزرگ کی نگاہ اور دعا نے میرے اندر کے ایمان کو جھنجھوڑا۔
ایک لمحہ جو زندگی کا رخ بدل دے—میں اسی لمحے میں زندہ ہوں۔
میں گھر لوٹی۔ ماں کی آنکھوں میں حیرانی اور پھر آنسو۔ میں ان کے قدموں میں گری، اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، اور ان کا ہاتھ تھام کر عہد کیا کہ اب کوئی فریب، کوئی دجل، کوئی جھوٹ ہماری زندگیوں میں نہیں آئے گا۔
وقت بدلا۔ میں نے خود کو سنوارنے کے لیے ایک دینی مدرسہ میں داخلہ لیا، جہاں علم کے ساتھ ساتھ روح کی پاکیزگی بھی ملی۔ آج میں وہی ہوں جو میں بننا چاہتی تھی—ایک فاسقہ سے فائزہ۔
اب میری زندگی کا مقصد اپنی بیٹیوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین کی روشنی دینا ہے، تاکہ وہ بھی کسی فریبِ محبت کا شکار نہ ہوں۔ میں روز ان کے کانوں میں سورۃ النور کی آیات پڑھتی ہوں، ان کے دل میں حیاء، عفت، اور صبر کا چراغ جلاتی ہوں۔
میری دعا ہے کہ ہماری ہر بہن، ہر بیٹی، اپنے رب کو پہچانے، گمراہی سے بچے، اور ایمان کی لذت کو چکھے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون