کربلا صرف ایک معرکہ نہیں، ایک ابدی پیغام ہے،ایسا پیغام جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کے لیے اٹھ کھڑے ہونا صرف عبادت نہیں، بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ بھی ہے۔ اور سب سے اہم سبق یہ کہ اگر سامنے باطل ہو تو اس کے خلاف قیام لازم ہے، چاہے وہ باطل کسی قریبی، طاقتور، یا بظاہر مقدس منصب پر ہی کیوں نہ فائز ہو۔
امام حسین ؑکا انکارِ بیعت محض ایک سیاسی فیصلہ نہ تھا، بلکہ ایک اصولی اعلان تھا کہ دین کو اقتدار کے سودے میں گروی نہیں رکھا جا سکتا۔ یزیدوقت کا خود ساختہ خلیفہ، جس کے پاس لشکر، حکومت، دولت اور طاقت تھی، اس کے مقابل امام حسین ؑکے پاس نہ کوئی فوج تھی، نہ سلطنت۔ لیکن ان کے پاس ضمیر کی طاقت، حق کی دلیل اور قربانی کا عزم تھا۔ کربلا نے ہمیں سکھایا کہ اقتدار کے نشے میں مست باطل قوتوں کے سامنے خاموشی اختیار کرنا، دراصل ظلم کا ساتھ دینا ہے۔
کربلا کا سب سے بڑا درس یہی ہے کہ ظلم اور باطل صرف اس وقت طاقتور ہوتے ہیں جب اہلِ حق خاموش رہیں۔ امام حسین ؑنے ہمیں بتایا کہ اگر حق پر ڈٹنے کا حوصلہ ہو تو تنہائی بھی لشکر بن جاتی ہے۔ اگر نیت پاک ہو اور مقصد سچا، تو قربانی وقتی شکست نہیں بلکہ دائمی فتح بن جاتی ہے۔ امام ؑنے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ شخصیات نہیں، اصول مقدس ہوتے ہیں۔ اگر کوئی حکمران، کوئی جماعت یا کوئی نظریہ حق سے ہٹ جائے، تو اس کے سامنے سر جھکانا نہیں بلکہ کھڑا ہونا ایمانی غیرت کی علامت ہے۔
آج کے حالات پر نگاہ ڈالیں تو یزیدیت صرف تاریخ کا قصہ نہیں، آج بھی مختلف شکلوں میں ہمارے گرد موجود ہے۔ کہیں ناانصافی ہے، کہیں آزادی اظہار پر پابندی، کہیں مذہب کے نام پر منافرت، تو کہیں طاقت کے زور پر مظلوموں کی زبان بند کی جا رہی ہے۔ ایسے میں امام حسین ؑکا پیغام ہم سے سوال کرتا ہے: کیا ہم حق کے ساتھ ہیں یا صرف خاموش تماشائی؟
ماتم، جلوس اور مجالس اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر ہم امام حسینؓ کے پیغام کو صرف رسومات تک محدود کر دیں، تو ہم کربلا کے اصل مقصد سے دور ہو جائیں گے۔ کربلا ہمیں اس وقت یاد رکھنی چاہیے جب ہم کسی ناانصافی کے گواہ بنیں، جب ہمارے ضمیر کے دروازے پر کوئی سچائی دستک دے، اور جب معاشرے میں کوئی باطل قوت سر اٹھائے۔
کربلا کا اصل پیغام
کربلا کا اصل پیغام
کربلا صرف ایک معرکہ نہیں، ایک ابدی پیغام ہے،ایسا پیغام جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کے لیے اٹھ کھڑے ہونا صرف عبادت نہیں، بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ بھی ہے۔ اور سب سے اہم سبق یہ کہ اگر سامنے باطل ہو تو اس کے خلاف قیام لازم ہے، چاہے وہ باطل کسی قریبی، طاقتور، یا بظاہر مقدس منصب پر ہی کیوں نہ فائز ہو۔
امام حسین ؑکا انکارِ بیعت محض ایک سیاسی فیصلہ نہ تھا، بلکہ ایک اصولی اعلان تھا کہ دین کو اقتدار کے سودے میں گروی نہیں رکھا جا سکتا۔ یزیدوقت کا خود ساختہ خلیفہ، جس کے پاس لشکر، حکومت، دولت اور طاقت تھی، اس کے مقابل امام حسین ؑکے پاس نہ کوئی فوج تھی، نہ سلطنت۔ لیکن ان کے پاس ضمیر کی طاقت، حق کی دلیل اور قربانی کا عزم تھا۔ کربلا نے ہمیں سکھایا کہ اقتدار کے نشے میں مست باطل قوتوں کے سامنے خاموشی اختیار کرنا، دراصل ظلم کا ساتھ دینا ہے۔
کربلا کا سب سے بڑا درس یہی ہے کہ ظلم اور باطل صرف اس وقت طاقتور ہوتے ہیں جب اہلِ حق خاموش رہیں۔ امام حسین ؑنے ہمیں بتایا کہ اگر حق پر ڈٹنے کا حوصلہ ہو تو تنہائی بھی لشکر بن جاتی ہے۔ اگر نیت پاک ہو اور مقصد سچا، تو قربانی وقتی شکست نہیں بلکہ دائمی فتح بن جاتی ہے۔ امام ؑنے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ شخصیات نہیں، اصول مقدس ہوتے ہیں۔ اگر کوئی حکمران، کوئی جماعت یا کوئی نظریہ حق سے ہٹ جائے، تو اس کے سامنے سر جھکانا نہیں بلکہ کھڑا ہونا ایمانی غیرت کی علامت ہے۔
آج کے حالات پر نگاہ ڈالیں تو یزیدیت صرف تاریخ کا قصہ نہیں، آج بھی مختلف شکلوں میں ہمارے گرد موجود ہے۔ کہیں ناانصافی ہے، کہیں آزادی اظہار پر پابندی، کہیں مذہب کے نام پر منافرت، تو کہیں طاقت کے زور پر مظلوموں کی زبان بند کی جا رہی ہے۔ ایسے میں امام حسین ؑکا پیغام ہم سے سوال کرتا ہے: کیا ہم حق کے ساتھ ہیں یا صرف خاموش تماشائی؟
ماتم، جلوس اور مجالس اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر ہم امام حسینؓ کے پیغام کو صرف رسومات تک محدود کر دیں، تو ہم کربلا کے اصل مقصد سے دور ہو جائیں گے۔ کربلا ہمیں اس وقت یاد رکھنی چاہیے جب ہم کسی ناانصافی کے گواہ بنیں، جب ہمارے ضمیر کے دروازے پر کوئی سچائی دستک دے، اور جب معاشرے میں کوئی باطل قوت سر اٹھائے۔


