دلائی لاما کی جانشینی

دلائی لاما نے گزشتہ ہفتے یہ اعلان کیا کہ ان کا جانشین ان کی وفات کے بعد چُنا جائے گا — ایک اعلان جس نے نہ صرف تبتی روحانیت کے مستقبل کو واضح کیا، بلکہ چین، بھارت اور مغربی طاقتوں کے درمیان ایک نئی سفارتی کشمکش کو بھی جنم دیا۔
چین کے نزدیک دلائی لاما ایک "علیحدگی پسند” ہیں، اور وہ اصرار کرتا ہے کہ ان کا جانشین تبت میں، چینی نگرانی میں روایتی قرعہ اندازی (Golden Urn) کے تحت چُنا جائے۔ دلائی لاما نے واضح کر دیا ہے کہ ایسا ممکن نہیں، اور ان کا جانشین جلاوطن تبتی برادری سے ہوگا۔ اس تناؤ کی بنیاد 1995 کے اس واقعے میں ہے جب چین نے دلائی لاما کے منتخب کردہ پنچن لاما کو اغوا کر لیا اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں۔
بھارت کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے تبتی مہاجر گروہ کا میزبان ہے، جن میں خود دلائی لاما اور تبتی حکومتِ جلاوطن بھی شامل ہیں۔ بھارت اور چین کے نظریاتی فرق کی یہ بڑی علامت ہے: بھارت مذہبی و نسلی تنوع کو قبول کرتا ہے، جب کہ چین اسے خطرہ سمجھتا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کا یہ کہنا کہ "ہم دلائی لاما کی جانشینی پر کوئی پوزیشن نہیں لیتے، لیکن ہر فرد کو مذہبی آزادی حاصل ہے” ایک محتاط اور قابلِ تحسین مؤقف ہے۔ تاہم، یہ بھارت کے لیے بھی ایک موقع ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے۔ تبتی مہاجرین آج بھی شہریت اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں، حالانکہ ان میں سے کئی یہاں پیدا ہوئے ہیں۔ اسی غیر یقینی حیثیت کے باعث ان کی آبادی 2011 سے تقریباً نصف ہو چکی ہے۔
اب وقت ہے کہ بھارت، نہ صرف آنے والے دلائی لاما کے لیے، بلکہ ان ہزاروں تبتی مہاجرین کے لیے بھی مستقل تحفظ، شناخت اور وقار کی ضمانت دے، جو بھارت کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ یہی بھارت کی روحانی و اخلاقی قیادت کا اصل امتحان ہے اور یہی دنیا کو درکار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

دلائی لاما کی جانشینی

دلائی لاما نے گزشتہ ہفتے یہ اعلان کیا کہ ان کا جانشین ان کی وفات کے بعد چُنا جائے گا — ایک اعلان جس نے نہ صرف تبتی روحانیت کے مستقبل کو واضح کیا، بلکہ چین، بھارت اور مغربی طاقتوں کے درمیان ایک نئی سفارتی کشمکش کو بھی جنم دیا۔
چین کے نزدیک دلائی لاما ایک "علیحدگی پسند” ہیں، اور وہ اصرار کرتا ہے کہ ان کا جانشین تبت میں، چینی نگرانی میں روایتی قرعہ اندازی (Golden Urn) کے تحت چُنا جائے۔ دلائی لاما نے واضح کر دیا ہے کہ ایسا ممکن نہیں، اور ان کا جانشین جلاوطن تبتی برادری سے ہوگا۔ اس تناؤ کی بنیاد 1995 کے اس واقعے میں ہے جب چین نے دلائی لاما کے منتخب کردہ پنچن لاما کو اغوا کر لیا اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں۔
بھارت کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے تبتی مہاجر گروہ کا میزبان ہے، جن میں خود دلائی لاما اور تبتی حکومتِ جلاوطن بھی شامل ہیں۔ بھارت اور چین کے نظریاتی فرق کی یہ بڑی علامت ہے: بھارت مذہبی و نسلی تنوع کو قبول کرتا ہے، جب کہ چین اسے خطرہ سمجھتا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کا یہ کہنا کہ "ہم دلائی لاما کی جانشینی پر کوئی پوزیشن نہیں لیتے، لیکن ہر فرد کو مذہبی آزادی حاصل ہے” ایک محتاط اور قابلِ تحسین مؤقف ہے۔ تاہم، یہ بھارت کے لیے بھی ایک موقع ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے۔ تبتی مہاجرین آج بھی شہریت اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں، حالانکہ ان میں سے کئی یہاں پیدا ہوئے ہیں۔ اسی غیر یقینی حیثیت کے باعث ان کی آبادی 2011 سے تقریباً نصف ہو چکی ہے۔
اب وقت ہے کہ بھارت، نہ صرف آنے والے دلائی لاما کے لیے، بلکہ ان ہزاروں تبتی مہاجرین کے لیے بھی مستقل تحفظ، شناخت اور وقار کی ضمانت دے، جو بھارت کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ یہی بھارت کی روحانی و اخلاقی قیادت کا اصل امتحان ہے اور یہی دنیا کو درکار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں