"ڈیجیٹل گرفتاری”بیدار ہونے کی ضرورت

ملک میں "ڈیجیٹل گرفتاری” کے نام پر ہونے والے سائبر فراڈز میں خطرناک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کے مطابق، 2022 میں ایسے 39925 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جو 2024 میں بڑھ کر 23.1لاکھ ہو گئے۔ چوری شدہ رقم 91 کروڑ سے بڑھ کر 1935 کروڑ تک جا پہنچی۔ یہ صرف اعداد نہیں، بلکہ عام اور معزز شہریوں کی عمر بھر کی کمائی کے لٹنے کی داستان ہے۔
دھوکہ باز خود کو پولیس، سی بی آئی یا انکم ٹیکس کے اہلکار ظاہر کرکے ویڈیو کالز پر جعلی پوچھ گچھ کرتے ہیں اور شہریوں کو خوف زدہ کرکے رقم منتقل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ متاثرین میں صنعت کار، پیشہ ور افراد اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔
رپوٹ سے پتہ چلتا ہے کہ رقم پہلے فرضی "میول اکاؤنٹس” میں منتقل ہوتی ہے، پھر کیش نکال کر یا کرپٹو کرنسی خرید کر غائب کر دی جاتی ہے۔ ایک کیس میں چند منٹوں میں چھ کروڑ روپے کی ترسیل ہوئی، ایک اور معاملے میں ایک سابق ایئرفورس افسر سے59.1کروڑ کا فراڈ ہوا، جنہیں اب تک صرف 16 لاکھ کی بازیابی ملی ہے۔
حکومت اور بینکوں نے آگاہی مہمات شروع کی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے "من کی بات” میں کہا کہ "ڈیجیٹل گرفتاری” جیسا کوئی قانونی نظام نہیں۔ RBI نے بھی خبردار کیا ہے، اور بینک عوامی مہمات چلا رہے ہیں، مگر ان کوششوں میں شدت لانا ضروری ہے۔
اس رجحان سے نمٹنے کے لیے عوام کو دھوکہ دہی کے ہتھکنڈوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ بینکوں کو KYC عمل مزید سخت کرنا ہوگا، کیونکہ کئی جعلی اکاؤنٹس فرضی پتے پر کھولے گئے۔ مشکوک لین دین — جیسے ایک اکاؤنٹ میں ایک دن میں1960 ٹرانزیکشنز پر فوری کارروائی ناگزیر ہے۔
آخرکار، اجتماعی بیداری، سخت پالیسی اور فوری کارروائی ہی اس بحران کا حل ہے۔ اگر حکومت، ادارے اور عوام یکجا ہو کر اس فریب کے خلاف نہ لڑے، تو نہ صرف محنت کی کمائی بلکہ پورا ڈیجیٹل نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

"ڈیجیٹل گرفتاری”بیدار ہونے کی ضرورت

ملک میں "ڈیجیٹل گرفتاری” کے نام پر ہونے والے سائبر فراڈز میں خطرناک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کے مطابق، 2022 میں ایسے 39925 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جو 2024 میں بڑھ کر 23.1لاکھ ہو گئے۔ چوری شدہ رقم 91 کروڑ سے بڑھ کر 1935 کروڑ تک جا پہنچی۔ یہ صرف اعداد نہیں، بلکہ عام اور معزز شہریوں کی عمر بھر کی کمائی کے لٹنے کی داستان ہے۔
دھوکہ باز خود کو پولیس، سی بی آئی یا انکم ٹیکس کے اہلکار ظاہر کرکے ویڈیو کالز پر جعلی پوچھ گچھ کرتے ہیں اور شہریوں کو خوف زدہ کرکے رقم منتقل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ متاثرین میں صنعت کار، پیشہ ور افراد اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔
رپوٹ سے پتہ چلتا ہے کہ رقم پہلے فرضی "میول اکاؤنٹس” میں منتقل ہوتی ہے، پھر کیش نکال کر یا کرپٹو کرنسی خرید کر غائب کر دی جاتی ہے۔ ایک کیس میں چند منٹوں میں چھ کروڑ روپے کی ترسیل ہوئی، ایک اور معاملے میں ایک سابق ایئرفورس افسر سے59.1کروڑ کا فراڈ ہوا، جنہیں اب تک صرف 16 لاکھ کی بازیابی ملی ہے۔
حکومت اور بینکوں نے آگاہی مہمات شروع کی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے "من کی بات” میں کہا کہ "ڈیجیٹل گرفتاری” جیسا کوئی قانونی نظام نہیں۔ RBI نے بھی خبردار کیا ہے، اور بینک عوامی مہمات چلا رہے ہیں، مگر ان کوششوں میں شدت لانا ضروری ہے۔
اس رجحان سے نمٹنے کے لیے عوام کو دھوکہ دہی کے ہتھکنڈوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ بینکوں کو KYC عمل مزید سخت کرنا ہوگا، کیونکہ کئی جعلی اکاؤنٹس فرضی پتے پر کھولے گئے۔ مشکوک لین دین — جیسے ایک اکاؤنٹ میں ایک دن میں1960 ٹرانزیکشنز پر فوری کارروائی ناگزیر ہے۔
آخرکار، اجتماعی بیداری، سخت پالیسی اور فوری کارروائی ہی اس بحران کا حل ہے۔ اگر حکومت، ادارے اور عوام یکجا ہو کر اس فریب کے خلاف نہ لڑے، تو نہ صرف محنت کی کمائی بلکہ پورا ڈیجیٹل نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں