دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اصولوں کے بجائے مفادات اور حقیقت پسندی کو خارجہ پالیسی کا بنیادی معیار بنایا جا رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں حالیہ تبدیلی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے ۔کیا یہ اصولوں سے انحراف ہے یا ایک بالغ، خودمختار ریاست کی ناگزیر حکمتِ عملی؟
نہرو کے دور کی غیر جانبداری پر مبنی خارجہ پالیسی سرد جنگ کے دو قطبی نظام میں توازن اور اخلاقی قیادت کی علامت تھی۔ تاہم آج کے کثیرالجہتی بحران اور طاقت کے نئے مراکز نے اس پالیسی کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ موجودہ قیادت نے خارجہ پالیسی کو عملیت پسندی کی طرف موڑ دیا ہے، جس میں قومی مفاد کو ترجیح حاصل ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت بھارت نے ایک متوازن سفارتی ماڈل اپنایا ہے، جو فرانس، امریکہ، اسرائیل، روس اور مشرق وسطیٰ جیسے مختلف بلاکس سے بیک وقت شراکت داری پر مبنی ہے، مگر کسی ایک کیمپ میں محدود نہیں۔ یوکرین جنگ پر بھارت کی اقوام متحدہ میں غیر جانبداری، چین کے خلاف سخت موقف اور امریکہ سے دفاعی تعاون — یہ سب "ملٹی الائینڈ” اسٹریٹجی کے مظاہر ہیں۔
ناقدین اسے اصولوں سے پیچھے ہٹنا سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کبھی جامد نہیں رہتی۔ یہ خطرات اور مواقع کی روشنی میں تشکیل پاتی ہے۔ بھارت اب محض تماشائی نہیں بلکہ فعال کھلاڑی کے طور پر عالمی معاملات میں خود کو منوا رہا ہے۔
اخلاقی احتجاج اور قومی مفاد میں اکثر کشمکش رہتی ہے۔ بھارت کی پالیسی اب کسی بلند اخلاقی بیانیے پر نہیں، بلکہ حقیقت پسندی، لچک اور قومی مفاد پر مبنی ہے۔ یہ تبدیلی ممکن ہے بعض کو "اصولوں سے غداری” محسوس ہو، مگر درحقیقت یہ ایک ابھرتی ہوئی موثر طاقت کی علامت ہے، جو نرم طاقت سے بڑھ کر عملی اثر و نفوذ حاصل کرنے کے سفر پر گامزن ہے۔
خارجہ پالیسی میں عملی حکمت
خارجہ پالیسی میں عملی حکمت
دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اصولوں کے بجائے مفادات اور حقیقت پسندی کو خارجہ پالیسی کا بنیادی معیار بنایا جا رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں حالیہ تبدیلی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے ۔کیا یہ اصولوں سے انحراف ہے یا ایک بالغ، خودمختار ریاست کی ناگزیر حکمتِ عملی؟
نہرو کے دور کی غیر جانبداری پر مبنی خارجہ پالیسی سرد جنگ کے دو قطبی نظام میں توازن اور اخلاقی قیادت کی علامت تھی۔ تاہم آج کے کثیرالجہتی بحران اور طاقت کے نئے مراکز نے اس پالیسی کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ موجودہ قیادت نے خارجہ پالیسی کو عملیت پسندی کی طرف موڑ دیا ہے، جس میں قومی مفاد کو ترجیح حاصل ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت بھارت نے ایک متوازن سفارتی ماڈل اپنایا ہے، جو فرانس، امریکہ، اسرائیل، روس اور مشرق وسطیٰ جیسے مختلف بلاکس سے بیک وقت شراکت داری پر مبنی ہے، مگر کسی ایک کیمپ میں محدود نہیں۔ یوکرین جنگ پر بھارت کی اقوام متحدہ میں غیر جانبداری، چین کے خلاف سخت موقف اور امریکہ سے دفاعی تعاون — یہ سب "ملٹی الائینڈ” اسٹریٹجی کے مظاہر ہیں۔
ناقدین اسے اصولوں سے پیچھے ہٹنا سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کبھی جامد نہیں رہتی۔ یہ خطرات اور مواقع کی روشنی میں تشکیل پاتی ہے۔ بھارت اب محض تماشائی نہیں بلکہ فعال کھلاڑی کے طور پر عالمی معاملات میں خود کو منوا رہا ہے۔
اخلاقی احتجاج اور قومی مفاد میں اکثر کشمکش رہتی ہے۔ بھارت کی پالیسی اب کسی بلند اخلاقی بیانیے پر نہیں، بلکہ حقیقت پسندی، لچک اور قومی مفاد پر مبنی ہے۔ یہ تبدیلی ممکن ہے بعض کو "اصولوں سے غداری” محسوس ہو، مگر درحقیقت یہ ایک ابھرتی ہوئی موثر طاقت کی علامت ہے، جو نرم طاقت سے بڑھ کر عملی اثر و نفوذ حاصل کرنے کے سفر پر گامزن ہے۔


