سوشل میڈیا پر کچھ آوازیں ایسی ہیں جن کا سننا بچھونا معاشرے کی ترقی اور درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک آواز وادیٔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے محترم مومن منتظر وانی صاحب کی ہے، جو گزشتہ دن فیس بک پر بچوں کی گرمیوں کی تعطیلات کے حوالے سے سنجیدہ گفتگو فرما رہے تھے۔ اسی تناظر میں ہم نے محسوس کیا کہ آج کا اداریہ اسی موضوع پر قلم بند کیا جائے۔
کشمیر میں گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے بعض لوگوں کی جانب سے مسلسل مطالبات سامنے آ رہے ہیں، جن کا بظاہر مقصد طلبہ کی راحت اور صحت کا تحفظ بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر ضروری مطالبات نہ صرف تعلیمی نظام کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کو بھی ایک بڑے خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں۔
موسمی اتار چڑھاؤ پر تعطیلات کا مطالبہ دراصل تعلیم دشمن سوچ کا مظہر ہے۔ تعلیمی سیشن پہلے ہی تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔ موسم سرما کی طویل تعطیلات اور غیر نصابی مداخلتیں پہلے ہی تدریسی ایام کو محدود کر دیتی ہیں۔ ایسے میں گرمیوں کی اضافی چھٹی کا مطالبہ نصاب کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، جس کا خمیازہ طلبہ کو بورڈ امتحانات، مسابقتی ٹیسٹوں اور ان کی مجموعی علمی قابلیت میں کمی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مطالبے اُن نام نہاد "سول سوسائٹی” حلقوں کی طرف سے آ رہے ہیں جن کا تعلیم سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ تعلیم کی بہتری کی بات قابلِ تحسین ہے، لیکن بغیر کسی سائنسی یا زمینی بنیاد کے اسکول بند کرنے کا مشورہ ایک غیر سنجیدہ اور سطحی عمل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے غیر سنجیدہ مطالبات پر توجہ نہ دے اور تعلیمی نظام کو کسی بھی دباؤ کے بغیر مضبوطی سے جاری رکھے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے، جیسے پنکھے، واٹر کولرز، اور جہاں ممکن ہو وہاں ایئر کنڈیشنر نصب کیے جائیں، خاص طور پر شہروں اور میدانی علاقوں میں۔ بہتر انتظامات کے ذریعے تدریسی ماحول کو قابلِ قبول بنایا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ اسکول بند کر کے بچوں کو گھروں میں موبائل اور ٹی وی کے حوالے کر دیا جائے۔
بار بار گرمیوں کی چھٹی کا مطالبہ؟
بار بار گرمیوں کی چھٹی کا مطالبہ؟
سوشل میڈیا پر کچھ آوازیں ایسی ہیں جن کا سننا بچھونا معاشرے کی ترقی اور درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک آواز وادیٔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے محترم مومن منتظر وانی صاحب کی ہے، جو گزشتہ دن فیس بک پر بچوں کی گرمیوں کی تعطیلات کے حوالے سے سنجیدہ گفتگو فرما رہے تھے۔ اسی تناظر میں ہم نے محسوس کیا کہ آج کا اداریہ اسی موضوع پر قلم بند کیا جائے۔
کشمیر میں گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے بعض لوگوں کی جانب سے مسلسل مطالبات سامنے آ رہے ہیں، جن کا بظاہر مقصد طلبہ کی راحت اور صحت کا تحفظ بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر ضروری مطالبات نہ صرف تعلیمی نظام کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کو بھی ایک بڑے خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں۔
موسمی اتار چڑھاؤ پر تعطیلات کا مطالبہ دراصل تعلیم دشمن سوچ کا مظہر ہے۔ تعلیمی سیشن پہلے ہی تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔ موسم سرما کی طویل تعطیلات اور غیر نصابی مداخلتیں پہلے ہی تدریسی ایام کو محدود کر دیتی ہیں۔ ایسے میں گرمیوں کی اضافی چھٹی کا مطالبہ نصاب کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، جس کا خمیازہ طلبہ کو بورڈ امتحانات، مسابقتی ٹیسٹوں اور ان کی مجموعی علمی قابلیت میں کمی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مطالبے اُن نام نہاد "سول سوسائٹی” حلقوں کی طرف سے آ رہے ہیں جن کا تعلیم سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ تعلیم کی بہتری کی بات قابلِ تحسین ہے، لیکن بغیر کسی سائنسی یا زمینی بنیاد کے اسکول بند کرنے کا مشورہ ایک غیر سنجیدہ اور سطحی عمل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے غیر سنجیدہ مطالبات پر توجہ نہ دے اور تعلیمی نظام کو کسی بھی دباؤ کے بغیر مضبوطی سے جاری رکھے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے، جیسے پنکھے، واٹر کولرز، اور جہاں ممکن ہو وہاں ایئر کنڈیشنر نصب کیے جائیں، خاص طور پر شہروں اور میدانی علاقوں میں۔ بہتر انتظامات کے ذریعے تدریسی ماحول کو قابلِ قبول بنایا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ اسکول بند کر کے بچوں کو گھروں میں موبائل اور ٹی وی کے حوالے کر دیا جائے۔


