امرناتھ یاترا کا خیرمقدم ہے

جب ایک بار پھر مقدس امرناتھ یاترا وادیٔ کشمیر کے روح پرور دامن میں شروع ہوئی ہے، تو اہلِ کشمیر کشادہ دلی اور روایتی مہمان نوازی کے ساتھ لاکھوں یاتریوں کا خیرمقدم کر رہے ہیں، جو اس سخت مگر روحانی سفر پر نکلے ہیں۔ حالیہ چیلنجز، خاص طور پر پہلگام حملے جیسے افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعے کے باوجود، کشمیر نے ایک بار پھر امید، برداشت اور رواداری کا پرچم بلند رکھا ہے۔
یہ یاترا محض ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ ایک طاقتور علامت ہے،بقائے باہمی، احترامِ مذاہب، اور ہم آہنگی کی علامت۔ صدیوں سے کشمیر ایک ایسی روحانی سرزمین رہا ہے جہاں صوفی خانقاہیں اور مندروں سے امن، عشق، اور وحدتِ انسانیت کی صدائیں بلند ہوتی رہی ہیں۔ اہلِ کشمیر—چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں—ہمیشہ سے اس یاترا کو اپنی خدمت اور تعاون سے کامیاب بناتے آئے ہیں، اور امسال بھی یہی جذبہ نمایاں ہے۔
پہلگام کے سانحے کے بعد، دنیا کا رجحان انتشار، خوف یا تفرقہ کی طرف ہو سکتا تھا۔ لیکن حقیقی کشمیرجو اس کے باسیوں کے دلوں میں بستا ہے—نے یہ پیغام دیا کہ نفرت اور دہشت گردی سے کشمیر کی شناخت کو بدلنے نہیں دیا جا سکتا۔ اس سال زائرین کا والہانہ استقبال صرف ایک رسم نہیں، بلکہ دہشت گردی کے خلاف ایک جرات مندانہ پیغام ہے، اور اس بات کا اعلان ہے کہ امن ہمیشہ نفرت پر غالب آئے گا۔
یہ یاترا، اب صرف ایک مذہبی سفر نہیں، بلکہ ایک عالمی پیغام بن چکی ہے—ایک ایسا پیغام جو یہ بتاتا ہے کہ درد سہنے والے خطے بھی امن کا انتخاب کر سکتے ہیں، مفاہمت کو فروغ دے سکتے ہیں، اور زخموں کے ساتھ بھی دنیا کو جوڑنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آج کی تقسیم شدہ، انتشار زدہ دنیا میں، کشمیر کا یہ رویہ نہایت اہم اور قابلِ ستائش ہے۔
ہمیں امید ہے کہ دنیا، اور خصوصاً بھارت، اس یاترا کو صرف ایک سالانہ روایت نہ سمجھے، بلکہ اسے اس مثبت امکانات کی علامت کے طور پر دیکھے جو ہم آہنگی، بھائی چارے اور روحانیت کے امتزاج سے ابھر سکتے ہیں۔ "بم بم بھولے” کی صدائیں جب ہمالیائی چوٹیوں سے گونجتی ہیں، تو وہ ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ عقیدہ جوڑتا ہے، نفرت نہیں۔ کشمیر آج بھی وہی ہے—انسانیت کی روشن مثال!
آئیے دعا کریں کہ یہ یاترا نہ صرف غار تک پہنچے، بلکہ دنیا بھر کے دلوں کو بھی چھو جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

امرناتھ یاترا کا خیرمقدم ہے

جب ایک بار پھر مقدس امرناتھ یاترا وادیٔ کشمیر کے روح پرور دامن میں شروع ہوئی ہے، تو اہلِ کشمیر کشادہ دلی اور روایتی مہمان نوازی کے ساتھ لاکھوں یاتریوں کا خیرمقدم کر رہے ہیں، جو اس سخت مگر روحانی سفر پر نکلے ہیں۔ حالیہ چیلنجز، خاص طور پر پہلگام حملے جیسے افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعے کے باوجود، کشمیر نے ایک بار پھر امید، برداشت اور رواداری کا پرچم بلند رکھا ہے۔
یہ یاترا محض ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ ایک طاقتور علامت ہے،بقائے باہمی، احترامِ مذاہب، اور ہم آہنگی کی علامت۔ صدیوں سے کشمیر ایک ایسی روحانی سرزمین رہا ہے جہاں صوفی خانقاہیں اور مندروں سے امن، عشق، اور وحدتِ انسانیت کی صدائیں بلند ہوتی رہی ہیں۔ اہلِ کشمیر—چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں—ہمیشہ سے اس یاترا کو اپنی خدمت اور تعاون سے کامیاب بناتے آئے ہیں، اور امسال بھی یہی جذبہ نمایاں ہے۔
پہلگام کے سانحے کے بعد، دنیا کا رجحان انتشار، خوف یا تفرقہ کی طرف ہو سکتا تھا۔ لیکن حقیقی کشمیرجو اس کے باسیوں کے دلوں میں بستا ہے—نے یہ پیغام دیا کہ نفرت اور دہشت گردی سے کشمیر کی شناخت کو بدلنے نہیں دیا جا سکتا۔ اس سال زائرین کا والہانہ استقبال صرف ایک رسم نہیں، بلکہ دہشت گردی کے خلاف ایک جرات مندانہ پیغام ہے، اور اس بات کا اعلان ہے کہ امن ہمیشہ نفرت پر غالب آئے گا۔
یہ یاترا، اب صرف ایک مذہبی سفر نہیں، بلکہ ایک عالمی پیغام بن چکی ہے—ایک ایسا پیغام جو یہ بتاتا ہے کہ درد سہنے والے خطے بھی امن کا انتخاب کر سکتے ہیں، مفاہمت کو فروغ دے سکتے ہیں، اور زخموں کے ساتھ بھی دنیا کو جوڑنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آج کی تقسیم شدہ، انتشار زدہ دنیا میں، کشمیر کا یہ رویہ نہایت اہم اور قابلِ ستائش ہے۔
ہمیں امید ہے کہ دنیا، اور خصوصاً بھارت، اس یاترا کو صرف ایک سالانہ روایت نہ سمجھے، بلکہ اسے اس مثبت امکانات کی علامت کے طور پر دیکھے جو ہم آہنگی، بھائی چارے اور روحانیت کے امتزاج سے ابھر سکتے ہیں۔ "بم بم بھولے” کی صدائیں جب ہمالیائی چوٹیوں سے گونجتی ہیں، تو وہ ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ عقیدہ جوڑتا ہے، نفرت نہیں۔ کشمیر آج بھی وہی ہے—انسانیت کی روشن مثال!
آئیے دعا کریں کہ یہ یاترا نہ صرف غار تک پہنچے، بلکہ دنیا بھر کے دلوں کو بھی چھو جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں