سرینگر میں RTI پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/جموں و کشمیرRTI موومنٹ نے کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشی ایٹو (CHRI)، اُڑی فاؤنڈیشن، اور کشمیر لاء سرکل کے اشتراک سےRTI ایکٹ 2005 پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں شفافیت، جوابدہی، اور شہری اختیارات جیسے موضوعات پر مباحثے ہوئے جن میں قانون دانوں، صحافیوں، اساتذہ، سیاسی شخصیات،طلبہ اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ آر ٹی آئی قانون، جینے کے آئینی حق سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام میں بگاڑ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ سوال اٹھانے سے گریز کرتے ہیں، اور آر ٹی آئی کو عوامی سطح پر اپنانے کی ضرورت ہے۔
ایم ایل اے واگورہ-کریری عرفان حفیظ لون نے کہا کہ آر ٹی آئی جمہوریت کی روح ہے، اور نوجوانوں کو اس قانون سے جڑ کر قیادت اور اصلاحات کی راہ اپنانی چاہیے۔ انہوں نے ڈاکٹر شیخ غلام رسول کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل جدوجہد نے جموں  و کشمیر میں شفافیت کی فضا کو زندہ رکھا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ عرفان لون جموں و کشمیر کے پہلے آر ٹی آئی کارکن ہیں جنہوں نے مرحوم بلراج پوری کے ساتھ مل کر 2004 میں آر ٹی آئی قانون کو یہاں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اختتامی خطاب میں بھارت کے پہلے چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے کہا کہ آر ٹی آئی ایک سادہ اور طاقتور قانون ہے، جس کے استعمال کے لیے کسی وکیل کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قانون کو استعمال میں لا کر جوابدہی کو مضبوط کریں۔
DDC بارہمولہ چیئرپرسن صفینہ بیگ نے کہا کہ آر ٹی آئی استعمال کرنے سے پہلے اس کے فرائض اور دائرہ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے ملک کے سیاسی نظام کی اصلاح کی بھی بات کی۔
وینکٹیش نائیک (ڈائریکٹر CHRI) نے کہا کہ ملک میں شفافیت قائم رکھنے کے لیے اداروں سے سوال کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
جموں و کشمیر آر ٹی آئی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے کہا کہ آر ٹی آئی، پبلک سروس گارنٹی ایکٹ، اور فارسٹ رائٹس ایکٹ جیسے قوانین کو مؤثر طریقے سے لاگو کرنا عام شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
ایڈوکیٹ نوید بختیار، کوآرڈینیٹر جے کے آر ٹی آئی موومنٹ نے بتایا کہ انہوں نے ایک طالبعلم کے طور پر تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی، اور یہ تجربہ ان کی قیادت اور سیاسی شعور کو جلا بخشنے کا سبب بنا۔
ایڈوکیٹ مجتبیٰ، قانونی مشیر جے کے آر ٹی آئی موومنٹ نے اعلان کیا کہ یہ تحریک تمام اضلاع اور بلاکس میں اسی طرح کی ورکشاپس منعقد کرے گی تاکہ عوامی فائدے کو عام کیا جا سکے۔
دیگر مقررین میں سجاد فاروق، غلام رضا، جنید انداربی، اور ڈاکٹر جاوید شامل تھے۔
اس موقع پر اردو زبان میں آر ٹی آئی گائیڈ بک کا اجرا بھی عمل میں آیا، جس کی رسمِ رونمائی وجاہت حبیب اللہ، صفینہ بیگ، وینکٹیش نائیک اور ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے مشترکہ طور پر کی۔
ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء کو عملی تربیت دی گئی اور انہیں سرکاری محکموں کے متعلق آر ٹی آئی درخواستیں تیار کرنے کا موقع دیا گیا۔ آخر میں شرکاء کو اسناد تقسیم کی گئیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

سرینگر میں RTI پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/جموں و کشمیرRTI موومنٹ نے کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشی ایٹو (CHRI)، اُڑی فاؤنڈیشن، اور کشمیر لاء سرکل کے اشتراک سےRTI ایکٹ 2005 پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں شفافیت، جوابدہی، اور شہری اختیارات جیسے موضوعات پر مباحثے ہوئے جن میں قانون دانوں، صحافیوں، اساتذہ، سیاسی شخصیات،طلبہ اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ آر ٹی آئی قانون، جینے کے آئینی حق سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام میں بگاڑ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ سوال اٹھانے سے گریز کرتے ہیں، اور آر ٹی آئی کو عوامی سطح پر اپنانے کی ضرورت ہے۔
ایم ایل اے واگورہ-کریری عرفان حفیظ لون نے کہا کہ آر ٹی آئی جمہوریت کی روح ہے، اور نوجوانوں کو اس قانون سے جڑ کر قیادت اور اصلاحات کی راہ اپنانی چاہیے۔ انہوں نے ڈاکٹر شیخ غلام رسول کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل جدوجہد نے جموں  و کشمیر میں شفافیت کی فضا کو زندہ رکھا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ عرفان لون جموں و کشمیر کے پہلے آر ٹی آئی کارکن ہیں جنہوں نے مرحوم بلراج پوری کے ساتھ مل کر 2004 میں آر ٹی آئی قانون کو یہاں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اختتامی خطاب میں بھارت کے پہلے چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے کہا کہ آر ٹی آئی ایک سادہ اور طاقتور قانون ہے، جس کے استعمال کے لیے کسی وکیل کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قانون کو استعمال میں لا کر جوابدہی کو مضبوط کریں۔
DDC بارہمولہ چیئرپرسن صفینہ بیگ نے کہا کہ آر ٹی آئی استعمال کرنے سے پہلے اس کے فرائض اور دائرہ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے ملک کے سیاسی نظام کی اصلاح کی بھی بات کی۔
وینکٹیش نائیک (ڈائریکٹر CHRI) نے کہا کہ ملک میں شفافیت قائم رکھنے کے لیے اداروں سے سوال کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
جموں و کشمیر آر ٹی آئی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے کہا کہ آر ٹی آئی، پبلک سروس گارنٹی ایکٹ، اور فارسٹ رائٹس ایکٹ جیسے قوانین کو مؤثر طریقے سے لاگو کرنا عام شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
ایڈوکیٹ نوید بختیار، کوآرڈینیٹر جے کے آر ٹی آئی موومنٹ نے بتایا کہ انہوں نے ایک طالبعلم کے طور پر تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی، اور یہ تجربہ ان کی قیادت اور سیاسی شعور کو جلا بخشنے کا سبب بنا۔
ایڈوکیٹ مجتبیٰ، قانونی مشیر جے کے آر ٹی آئی موومنٹ نے اعلان کیا کہ یہ تحریک تمام اضلاع اور بلاکس میں اسی طرح کی ورکشاپس منعقد کرے گی تاکہ عوامی فائدے کو عام کیا جا سکے۔
دیگر مقررین میں سجاد فاروق، غلام رضا، جنید انداربی، اور ڈاکٹر جاوید شامل تھے۔
اس موقع پر اردو زبان میں آر ٹی آئی گائیڈ بک کا اجرا بھی عمل میں آیا، جس کی رسمِ رونمائی وجاہت حبیب اللہ، صفینہ بیگ، وینکٹیش نائیک اور ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے مشترکہ طور پر کی۔
ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء کو عملی تربیت دی گئی اور انہیں سرکاری محکموں کے متعلق آر ٹی آئی درخواستیں تیار کرنے کا موقع دیا گیا۔ آخر میں شرکاء کو اسناد تقسیم کی گئیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں