شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کی چھٹی کانووکیشن تقریب

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہانے آج شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی) کشمیر کی چھٹی کانووکیشن تقریب سے خطاب کیا۔ اِس موقعہ پر مرکزی وزیر برائے زراعت و بہبود کساناںاور دیہی ترقی شیو راج سنگھ چوہان مہمانِ خصوصی تھے۔
مرکزی وزیر نے فارغ التحصیل طلبأ کو ان کی نئی شروعات پر نیک خواہشات کا اِظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’وِکست بھارت، وِکست جموں و کشمیر اور خوشحال کسان کمیونٹی ہمارا عزم ہے۔ مرکزی حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میںجموں و کشمیر کو باغبانی کا مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لئے پُر عزم ہے۔‘‘
مرکزی وزیر نے جموں و کشمیر کے اَپنے دورے کاتجربہ بھی اِشتراک کیا۔ اُنہوں نے کہا،’’کشمیر کی قدرتی خوبصورتی اور اس کے لوگوں کی محبت نے میرا دل جیت لیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے اَپنے خطاب میں یونیورسٹی کو ایک قابل اور مسابقتی اِنسانی وسائل تیار کرنے، جموں و کشمیر کے زرعی شعبے کو مضبوط بنانے، اس کی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کے لئے مُبارک باد دی اور طلبأکے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اِظہار کیا۔
اُنہوں نے خواتین طالبات کو تمام مضامین میں بہترین تعلیمی کارکردگی پر مُبارک باد دی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہماری بیٹیوں کو رُکاوٹوں کو توڑتے ہوئے اور زرعی سائنس و ٹیکنالوجی میں کامیابیاں حاصل کرتے دیکھ کر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ 150 طلائی تمغے حاصل کرنے والے طلبأ میں سے 115 خواتین تھیں۔ 445 میرٹ سرٹیفکیٹ میں سے 334 طالبات کو دئیے گئے۔ آج کی کانووکیشن میں دی گئی کل 5,250 اَنڈر گریجویٹ، ماسٹرز اور پی ایچ ڈِی کی ڈگریوں میں سے 2,661 ڈِگریاں خواتین طالبات کو دی گئیں۔ یہ جموں و کشمیر اور ملک کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔‘‘
اُنہوں نے اَپنے خطاب میں جموں و کشمیر میں گزشتہ چند برسوںمیں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں ہونے والے تبدیلی کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
منوج سِنہا نے کہا،’’وزیر اعظم نریندر مودی کی دوراندیش اور بصیرت مند قیادت میں زراعت اور اس سے منسلک شعبے واقعی ہندوستان کی معیشت کا ستون بن چکے ہیں۔ یہ تبدیلی جموں و کشمیر کے زرعی منظرنامے میں بھی واضح ہے۔ آج’ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈِی پی) پورے ملک میں زرعی اِنقلاب کی مثال بن چکا ہے۔‘‘
اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوںمیں جموں و کشمیر نے زراعت اوراس سے منسلک شعبوں کے لئے چار بڑے اہداف جیسے زرعی شعبے کو دیرپا اور کمرشل معیشت میں تبدیل کرنا، ویلیو چین کے ساتھ ایگری بزنس ماحولیاتی نظام بنانا، کسان اور کمیونٹی مرکزیت پر مبنی زرعی ترقی اور کسانوں کی آمدنی بڑھانا اور روزگار کو محفوظ بنانا طے کئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے فارغ التحصیل طلبأ سے کہا کہ وہ اِختراعی اور ترقی پسند زراعت میں اَپنا گرانقدر حصہ اورقیمتی کردار ادا کریں اور ایگری ٹیکنالوجی، فوڈ ٹیکنالوجی اور جدید اِختراعات میں پیش پیش رہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آپ کا جذبہ اور خیالات ہندوستان کے زرعی شعبے کے مستقبل کو تشکیل دیں گے۔
اُنہوں نے کہا،’’تعلیم زِندگی کی تیاری نہیں، تعلیم ہی زندگی ہے اور میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر تعلیم وقت اور عالمی صنعت کی ضروریات کے مطابق ہو تو یہ معاشرے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے وائس چانسلر اور اُن کی ٹیم کو جدید اور جدید ترین انفراسٹرکچر اور نئی تعلیمی پلیٹ فارم تیار کرنے پر بھی سراہا۔ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس، مشین لرننگ، جین ایڈیٹنگ، ری جنریٹیو میڈیسن، سپیڈ بریڈنگ جیسے جدید تحقیقی شعبے جموں و کشمیر کو علم کی معیشت بنانے کے ہدف کے قریب لے آئے ہیں اور اس نے جموںوکشمیر یوٹی کی بائیو اکانومی کو فروغ دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔
وائس چانسلر سکاسٹ ( ایس کے یو اے ایس ٹی ) کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے یونیورسٹی کی رِپورٹ پڑھ کر سُنائی اور یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی اور توسیعی سرگرمیوں کو اُجاگر کیا۔
اِس موقعہ پر مرکزی وزیر برائے زراعت اور بہبودِ کساناں نے سکاسٹ کشمیر میں لڑکیوں کے ہوسٹل کی بنیاد رکھا۔
تقریب میں وزیرا علیٰ عمر عبد اللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزیر زراعت و بہبود کساناں جموںوکشمیر جاوید احمد ڈار، وزیر برائے تعلیم، صحت و طبی تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ اِیتو،چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، پرنسپل سیکرٹری زرعی پیداوار شیلندرکمار، مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان، سینئر اَفسران، معززشہری، فیکلٹی ممبران، عملہ، فارغ التحصیل طلبأ اور اُن کے والدین موجود تھے۔

زراعت جموں وکشمیر کی شناخت کی ریڑھ کی ہڈی

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج کہا کہ جموں و کشمیر اِقتصادی، سماجی اور سیاسی سطح پر ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خدمت، اِختراع اور قیادت کے ذریعے اس تبدیلی میں فعال حصہ دار بنیں۔
وزیر اعلیٰ آج شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی) کشمیر کے چھٹے کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں مرکزی وزیر زراعت و بہبودِ کساناں، دیہی ترقی و پنچایتی راج شیوراج سنگھ چوہان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اِس موقعہ پرچانسلرسکاسٹ کشمیر اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا اور وزیر زراعت و دیہی ترقی جاوید احمد ڈار بھی موجود تھے۔
کانووکیشن میںنائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزرأ سکینہ اِیتو اور جاوید رانا، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، کئی اَرکان قانون سا ز اسمبلی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد گنائی، فیکلٹی، طلبأ ، والدین اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ اور یونیورسٹی کے پرو چانسلر عمر عبداللہ نے فارغ التحصیل طلبأ سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’جموں و کشمیر کی نئی داستان نعروں سے نہیں، خدمت سے لکھیں۔ حق جتانے سے نہیں، قابلیت سے آگے بڑھیں۔ جب آپ ترقی کریں تو دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔ چاہے آپ بنگلورو جائیں یا برلن، دل میں کشمیر کو بسائے رکھیں۔‘‘
اُنہوں نے طلبأ کو یاد دِلایا کہ وہ صرف ڈِگریاں نہیں، بلکہ اُمید، اِستقامت اور ذِمہ داری لے کر دُنیا میں قدم رکھ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا،’’اگر آپ کے پاس کوئی آئیڈیا ہے، ہم فنڈ فراہم کریں گے۔ اگر منصوبہ ہے، ہم شراکت داری کریں گے۔ اگر ہمت ہے، حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ دنیا کو آپ کی علم ہی نہیںبلکہ ہمدردی، حوصلے اور کردار کی ضرورت ہے۔‘‘
اُنہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ صرف نوکری کی تلاش پر نہ رکیں بلکہ نوکریاں پیدا کریں بالخصوص زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں میں۔اُنہوں نے کہا،’’ایگرو سٹارٹ اَپس بنائیں، کسان گروپوں سے مشورہ کریں، نجی توسیعی خدمات فراہم کریں۔ آپ کو سائنس اور سماج کے درمیان پُل بنانے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اپنی مٹی سے جڑے رہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے زراعت میں اختراعات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پوچھا،’’کیا آپ چھوٹے کسانوں کو آمدنی دوگناکر سکتے ہیں؟ کیا آپ موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت کے حل تیار کر سکتے ہیں؟ کیا آپ دیہی علاقوں میں روزگار پیدا کرنے والے زرعی اِدارے قائم کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو یاد رکھیں، آپ تنہا نہیں ہوں گے، حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘
اُنہوں نے ایک بیج کی تمثیل دیتے ہوئے کہا،’’بیج اندھیرے اور مزاحمت کا سامنا کرتا ہے لیکن وہ ایک ایسا درخت بن جاتا ہے جو سایہ، پھل اور پناہ دیتا ہے۔ خود کو صحیح جگہ پر لگائیں، خوابوں کو محنت سے سینچیں، دُنیا آپ کی نشوونما سے فائدہ اٹھائے گی۔‘‘
عمر عبداللہ نے سکاسٹ کشمیر کو معتدل آب و ہوا کی باغبانی، پہاڑی زراعت، نامیاتی کھیتی اور مویشی تحقیق میں اِنقلابی خدمات پر سراہا۔اُنہوں نے کہا،’’اِس یونیورسٹی نے نہ صرف سکالروں بلکہ فیلڈ لیول کے اِختراع کار بھی پیدا کئے ہیں جو کسانوں کو درپیش حقیقی مسائل کو حل کر رہے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے زراعت کو جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور ثقافتی روح قرار دیا۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کی چھٹی کانووکیشن تقریب

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہانے آج شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی) کشمیر کی چھٹی کانووکیشن تقریب سے خطاب کیا۔ اِس موقعہ پر مرکزی وزیر برائے زراعت و بہبود کساناںاور دیہی ترقی شیو راج سنگھ چوہان مہمانِ خصوصی تھے۔
مرکزی وزیر نے فارغ التحصیل طلبأ کو ان کی نئی شروعات پر نیک خواہشات کا اِظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’وِکست بھارت، وِکست جموں و کشمیر اور خوشحال کسان کمیونٹی ہمارا عزم ہے۔ مرکزی حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میںجموں و کشمیر کو باغبانی کا مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لئے پُر عزم ہے۔‘‘
مرکزی وزیر نے جموں و کشمیر کے اَپنے دورے کاتجربہ بھی اِشتراک کیا۔ اُنہوں نے کہا،’’کشمیر کی قدرتی خوبصورتی اور اس کے لوگوں کی محبت نے میرا دل جیت لیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے اَپنے خطاب میں یونیورسٹی کو ایک قابل اور مسابقتی اِنسانی وسائل تیار کرنے، جموں و کشمیر کے زرعی شعبے کو مضبوط بنانے، اس کی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کے لئے مُبارک باد دی اور طلبأکے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اِظہار کیا۔
اُنہوں نے خواتین طالبات کو تمام مضامین میں بہترین تعلیمی کارکردگی پر مُبارک باد دی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہماری بیٹیوں کو رُکاوٹوں کو توڑتے ہوئے اور زرعی سائنس و ٹیکنالوجی میں کامیابیاں حاصل کرتے دیکھ کر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ 150 طلائی تمغے حاصل کرنے والے طلبأ میں سے 115 خواتین تھیں۔ 445 میرٹ سرٹیفکیٹ میں سے 334 طالبات کو دئیے گئے۔ آج کی کانووکیشن میں دی گئی کل 5,250 اَنڈر گریجویٹ، ماسٹرز اور پی ایچ ڈِی کی ڈگریوں میں سے 2,661 ڈِگریاں خواتین طالبات کو دی گئیں۔ یہ جموں و کشمیر اور ملک کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔‘‘
اُنہوں نے اَپنے خطاب میں جموں و کشمیر میں گزشتہ چند برسوںمیں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں ہونے والے تبدیلی کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
منوج سِنہا نے کہا،’’وزیر اعظم نریندر مودی کی دوراندیش اور بصیرت مند قیادت میں زراعت اور اس سے منسلک شعبے واقعی ہندوستان کی معیشت کا ستون بن چکے ہیں۔ یہ تبدیلی جموں و کشمیر کے زرعی منظرنامے میں بھی واضح ہے۔ آج’ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈِی پی) پورے ملک میں زرعی اِنقلاب کی مثال بن چکا ہے۔‘‘
اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوںمیں جموں و کشمیر نے زراعت اوراس سے منسلک شعبوں کے لئے چار بڑے اہداف جیسے زرعی شعبے کو دیرپا اور کمرشل معیشت میں تبدیل کرنا، ویلیو چین کے ساتھ ایگری بزنس ماحولیاتی نظام بنانا، کسان اور کمیونٹی مرکزیت پر مبنی زرعی ترقی اور کسانوں کی آمدنی بڑھانا اور روزگار کو محفوظ بنانا طے کئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے فارغ التحصیل طلبأ سے کہا کہ وہ اِختراعی اور ترقی پسند زراعت میں اَپنا گرانقدر حصہ اورقیمتی کردار ادا کریں اور ایگری ٹیکنالوجی، فوڈ ٹیکنالوجی اور جدید اِختراعات میں پیش پیش رہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آپ کا جذبہ اور خیالات ہندوستان کے زرعی شعبے کے مستقبل کو تشکیل دیں گے۔
اُنہوں نے کہا،’’تعلیم زِندگی کی تیاری نہیں، تعلیم ہی زندگی ہے اور میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر تعلیم وقت اور عالمی صنعت کی ضروریات کے مطابق ہو تو یہ معاشرے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے وائس چانسلر اور اُن کی ٹیم کو جدید اور جدید ترین انفراسٹرکچر اور نئی تعلیمی پلیٹ فارم تیار کرنے پر بھی سراہا۔ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس، مشین لرننگ، جین ایڈیٹنگ، ری جنریٹیو میڈیسن، سپیڈ بریڈنگ جیسے جدید تحقیقی شعبے جموں و کشمیر کو علم کی معیشت بنانے کے ہدف کے قریب لے آئے ہیں اور اس نے جموںوکشمیر یوٹی کی بائیو اکانومی کو فروغ دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔
وائس چانسلر سکاسٹ ( ایس کے یو اے ایس ٹی ) کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے یونیورسٹی کی رِپورٹ پڑھ کر سُنائی اور یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی اور توسیعی سرگرمیوں کو اُجاگر کیا۔
اِس موقعہ پر مرکزی وزیر برائے زراعت اور بہبودِ کساناں نے سکاسٹ کشمیر میں لڑکیوں کے ہوسٹل کی بنیاد رکھا۔
تقریب میں وزیرا علیٰ عمر عبد اللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزیر زراعت و بہبود کساناں جموںوکشمیر جاوید احمد ڈار، وزیر برائے تعلیم، صحت و طبی تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ اِیتو،چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، پرنسپل سیکرٹری زرعی پیداوار شیلندرکمار، مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان، سینئر اَفسران، معززشہری، فیکلٹی ممبران، عملہ، فارغ التحصیل طلبأ اور اُن کے والدین موجود تھے۔

زراعت جموں وکشمیر کی شناخت کی ریڑھ کی ہڈی

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج کہا کہ جموں و کشمیر اِقتصادی، سماجی اور سیاسی سطح پر ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خدمت، اِختراع اور قیادت کے ذریعے اس تبدیلی میں فعال حصہ دار بنیں۔
وزیر اعلیٰ آج شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی) کشمیر کے چھٹے کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں مرکزی وزیر زراعت و بہبودِ کساناں، دیہی ترقی و پنچایتی راج شیوراج سنگھ چوہان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اِس موقعہ پرچانسلرسکاسٹ کشمیر اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا اور وزیر زراعت و دیہی ترقی جاوید احمد ڈار بھی موجود تھے۔
کانووکیشن میںنائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزرأ سکینہ اِیتو اور جاوید رانا، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، کئی اَرکان قانون سا ز اسمبلی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد گنائی، فیکلٹی، طلبأ ، والدین اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ اور یونیورسٹی کے پرو چانسلر عمر عبداللہ نے فارغ التحصیل طلبأ سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’جموں و کشمیر کی نئی داستان نعروں سے نہیں، خدمت سے لکھیں۔ حق جتانے سے نہیں، قابلیت سے آگے بڑھیں۔ جب آپ ترقی کریں تو دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔ چاہے آپ بنگلورو جائیں یا برلن، دل میں کشمیر کو بسائے رکھیں۔‘‘
اُنہوں نے طلبأ کو یاد دِلایا کہ وہ صرف ڈِگریاں نہیں، بلکہ اُمید، اِستقامت اور ذِمہ داری لے کر دُنیا میں قدم رکھ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا،’’اگر آپ کے پاس کوئی آئیڈیا ہے، ہم فنڈ فراہم کریں گے۔ اگر منصوبہ ہے، ہم شراکت داری کریں گے۔ اگر ہمت ہے، حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ دنیا کو آپ کی علم ہی نہیںبلکہ ہمدردی، حوصلے اور کردار کی ضرورت ہے۔‘‘
اُنہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ صرف نوکری کی تلاش پر نہ رکیں بلکہ نوکریاں پیدا کریں بالخصوص زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں میں۔اُنہوں نے کہا،’’ایگرو سٹارٹ اَپس بنائیں، کسان گروپوں سے مشورہ کریں، نجی توسیعی خدمات فراہم کریں۔ آپ کو سائنس اور سماج کے درمیان پُل بنانے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اپنی مٹی سے جڑے رہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے زراعت میں اختراعات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پوچھا،’’کیا آپ چھوٹے کسانوں کو آمدنی دوگناکر سکتے ہیں؟ کیا آپ موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت کے حل تیار کر سکتے ہیں؟ کیا آپ دیہی علاقوں میں روزگار پیدا کرنے والے زرعی اِدارے قائم کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو یاد رکھیں، آپ تنہا نہیں ہوں گے، حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘
اُنہوں نے ایک بیج کی تمثیل دیتے ہوئے کہا،’’بیج اندھیرے اور مزاحمت کا سامنا کرتا ہے لیکن وہ ایک ایسا درخت بن جاتا ہے جو سایہ، پھل اور پناہ دیتا ہے۔ خود کو صحیح جگہ پر لگائیں، خوابوں کو محنت سے سینچیں، دُنیا آپ کی نشوونما سے فائدہ اٹھائے گی۔‘‘
عمر عبداللہ نے سکاسٹ کشمیر کو معتدل آب و ہوا کی باغبانی، پہاڑی زراعت، نامیاتی کھیتی اور مویشی تحقیق میں اِنقلابی خدمات پر سراہا۔اُنہوں نے کہا،’’اِس یونیورسٹی نے نہ صرف سکالروں بلکہ فیلڈ لیول کے اِختراع کار بھی پیدا کئے ہیں جو کسانوں کو درپیش حقیقی مسائل کو حل کر رہے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے زراعت کو جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور ثقافتی روح قرار دیا۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں